سات دوست اور سات فلسفہ حیات
میں اپنے آپ کو ایک خوش قسمت انسان سمجھتا ہوں کیونکہ میرے بہت سے دوست ہیں۔ دلچسپی کی بات یہ ہے آج کے شدت پسند اور تنگ نظری کے دور میں بھی وہ دوست مختلف فلسفہ حیات رکھنے کے باوجود ایک دوسرے سے عزت سے پیش آتے ہیں۔ وہ بڑی خوش دلی سے مکالمے کرتے ہیں اور اختلاف الرائے کے باوجود ایک دوسرے کی رائے کا احترام کرتے ہیں۔ وہ اختلاف رائے اور ذاتی دشمنی کے فرق سے واقف ہیں۔ وہ دوستی کے آداب سے بھی واقف ہیں۔ ہم سب ایک دوسرے سے بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ یہی روایت فیمیلی آف دی ہارٹ کی بیس سالہ روایت ہے۔ اگر آپ ان دوستوں کو نہیں جانتے تو آئیے آج میں آپ کا اپنے سات دوستوں سے تعارف کرواتا ہوں
MONOTHEIST
میرے پہلا دوست ایک مونو تھیسسٹ ہیں۔ وہ ایک ایسے خدا پر ایمان رکھتے ہیں ہے جو خالق بھی ہے اور مالک بھی۔ اسی نے یہ کائنات تخلیق کی اور اسی نے انسانوں کو مٹی کے پتلے سے بنا کر جنت سے زمین پر بھیجا ہے۔ ایسا خدا دعائیں بھی سنتا ہے اور دل کی سرگوشیاں بن کر دعاؤں کے جواب بھی دیتا ہے۔ ایسا خدا جب چاہے مافوق الفطرت اور بالائے عقل کرامات اور معجزے بھی کرتا ہے۔
PANTHEIST
میرے دوسرا دوست ایک پین تھیسسٹ ہیں۔ وہ
ہمہ از اوست کی بجائے
ہمہ اوست پر ایمان رکھتے ہیں
ان کی نگاہ ہے ساری کائنات ہی خدا ہے۔ وہ خالق و مخلوق میں کوئی فرق محسوس نہیں کرتے۔
وہ روایتی مذاہب کے خلاف ہیں کیونکہ ان کی نگاہ میں روایتی مذاہب کے شدت پسند پیروکاروں نے ساری دنیا میں بہت تشدد برپا کیا ہے اور بہت سی مذہبی جنگیں لڑی ہیں اور ایک مہربان خدا کا نام لے کر بہت سی معصوم جانوں کا کون بہایا ہے۔
وہ دوست ایک پرتشدد زندگی گزارنے کی بجائے ایک پرامن زندگی گزارنے کے حق میں ہیں۔
AGNOSTIC
میرے تیسرے دوست ایک ایگنوسٹک ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ انسانی ذہن اتنا چھوٹا ہے کہ وہ یہ فیصلہ نہیں کر سکتا کہ یہ پھیلتی ہوئی وسیع کائنات کسی ذہین ذہن نے بنائی ہے یا نہیں چاہے ہم اسے خدا کا نام دیں یا کوئی اور نام۔ یہ دوست جدید سائنس کے دلدادہ ہیں۔
ATHEIST
میرے چوتھے دوست ایک ایتھئیسٹ ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ خدا نے انسان کو تخلیق نہیں کیا بلکہ انسانی ذہن نے خدا اور مذہب کو تخلیق کیا ہے تا کہ وہ خدا کے تصور سے ہر سوال کا جواب اور ہر مسئلے کا حل پا سکے۔ اس دوست کا خیال ہے کہ جوں جوں سائنس کا دائرہ کار بڑھ رہا ہے مذہب کا دائرہ کار کم ہوتا جا رہا ہے۔
ANARCHIST
میری پانچویں دوست ایک انارکسٹ ہیں۔ وہ انسانی آزادی کی دلدادہ ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ جن تین روایتوں نے انسانی آزادی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی ہیں وہ
مذہب
ریاست
اور شادی ہیں
اسی لیے وہ ان تینوں روایتوں کے خلاف نبرد آزما رہتی ہیں۔
SOCIALIST
میری چھٹی دوست ایک سوشلسٹ ہیں۔ وہ سماجی ذمہ داری پر یقین رکھتی ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ہمیں مل کر معاشرے کے محروموں اور محکوموں اور مجبوروں کا خیال رکھنا چاہیے۔ وہ چاہتی ہیں کہ ریاست
بچوں کو مفت تعلیم
مریضوں کو مفت علاج
اور
تمام شہریوں کی ملازمت کا انتظام کرے تو کہ لوگ عزت نفس سے زندگی گزار سکیں۔
HUMANIST
میرے ساتویں دوست ایک ہیومنسٹ ہیں۔ وہ انسان دوستی کے آدرشوں کو پسند کرتے ہیں۔
ان کی نگاہ میں
انسان خداؤں اور مذاہب سے زیادہ معتبر و معزز ہیں
انسانی ترقی کے لیے عقل و شعور الہام سے زیادہ اہم ہے
ان کا خیال ہے کہ انسانوں کو پورا انسان بننے کی کوشش کرنی چاہیے اور اپنی خفیہ صلاحیتوں کو اجاگر کرنا چاہیے۔
وہ انسانی ارتقا کے سفر کو
مذہب سے روحانیت
اور
روحانیت سے سیکولر انسان دوستی
کا سفر سمجھتے ہیں۔
وہ ایسے معاشرے کا خواب دیکھتے ہیں جہاں
مذہب انسان کا ذاتی فعل بن جائے گا۔
ریاست سیکولر قوانین کے مطابق چلے گی جہاں
کالوں اور گوروں
عورتوں اور مردوں
امیروں اور غریبوں
مذہبی غیر مذہبی اور لا مذہبی
لوگوں کو برابر کے حقوق و مراعات حاصل ہوں گے۔
جہاں لوگ مل جل کر پرامن معاشرے قائم کریں گے۔
میں نے ان سب دوستوں سے بہت کچھ سیکھا ہے اور اب بھی سیکھ رہا ہوں۔ وہ سب محبت کرنے والے مخلص دوست ہیں۔
اب آپ بتائیں آپ نے کس قسم کے دوست بنا رکھے ہیں؟


