پلاسٹک کے نئے ذخائر کی دریافت
کیا واقعی ہمارے دماغ میں پلاسٹک کی مقدار میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس کی وجہ سے ہمارے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت بری طرح متاثر ہو رہی ہے، یہ سوال اس لیے ابھرا کے گزشتہ دنوں ایک رپورٹ نظر سے گزری شاید بی بی سی کی تھی یا پھر ڈوئچے ویلے مطلب وائس آف جرمنی پر دیکھی سنی اس رپورٹ میں یہ کہا گیا کہ انسانی دماغ میں سے ایک چائے والے چمچ کے برابر پلاسٹک حاصل کیا جا سکتا ہے، پلاسٹک کی یہ مقدار دماغی صحت کو متاثر کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ عمل اس لیے ہو رہا ہے کہ ہم ہر وقت پلاسٹک کے ساتھ منسلک ہیں جس کے باعث انتہائی چھوٹے پلاسٹک کے ذرات ہمارے جسم کا حصہ بن رہے ہیں کیونکہ ہمارے ارد گرد پلاسٹک کی بھر مار ہے، ہر چیز پلاسٹک کی ہے اور ناکارہ پلاسٹک کھیتوں کھلیانوں کا حصہ بن جاتا ہے جس سے سبزیاں، پھل، پھول سبھی متاثر ہوتے ہیں اور ان کے اجزائے ترکیبی میں شامل ہو کر ہمارے جسم کا حصہ بن جاتے ہیں۔ کیا پلاسٹک کی عدم موجودگی سے اجسام میں لچک اور جڑت ممکن ہے؟
کچھ عرصہ پہلے اسی طرح فیس بک اور یوٹیوب پر ہمارے یہاں ایک بات چل پڑی کہ دیکھیں آٹے میں پلاسٹک کی ملاوٹ کی جا رہی ہے اس کے لیے وہ صاحب باقاعدہ ایک تجربہ کرتے ہیں جیسے گوندھے ہوئے آٹے کو مسلسل پانی سے مسلتے رہتے ہیں جس سے آخر پر ایک پلاسٹک کی چھوٹی سی بال بن جاتی ہے جیسے چیونگم چبانے کے بعد ہو جاتی ہے مگر چیونگم کھینچنے پر بہت زیادہ کھینچاؤ کے بعد دو حصوں میں تقسیم ہوتی ہے جبکہ آٹے کے پلاسٹک کی گولی جلد کھینچاؤں سے تقسیم ہو جاتی ہے۔ اس تجربے سے انہوں نے یہ ثابت کر دکھایا کہ دیکھیں آٹا بنانے والے کیسے ناکارہ پلاسٹک کی ملاوٹ کر کے ہمیں کھلا رہے ہیں، اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے میں نے فزکس کے پروفیسر صاحب سے دریافت کیا انھوں نے کہا کہ دیکھو آٹا جس قدر گوندھتے جاؤ گے اتنا ہی اس میں بل آتا جائے گا اسی کیفیت کی وجہ سے روٹی بن پاتی ہے اگر یہ بل اور جڑت نا ہو تو روٹی بنے گی کیسے یعنی سادہ الفاظ میں یہ کہ یہ عمل فائبر کی وجہ سے ہوتا ہے یعنی قدرتی طور پر اس میں یہ جز یہ عنصر یہ پلاسٹک موجود ہے جسے ہم ریشہ کہتے ہیں، یہ تو صرف ایک جز ہے اور بہت سے عناصر ہوتے ہیں، اجزاء ہوتے ہیں جو سب مل کر مرکب بنتے ہیں جسم بنتے ہیں۔ جب کسی جسم کا اجسام کا تجزیہ کیا جاتا ہے تو اس کے عناصر کھل کر سامنے آ جاتے ہیں جس سے پتہ چل جاتا ہے کہ کوئی خاص جسم ان تمام عناصر سے مل کر بنا ہے، ہر جسم میں پلاسٹک کی ایک خاص مقدار تو ضرور موجود ہوتی ہوگی جس کی وجہ سے اس جسم میں جڑت اور لچک موجود ہوتی ہے۔
جیسے دودھ میں قدرتی طور پر پانی تو موجود ہوتا ہی ہے مگر ہمیں قدرت پر کامل یقین نہیں ہے اس لیے ہم اس مقدار میں اضافہ کر دیتے ہیں خیر اب تو پانی سے آگے بات بڑھ چکی ہے ہم دیگر اجزا کا بھی اضافہ فرما رہے ہیں، خواہ وہ بھینس کو ٹیکہ لگانے کا عمل ہویا پھر اس کے دیے دودھ میں کیمیکل ملانے کا اس کو بھی چھوڑیں اب تو اتنی ترقی کر لی ہے کہ بھینس والے فار مولے کے تحت، جو دودھ میں اجزاء کی ترتیب و مقدار ہے اسے مد نظر رکھ کر دودھ بنا رہے ہیں چلیں یہ تو پھر بھی شاید دودھ ہو ہم نے تو واشنگ مشین سے بھی دودھ حاصل کرنا شروع کر دیا ہے آم کے آم گھٹلیوں کے دام کے مصداق دھلائی کی دھلائی دودھ کا دودھ، یہ صرف ہمیں ملکہ حاصل ہے یہ صرف ہماری دریافت ہے اس دریافت سے باقی دنیا محروم ہے، چلیں بھینس اور گائے کو کچھ تو ریلیف حاصل ہوا۔ خیر یہ تو ویسے ہی چلتے چلتے بات آ گئی اصل میں تو بات دماغ کے پلاسٹک کی ہو رہی تھی جس سے ہم چمچ بنا سکتے ہیں یہ ایک جز تو قدرتی طور پر دماغ میں موجود ہو گا نا جس کی وجہ سے دماغ کی ساخت خلیہ بہ خلیہ ایک دوسرے سے منسلک بھی ہے اور لچک دار بھی ہے جیسے انسانی جسم جس پر جلد ہے اور اس جلد پر غور کریں تو پلاسٹک جیسی ہی ہے اسی طرح گوشت پر غور کریں تو اس کے ریشوں میں کس قدر پلاسٹک نظر آتا ہے یا یوں کہہ لیجیے کہ اس سے بھی پلاسٹک اخذ کیا جاسکتا ہے، سچی بات تو یہ ہے کہ یہ مکمل سائنسی مسئلہ ہے اور میں بالکل بھی سائنس دان نہیں ہوں میری اس ساری بات کو یاوہ گوئی سمجھیئے، میری اس تجزیاتی تنقیدی نظر کی گستاخی کو در گزر فرمائیے گا البتہ اس بات پر غور ضرور کیجئے گا کہ وہ کیا محرک ہوا کہ جس نے مجھے ایسا سوچنے اور لکھنے پر مجبور کیا، بہت سے اہم موضوعات کو چھوڑ کر۔
جیسے کرکٹ کا میلہ سجا ہے اور خبر ملی ہے کہ پہلے میچ میں ہم شکست سے دوچار ہوئے ہیں، سیاست جیسے اہم موضوع کو چھوڑ کر حالانکہ اتنا اہم موضوع ہے کہ ہمارے پاگل خانوں میں بھی ملکی سیاسی حالات پر چہ مگوئیاں اور رواں تبصرے جاری رہتے ہیں۔ پھر ذہن میں بات آتی ہے کہ کچھ اسی طرح قبلہ ابن خلدون نے بھی فرمایا تھا کہ مرغی کے انڈوں کا سائز بڑا، صحت مند، تنومند اور قدآور بچے حاصل کرنے کے لیے ( بشرطیکہ وہ کڑک مطلب کہ مرغی امید سے ہویا امید کے لیے تیار ہو) اسے یعنی مرغی کو اونٹ کی مینگنیاں خوراک کے ساتھ کھلائی جائیں یا پھر ان مینگنیوں پر مع انڈوں کے بٹھا دیا جائے تو مطلوبہ نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں شاید کچھ ہمارے ساتھ بھی پلاسٹک اسی طرح کا کھیل کھیل رہا ہو گا کیونکہ پلاسٹک ہماری زندگیوں میں اس قدر داخل ہو گیا ہے کہ حکومتی پابندی کے باوجود ختم نہیں کیا جا سکا البتہ پہلے شاپر دکاندار مفت دے دیتا تھا اور اب پیسوں کے ساتھ پوچھ کر دیتے ہیں کہ بھائی شاپنگ بیگ چاہیے کچھ تو تغیر رو نما ہوا۔ اچھا مزے کی بات یہ ہے کہ شاپنگ بیگ اڑیکے میں آ گئے ہیں باقی ہر چیز اسی طرح میسر ہے پانی اور دیگر مشروبات پلاسٹک کی بوتل میں چپس پلاسٹک میں گولیاں ٹافیاں برگر پلاسٹک کے جامے میں، عذاب بے چارے اکیلے شاپر پر، اس کے ساتھ ساتھ اب دماغ سے بھی پلاسٹک کا حصول ممکن ہے جس سے چمچ بن سکتے ہیں، ہمارا دماغ کسی کام تو آیا ورنہ اس سے سائنسی قضیئے اور ایجادات اور تخلیقات ہونے سے رہیں۔ مذکورہ تحقیق تو کسی اور ملک کی ہے جس سے پتا چلا کہ وہاں دماغی پلاسٹک کے ذخائر دریافت ہوئے ہیں جس سے چمچ بنائے جا سکتے ہیں، پتہ نہیں ہمارے بھیجے میں پلاسٹک ہے کہ نہیں۔


