پاکستان میں صحت کا نظام: علاج کم، اذیت زیادہ


پاکستان میں صحت کا نظام بدانتظامی، کرپشن اور ناقص پالیسیوں کی وجہ سے زبوں حالی کا شکار ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں صبح سویرے لمبی قطاریں ایک عام منظر ہیں، جہاں مریض گھنٹوں انتظار کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ پرائیویٹ ہسپتالوں میں اگرچہ بہتر سہولیات میسر ہیں، لیکن ان کی مہنگائی عوام کی پہنچ سے باہر ہے۔ بدانتظامی، کرپشن، اور وسائل کی کمی کی وجہ سے مریضوں کو مناسب سہولیات فراہم نہیں کی جاتیں۔ ہسپتالوں کے اندرونی انتظامات بے حد پیچیدہ ہوتے ہیں، اور مریضوں کو دفتر سے دفتر بھٹکنا پڑتا ہے۔ اکثر عملہ تعاون کے بجائے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتا ہے، جس کی وجہ سے ایک بیمار شخص کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

میڈیکل کمپنیاں اپنی مصنوعات کی فروخت بڑھانے کے لیے ڈاکٹروں کو ترغیب دیتی ہیں کہ وہ غیر ضروری ٹیسٹ اور دوائیاں تجویز کریں، جس کا سارا بوجھ عام مریض پر پڑتا ہے۔ مریضوں کو اکثر غیر ضروری ٹیسٹ کروانے پر مجبور کیا جاتا ہے، جو نہ صرف مالی نقصان کا باعث بنتا ہے بلکہ وقت کے ضیاع کا بھی سبب بنتا ہے۔ دوسری جانب، ہسپتالوں میں طبی سہولیات کی کمی کی وجہ سے مریضوں کو ضروری علاج کے لیے مہینوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ بعض اوقات، سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی قلت کی شکایات بھی عام ہیں، جس کے باعث مریضوں کو مہنگی ادویات باہر سے خریدنی پڑتی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کچھ اچھے ڈاکٹرز اور عملہ آج بھی موجود ہے جو کہ اس ناقص نظام کے باوجود انسانیت کا درد رکھتے ہوئے مریضوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں لیکن اُن کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہیں اور حقیقت میں یہ ناقص نظام ایسے افراد کے لیے سب سے زیادہ پریشانی کا باعث ہے۔

اگر ہم ترقی یافتہ ممالک کے صحت کے نظام پر نظر ڈالیں تو واضح فرق سامنے آتا ہے۔ امریکہ میں جدید ترین سہولیات اور ڈیجیٹل ریکارڈ سسٹم موجود ہے، جس کی مدد سے مریض کا مکمل ڈیٹا محفوظ رکھا جاتا ہے، اور اسے ہر بار اپنی تفصیلات دہرانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ یورپی ممالک جیسے جرمنی، برطانیہ، اور فرانس میں صحت کے بنیادی حقوق کو اولین ترجیح دی جاتی ہے، اور حکومت زیادہ تر علاج کے اخراجات برداشت کرتی ہے۔ ان ممالک میں صحت کے شعبے کو انتہائی منظم طریقے سے چلایا جاتا ہے، جہاں ہر شہری کو مساوی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ چین نے جدید ٹیکنالوجی اور انتظامی اصلاحات کے ذریعے اپنے صحت کے نظام کو بہتر بنایا ہے۔ چین میں اسپتالوں میں جدید آلات، خودکار مریضوں کی رجسٹریشن، اور ڈاکٹروں کی آسان دستیابی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ اسی طرح ایران نے بھی اپنے صحت کے نظام میں اہم اصلاحات کی ہیں، جہاں عوام کو سستے اور معیاری علاج کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبے شروع کیے گئے ہیں۔

ایک اچھے اور ناقص نظام میں واضح فرق یہ ہوتا ہے کہ شفاف اور منظم نظام میں عام لوگ بھی معیاری خدمات فراہم کرنے لگتے ہیں، جبکہ ناقص نظام بہترین افراد کو بھی ناکام بنا دیتا ہے۔ ایک اچھے نظام کی خصوصیات میں شفاف طریقہ کار، مریضوں کی آسان رسائی، ڈاکٹروں اور عملے کی جوابدہی، جدید ٹیکنالوجی، اور حکومتی نگرانی شامل ہوتی ہیں۔ جبکہ ناقص نظام عوام کی پریشانی، کرپشن، عملے کی من مانی، اور غیر ضروری اخراجات کا بوجھ لاد دیتا ہے۔

پاکستان میں صحت کے نظام میں بہتری کے لیے حکومت کو سنجیدہ اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے، سرکاری ہسپتالوں میں بنیادی سہولیات کو بہتر بنانے، ڈاکٹروں اور عملے کی نگرانی سخت کرنے، اور کرپشن کو ختم کرنے کے لیے شفاف طریقہ کار متعارف کروانے کی ضرورت ہے۔ سرکاری سطح پر جدید ٹیکنالوجی متعارف کروانے سے ہسپتالوں میں مریضوں کا ڈیٹا محفوظ ہو سکتا ہے، جس سے انتظامی معاملات میں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ، حکومت کو طبی تعلیم اور ریسرچ پر بھی زیادہ توجہ دینی چاہیے تاکہ معیاری ڈاکٹروں کی تیاری ممکن ہو سکے۔

اگر حکومت اور پالیسی ساز سنجیدگی سے اقدامات کریں، تو پاکستان میں بھی ایک ایسا صحت کا نظام بنایا جا سکتا ہے جو عوام کو بہترین سہولیات فراہم کرے اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرے۔ صحت کا نظام کسی بھی ملک کا بنیادی نظام ہوتا ہے، اور اگر کسی ملک میں یہ نظام ناقص ہو، تو عوام کی زندگی مشکلات کا شکار ہو جاتی ہے۔ ایک موثر اور شفاف صحت کا نظام نہ صرف عوام کی زندگیوں کو بہتر بنا سکتا ہے، بلکہ ملک کی معیشت پر بھی مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔

Facebook Comments HS