بنگلہ دیش میں چند دن ۔ قسط۔ 3
تحریر ڈاکٹر شیرشاہ سید: ترجمہ گوہر تاج
پیر 8 دسمبر 2024 ء
پیر کی صبح 7 بجے میری ملاقات سونار گاؤں ہوٹل میں بریجٹ سے طے پائی۔ جو UNFPA کے ساتھ تکنیکی ماہر کے طور پر کام کرتی ہیں۔ اور فیسٹولا پروجیکٹ کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ جہانگیر نے مجھے صبح چھ بجکر پندرہ منٹ پہ اٹھایا اور ہم چھ بجکر پینتالیس منٹ پہ سونار گاؤں پہنچ گئے تھے۔
ہم نے بدھ کے روز فسٹولا ورکنگ گروپ کے اجلاس کے حوالے سے ایک میٹنگ کی۔ تفصیلی بات چیت کے بعد ہم نے فیصلہ کیا کہ منگل کو شام چھ بجے دوبارہ ملاقات کریں تاکہ اپنی پیشکش پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔ میں نائیجیریا کی ارما سے ملا جو ابھی ابھی آئی تھی اور اس نے مجھے بتایا کہ وہاں بہت سے لوگ پہلے سے موجود ہیں۔
ملاقات کے بعد میں نے جہانگیر سے کہا کہ وہ کچھ فٹ پاتھ تہران ریسٹورنٹ پر ناشتہ کر لیں۔ فائیو اسٹار پلس ہوٹل سے نکل کر سڑک کے کنارے بغیر کسی اسٹار کے فٹ پاتھ ریسٹورنٹ میں بیٹھ کر کھانا اچھا لگا۔ صبح کا وقت تھا لیکن سڑک ٹریفک سے بھری ہوئی تھی اور لوگ ناشتہ کر رہے تھے۔ ہمارے پاس ابھی وقت تھا۔ مجھے صبح دس بجے محمد پور میں خالد حسینی سے ملنا تھا۔ سڑک کے کنارے کا کھانا اچھا تھا اور مالک کو جب معلوم ہوا کہ میں پاکستان سے ہوں تو بہت خاص ہی سلوک کیا۔ میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ کتنے ہی لوگ یہاں صبح ناشتہ کر رہے تھے۔ میں نے ایک انڈا فرائی، ایک آملیٹ، ایک چپاتی اور دال، جہانگیر نے آملیٹ، ایک چپاتی اور دال کھائی۔ ہم دونوں نے چائے بھی پی۔ اس ناشتے کے میں نے 130 ٹکے ادا کیے تھے۔
جہانگیر نے اوبر کال کی۔ ہم نے محمد پور کا سفر شروع کیا اور صبح نو بجکر بیس منٹ پہ وہاں پہنچ گئے۔ میں دستاویز کی کچھ فوٹو کاپیاں بنانا چاہتا تھا جو بریجٹ نے مجھ کو میری پریزنٹیشن کے لیے دی تھیں۔ فوٹو سٹیٹ والے نے تیس سے چالیس منٹ میں 86 صفحات پرنٹ کیے۔ میں نے خالد صاحب کو فون کیا اور بتایا کہ ہم فوٹو کاپی شاپ پر ہیں۔ وہ پانچ منٹ میں وہاں پہنچے اور ہمیں اپنے دفتر لے گئے۔
ہمارا اگلا پڑاؤ نالٹا کا چھوٹا شہر تھا جہاں حضرت خان بہادر احسن اللہ صاحب مدفون ہیں۔ بنگال کی تاریخ کے ایک حیرت انگیز آدمی۔ وہ تعلیم کے میدان میں اپنی غیر معمولی صلاحیت کے ساتھ برطانوی حکومت کی طرف سے مقرر کردہ متحدہ بنگال کے ڈائریکٹر جنرل تعلیم تھے۔ وہ 27 دسمبر 1873 کو پیدا ہوئے، انہوں نے فلسفے میں ماسٹرز کیا اور دوسروں کی تعلیم کے حق کے لیے لڑنا شروع کیا۔ ان ہی کی کوششوں سے ڈھاکہ یونیورسٹی قائم ہوئی۔ وہ کلکتہ یونیورسٹی کے سینیٹر تھے۔ بطور ڈی جی ایجوکیشن وہ پہلے آدمی تھے جنہوں نے بچیوں کی تعلیم کے لیے مہم شروع کی۔ وہ ساری زندگی چاہتے رہے کہ ہندو اور مسلمان تعلیم یافتہ ہوں۔ ان کا انتقال 1965 میں ہوا۔
ہم ریڈیو نالٹا گئے۔ جہاں پہ بچیوں کی حالت زار اور زچہ کی موت پر ایک پروگرام کیا۔ اور یہ پروگرام احسان اللہ صاحب کے نام منسوب کیا۔ ہماری خاطر داری امرود، بہت میٹھے پپیتے اور تازہ سنگھاڑے سے کی گئی۔
بنگلہ دیش میں بہاری:
خالد اقلیتی برادری کے چیئر پرسن ہیں اور بہاریوں کے لیے کام کرتے ہیں۔ ان کے پاس سولہ وکلاء کی ایک ٹیم ہے جو ہائی کورٹ میں اقلیتوں کے مقدمات لڑتے ہیں۔ انہوں نے مجھے ہائی کورٹ کے فیصلے کی ایک کاپی دی جس کے تحت بنگلہ دیشی حکومت کیمپوں میں رہنے والے ہر بہاری کو شہری حقوق دینے کی پابند ہے۔ ”یہ ہمارے لیے بہت بڑی فتح ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ اب کوئی بہاری پاکستان نہیں جانا چاہتا اور اب ہم اپنے تمام تر انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ آپ پاکستان کیوں نہیں جانا چاہتے؟ میں نے ان سے پوچھا۔ ”ہم کیوں جائیں؟ پاکستان میں لوگوں کا کوئی حق نہیں۔ ہمارا ٹکا بہت مضبوط ہے اور عدالت نے ہمیشہ ہمارے ساتھ انصاف کیا۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے تمام بچے بنگلہ پڑھیں اور لکھیں اور پاکستان جیسے ملک کو بھول جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ہمارے لیڈروں نے بہاریوں کو گمراہ کیا۔ انہوں نے ہمیں کہا کہ بنگلہ نہ سیکھیں اور اپنے بچوں کو تعلیم کے لیے امریکہ اور برطانیہ بھیجیں۔ “ ان کا تمام عملہ بنگالی زبان جانتا ہے اور ڈھاکہ میں تعلیم حاصل کرتا ہے۔ میں نے خالد اور ان کی ٹیم کو کچھ کتابیں دیں۔ عملے کے ساتھ تصویر لینے کے بعد ہم کیمپوں میں بہاریوں کو دیکھنے کے لیے وہاں سے نکل گئے۔
بہاری کیمپ میں :
بنگلہ دیش کے مختلف حصوں میں ایک سو سولہ بہاری کیمپ قائم ہیں۔ بہاریوں کو ان کیمپوں میں پچاس سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے اس امید پر کہ پاکستان انہیں ملک میں بلائے گا۔ ”لیکن اب ہم بنگلہ دیش میں رہنا چاہتے ہیں۔ ہم یہاں خوش ہیں اور ہمارا مستقبل یہیں ہو گا، اس ملک میں نہیں جس نے ہمیں استعمال کیا اور گندے ٹشو پیپر کی طرح پھینک دیا۔“ خالد نے تلخی آمیز لہجے میں کہا۔ ”یہاں کیمپوں میں کتنے بہاری ہیں؟“ میں نے ان سے پوچھا۔ ”تین لاکھ کے قریب“ انہوں نے جواب دیا۔ میں سوچ رہا تھا کہ تین لاکھ کوئی بڑی تعداد نہیں ہے۔ بہاریوں کے نام پر چندہ کی رقم ان تمام بہاریوں کو فراہم کرنے کے لیے کافی تھی۔ یہ میرے لیے حیرت کی بات تھی۔
بنگلہ اردو سنہریہ فاؤنڈیشن:
خالد ہمیں بنگلہ اردو سنہریہ فاؤنڈیشن کے دفتر لے گئے جہاں ہماری ملاقات اردو شاعر شمیم زمانہوی اور سید افضل حسین صاحب سے ہوئی۔ میں نے ان کے مرکز کے لیے کچھ کتابیں دیں جو انہوں نے بخوشی وصول کیں۔ شمیم زمانہوی نے مجھے ایک کتاب ”روزن دیوار“ نوشاد نوری کی نظموں کا انتخاب دیا۔ نوشاد اردو کے ایک عظیم شاعر تھے جنہیں پنڈت جواہر لال نہرو نے اس وقت دہلی سے باہر نکال دیا تھا جب انہوں نے ان کے دورہ امریکہ کے خلاف ایک نظم لکھی تھی۔ جس نے انہیں مشرقی پاکستان آنے پر مجبور کیا۔ جہاں انہوں نے 1952 ء کی لسانی تحریک میں بنگلہ زبان کی حمایت میں اپنی مشہور نظم ”موہن جو داڑو“ لکھی۔ یہ ایک دلچسپ اور پر تاثر ملاقات تھی جس کا میں نے دو کپ چائے سے خوب لطف اٹھایا۔
جاوید حسین بنگلہ دیش کے سب سے مشہور بنگلہ نیوز پیپر کے ایڈیٹوریل بورڈ کے ممبر ہیں۔ میں نے انہیں محمد پور سے فون کیا اور پوچھا کہ کیا میں ان کے دفتر آ کر ان سے مل سکتا ہوں۔ انہوں نے رضامندی ظاہر کی۔ ہم آدھے گھنٹے میں ڈھاکہ مولن مارکیٹ کے ایک بہت بھیڑ والے علاقہ میں پہنچ گئے۔
خالد نے مجھے بتایا کہ اردو بولنے والے مغربی اور مشرقی پاکستانیوں کی اکثریت کا خیال ہے کہ زبان کی تحریک اردو کے خلاف ہے۔ یہ ایک غلط تاثر تھا۔ یہ بنگلہ زبان کی تحریک تھی جس کی عظیم روایت، ثقافت اور تاریخ ہے۔ خالد نے غالب، میر تقی میر، رومی اور منصور حلاج کا بنگلہ زبان میں ترجمہ کیا ہے۔ انہوں نے سعادت حسین منٹو کے افسانوں کا بھی شاندار ترجمہ کیا۔ وہ مجھے بازار میں بک سٹور پر لے گئے اور کتابوں کی شیلف پر اپنی کتابیں دکھائیں۔ ”کیا بنگلہ دیش میں لوگ کتابیں پڑھتے ہیں؟“ میں نے اس سے پوچھا۔ ”ہم بنگلہ میں دیوان غالب کا گیارہواں ایڈیشن اور منٹو کی کتاب کا پانچواں ایڈیشن شائع کر رہے ہیں۔“ میں نے غالب پر ایک ناول لکھا جس میں میری ان سے کہانی میں ملاقات ہوئی۔ اس کتاب کا اب دوسرا ایڈیشن مارکیٹ میں ہے۔
انہوں نے مجھے غالب پر اپنی کتاب دی اور میں نے ان سے غالب پر ان کے ناول کا اردو میں ترجمہ کرنے کی درخواست کی۔ امید ہے کہ پاکستان میں چند سو لوگ اسے پڑھیں گے کیونکہ حکومت نے پولیو کے خاتمے کی مہم میں ناکامی کے بعد پاکستان میں تعلیم کو کامیابی سے ختم کر دیا ہے۔ ہم دونوں درد سے ہنسے۔ مجھے امید ہے کہ میں ان سے دوبارہ ملوں گا۔
(جاری ہے )

