کانٹ اور شوپنہار میں سے کون درست ہے؟ مکمل کالم
کوئی شخص نیکی کیوں کرتا ہے؟ کسی بچے کو بھوک سے بِلکتے دیکھ کر ہمارا دِل کیوں پسیج جاتا ہے؟ کیا کسی مستحق آدمی کی مدد کرنا محض اِس لیے ضروری ہے کہ آخرت میں ثواب ہو گا؟ اگر ثواب کا لالچ نہ ہو تو کیا لوگ مفلسوں کی داد رَسی کرنا چھوڑ دیں گے؟ کیا اخلاقیات کسی ماورائی ہَستی کی عطا کردہ ہیں جو ہمیں اچھائی اور برائی کی تمیز سکھاتی ہے یا انسان نے اخلاقیات کا نظام وقت گزرنے کے ساتھ اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق وضع کیا ہے؟ کیا اخلاقیات کا کوئی ایسا سیٹ بنانا ممکن ہے جو ہر زمان و مکان میں حتمی ہو یا پھر اِس میں ضرورت کے مطابق تبدیلی ممکن ہے؟ کیا عقل اور حسِ جمالیات کی طرح اخلاقی شعور بھی انسان کے وجود کا حصہ ہے یا اُس نے کوشش اور حکمت کے بعد یہ اخلاقیات سیکھی ہیں؟
یہ مباحث نئے نہیں ہیں مگر ہم اِن سے کبھی بور بھی نہیں ہوتے کیونکہ یہ سوالات ہماری روز مرہ زندگی سے وابستہ ہیں اور قدم قدم پر ہمارا اِن سے واسطہ پڑتا ہے، چونکہ اِن سوالات کا حتمی اور تسلّی بخش جواب انسان سے نہیں بن پایا سو ہزاروں سال گزرنے کے باوجود اِن کا جواب تلاش کرنے کی کوشش جاری ہے۔ مغربی فلاسفہ نے اِس پر سیر حاصل بحث کی ہے، اِس ضمن میں جو نام فوری طور پر ذہن میں آتا ہے وہ ایمانوئل کانٹ کا ہے۔ کانٹ کا کہنا تھا کہ مذہب اور اخلاقیات کو آپس میں گڈ مڈ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ہر مذہب کا اپنا اخلاقی کوڈ ہے جو ایک دوسرے سے متصادم بھی ہو سکتا ہے لہذا اخلاقیات کو خالص عقلی پیمانے پر جانچنا چاہیے اور اِس بات سے ماورا ہو کر فیصلہ کرنا چاہیے کہ کوئی مذہب کسی عمل کے بارے میں کیا حکم لگاتا ہے۔ یعنی آپ کے مذہبی خیالات چاہے کچھ بھی ہوں، آپ کسی مذہب میں یقین رکھتے ہوں یا نہ رکھتے ہوں، اخلاقی پیمانہ ہر کسی کے لیے یکساں ہو گا۔
سوال یہ ہے کہ وہ اخلاقی پیمانہ کیا ہو؟ اِس سوال کا کانٹ نے بہت دلچسپ جواب دیا۔ اُس نے کہا کہ اخلاقی سچائیاں آفاقی ہوتی ہیں تاہم ضروری نہیں کہ ہمارے تمام اعمال اخلاقی ہوں، مثلاً یہ مضمون لکھنا ایک عمل ہے لیکن میرے پاس یہ اختیار ہے کہ میں یہ مضمون نہ لکھوں، اِس سے کسی کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا، اسی طرح اگر کوئی شخص یہ فیصلہ کرے کہ اُس نے کاروبار کرنا ہے یا نوکری تو یہ بھی اُس کا اپنا فیصلہ ہو گا، کچھ لوگ اِن دونوں میں سے کوئی کام نہیں کرتے اور وہ کمال کرتے ہیں۔ یہ مثالیں ایسے اعمال کی ہیں جن کے کرنے یا نہ کرنے سے کوئی اخلاقی سوال پیدا نہیں ہو گا کیونکہ اِن اعمال کا محرک ہماری خواہشات ہیں، اگر کسی لکھاری کی خواہش ہے کہ لوگ اُس کی تحریریں پڑھیں تو لامحالہ اسے لکھنا پڑے گا، اگر کسی کی خواہش ہے کہ وہ اسمبلی کا رُکن بنے تو اسے انتخابات میں حصہ لینا پڑے گا۔
اِسے کانٹ Hypothetical Imperative کہتا ہے جسے ہم اَمرِ فرضی یا اَمرِ مشروط کہہ سکتے ہیں کیونکہ یہ اعمال کسی نہ کسی خواہش سے مشروط ہیں۔ لیکن جہاں بات اخلاقیات کی ہو وہاں انسان کے پاس آپشن نہیں ہوتا کہ وہ اپنی مرضی سے کسی بات کا فیصلہ کرے، اسے وہی کرنا ہو گا جو اخلاقی اعتبار سے درست ہو گا، اسے کانٹ نے Categorical Imperative یعنی اَمرِ حتمی کا نام دیا۔ اُس نے کہا کہ اخلاقی کوڈ انسان کی خواہش کے تابع نہیں، اخلاقی قوانین کا اطلاق ہر شخص پر ہر وقت ہوتا ہے، اور اخلاقی قوانین کا یہ سیٹ جاننے کے لیے کسی مذہب کی ضرورت بھی نہیں، انسان محض عقلِ سلیم سے جان سکتا ہے کہ کون سی بات اخلاقی اعتبار سے درست ہے اور کون سی غلط۔ کانٹ چونکہ ایک پیچیدہ فلسفی ہے اِس لیے مختصر سے مضمون میں اُس کے اخلاقی فلسفے کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا، صرف اتنا سمجھ لینا کافی ہے کہ کانٹ آفاقی اصول میں یقین رکھتا تھا، یعنی اگر کوئی بات اخلاقی اعتبار سے غلط ہے تو وہ ہر صورتحال میں غلط ہی رہے گی اور کسی بھی جذباتی یا غیر جذباتی حالت میں کوئی استثنا پیدا نہیں کیا جائے گا۔
کانٹ کے بعد انٹری ہوئی آرتھر شوپنہار کی۔ شوپنہار کا نام ذہن میں آتے ہیں مجھے شفیق الرحمٰن کا شاہکار مضمون ”کلیدِ کامیابی“ یاد آ جاتا ہے جس میں انہوں نے لکھا کہ ”مشہور فلسفی شوپنہار سیر پر جاتے وقت اپنی چھڑی سے درختوں کو چھوا کرتا تھا۔ ایک روز اسے یاد آیا کہ پُل کے پاس جو لمبا سا درخت ہے اسے نہیں چھوا۔ وہ مردِ عاقل ایک میل واپس گیا اور جب تک درخت نہ چھو لیا اسے سکون قلب حاصل نہ ہوا۔“ خیر یہ بات تو یونہی بیچ میں آ گئی، اصل مدعا یہ ہے کہ شوپنہار نے اخلاقیات کے بارے میں کیا فلسفہ پیش کیا جو کانٹ سے مختلف تھا؟ شوپنہار نے ایک کتاب لکھی جس کا نام تھا The two Fundamental Problems of Ethics جس میں دو مضامین شامل تھے، اِن مضامین میں یہ بحث کی گئی کہ کیا انسان کو اُس کے اعمال کا ذمہ ٹھہرایا بھی جا سکتا ہے یا نہیں اور یہ کہ انسان کی اخلاقی ذمہ داریوں کا تعین محض اِس کسوٹی پر نہیں کیا جا سکتا کہ اسے کیا کرنا چاہیے بلکہ یہ دیکھنا چاہیے کہ لوگ عمومی حالات میں کیا کرتے ہیں۔
گویا ایک طرح سے شوپنہار نے کانٹ کے فلسفہ اخلاقیات سے اختلاف کیا، اُس نے کہا کہ ہمارا ہر عمل دو بنیادی ذرائع سے جنم لیتا ہے، ہمارا ذاتی کردار اور کسی مخصوص صورتحال میں ہمارا مقصد جو ہم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ شوپنہار کہتا ہے کہ آپ کا کردار ایک ایسے عدسے کی مانند ہے جس کے ذریعے آپ دنیا کو دیکھتے ہیں، چونکہ ہم اِس عدسے کے محتاج ہیں سو ہمیں یہ دنیا ویسی ہی نظر آتی ہے جیسے یہ عدسہ ہمیں دکھاتا ہے اور یوں ہم کسی صورتحال میں وہی فیصلہ کرتے ہیں جس طرح ہم اُس صورتحال کو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔
مثلاً کچھ لوگ مذہبی احکامات کے تابع غریبوں کی امداد کرتے ہیں کیونکہ انہوں نے مذہبی عدسہ پہنا ہوتا ہے جبکہ کچھ لوگ محض اپنی فطرت کی بنا پر مصیبت میں مبتلا افراد کا ہاتھ تھام لیتے ہیں، اور چونکہ یہ اعمال آپ کی بنیادی فطرت کا مظہر ہوتے ہیں اِس لیے آپ نے اِس ردِّعمل کا انتخاب آزادانہ طور پر نہیں کیا ہوتا جبکہ محسوس ایسے ہی ہوتا ہے کہ فیصلہ آپ نے مرضی سے کیا ہے۔ یہاں وہی پرانا سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر انسان اپنے اعمال میں آزاد ہی نہیں تو پھر اُس کا احتساب کیوں کر ہو؟ شوپنہار اِس گتھی کو یوں سلجھاتا ہے کہ کسی انسان کے اعمال دراصل اُس کی حقیقی فطرت کا اظہار ہیں، کوئی شخص خودغرضی کی بنا پر عمل کرے یا بھلائی کے جذبے سے مغلوب ہو کر، وہ دراصل اپنے کردار کا اظہار کر رہا ہوتا ہے اور اسی کردار کے حوالے سے اُس کی اخلاقی ذمہ داری جنم لیتی ہے۔
سادہ الفاظ میں یوں سمجھیں کہ اگر آپ واقعی اپنے فیصلوں میں خود مختار ہونا چاہتے ہیں تو پھر ضروری ہے کہ آپ اپنے کردار کی تعمیر کریں، اگر آپ کے اعمال اِس بات کا تعین کرتے ہیں کہ آپ کون ہیں تو پھر خود کو دھیرے دھیرے تبدیل کرنا بھی آپ کا ہی فرض ہے۔ دوسری بات جو شوپنہار نے کی وہ انسان کا جذبہ تَرَحُّم ہے، دیگر فلسفیوں کے برعکس، جن کے نزدیک اخلاقیات میں جذبات کی گنجایش نہیں اور جو اخلاقی فیصلے صادر کرتے وقت عقل اور منطقی اصولوں کو ترجیح دیتے ہیں، شوپنہار کے نزدیک عقل کو تمام اختیار دینا بھی کوئی ”دانشمندی“ نہیں کیونکہ وقت آنے پر کائیاں لوگ ہر بات کا منطقی جواز تراش لیتے ہیں اور نہایت آسانی کے ساتھ اخلاقی ذمہ داریوں سے خود کو بری الذمہ کر لیتے ہیں۔ شوپنہار نے آگے چل کر یہ بھی بتایا کہ اخلاقی فیصلہ کرتے وقت انسان پر تین قسم کے جذبات اثر کر سکتے ہیں، پہلا ذاتی مفاد، دوسرا عناد اور تیسرا جذبہ تَرَحُّم۔
چونکہ یہ بحث کافی طویل ہے اِس لیے میں یہیں تِشنہ چھوڑ رہا ہوں، کانٹ اور شوپنہار میں سے کون درست ہے، یہ فیصلہ آپ فارغ وقت میں کر سکتے ہیں، اور اطمینان رکھیں یہ Hypothetical Imperative ہے، یعنی اگر آپ یہ فیصلہ نہیں بھی کریں گے تو کوئی فرق نہیں پڑے گا، البتہ اگر آپ کسی کو اُس کے مذہب کی بنیاد پر اپنی مدد کا مستحق نہیں قرار دیں گے تو یہ ایک اخلاقی فیصلہ ہو گا، یعنی Categorical Imperative، جس کی جواب دہی آپ کو کرنی ہوگی۔


