ہم احمدی کیوں ہیں؟ ایک چھوٹے بچے کا احمدی خلیفہ سے معصومانہ سوال

ایک وڈیو کلپ نظروں سے گزرا جس میں ایک چھوٹا سا احمدی بچہ اپنے خلیفہ سے ایک معصومانہ سا سوال پوچھ رہا ہے کہ ”ہم احمدی کیوں ہیں“ ؟
پہلے تو خلیفہ جی تھوڑا سا حیران ہوئے کہ بھلا یہ بھی کوئی سوال ہوا، پھر اسی سوال کو کچھ دیر تک تذبذب کی سی کیفیت میں چباتے رہے اور جواب کے نام پر بالکل وہی روایتی گگلی کروائی جو دوسرے مذاہب یا فرقوں کے علماء کرواتے ہیں، حالانکہ بالکل سیدھا سادہ سا سوال تھا اور جواب بھی دو سطری تھا لیکن کیا کریں روزی روٹی بھی تو چلانی ہے نا!
مذہبی علماء ایک سے ہی ہوتے ہیں، بس کیمرے اور جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے ان کے ساتھ بڑا ظلم ہوا ہے، شوق شوق میں کیمرے کے سامنے جلوہ افروز ہونا بعض اوقات خاصا پریشان کن ثابت ہوتا ہے، بالکل احمدی خلیفہ کی طرح جن کو ایک چھوٹے سے بچے نے کنفیوژن میں ڈال دیا اور وہ روایتی گھمن گھیریوں پر مجبور ہو گیا۔ کیمرے کی آنکھ نے ان کے تذبذب اور چہرے کے اتار چڑھاؤ کو بالکل واضح کر دیا۔
مذہبی فکر سے بنیادی سوالات تو یہی بنتے ہیں کہ جناب ہم جس گھر میں آنکھ کھولتے ہیں وہی ہمارا مذہب، فرقہ یا فلسفہ حیات کیوں بن جاتا ہے حالانکہ اسے اختیار کرنے میں ہماری رتی بھر بھی ذہنی ریاضت شامل نہیں ہوتی؟ جس فکر کو اختیار کرنے میں ہماری شعوری کوشش کا عمل دخل نہ ہو وہ فلسفہ کس حد تک ہمارے لیے معتبر ہو سکتا ہے؟ دنیا میں کتنے فیصد ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو بلوغت کو پہنچنے کے بعد اپنے پیدائشی مذہب یا فرقے پر غور و فکر کے بعد شعوری طور اسے قبول کرتے ہیں؟ دنیا بھر کے دیگر مذاہب کے علماء جنہوں نے اپنے اپنے مذہب کے مطابق زندگیاں بسر کیں، کتابیں لکھیں، مناظرے یا مباحثے کرتے رہے ان میں سے کتنے ایسے ہوں گے جنہوں نے اپنے آبائی مذہب کو ترک کیا ہو گا یا شعوری طور پر اپنے مذہب کو پڑھ کر اختیار کیا ہو گا؟
سوال یہ ہے کہ جو ہوا سو ہوا لیکن جو ہمارے موجودہ علماء کرام ہیں اگر وہ کسی اور مذہب میں پیدا ہوئے ہوتے تو بالکل موجودہ پوزیشن کی طرح دوسرے مذہب کا بھی کچھ اسی انداز میں دفاع نہ کر رہے ہوتے اور دنیا کو بتا رہے ہوتے کہ ہم ہی قادر مطلق کے چنیدہ ہیں، ہمارے پاس حتمی سچائی ہے اسی لیے ہم ہی وارثانِ جنت اور دوسرے جہنمی ہوں گے؟
مذہبی رہنما یہ دعوے تو کرتے رہتے ہیں کہ لوگ دھڑا دھڑ مذہب میں داخل ہو رہے ہیں لیکن یہ کبھی نہیں بتاتے کہ کتنے فیصد مذہب بیزار یا سرے سے تارک ہو رہے ہیں، جب سے روایتی فکر کو علم الکلام کے دائرے میں لاکر سائنس و فلسفہ کے پہناوے کے ساتھ مفکرین تجدید جاوید احمد غامدی، احمد جاوید، محمد دین جوہر اور ذاکر نائک نے منظرعام پر لانے کی کوشش کی ہے اسی قدر سوالات کا حجم بھی بڑھنے لگا ہے۔
منقول کو معقول کے دائرے میں داخل کرنے کی قیمت تو ادا کرنی پڑتی ہے، اگر مذہب کو سائنس اور فلسفے میں ملا کر پیش کریں گے تو پھر مفروضہ، سوال اور مسلسل تجربہ و تحقیق، قبول و رد کا عمل جو سائنس یا جدید فکر کا جزوِ لاینفک ہے کی قباحتوں یا چیلنجز سے محفوظ کیسے رہا جا سکے گا؟
جب آپ علم غیب کے ساتھ لوگوں کو ریشنیلٹی و شعور اور سوچ بچار بھی سکھائیں گے تو پھر اس کے آفٹر ایفکٹس سے بھی تو جھوجنا پڑے گا، اب ایسا تو نہیں ہو سکتا نا کہ سوال پوچھنے والے کو پابند کر دیا جائے کہ وہ فلاں سوال پوچھے اور فلاں نہ پوچھے۔
یا سوال خالصتاً ٹو دی پوائنٹ ہو اور آپ اسے روایتی راہداریوں میں الجھا کر بہلانے کی کوشش کریں، ظاہر ہے مذہب میں تو سر تسلیم خم و یقین کا سکہ چلتا ہے، جب آپ زبردستی مذہب میں سائنس و فلسفہ کا دخول کریں گے تو سوال کرنے والے کو بھی پھر ایک دائرے میں محدود رکھ کر سوال پوچھنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا، نئی نسل کے سامنے مختلف فکری زاویے کھول کر آپ انہیں ایک زاویے تک محدود رہنے کا حکم صادر نہیں کر سکتے۔


محترم عجیب بات ہے کہ پورا کالم ہی اس عنوان پر ہے لیکن (نمبر ایک) یہ نہیں بتایا کہ خلیفہ نے جواب کیا دیا تھا؟ (نمبر دو) یہ بھی نہیں بتایا کہ آپ کو اس جواب پر اعتراض کیا ہے؟۔ صرف مذاق اڑاتے رہے۔ مذاق اڑانے کے ساتھ ساتھ کم از کم بتانا تو فرض بنتا تھا کہ جواب تھا کیا اور آپ کو اعتراض کیا تھا۔ بہرحال جواب میں بتادیتا ہوں اور ساتھ لنک بھی دے دیتا ہوں تاکہ پڑھنے والے آپ کی اس علمی خیانت پر آگاہ ہوسکیں۔
حضرت نے اس بچے سے پہلے تو عمر پوچھی جس پر بچے نے بتایا کہ میری عمر چھ سال ہے۔ پھر حضرت نے جواب دیا کہ ابھی تو تم اس لئے احمدی ہو کیونکہ تمہارے اماں ابا احمدی تھے اور تم احمدی گھرانے میں پیدا ہوگئے تو احمدی بن گئے۔ لیکن جب تم تھوڑے سے بڑے ہوجاؤ گے تو پھر تم سوچنا کہ تم کیوں احمدی ہو اور پھر پڑھنا کہ احمدیت کیا ہے۔
یہ ہے پورا جواب اور پڑھنے والے خود فیصلہ کریں کہ ایک چھ سال کے بچے کے لئے اس سے آسان اور بہترین جواب کیا ہوسکتا تھا۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا یہ جواب قابل اعتراض ہے کسی بھی پہلو سے؟
اس ویڈیو کا لنک: https://youtu.be/JRXF5rG8zZw
Thank you for sharing the link!
اسی سوال پر ایک اور ویڈیو ابھی دیکھی۔ یعنی یہ سوال حضرت سے دو الگ الگ مواقع پر دو الگ الگ بچوں کی طرف سے کیا گیا ہے۔ اس ویڈیو کو بھی دیکھا تو اس میں نسبتاً تفصیلی جواب ہے لیکن پھر بات وہی کہ کالم نگار کو کیا اعتراض ہے۔ حضرت نے اس ویڈیو میں جواب میں فرمایا کہ پہلا سوال تو یہ ہے کہ تم مسلمان کیوں ہو۔ اس لئے کہ تم احمدی اماں ابا کے گھر میں پیدا ہوگئے اس لئے تم احمدی ہو۔ پھر یہ کہ کسی نہ کسی مذہب کو تو ماننا تھا نا۔ جو بھی مذہب کو مانتا ہے وہ یا عیسائی ہے یا یہودی ہے یا ہندو ہے یا بریلوی مسلمان ہے یا احمدی مسلمان ہے وغیرہ۔ تو ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس زمانے میں صحیح مذہب جو ہے وہ احمدی مسلمان ہونا ہے۔ آگے پھر اس بات کی وضاحت فرمائی کہ کیوں احمدی مسلمان ہونا ہمارے نزدیک صحیح مذہب ہے۔ اس ویڈیو کا لنک بھی میں ساتھ شامل کررہا ہوں تاکہ مکمل جواب سب پڑھنے والے خود سن لیں۔ اب اگر محترم کالم نگار نے اس ویڈیو کی بات کی ہے تو اس میں بھی اس میں بھی کوئی قابلِ اعتراض بات نہیں نظر آتی۔ سمجھ سے باہر ہے کہ محترم کو اعتراض ہے کس بات پر؟ ظاہر ہے جواب کی نوعیت پر ہی ہوگا۔ لیکن پھر بتاتے تو سہی کہ کیا اعتراض ہے۔ ان کے نزدیک جواب کیا ہونا چاہئے تھا۔ نہ جواب بتایا ہے نہ اپنا اعتراض بتایا ہے صرف استہزاء کا طریق اختیار کیا ہے۔ اور ان کی تحریروں کے انداز اور مواد سے لگتا ہے کہ یہ کالم نگار اپنے آپ کو روشن خیال افراد میں شمار کرتے ہیں۔ اگر یہی روشن خیالی ہے کہ اصل بات کو گول کرکے استہزاء کیا جائے تو افسوس ہے۔
اس ویڈیو کا لنک: https://www.youtube.com/watch?v=PtaZ0I8jOcs