انسٹا گرام اور اللہ سے پرہیز


مہ وش نے نانی کی یہ نصیحت دل پے لے لی کہ سیکس گندا کام ہے، گناہ ہوتا ہے۔ بچے مجبوری ہیں بس جلدی سے پیدا کرو وہ بھی دو تین، زیادہ نہیں۔ نانی نے فائر فائٹنگ بھی سکھا دی

کہ عشا کی نماز مرد کی تاتاری یلغار سے بچنے کے لیے ڈھال اور تہجد جنت کا دروازہ کھٹکھٹانے کے لیے بہترین حربہ ہے

ہارڈ وئیر کا ہول سیلر دہلی والوں کا میاں ماجد گھر آتا تو بہترین مرغن کھانے کھلا دیتی۔ مختلف چینلوں پر جو خبر نامے اور ٹاک شوز دیکھتا تو اسے لگتا کہ ان کے اینکرز اور ہوسٹ ایسے کرخت نیم خواندہ زن و مرد ہیں کہ ان کی باتیں سائبیریا کی مرغابیوں کو سنا دیں جائیں تو وہ موسم سرما میں افزائش نسل کے لیے ہندوستان پاکستان کا رخ کرنا بند کر دیں۔ مرغن کھانا کھا کر کاروباری منافع اور خوراک کی مستی چھاتی تو غفلت کا مارا بیگم کی عشا ختم ہونے کا انتظار کرتے کرتے، نیند کی وادی میں نابینا اونٹ بن کر بھٹکتا پھر رہا ہوتا

میاں نے اس ٹھگی کو بھانپ کر اس کا سبب جاننا چاہا تو انگریزی میں کہنے لگی
Dear Cousin…just to avoid you
(بھائی میاں آپ سے اجتناب مطلوب و مقصود ہے مومن)
کزن ماجد نے یہ بات دل کے آئی کلائوڈ پر اپ لوڈ کر لی

زیادہ تر واردات اس پیکر دلفریب سے حکیم کا کمر۔ کس کشتہ کھا اور غالب دن میں ڈالی۔ کراچی میں کم بخت ہول سیل مارکیٹ بارہ بجے دوپہر سے پہلے کھلتی ہی نہیں۔

جب بچے اسکول گئے ہوتے اور مالی باغ کو نہلا رہا ہوتا۔ اسے حکم تھا کہ آتے ہی گیزر چلا دے سو ماجد اور اس کی کزن وائف مومنہ کے بستر میں نیرہ نور کا مشہور گیت لاؤ اپنے حسن کی ناؤ بج رہا ہوتا

نیا آئی فون مومنہ کے لیے بہتر کیمرہ، بہتر اسپیکر لے کر آیا۔ چھوٹی بہن کی کوچنگ اتنی عمدہ تھی کہ اسے دنیا میں عورتوں کی سب سے بڑی مملکت انسٹا گرام کی شہریت بھی مل گئی۔ اس نئی شہریت اور نشہ آور لگاؤ کا نتیجہ یہ نکلا کہ عشا کی نماز کا سائز چھوٹا ہو گیا

تہجد دیر سے سونے کی وجہ سے خود ہی آف لوڈ ہو گئی
آپ تو جانتے ہی ہیں کہ عورت معاف کر دیتی ہے بھولتی نہیں
مرد کمینہ بھول جاتا ہے معاف نہیں کرتا
ماجد کو یاد تھا کہ ایک دن مومنہ نے بستر میں تاخیر سے آمد کا سبب پوچھنے پر اسے کہا تھا کہ
Dear Cousin…just to avoid you
سو ایک دن شادی سے واپسی پر مہ وش کے ازدواجی بلت کار کے بعد کہنے لگا
Your instagram is to avoid Allah but
don ’t you ever forget once you leave my home forever
You are going to stay with him forever and Insta doesn ’t work in the
grave.

(جانم تمہارا انسٹا گرام اصل میں اللہ سے دور رہنے کا بہانہ بن گیا۔ ایک دفعہ جب ہماری دہلیز چھوڑو گی تو لگ پتہ جائے گا کہ ہمیشہ کہاں رہنا ہے اور قبر میں انٹرنیٹ کی سہولت میسر نہیں )

2 وسیب کا کھوسہ اور ٹیلر سوئفٹ

وسیب کا کھوسہ شکوہ سنج تھا کہ سندھی ہمیں پنجابی، اور پنجابی ہمیں اپنے سے کم تر اور کم عقل سمجھتے ہیں

ہم نے کہا۔ جلدی ہمت ہار دی ہے ورنہ پنجاب کا ایک چیف سیکرٹری، ایک چیف جسٹس بھی کھوسے تھے کہنے لگا۔ اس سے کوئی بڑا فرق نہیں پڑا۔ ابوجہل کا بیٹا عکرمہ مسلمان ہو گیا تھا اپنے قبیلے کا چنگا مرس بھی تھا مگر کسی مسلمان نے آج تک اس کے باپ کو معاف نہیں کیا

میری پوتی کہتی ہے دادا یہ کیا کسٹم کی نوکری سفارش پر پکڑی مگر یہ کھوتے جیسی ذات لے کر کیوں کراچی آ گئے وہ اپنی ماں کی ذات کو مقدم جان کر اپنے نام کے آخر میں شاہ لکھتی ہے

زارا کھوسہ کی بجائے زارا شاہ۔ ہم نے کہا مناف کے عزیزوں کی بیٹی نے اپنا نام اسکول میں روحا ٹیلر لکھوایا ہے۔ اسے ٹیلر سوئف بہت پسند ہے میمنوں میں ذاتوں کے حوالے سے کوئی عیب نہیں ایدھی کا مطلب کام چور ہے، گیگا کا مطلب طفلانہ مزاج، پردیسی، غریب ٹیسٹی بھی ذات ہے کراچی کا ایک بڑا بکی جسے جنوبی افریقہ میں ٹپکا دیا گیا اس کا نام ہی حنیف کیڈبری تھا۔ کیرالہ کا ایک بہت بڑا گروپ ہے جسے متحدہ عرب امارات نے شہریت دی ہے اس کے مالک کا خاندان لولو کہلاتا ہے۔

روحا کے بھائی کو البتہ سب لوگ ابوبکر رونالڈو پکارتے ہیں۔ یہ نئے نام اچھے اور آسان ہیں۔ کھوسے کی مزید ڈھارس بندھانے کے لیے وہاں موجود ہمارا میمن دوست مناف کہنے لگا میرے عزیز کا نام عثمان اور ذات مودی ہے سو وہ عثمان مودی کی بجائے عثمان میمن لکھتا ہے اور سندھ کے صوبائی وزیر شرجیل میمن کا مداح ہے۔

کھوسے کو ہم نے کہا دنیا میں تیری ذات تیری ماں دی بولی تیرا دھرم تیرے گائوں کے وائرس ہیں۔ کوئی امبانی، جیف بیزو اور بیونسے سے نہیں پوچھتا کہ وہ گجر ہے کہ آرائیں جاٹ ہے کہ بزدار۔

لازم ہے کہ خودی کے علاوہ اپنا میرٹ بھی اتنا بلند کر کے تجھے بھی ایلان مسک اپنے گروپ کی ڈیرہ غازی خان اور تونسہ میں فرنچائز دے دیں۔
کہنے لگا۔ اس سے کوئی بڑا فرق نہیں پڑا

بھائی کو البتہ سب لوگ ابوبکر رونالڈو پکارتے ہیں۔ یہ نئے نام اچھے اور آسان ہیں۔

(3)

گلہ مند تھیں کہ تم مردوں کی محبت میں جسم کیوں اتنا لازم حوالہ ہے. ہم نے کہا دو نکات آپ کی توجہ کے طالب ہیں. دنیا میں ماں سے سچا کوئی پیار نہیں. عورت کی محبت کا انت مگر یہ حوالہ جسم کا ہے۔ کوکھ سے جنم لینے کی بات ہوتی ہے روح کا رشتہ نہیں جوڑتی
بچہ اس کے جسم کی Extension ہے۔ دوسرا ہم دنیا داروں کا یہ ماننا ہے کہ جب تک کپتان کا پیار جسمانی رہا، موج رہی۔ نگاہ بن کے حسینوں کی انجمن میں رہا۔ جس دن سے رحونی ہوا، خانقاہ اڈیالہ کے سلسلہ عقوبت سے بندھ گیا
تو
جان من حاصل غم کو
میری جاں غم حاصل نہ بنا
احمد فراز نے کالج میں سمجھا دیا تھا کہ
میرے پیارے نوجوانو جان لو کہ
ہم جسے چھو نہ سکیں اس کو خدا کہتے ہیں

Facebook Comments HS

اقبال دیوان

ہمارے جگر جان ،اقبال دیوان پہلے کبھی افسر ہوتے وہ بھی ایسے کوئی خاص نہیں بس چھوٹے موٹے۔اللہ نے عزت رکھی ۔ اللہ بخشے خیر سے ریٹائر ہوگئے۔ ایسا ہی کچھ ہوتا ہے اس طرح کہ کاموں میں۔ ایک بات اچھی ہے کہ میمن ہونے کے باوجود لکھنے پڑھنے سے کبھی دل نہیں چرایا اور دھندے کو دھرم نہیں جانا۔ ان دنوں گزر اوقات کے لیے ایک آرٹ اسکول میں مصوری سیکھنے جاتے ہیں۔فگر ڈرائینگ اور واٹر کلر میں دل چسپی ہے گوآتے دونوں ہی نہیں۔ مگر خوش ہیں کہ ہیں تو کسی کی نگاہ میں۔اولاد امریکہ یورپ بلاتی ہے مگر وہ راج کپور کی طرح گا کر ٹرخا دیتے ہیں کہ جینا یہاںمرنا یہاں اس کے سوا جانا کہاں۔ میری لندن تو کیا پاکستان میں بھی کوئی جائداد نہیں کروں گا کیا اگر ہوگیا ناکام ، بس سایہ دیوار ہے یہیں رہنے دو۔

iqbal-diwan has 123 posts and counting.See all posts by iqbal-diwan

One thought on “انسٹا گرام اور اللہ سے پرہیز”

  • 24/02/2025 at 5:52 صبح
    Permalink

    ڈیفنس ہیپی فلاؤرز شاپ کا بقایا کہاں گیا ؟ شانو کی موت کا اسرار۔

Comments are closed.