اب لوگ کہاں اس طبیعت کے
آج جب میں معمول کے مطابق کلاس پڑھانے کے لیے کلاس میں داخل ہوا تو بہت سارے بچوں کے چہرے مجھے اس طرح افسردہ دکھائی دے رہے تھے کہ جیسے انھوں نے خوشی کبھی دیکھی ہی نہ ہو ان کے چہروں پر خوشی کی رمق لانے کے لئے اور ان کی سوچنے والی حس کو بیدار کرنے کے لئے میں نے نصاب سے ہٹ کر ایک سوال ان کی نذر کیا کہ بتائیں انسان کے اندر پوشیدہ صلاحیتیں کون سی ہیں؟
اس سوال پر کافی دیر غور و فکر کرنے کے بعد یہ طے پایا کہ کل ہم اس کا جواب آپ کو دیں گے اگلے روز کلاس کے چند باذوق طالب علموں نے اپنی علمی قابلیت کے مطابق اس سوال کے جواب پر روشنی ڈالی کسی نے ان پوشیدہ صلاحیتوں میں خوشی کسی نے غم کسی نے سچائی تو کسی نے غصہ کہہ کر بتایا کہ یہ انسان کی پوشیدہ صلاحیتیں ہیں۔ ان کے جوابات ان کی ذہنی سطح کے مطابق تو درست تھے لیکن وہ ان صلاحیتوں کو بیان نہ کر سکے جو انسان کے اندر حقیقی پوشیدہ صلاحیتیں ہیں۔
اس کے بعد اسی سوال کا جواب انھوں نے مجھ سے طلب کیا تو جواب میں میں نے ان سے کہا اگر آپ باذوق ہو کر اور توجہ کے ساتھ بیٹھیں گے تو میں اس کا جواب آپ کو دے سکوں گا کیونکہ مولانا روم کا قول ہے کہ ” سننے والے کا ذوق ہی بولنے والے کو گویائی عطا کرتا ہے۔“
میں نے ان کو بتایا کہ انسان دو چیزوں کا مرکب ہے جسم اور روح جسم مادی اور روح غیر مادی چیز ہے روح ہمیں غیر مادی ہونے کی وجہ سے نظر نہیں آتی لیکن ہم اس کا انکار بھی نہیں کر سکتے۔ اس کے علاوہ اس جسم میں سات روحیں اور بھی ہیں جن کو ہم لطائف بولتے ہیں اور یہ ہی انسان کی وہ پوشیدہ صلاحیتیں ہیں جن کو بیدار کر لیا جائے تو انسان اس مختصر زندگی میں وہ کارنامے سر انجام دے سکتا ہے جو ویسے پانچ چھ سو سال کی زندگی میں بھی سر انجام نہیں دیے جا سکتے ان لطائف کے نام میں نے ان کو بتائے :
1) لطیفہ قلب
2) لطیفہ روح
3) لطیفہ سری
4) لطیفہ خفی
5) لطیفہ اخفی
6) لطیفہ آنا
7) لطیفہ نفس
سب سے پہلے لطیفہ نفس کے بارے میں بات ہوئی کہ نفس اگر ناپاک ہو تو یہ انسان کا سب سے بڑا دشمن ہے اگر اس کو پاک کر لیا جائے تو یہ ہی ہمارا بہت بڑا دوست ہے اور تمام صوفیاء کرام نے اپنی تعلیمات میں اس کو پاک کرنے کی ہی تلقین کی ہے ناپاکی کی حالت میں یہ نفس انسان کو برائی کی طرف لے جاتا ہے اور اگر اس کو پاک کر لیا جائے تو یہ ہی انسان کو اچھے کاموں کی طرف راغب کرتا ہے مزید نفس کی اقسام پر بھی میں نے بات کی لیکن اس گفتگو کے دوران سوائے دو تین بچوں کے کسی کی دلچسپی نہ تھی۔
اس کے بعد لطیفہ قلب پر بات ہوئی کہ انسان کے اندر ایک دل ہے اگر انسان اس دل کی معرفت حاصل کر لے تو تو اسے خدا کا قرب نصیب ہو جاتا ہے پھر اس کی وسعت سے ان کو آگاہ کیا کہ دل یعنی قلب کی اتنی وسعت ہے کہ حدیث قدسی ہے :
”میں (اللہ تعالیٰ) کسی چیز کے اندر نہیں سما سکتا سوائے بندہ مومن کے دل کے“ ۔
اس کے بعد قلب کی چار حالتوں کے متعلق ان کو بتایا
1) قلب صنوبری
2) قلب سلیم
3) قلب منیب
4) قلب شہید
اور ہر حالت کی کیفیات کیا ہوتی ہیں اور ہم ان میں کس طرح فرق کر سکتے ہیں اس پر وضاحت سے بات ہوئی۔
لیکن آخر میں وہی ہوا جس کا مجھے خدشہ تھا انھوں نے اتنی ہی بات سنی تھی تو جو دو تین ذوق سے اس گفتگو کو سن رہے تھے ان کا بھی ذوق ختم ہو گیا اور خدا نے مجھ سے ان کے بے ذوق ہونے پر وہ گویائی بھی چھین لی کیونکہ باذوق لوگوں کی باتیں ذوق والے ہی سن سکتے ہیں۔ میں نے جس طریقے سے ان کو پوشیدہ صلاحیتوں کے بارے میں بتانے کا ارادہ کیا تھا وہ بد قسمتی سے ان کی بے ذوقی کے سبب نامکمل ہی رہا۔ یہ بات بھی درست ہے کہ ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے جبریل کی بھی ایک حد ہے۔ ان کی سماعتوں کی بھی ایک حد تھی جو اس سے زیادہ نہ سن سکی۔ افسوس اب لوگ کہاں اس طبیعت کے۔


