جامعہ پنجاب کا کتاب میلہ اور وزیر تعلیم
جامعہ پنجاب کے سالانہ کتاب میلہ کے کامیاب انعقاد پر سربراہِ جامعہ کو مبارکباد، کہ انہوں نے بطور مستقل وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی میں پنپتی روایت کو زندہ رکھا اور ایک بھرپور سرگرمی منعقد کی۔ پنجاب یونیورسٹی کے مطابق اس کتاب میلہ میں ایک لاکھ بہتر ہزار کتابوں کی فروخت کا نیا ریکارڈ قائم کیا گیا ہے۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں کتاب کلچر کے تحفظ کے لئے ایسی سرگرمیوں کا انعقاد خوش آئند ہے۔ تاہم قابل ذکر امر یہ ہے کہ کتاب میلہ کی افتتاحی تقریب جس طرح سیکورٹی کے حصار میں منعقد کی گئی وہ یقیناً لمحہ فکریہ ہے۔
کتاب کی کشش مجھے پہلے ہی روز کتاب میلے میں کھینچ لائی۔ انٹری گیٹ پر طلبہ و طالبات کا شدید رش تھا۔ کسی کو اندر نہیں جانے دیا جا رہا تھا۔ میں نے بعض طلباء سے پوچھا تو کہا گیا کہ روکنے کی وجہ نہیں بتائی جا رہی۔ کسی نہ کسی طرح جگہ بناتا میں بھی گیٹ تک پہنچ گیا۔ سیکورٹی گارڈز سے استفسار کیا تو معلوم ہوا کہ وزیر تعلیم نے کتاب میلہ کا افتتاح کرنے آنا ہے، ”اوپر“ سے ہدایات ہیں کہ ان سے پہلے کسی طالبعلم کو اندر نہیں جانے دیا جائے گا۔
میں نے اپنا تعارف کروایا اور گیٹ پار کرنے میں کامیاب ٹھہرا۔ اندر جا کر میں نے کتاب میلہ آباد کرنے والوں کو بھی پریشان دیکھا۔ میں سیکورٹی گارڈز کو طلباء سے الجھتے بھی دیکھا۔ میں نے کتاب سے محبت کرنے والے چند ایسے طلباء بھی دیکھے جو کسی دوسرے گیٹ سے اندر آنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ لیکن اندرونی گیٹ پر مامور سیکورٹی گارڈ نے انہیں زبردستی باہر نکالا اور دوسرے سیکورٹی گارڈ کو ”حکم“ دیا کہ اگر یہ طالبعلم دوبارہ اندر آ جائیں تو انہیں کمرے میں بند کر دیا جائے۔
پھر ایک اور منظر بھی میری نگاہوں نے دیکھا۔ مہمان خصوصی تشریف لائے تو ان کی گاڑی دیکھتے ہی ”ہٹو بچو“ کی صدائیں بلند ہونا شروع ہو گئیں۔ راستے کلیئر کروائے جانے لگے۔ طلباء کو ان گزرگاہوں سے زبردستی دور کر دیا گیا جہاں سے مہمانِ خصوصی کی گاڑی گزرنی تھی۔ مہمان کو ریسیو کرنے کے بعد ان کے دو اطراف سیکورٹی گارڈز نے انسانی چین بنا لی۔ تیسری طرف پولیس کی بھاری نفری نے سنبھال لی، مہمان کی انٹری کے بعد گیٹ ایک مرتبہ پھر بند کر دیے گئے اور سیکورٹی کے سخت حصار میں وزیر تعلیم کو کتاب میلہ کا دورہ کروایا گیا۔
میں ہی کیا، وہاں موجود ہر شخص کتاب میلہ کی منتظمین کی جانب سے اختیار کیے گئے اس رویہ پر سخت حیران تھا۔ یونیورسٹی میں یہ خوف کا ماحول ایک ایسے مہمان خصوصی کے لئے بنایا گیا، جو نہ صرف ایک دبنگ وزیر ہے بلکہ پنجاب کے علاوہ دیگر صوبوں کے طلباء کا بھی ہر دلعزیز منسٹر ہے۔ وہ جہاں جاتا ہے، طلباء میں گھل مل جاتا ہے۔ تو ایسے صوبائی وزیر کو اتنی سخت سیکورٹی میں کتاب میلہ کا دورہ کروا کر کیا ثابت کرنے کی کوشش کی گئی؟
میرے علم میں آیا کہ وزیر تعلیم کو بعض طلباء تنظیموں سے ”بچانے“ کے لئے جامعہ پنجاب کی جانب سے یہ اقدام اٹھایا گیا ہے۔ جامعہ پنجاب کے منتظمین کو خدشہ تھا کہ وزیر تعلیم کی آمد پر یا کتاب میلہ کے افتتاح کے موقع پر کسی طلباء تنظیم کی طرف سے کوئی ناخوشگوار صورتحال پیدا کی جا سکتی ہے۔ ماضی میں جامعہ پنجاب میں ایسے ماحول سے بچنے کے لئے طلباء تنظیموں اور یونیورسٹی کے اشتراک سے ایسی سرگرمی منعقد ہوتی تھیں۔ لیکن اس مرتبہ جامعہ پنجاب اکیلے یہ کریڈٹ لینا چاہتی تھی۔ کریڈٹ کیا لینا تھا، الٹا بدنظمی ہی گلے پڑی۔
جامعہ پنجاب کے نئے وائس چانسلر یہ بھول گئے کہ جو وزیر تعلیم بغیر کسی سیکورٹی کے، اکیلا پنجاب کالج کے نوجوانوں کے بپھرے مجمع میں جا کر انہیں کنٹرول کر سکتا ہے، اس کے لئے جامعہ پنجاب کے چھوٹے موٹے ممکنہ احتجاج سے نبٹنا کون سا مشکل کام ہے۔ یہ وہ وزیر تعلیم نہیں جو طلباء کے مسائل سننے سے کنی کتراتے تھے۔ یہ میدان میں جانے اور لوگوں کے درمیان رہنے پر یقین رکھنے والا وزیر تعلیم ہے۔ اس کے لئے طلباء گروہ، کوئی الگ طاقت نہیں۔
اس وزیر تعلیم کے لئے ایسا ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ یہ وہ وزیرِ تعلیم ہے جو پروٹوکول کا قائل ہی نہیں ہے، بلکہ طلباء کے مسائل براہ راست سنتا ہے اور انہیں حل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ان میں گھلنے ملنے کو ترجیح دیتا ہے۔ اگر اس کی آمد سے قبل کتاب میلہ کا کاریڈور خالی نہ رکھا جاتا اور طلباء کو اندر جانے دیا جاتا تو مثبت پیغام جاتا۔ یوں وزیر تعلیم زیادہ پروٹوکول محسوس کرتا۔ بجائے اس کے کہ اسے غیر ضروری سیکورٹی کا حصار دیا جائے۔
جو دیا، وہ پروٹوکول ہر گز نہیں گردانا جا سکتا۔ ایسے اقدامات تعلیمی ادارے کے ماحول کے برعکس ہوتے ہیں۔ یہ ماحول وزیر تعلیم کی عوامی سوچ کے منافی ہے اور طلباء کے لئے بھی مایوسی کا سبب بنتا ہے، کیونکہ کتاب میلہ کے اصل شرکاء یہی طلباء ہی تو تھے۔ کتاب میلہ جیسی سرگرمیوں کا تعلق چونکہ براہِ راست طلباء سے ہوتا ہے، تو مناسب عمل یہی ہے کہ وی آئی پی مہمانوں کو طلبہ کے ساتھ گھلنے ملنے اور عام شرکاء کی طرح ایونٹ کا حصہ بننے دیا جائے۔ اگر رئیس جامعہ نے اس تقریب کو خوف کے ماحول میں ہی کروانا تھا تو اس کے انعقاد کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ شخصیات کا پروٹوکول اپنی جگہ، مگر، آغاز پر، کتاب میلہ کو ”سیکورٹی میلہ“ ہر گز نہیں بنانا چاہیے تھا۔


