نوعمروں میں منشیات کے بڑھتے واقعات اور والدین
ملک میں ایک کے بعد ایک کیس نے چونکا دیا ہے۔ اب بہت ضروری ہو گیا ہے کہ والدین اپنے بچوں پر کڑی نظر رکھیں۔ آپ کتنے بھی اچھے والدین ہوں، بہت ڈسپلن رکھتے ہوں، مگر موجودہ صورتحال میں ضروری ہے کہ اپنے 14 سال یا 13 سال کے بچوں کو اپنی نگاہ میں رکھیں، اس بات کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ کا بچہ غلط ہے، یا آپ نے اچھی تربیت نہیں کی ہے بلکہ حالات ہی ایسے ہیں کہ اب نوعمروں کے ہر عمل پر نظر ہو، اس کے دوست کیسے ہیں؟ کون ہیں؟ چاہے کتنی ہی اچھی فیملیوں کے ہوں، آپ ان کے بارے میں اور ان کی موجودہ سرگرمیوں، ان کے آگے دوستوں اور ان کی سرگرمیوں کے متعلق سب جانیں، لیکن بغیر محسوس کرائے، یہ سب کرنا اتنا مشکل نہیں ہے۔ خاص طور پر بعد میں رونے سے لاکھ درجے بہتر ہے، آپ کو اپنے نوعمر بیٹے، بیٹیوں کے تمام معمولات زندگی، سرگرمیوں اور فون کے متعلق سب علم ہونا چاہیے۔
مجھے یاد ہے میرے والد میرے بھائیوں کو شام سات بجے کے بعد باہر جانے سے روکتے، اگر جانا ضروری ہوتا ہے تو وجہ پوچھی جاتی، واپسی کا ٹائم پوچھا جاتا۔ اس کے علاوہ دوستوں کو گھر پر بلانے یا ان کے گھر جانے پے خوش نہ ہوتے، جس کی وجہ سے والد کی ناراضگی کے ڈر سے دوستوں سے محدود ملنا جلنا تھا۔ آپ آج یقیناً اس پر حیران ہوں گے لیکن ایک 14 یا اس سے کم عمر لڑکی یا لڑکے کے لئے یہی مناسب ہے، دوسرا بچے کو اس عمر میں آپ کی سب سے زیادہ ضرورت ہے آپ ہر وقت اس کو دستیاب رہیں، تاکہ وہ اپنی ہر بات آپ کو بتائے۔ اس کی بتائی گئی کسی بات پے فوراً ری ایکشن دینے کے بجائے اسے سنیں، سمجھیں اور دوستوں کی طرح ری ایکٹ کریں اور اگر آپ نے حکم چلایا تو دوبارہ وہ آپ کو کوئی بات نہیں بتائے گا۔
ہر وقت دستیاب ہونے کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ آپ کام دھندا چھوڑ دیں بلکہ آپ صبح اس کو خود اٹھائیں اس سے پوچھیں آج وہ کیا کیا کرے گا۔ اور اسے بتائیں کہ آپ اس کے ساتھ ہیں۔ اس کو اسکول یا کالج خود چھوڑ دیں یا کم از کم وین یا بس تک چھوڑیں۔ جیسے ہی اس کی چھٹی ہو، آپ یا تو اس کو خود پک کریں یا پھر فون پے رابطہ کریں یا گھر پے فون کر کے معلوم کریں کہ وہ کس طرح، کب کس کے ساتھ آیا ہے، اس نے کھانا کھایا، اسی طرح کی دیگر باتیں جس کا محور بچہ ہو، اس کی اہمیت ہو، احساس ہو اور محبت ہو۔ تیسرا وقت رات کا ہے، آپ کو پوری کوشش کرنی ہے آپ اپنے بیٹے کے ساتھ ہوں جب تک وہ سو نہیں جاتا، ہر بات کریں دنیا جہاں کی باتیں اگر آپ کا بچہ نہیں کرنا چاہتا تو بھی زبردستی کیے بنا آپ اس کے پاس دستیاب رہیں۔
کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ ماں باپ کو اچانک پتہ چلتا ہے کہ ان کا بچہ جو ان کی نظر میں دنیا کا شریف ترین انسان ہے، بری سوسائٹی کا شکار ہو کر یا تو منشیات یا پھر کسی اور بری لت کا شکار ہو چکا ہے۔ ایسے میں اپنے حواس سنبھال کر صورتحال کنٹرول کریں۔ جو ہو گیا وہ آپ بدل نہیں سکتے مگر حالات کو قابو کر سکتے ہیں۔ آپ کو فوری طور پر بچے کے قریب ہونا ہو گا اس کی دوستیاں ختم کرانا ہوں گی مگر بے حد سکون کے ساتھ، نفسیاتی طور پر ایسے لڑکے کو ڈیل کرنا ہو گا۔ منشیات کا موثر علاج اور پرانی دوستیوں کی جگہ آپ کو نئے دوست بنانے میں مدد کرنی ہوگی مصطفیٰ کیس کی سب سے بڑی خرابی یہ تھی کہ اس کی دوستی مقدمہ بننے کے باوجود برقرار رہی اگر اس کی والدہ بروقت اس کی یہ دوستی ختم کروا کر اس کی دلچسپیوں کا محور بدل دیتی تو یہ نوبت نہ آتی۔ دوسری طرف ارمغان کے پاس اتنی دولت کہاں سے کیوں آئی یہ سوال اگر اس کے والدین کرلیتے تو وہ بھی قاتل نہ بنتا، گر بہت سے ایسے والدین بھی ہیں جو نوعمروں کے پاس بے جا دولت تو دور کا سوال، اس دولت کو استعمال کرتے ہیں۔ یہ جانے بنا کہ ان کا لڑکا تباہی کے گڑھے میں گر گیا ہے۔


