اڈیالہ جیل کے ”مکین“ کے محبت نامے
8 فروری 2024 ء کو ہونے والے عام انتخابات کے انعقاد کو ایک سال ہو گیا ہے جسے موجودہ حکومت نے ”تعمیر و ترقی“ کے سال کے طور منایا جب کہ اپوزیشن (پی ٹی آئی) نے اس دن کو انتخابی دھاندلیوں کے خلاف ”یوم سیاہ“ کے طور پر منا کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔ ایک سال گزرنے کے باوجود حکومت اور پی ٹی آئی فارم 45 اور 47 کی لڑائی سے باہر نہیں نکل سکی۔ ایک طرف پی ٹی آئی موجودہ حکومت کو قانونی حکومت تسلیم نہیں کرتی لیکن دوسری طرف پارلیمنٹ کی تمام مراعات بھی لے رہی ہے اور مختلف کمیٹیوں کی سربراہی بھی کر رہی ہے۔ حکومت سے مذاکرات کی میز پر بیٹھتی ہے اور بائیکاٹ کا ڈرامہ بھی رچا رہی ہے۔ اس پر طرفا تماشا یہ کہ ”اڈیالہ جیل کے“ مکین ”کے آرمی چیف کے نام“ محبت نامے ”بھی آرہے ہیں جب کہ مکتوب الیہ خطوط ملنے سے انکاری ہے جس پر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پھبتی کسی ہے“ اڈیالہ سے خطوط آرہے ہیں خدا کا واسطہ مجھے نکالو ”۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات میں کامیابی کے بلند بانگ دعوے کیے جا رہے ہیں۔ اعشاریوں کی مدد سے تعمیر و ترقی میں حکومت کی اعلیٰ کارکردگی ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
پی ٹی آئی کو یوم سیاہ پر مینار پاکستان کے سائے میں جلسہ کرنے اجازت نہ ملی اگر اجازت دے دیتی تو کوئی قیامت نہ آجاتی اگر مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو جلسے کرنے کی اجازت ہے تو پی ٹی آئی کو بھی جلسہ کرنے کا شوق پورا کرنے دینا چاہیے تھا حکومت کو پی ٹی آئی سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے ایک سال بعد اسے جلسہ جلوس کر کے اپنی مقبولیت کا اندازہ کرنے دینا چاہیے بہر حال پی ٹی آئی نے صوابی میں ”جلسی“ کرنے پر اکتفا کیا اگرچہ پی ٹی آئی نے ملک گیر احتجاج کی کال دے رکھی تھی لیکن پی ٹی آئی یوم سیاہ پر اپنی سیاسی قوت کا بھرپور مظاہرہ نہیں کر سکی پی ٹی آئی کے اندر کی جانے والی تبدیلیوں کے با وجود پی ٹی آئی بڑا شو کرنے میں ناکام رہی ہے۔ عمران خان کے جیل میں ہونے کی وجہ سے پارٹی میں گروپ بندی عروج پر ہے ہر لیڈر عمران خان کے قریب ہونے کے لئے جو جی میں آتا ہے کہنے سے گریز نہیں کرتا عمران خان سے ملاقات کرنے والی وکلاء قیادت کی کپتان تک رسائی ہے وہ پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے خلاف کان بھرتی رہتی ہے۔
بشریٰ بی بی نے علی امین گنڈاپور کی صوبائی صدارت سے چھٹی کرا دی اور ان کی جگہ ان کے مخالف جنید اکبر کو صدر بنوا دیا دوسری طرف سلمان اکرم راجا نے شیر افضل مروت کو پارٹی سے نکلوا دیا پارٹی میں جوتا چل گیا ہے نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے پی ٹی آئی کے منحرف رہنما فواد چوہدری نے اڈیالہ جیل کے صدر دروازے پر پارٹی کے رہنما شعیب شاہین کی پٹائی کر دی جب کہ شعیب شاہین کا دعویٰ ہے انہوں نے فواد چوہدری کی چار گنا پٹائی کر کے حساب برابر کر دیا ہے فواد چوہدری نے عمران کے سامنے انہیں بھگوڑا کہنے پر شعیب شاہین پر اپنا غصہ نکالا فواد چوہدری کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے بانی پی ٹی آئی کے حکم پر شعیب شاہین سے صلح کر لی ہے لیکن شعیب شاہین نے صلح کے بارے میں تردید کر دی ہے۔ پی ٹی آئی میں بیشتر لیڈر اپنے آپ کو ”گنگا اشنان“ کیا ثابت کرنے کے لئے دوسروں پر اسٹیبلشمنٹ کے ایجنٹ کی الزام تراشی کر رہے ہیں اب تو بعض لیڈر کھلم کھلا پارٹی فنڈ کھانے کی کہانیاں سنا رہے ہیں۔ مسلم لیگی قیادت پی ٹی آئی میں توڑ پھوڑ اور مارکٹائی کو انجوائے کر رہی ہے۔
عمران خان اس صورت حال سے سخت نالاں ہیں ان کی فوری رہائی کا بھی کوئی امکان نہیں عمران خان آرمی چیف کو چار کھلے خط لکھ چکے ہیں لیکن تا حال انہیں کوئی جواب نہیں ملا اب تو آرمی چیف نے بھی کہہ یا ہے ”مجھے کوئی خط نہیں ملا اگر کوئی خط آیا بھی تو پڑھوں گا نہیں وزیر اعظم کو بھجوا دوں گا“ عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان سلسلہ جنبانی نہ ہونے کے برابر ہے یہی وجہ ہے اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ان کے کسی خط کو سیرس نہیں لیا جا رہا حکومتی حلقوں نے عمران خان کے ”محبت ناموں“ کو مذاق بنا لیا ہے اسٹیبلشمنٹ ”خط بازی“ کو کس قدر اہمیت دیتی ہے اس کا اندازہ آرمی چیف کے بیان سے لگایا جاسکتا ہے۔ پی ٹی آئی کی طرف سے یہ کہا جا رہا ہے رمضان المبارک کے بعد عمران خان کی رہائی کے لئے بھرپور تحریک شروع کی جائے گی تا حال واشنگٹن سے کوئی فون کال آئی اور نہ ہی عمران خان کی رہائی کے لیے وائٹ ہاؤس میں کوئی ہلچل دیکھی گئی ہے فی الحال ڈونلڈ ٹرمپ کو مودی سے محبت کی پینگیں بڑھانے سے فرصت نہیں انہوں نے اپنی تمام تر توجہ یوکرین اور غزہ کی جنگ کو اپنے ایجنڈے کے مطابق ختم کرانے پر مرکوز کر رکھی ہے۔ انہیں دنیا بھر کے جھمیلوں سے فرصت ملتی تو وہ عمران کو یاد کرتے پی ٹی آئی کے کارکنوں نے امریکہ سے بڑی امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں جو اب مایوسی میں تبدیل ہو رہی ہیں۔
البتہ اب پی ٹی آئی تنہا تحریک چلانے کی بجائے اپوزیشن کا گرینڈ الائنس بنانے کی کوشش کر رہی ہے قبل ازیں محمد خان اچکزئی کی سربراہی میں ”تحریک تحفظ آئین“ بنائی تھی لیکن پی ٹی آئی نے اسے عملاً غیر موثر کر دیا لیکن اب پی ٹی آئی کی قیادت نے ایک بار پھر مولانا فضل الرحمٰن کے ڈیرے کا طواف شروع کر دیا ہے عشائیوں میں عوام پاکستان پارٹی کے قائد شاہد خاقان عباسی کو بھی مدعو کیا جا رہا ہے سابق سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے بھی سیاست دانوں کی ”گپ شپ“ میں دلچسپی لینا شروع کر دی ہے ”سیاسی بیٹھکوں“ کی رونق بننے والے سیاست دانوں کے درمیان مطالبات کی حد تک اتفاق رائے ہونے کے باوجود اپوزیشن گرینڈ الائنس بنتا نظر نہیں آ رہا۔ جمعیت علما اسلام اور جماعت اسلامی کی شرکت کے بغیر پی ٹی آئی کوئی اتحاد نہیں بنا سکتی ہے جسے گرینڈ الائنس کا نام دیا جا سکے ان دو جماعتوں کے پاس سٹریٹ پاور کوئی حکومت گرانے کی صلاحیت تو رکھتی ہے لیکن دونوں جماعتیں حکومت کی مخالفت کرنے کے باوجود اس کو گرانے کے لیے اپنے کارکنوں کو تحریک کا ایندھن بنانے کے لئے تیار نہیں۔

