نا اہلی کے فروغ کو روکنا ہو گا


سیاست درحقیقت ایک قومی امانت اور عوامی خدمت کا ذریعہ ہے، جس کا مقصد علاقائی اور ملکی ترقی کو فروغ دینا ہے، لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں سیاست کا اصل مقصد پسِ پشت چلا گیا ہے۔ سیاست دانوں کی ایک بڑی تعداد نے ذاتی مفادات اور سیاسی تسکین کو ترجیح دیتے ہوئے میرٹ کی پامالی اور نا اہل افراد کی سرپرستی کا ایک ایسا کلچر پروان چڑھایا ہے جس نے ترقی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں۔ اس طرزِ عمل کے نتیجے میں نہ صرف علاقائی ترقی متاثر ہوئی بلکہ سیاست اپنی اصل روح سے محروم ہو کر محض ذاتی تسکین اور طاقت کے حصول کا ذریعہ بن کر رہ گئی ہے۔

میرٹ، درحقیقت اہلیت اور قابلیت کی بنیاد پر فیصلے کرنے کا نام ہے، لیکن ہمارے معاشرتی اور سیاسی ڈھانچے میں یہ اصول کہیں گم ہو چکا ہے۔ اس کی جگہ ذاتی پسند و ناپسند، سیاسی وفاداری اور خاندانی تعلقات نے لے لی ہے۔ نتیجتاً، ادارے کمزور ہو گئے ہیں کیونکہ ان میں قیادت سنبھالنے والے افراد اکثر نا اہل اور سفارشی ہوتے ہیں، جو قومی مفاد کے بجائے ذاتی مفاد کو ترجیح دیتے ہیں۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں میرٹ کا قتلِ عام ہوتا ہو، وہاں اہل اور باصلاحیت افراد یا تو سسٹم سے بدظن ہو کر پیچھے ہٹ جاتے ہیں یا پھر کسی طرح اس سفارشی نظام کا حصہ بننے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں، جس سے نا اہلی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔

جب کسی بھی ادارے میں نا اہل افراد تعینات کیے جاتے ہیں تو وہ اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہو جاتے ہیں یا پھر کسی مخصوص فرد یا گروہ کی خوشنودی میں مصروف رہتے ہیں۔ ایسے افراد اپنی تعیناتی کو ایک احسان سمجھ کر اپنے عہدے کو محض مراعات اور طاقت کے لیے استعمال کرتے ہیں، نتیجتاً ادارے زوال کا شکار ہو جاتے ہیں۔ سفارشی نظام کے باعث عوام میں بے چینی اور عدم اطمینان جنم لیتا ہے۔ لوگ جب دیکھتے ہیں کہ میرٹ کو نظر انداز کر کے ذاتی پسند پر فیصلے کیے جا رہے ہیں تو وہ مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایسی مایوسی، بداعتمادی کو جنم دیتی ہے، اور یہی بداعتمادی آگے چل کر ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے۔

یہی سفارشی کلچر ترقیاتی منصوبوں میں بھی نظر آتا ہے، جہاں وسائل اور فنڈز کو ذاتی تعلقات اور سیاسی وفاداریوں کی بنیاد پر تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں حقیقی مسائل پسِ پشت چلے جاتے ہیں اور ترقیاتی عمل سست ہو جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ فنڈز مخصوص گروہوں اور افراد کے فائدے کے لیے خرچ ہوتے ہیں، جبکہ عوام کے بنیادی مسائل جوں کے توں رہتے ہیں۔

سیاست میں ذاتی تعلقات اور وفاداریوں کی بنیاد پر فیصلے کرنا اب ایک عام رواج بن چکا ہے۔ سیاست دان اپنے قریبی افراد، دوستوں اور وفادار کارکنوں کو اعلیٰ عہدے اور مراعات دے کر اپنی سیاسی گرفت مضبوط کرنا چاہتے ہیں، جس سے نا اہلی کو فروغ ملتا ہے اور اداروں کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کے نتیجے میں ترقیاتی منصوبے تعطل کا شکار ہو جاتے ہیں اور عوام بنیادی سہولیات سے محروم رہ جاتے ہیں۔ احتساب کا فقدان اس سسٹم کو مزید کمزور کرتا ہے، کیونکہ جب تعیناتیاں ذاتی پسند پر ہوں تو بدعنوانی اور کرپشن پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا۔

علاقائی سیاست میں بھی یہی رویہ دیکھنے میں آتا ہے، جہاں اصل مسائل پسِ پشت چلے جاتے ہیں اور سیاست دان زیادہ تر ذاتی اختلافات اور سیاسی برتری کے چکر میں الجھے رہتے ہیں۔ تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولیات جیسے اہم موضوعات پر توجہ دینے کے بجائے سیاسی انتقام، انا کی تسکین اور محض اقتدار کے کھیل میں وقت ضائع کیا جاتا ہے۔ اس کا نقصان براہِ راست عوام کو پہنچتا ہے، جو ان سیاست دانوں سے امیدیں وابستہ کیے بیٹھے ہوتے ہیں۔ سیاسی تعصب اور ذاتی اختلافات نہ صرف ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں بلکہ عوام کو تقسیم بھی کر دیتے ہیں۔ جب کسی علاقے میں سیاسی وابستگی کی بنیاد پر فیصلے کیے جاتے ہیں تو معاشرہ مختلف گروہوں میں بٹ جاتا ہے، جس سے قومی یکجہتی کمزور ہوتی ہے اور اجتماعی ترقی کی راہ مزید دشوار ہو جاتی ہے۔

اس صورتحال سے نکلنے کے لیے ضروری ہے کہ میرٹ کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے اور ہر سطح پر اہلیت کو بنیاد بنا کر فیصلے کیے جائیں۔ شفافیت اور احتساب کا ایک ایسا منصفانہ نظام تشکیل دیا جائے جو کسی دباؤ کے بغیر کرپٹ اور نا اہل افراد کا محاسبہ کر سکے۔ سیاست دانوں کو ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر عوامی مسائل پر توجہ دینی چاہیے اور ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کہ ترقیاتی منصوبے ذاتی پسند و ناپسند کے بجائے عوامی فلاح کو مدنظر رکھ کر ترتیب دیے جائیں۔ عوامی شعور کی بیداری بھی ایک اہم عنصر ہے۔ جب تک عوام یہ نہیں سمجھیں گے کہ ذاتی تعلقات اور علاقائی تعصب کی بنیاد پر سیاست دانوں کو منتخب کرنا درحقیقت اپنے ہی مستقبل کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے، تب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ عوام کو چاہیے کہ وہ شخصیت پرستی اور سیاسی وابستگی سے ہٹ کر کارکردگی کی بنیاد پر اپنی قیادت کا انتخاب کریں۔

Facebook Comments HS