پہچان
میری شناخت کیا ہے؟ وہ جو مُجھے بتائی گئی ہے یا وہ جو میں نے اپنے تجربات حاصل کر کے اپنے مختلف رویوں اور سوچوں میں محسوس کی ہے؟ یا شاید ایک انسان کی شناخت اور خود شناسی دو مختلف صورتوں کا نام ہے۔ میری شناخت یہ ہے کہ میں ایک مخصوص قسم کی ثقافت سے تعلق رکھتی ہوں جس میں میری لسانیات، رسم و رواج، رویوں کی تشکیل اور ردِ عمل، سب کُچھ اُس خاص ثقافت کی دین ہے مگر اِس سب کے گھیرے میں میرا خود کو پہچاننا مجھے مختلف شناخت عطا کرتا ہے ہے اور اسی بِنا پر شاید ہم سب ایک دوسرے سے مختلف سمجھے جاتے ہیں۔ میں یہاں نسلی شناخت اور خود شناسی کا کوئی موازنہ نہیں کر رہی نہ ہی کسی انسائیکلوپیڈیا میں دی گئی تعریفات بتا رہی ہوں۔ میں یہ سمجھتی ہوں کہ ہم سب اپنی زندگی کے مختلف ادوار سے گزر کر اپنے بارے میں جب کُچھ نیا جانتے ہیں یا اپنے اندر چھپے ہوئے ایک ایسے محرک سے واقفیت حاصل کرتے ہیں جو پہلے کبھی رونما نہیں ہوا تھا تو شاید تب ہی ہمیں اپنی ذات کے مُختلف زاویوں کی پہچان ہوتی ہے۔
میں جب شدت بھری تنہائی سے گزری تو میں نے جانا کہ زنداں کا حال کیا ہوتا ہے، جب کبھی کوئی تحریر لکھتے ہوئے میرے ہاتھ کانپے تو جانا کہ ذات کا ٹوٹا ہوا ہونا کیا ہوتا ہے، جب انتہائی جارحیت کے عالم میں اپنے ہی آپ سے نفرت محسوس ہوئی تو جانا کہ انتشار کیا ہوتا ہے، جب ماضی میں مانگی گئی دُعائیں گلے کا طوق بننے لگیں تو جانا کہ ملال کیا ہوتا ہے، جب جانا کہ عشق و محبت تو محض مخالف شخص سے خود کو چاہے جانے کا مطالبہ اور اور احسان جتانا ہوتا ہے تب پہچانا خود پرستی کی انتہا کیا ہے۔ ہر شخص اپنی زندگی کے کسی نہ کسی مقام پر یہ لازمی کہتا ہے کہ میں تو وہ ہوں ہی نہیں جو میں ہوا کرتا تھا اور اس سچ کو کوئی اپنا لیتا ہے تو کوئی اِس سے پیدا ہونے والے ذہنی ہیجان میں اُلجھا رہتا ہے۔ مُجھے حسد بھی ہوتا ہے اور میں خُود الزامی سے بھی گزرتی ہوں، میں معاشرے کے بنائے گئے نظریات سے اختلاف رکھتی ہوں مگر میں اُن سے متاثر بھی ہوتی ہوں، کبھی مُجھے خوشی محسوس ہوتی تھی اب نہیں ہوتی تو سوچتی ہوں خوشی آخر تھی ہی کیا۔
میں یہ نہیں کہتی کہ جو میں نے کہا ہے یہ کوئی سائنسی مقالہ ہے یا یہ ایک حتمی سچ ہے۔ یہ تو محض ایک سوچ ہے، ایک کیفیت ہے، ایک تجربہ ہے جو عمر کے جُدا جُدا حصوں کو گُزار کر لفظوں میں ڈھالا گیا ہے۔ اگر اپنے آپ کو جاننا ہے، خود کو پہچاننا ہے تو اپنی زندگی کے مختلف پہلوؤں میں انجام دیے گئے اپنے رویوں، سوچوں، جذبات، احساسات کو سمجھو۔ جب اپنے اندر یہ سوال اٹھے کہ یہ کیا ہے جو میں محسوس کر رہا ہوں، یہ کیوں ہے، یہ کہاں سے آیا ہے، یہ میرے اندر کیسا بدلاؤ لایا ہے، کیا اس نے میرے بنائے گئے نظریات کو مبہم سا کر دیا ہے، کیا انہیں توڑ کر رکھ دیا ہے تو شاید اِسی ایک لمحے میں اپنے آپ کو پہچاننے کا آغاز ہوتا ہے۔
اِس قدر تو دُشوار نہ تھا خُود کو پہچاننا
ہاں مگر اِک عمر گزارنی پڑی بس


