علماء کی بستی۔ نگرام


تقسیم ہند سے پہلے ہندوستان میں دینی تعلیم کے لیے دو مدرسے یا مکتبہ فکر School of Thought مشہور تھے جنہیں عرف عام میں دیوبندی اور بریلوی کے نام سے جانا جاتا ہے۔

دارالعلوم دیوبند یوپی کے شہر سہارنپور میں اٹھارہویں صدی کے آخر میں مولانا قاسم نانوتوی نے قائم کیا۔ اس مدرسے سے بڑے بڑے نامور عالم دین فارغ التحصیل ہو کر نکلے جنہوں نے برصغیر میں دینی تعلیم اور تبلیغ کی گراں قدر خدمات انجام دیں۔ یہاں سے فارغ التحصیل علماء نے حضرت شاہ ولی اللہؒ کے پیغام، ان کی تفہیم دین اور تحریک کو آگے بڑھایا۔ اس مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے دیوبندی کہلائے۔

دوسرا مکتبہ فکر جسے عرف عام میں بریلوی کے نام سے جانا جاتا ہے اس کی بنیاد 1856 میں ایک جید عالم دین احمد رضا خان نے بریلی میں رکھی اور ایک مدرسہ قائم کیا جو بریلوی مکتبہ فکر کا مرکز بنا۔ بظاہر تو دیوبندی اور بریلوی دونوں ہی سنی العقیدہ مسلمانوں پر مشتمل ہیں لیکن دونوں کی تشریح دین ایک دوسرے سے بہت مختلف ہے جس کی وجہ سے دونوں مکتبہ فکر کے پیروکار ایک دوسرے کی تشریح دین کے سخت مخالف ہیں اور اپنے مخالفین کو نہ صرف دائرہ اسلام سے خارج قرار دیتے ہیں بلکہ ان پر کفر تک کے فتوے بھی لگاتے ہیں۔

لکھنؤ ہی میں ایک اور معتبر درسگاہ فرنگی محل کے نام سے موسوم ہے۔ فرنگی محلی بھی سنی العقیدہ ہیں یہاں کے فارغ التحصیل علماء بریلوی اور ندوی مکتبہ فکر کا خوبصورت امتزاج ہیں۔ آج بھی لکھنؤ میں رمضان اور عیدین کی رویت ہلال کا اعلان فرنگی محل ہی سے کیا جاتا ہے۔

ہمارا آج کا موضوع قصبہ نگرام اور وہاں کے علماء کے بارے میں ہے۔ یوں تو اس قصبے کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ روایات کے مطابق اس قصبے کو راجہ نل نے بسایا تھا اور اس کا نام نلگرام تھا جو بعد میں بگڑ کر نگرام ہو گیا۔ اس قدیم شہر کے کھنڈرات آج بھی پائے جاتے ہیں۔ اس قصبہ کی اصل وجہ شہرت اس کے قریب واقع دارالعلوم ندوۃ العلماء ہے جہاں سے فارغ التحصیل علماء اور اکابرین نے اس چھوٹے سے قصبے کو پورے ہندوستان اور عالم اسلام سے روشناس کرایا۔ اس لحاظ سے اگر نگرام کو علماء کی بستی کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔

1898 میں مولانا محمد علی مونگیری اور مولانا بلال حسنی ندوی نے لکھنؤ کے قریب ایک مدرسہ قائم کیا جس کا نام ندوۃ العلوم رکھا گیا جہاں کے فارغ التحصیل علما دیوبندی اور بریلوی مکتبہ فکر سے قدرے مختلف اور دونوں انتہاؤں کے درمیان زیادہ روشن خیال اور کسی حد تک جدیدیت کے قائل تھے۔ ندوۃ العلوم لکھنؤ سے علماء کی ایک بڑی تعداد نکلی جنہوں نے دین کی تشریح کو دور جدید سے ہم آہنگ کیا۔ ندوۃ العلوم کے بانیان میں مولانا شبلی نعمانی اور اپنے وقت کے دیگر نامور علما بھی شامل تھے۔ مدرسہ ندوہ میں حصول علم کے لیے نہ صرف ہندوستان بلکہ دوسرے ممالک سے بھی ایک بڑی تعداد میں طالبعلم آئے اور اس عظیم درسگاہ سے مستفیض ہوئے اور عالم اسلام میں بڑا نام پیدا کیا۔

میرے ددھیال کا تعلق اسی مردم خیز بستی سے ہے۔ نگرام میں یوں تو شرفا اور با علم افراد کی ایک بڑی تعداد تھی۔ لیکن یہاں دو گھرانے زیادہ معتبر مانے جاتے تھے ان میں ایک ”مولویانہ“ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ اس گھرانے میں متعدد جید علما اور اسلامی اسکالرز پیدا ہوئے جن میں اکثر کا تعلق علم و تدریس سے تھا جنہوں نے نگرام کا نام روشن کیا۔ دوسرا گھرانا دنیا دار قسم کے افراد پر مشتمل تھا جو زمینداری کے علاوہ سرکاری ملازمتیں کرتے تھے۔ میرے اجداد اسی گھرانے سے متعلق تھے ہمارے جد مرحوم حسن اختر صاحب تھے جو برطانوی دور میں ڈپٹی کلکٹر کے عہدے پر فائز تھے۔ مولویانہ اور حسن اختر صاحب کے گھرانوں میں قرابت داریاں بھی تھیں اور باوجود چھوٹے موٹے تنازعات رواداری اور میل ملاپ کا رشتہ کبھی نہیں ٹوٹا۔

مجھے بجا طور پر فخر ہے کہ نگرام اور یہاں کے علماء میں اکثریت میرے بزرگوں کی تھی۔ اب ذرا سرسری طور پر ان نابغہ روزگار ہستیوں کا تذکرہ بھی ہو جائے جو میرے لیے وجہ افتخار ہیں۔

حافظ عبدالعلی نگرامی :

خانوادہ علماء نگرام کے جد اعلیٰ تھے ان کی ولادت اٹھارہویں صدی کے اوائل میں ہوئی۔ آپ اودھ کے نواب امین الدولہ کے مقرب خاص تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے مولانا محمد حسین فرنگی محلی اور مولانا قاسم نانوتوی سے علمی استفادہ بھی حاصل کیا۔ آپ کا زہد و تقویٰ مثالی تھا ان کی درس و تبلیغ کی وجہ سے اودھ کے بیشتر علاقوں میں مختلف قسم کی بدعتوں کا خاتمہ ہوا۔ مولانا کی تعلیم اور تبلیغ کے باعث دور دراز کے افراد نے ان سے بیعت کی اور دین کی صحیح تعلیم سے روشناس ہوئے۔

مولانا محمد یحییٰ :

انہوں نے اپنے والد مولانا عبدالعلی نگرامی سے تعلیم و تربیت پائی ان کے علاوہ اپنے وقت کے مشہور علماء سے بھی استفادہ کیا اور مولانا محمد نعیم صاحب فرنگی محلی سے بیعت کی اور خلافت عطا ہوئی۔

مولانا محمد ادریس نگرامی :

آپ مولانا حافظ عبدالعلی نگرامی کے صاحبزادے تھے۔ انہوں نے بھی ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی بعد میں لکھنؤ میں اصول فقہ کی تعلیم مولانا عبدالحئی فرنگی محلی سے پائی۔ ان کے علاوہ آپ نے شیخ العرب و عجم حاجی امداد اللہ مہاجر مکی سے بھی استفادہ حاصل کیا مولانا سید ابوالحسن علی ندوی نے اپنی تحریروں میں ان کا تذکرہ کیا اور مولانا ادریس نگرامی کی توصیف کی۔ جب دارلعلوم ندوۃ العلماء کا قیام عمل میں آیا تو مولانا محمد علی مونگیری کی خواہش پر اپنے بڑے صاحبزادے کو ندوہ میں داخل کر دیا۔ مولانا کو دعوہ و تدریس سے بہت دلچسپی تھی انہوں نے نگرام میں معدن العلوم کے نام سے ایک مدرسہ بھی قائم کیا۔ ان کی خط و کتابت اور رابطہ علمائے وقت سے قائم رہا جن میں شبلی نعمانی اور علماء فرنگی محل کے نام سر فہرست ہیں۔ مولانا محمد ادریس کو علم الحدیث سے خاص شغف تھا انہوں نے بے شمار کتابیں لکھیں جن میں تحقیق الموطا، القول المتین، الکلام الادریس کا نام سر فہرست ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے متعدد کتب کے تراجم بھی کیے۔

مولانا عبدالحکیم :

آپ حضرت مولانا عبد العلی صاحب کے داماد تھے۔ ایک اعلیٰ پائے کے عالم تھے۔ وہ نحو و صرف کے علاوہ فارسی پر بھی قدرت رکھتے تھے۔

مولانا عبدالرحمٰن نگرامی :

کی ولادت 1899 میں نگرام میں ہوئی۔ آپ حافظ خلیل الرحمٰن کے صاحبزادے تھے۔ ان کی ابتدائی تعلیم و تربیت گھر ہی پر ہوئی۔ گھر کا ماحول دینی و ادبی تھا بعد میں انہیں ندوۃ العلوم داخل کرا دیا گیا۔ انہوں نے شیخ الہند مولانا محمود الحسن سے بیعت کی۔ مولانا عبدالرحمٰن کی علمیت کو علامہ سید سلیمان ندوی نے اپنی کتاب ”یاد رفتگاں“ میں بہت سراہا۔ علاوہ شبلی نعمانی کی دارلمصنفین میں علامہ سید سلیمان ندوی۔ مولانا مسعود ندوی اور دیگر اہل علم کے ساتھ کام کیا۔ مولانا امین احسن اصلاحی ان کے شاگردوں میں تھے۔

مولانا ابوالکلام آزاد نے جب کلکتہ میں مدرسہ اسلامیہ قائم کیا تو انہوں نے مولانا عبدالرحمٰن کو صدر مدرسہ مقرر کیا۔ درس و تدریس کے علاوہ مولانا عبدالرحمٰن نے سیاست میں بھی حصہ لیا اور انجمن خدام المسلمین کے نام سے ایک جماعت بنائی جو شدھی تحریک کے خلاف ڈٹ کر کھڑی ہوئی۔ وہ کلکتہ میں خلافت کمیٹی کے صدر بھی مقرر ہوئے۔

مولانا عبدالرحمٰن نگرامی نے متعدد مضامین لکھے ان کی تحریروں کو بھوپال کی بیگم صاحبہ نے بے حد پسند کیا۔

مولانا عبدالرحمٰن نگرامی کا انتقال عین جوانی میں ہوا ان کی رحلت پر اس وقت کی اہم ترین شخصیات نے تعزیتی مضامین اور خطوط لکھے جن میں عبدالماجد دریا آبادی۔ علامہ سید سلیمان ندوی اور مولانا ابوالکلام آزاد بھی شامل ہیں۔ مولانا عبدالرحمٰن نگرامی کی وفات کے بعد ان کی بیوہ نے عبدالماجد دریا آبادی سے عقد ثانی کر لیا تھا۔

حاجی محمد احسن وحشی نگرامی :

اردو ادب و انشا سے دلچسپی رکھنے والے حلقوں میں وحشی نگرامی کا نام غیر معروف نہیں۔ انہوں نے متعدد اصلاحی ناول اور مضامین لکھے۔ وہ دینی علوم میں بھی معتبر سمجھے جاتے تھے۔ میرے خالو مولانا محمد اویس نگرامی شیخ التفسیر ندوۃ العلوم سے بیعت تھے۔ عشق نبوی میں سرشار اور سفر حجاز کے مشتاق تھے۔ کہتے ہیں ایک رات نبی پاک کی خواب میں بشارت ہوئی کہ وہ فرماتے ہیں ”تعال یا وحشی“ بس پھر کیا تھا بے چین ہو گئے اور سفر حج کی تیاری شروع کردی اور ہر وقت حمد و ثنا میں مصروف رہتے۔ روضہ رسول پر حاضری ہوئی تو زبان گنگ ہو گئی اور دل سے صدا نکلی۔

شکایت اک طرف یہ ان کی محفل میں ہوئی حالت
کہ جیسے چھین لی اللہ نے مجھ سے زباں میری

سفر حجاز کے دوران حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی سے بیعت ہوئے۔ ان کی پوری زندگی تقویٰ اور عبادت میں صرف ہوئی۔ عمر کا آخری حصہ اپنے صاحبزادے مولوی نجم احسن صاحب کے گھر پرتاب گڑھ پر گزرا۔ 1925 میں ان کا انتقال ہوا۔ ان کی تدفین رئیس حاجی محمد اصغر ( میرے نانا) کے آبائی قبرستان میں ہوئی۔

مولوی نجم احسن نگرامی :

آپ مولانا محمد احسن نگرامی کے صاحبزادے تھے۔ پیشے کے لحاظ سے وکیل تھے لیکن انہیں دینی علوم پر بھی مکمل دسترس تھی۔ زہد و تقویٰ میں اپنی مثال آپ تھے ان کی پاکیزہ زندگی ایک نمونہ تھی جس سے ان کے ہزاروں معتقدین نے استفادہ حاصل کیا۔ بابا نجم احسن نگرامی، مولانا اشرف علی تھانوی کے خلیفہ تھے۔ دینی مسائل پر بے شمار مضامین اور متعدد کتابیں لکھیں اردو کے علاوہ فارسی اور انگریزی پر بھی ان کو عبور حاصل تھا۔ وہ اردو اور فارسی کے شاعر بھی تھے۔ عشق نبوی میں سرشار ان کی نعتیں اور حمدیہ کلام سننے والے پر وجد کی کیفیت طاری کر دیتا تھا۔ ہر روز ان کے گھر سینکڑوں معتقد حاضری دیتے اور دعاؤں سے فیضیاب ہوتے۔ ان کے نام سے کراچی میں ایک بستی احسن آباد ہے جو بابا کے ایک محبت کرنے والے نے آباد کی۔

بابا نجم احسن کی پہلی شادی

نگرام کی ایک جلیل القدر ہستی مولانا محمد ادریس کی صاحبزادی سے ہوئی جن کا انتقال شادی کے کچھ عرصہ بعد ہی ہو گیا۔ بابا نجم احسن کی دوسری شادی پرتاب گڑھ کے ایک معزز خاندان میں میری والدہ کی تایا زاد بہن سے ہوئی۔ بابا کی دونوں شادیوں سے کوئی اولاد نہیں ہوئی اور وہ اولاد کی نعمت سے محروم رہے تو انہوں نے اپنے بھائی امین احسن کی وفات کے بعد ان کی اولاد کی پرورش اور نگہداشت کی ذمہ داری اٹھا لی۔ نجم بابا نے اپنے مرحوم بھائی محمد امین احسن کی وفات پر ایک قطعہ لکھا۔

کوچ دنیا سے کیا تم نے اچانک حیف
صبر کیسے آئے کیوں لب پر نہ آئے دل سے آہ
کیسے دل بہلایئے کیسے تسلی دیجئے
بھولتا ہی غم نہیں آٹھوں پہر شام و سحر
یوں بسر ہوتے ہیں روز و شب تمھاری یاد میں
دیکھنے کو پیاری صورت ترستی ہے نگاہ

امین احسن مرحوم کے انتقال کے بعد ان کے صاحبزادے مکین احسن، صغیر احسن، نصیر احسن اور ایک بیٹی راضیہ خاتون تقسیم کے بعد اپنی پھوپھی میمونہ خاتون کے ساتھ راولپنڈی منتقل ہو گئے۔ میمونہ خالہ خود ایک نستعلیق خاتون تھیں انہیں علم و ادب سے گہرا شغف تھا اور عمدہ شعر بھی کہتی تھیں۔ ان کے زیر تربیت بھتیجوں نے خوب نام پیدا کیا۔

مکین احسن لاہور سے نکلنے والے اخبار مشرق کے چیف ایڈیٹر تھے۔ نصیر احسن صاحب جو خاندان میں بلال کے نام سے پکارے جاتے تھے پاکستان کے آڈیٹر جنرل کے عہدے پر فائز رہے۔ بابا کے مرحوم بھائی کی دوسری شادی سے بھی کئی بیٹے اور بیٹیاں تھیں جن میں قابل ذکر نام مبین احسن، ہلال احسن اور دو بیٹیاں صفیہ صدیقی اور ام سلمیٰ خاتون تھیں۔ مبین احسن صاحب کلکٹر کسٹمز اور ایف بی آر کے سابق چیئرمین تھے۔ ہلال احسن صاحب شپنگ کے شعبہ میں ایک بڑا نام تھے۔ صفیہ صدیقی لندن میں مقیم تھیں وہیں ان کا انتقال ہوا۔ وہ ایک اعلیٰ پایہ کی ادیبہ تھیں ان کی وفات پر بی بی سی کے نامور براڈ کاسٹر رضا علی عابدی صاحب نے ایک تعزیتی مضمون ”محلہ مولویانہ کی افسانہ نگار“ لکھا جو کئی اخبارات کی زینت بنا۔ دوسری صاحبزادی سلمیٰ صدیقی مرحومہ مشہور زمانہ ادیب ابن صفی کی بیگم تھیں۔ ان کے صاحبزادے احمد صفی اپنے والد کی کتابوں کو محفوظ کرنے اور انہیں نئی نسل تک پہنچانے کے لیے تراجم کر رہے ہیں جو بہت ضروری ہے۔

قیام پاکستان کے بعد بابا کراچی آ گئے اور ناظم آباد میں مقیم رہے۔ ان کے گھر پر علمی اور ادبی محفلیں بھی سجتیں اور کشف و کرامات پر بھی ذکر و بیان ہوتا جس میں شہر بھر سے ان کے معتقدین شریک ہوتے خاندان کے افراد بھی ان کی محفلوں میں شامل ہوتے اور دعائیں لیتے۔ میرے والد مرحوم پر بابا خاص توجہ اور کرم فرماتے جب بھی والد حاضری دیتے تو ان کا ماتھا چوم لیتے تھے۔

بابا نجم احسن نے پندرہ ستمبر 1976 کے دن اس جہان فانی سے کوچ کیا ان کی تدفین سخی حسن قبرستان میں ہوئی جس میں ہزاروں سوگواران شامل ہوئے۔

مولانا ابو الحسن علی ندوی :

آپ مولانا علی میاں کے نام سے جانے جاتے تھے۔ عالم اسلام میں ان کا بڑا شہرہ تھا۔ علی میاں کا تعلق نگرام سے تو نہیں تھا لیکن ندوہ کے وساطت سے نگرامیوں سے ان کا گہرا تعلق تھا خاص طور سے وہ ہمارے خانوادے سے بہت قریب تھے۔ ان کی متعدد تصانیف میں اہل نگرام اور عمائے نگرام کا ذکر ملتا ہے۔ مولانا اعلیٰ پائے کے محقق، اسلامک اسکالر اور ایک بین الاقوامی شخصیت تھے خاص طور سے دنیائے عرب میں ان کو بہت عزت و احترام کی نگاہوں سے دیکھا جاتا تھا۔

مولانا محمد اویس نگرامی :

مولانا محمد اویس نگرامی میرے حقیقی خالو تھے آپ کا شمار برصغیر کے جید علماء میں ہوتا ہے۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد مولانا محمد انیس مرحوم اور ندوہ کے دوسرے علما سے حاصل کی اس کے علاوہ انہوں نے دارلمصنفین اعظم گڈھ میں مولانا شبلی نعمانی کے ساتھ ان کی مشہور تصنیف سیرت النبی کی تیاری میں معاونت کی وہیں مولانا اویس نگرامی نے سید سلیمان ندوی کے ساتھ قرآن مجید کی تفسیر الفوز الکبیر لکھی۔ مولانا نے ابن تیمیہ، ابن قیم اور شہ ولی اللہ دہلوی کی تصانیف پر بھی کام کیا۔ مولانا محمد ادریس نگرامی نے متعدد کتابیں اور مضامین لکھے جو دنیا بھر کی دینی درسگاہوں میں پڑھاتی جاتی رہیں۔ ان کی کئی کتابوں کا مقدمہ عالم اسلام کے نامور عالم و ادیب و مفکر مولانا سید ابوالحسن علی ندوی نے لکھا اور توصیف کی۔

دارلمصنفین سے واپس پر مولانا محمد اویس نگرامی ندوۃ العلوم میں شیخ التفسیر کے منصب پر فائز ہوئے۔ وہ مولانا حسین احمد مدنی سے بیعت ہوئے اور ان کے خلیفہ ہونے کی سعادت بھی حاصل کی۔

مولانا عبدالماجد دریا آبادی نے اپنی کتاب خطوط ماجدی میں ان کا اور ان کے خانوادے کا تذکرہ اور ان کی علمی خدمات کا تذکرہ بار بار کیا ہے۔ مولانا محمد اویس نگرامی نے عربی کے علاوہ بے شمار کتابیں اردو میں بھی لکھیں جو عوام الناس اور گھریلو خواتین کے لیے مشعل راہ ثابت ہوئیں اور تفہیم دین کو فروغ ملا۔ ان کی چند مشہور کتابیں تعلیم القرآن، فقہ القرآن، قرآن کا مطالعہ کیسے، اصول حدیث ہیں۔

مولانا کے متعدد علمی اور تحقیقی مضامین ”مضامین اویس“ کے نام سے الفرقان، صدق جدید اور معارف میں شائع ہوتے رہے۔

مولانا محمد اویس نگرامی کے صاحبزادوں میں ڈاکٹر شعیب نگرامی۔ ڈاکٹر یونس نگرامی۔ ڈاکٹر یوسف نگرامی اور ڈاکٹر ہارون نگرامی نے بھی دینی علوم اور تحقیق میں بہت نام پیدا کیا اور اپنی خاندانی روایت کو مزید آگے بڑھایا۔

ڈاکٹر محمد شعیب نگرامی :

ڈاکٹر شعیب مولانا محمد اویس نگرامی کے سب سے بڑے صاحبزادے ہیں۔ آپ ندوۃ العلوم لکھنؤ کے فارغ التحصیل عالم اور جامعہ الازہر قاہرہ سے اسلامی علوم میں پی ایچ ڈی کی سند بھی حاصل کی۔ وہ مصر۔ لیبیا اور سعودی عرب میں تدریس اور نشر و اشاعت کے شعبہ میں ملازم تھے۔ ڈاکٹر شعیب نے کئی موضوعات پر جامعہ الازہر قاہرہ اور مدینہ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی اور مدینہ یونیورسٹی سے ڈی لٹ کی سند حاصل کی۔ ان کی متعدد کتابیں عربی زبان میں ہیں جو وہاں کے نصاب کا بھی حصہ بنیں۔ شعیب بھائی کا شمار دنیائے عرب کی معروف علمی شخصیات میں ہوتا ہے۔

شعیب بھائی علم الحدیث کے بھی ماہر تھے۔ چونکہ قدیم عربی زبان عرب کی تاریخ اور عرب ثقافت پر ان کو عبور حاصل تھا۔ ریڈیو دمام سے ان کا ایک لائیو پروگرام ”یہ حدیث نہیں ہے“ کے عنوان سے کئی برس چلا جس میں وہ فون پر مختلف احادیث کے بارے میں پوچھے جانے والے سوالات اور ان کی صحت کے بارے میں جواب دیتے تھے۔

مولانا مودودی اپنی کتاب ”ارض قرآن“ کی تکمیل کے لیے جب سعودی عرب اور مصر میں ان مقامات تک گئے جن کا قرآن میں ذکر ہے تو سعودی حکومت نے شعیب بھائی کو مولانا کے ساتھ بطور لائیژان افسر مقرر کر دیا۔ وہ مولانا کے بہت قریب رہے اور ان کی علمیت کے معترف بھی تھے۔ ڈاکٹر شعیب نگرامی ان دنوں اپنے صاحبزادے کے ساتھ بحرین میں مقیم ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ ان کو صحت و زندگی عطا فرمائے۔

ڈاکٹر محمد یونس نگرامی :

مولانا محمد اویس نگرامی کے بیٹے اور ڈاکٹر شعیب نگرامی کے چھوٹے بھائی ڈاکٹر یونس نگرامی بھی اپنے پرکھوں کی میراث کو آگے بڑھاتے رہے۔ انہیں نے بھی ندوۃ العلوم سے عالمیت کی سند حاصل کی۔ بعد ازاں انہوں نے لکھنؤ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی اور شعبہ عربی کے ڈین مقرر ہوئے۔ پروفیسر یونس نہ صرف ہندوستان بلکہ عالم اسلام کی ایک قد آور شخصیت تھے انہوں نے مدینہ یونیورسٹی سے ڈی لٹ کی ڈگری حاصل کی۔ وہاں انہوں نے عرب دنیا کے نامور مفکر شیخ عنداللہ بن باز کے ساتھ رابطہ عالم اسلامی میں معاونت کی اور مسلمانوں کے مسائل کو عالمی سطح پر اجاگر کیا۔ پروفیسر یونس نے اپنے بھائیوں کے برعکس ہندوستان ہی میں رہنے کو ترجیح دی اور لکھنؤ لوٹ آئے اور علم و تدریس کے شعبہ سے منسلک رہے۔ وہ ایک اچھے ادیب نثر نگار، خطیب اور دانشور تھے۔ انہوں نے بے شمار مضامین لکھے متعدد کتابیں لکھیں اور مختلف فورم پر لیکچرز دیے اور ہندوستان میں مسلمانوں کی مسائل کو اٹھایا۔ پروفیسر یونس نگرامی نے پیام انسانیت کے پلیٹ فارم سے بھارت میں ہندو مسلم اتحاد کو فروغ دیا اور سیمینار منعقد کیے جن میں ہندوستان بھر سے سیاسی اور سماجی شخصیات شامل ہوتے رہیں۔ وہ مسلم انٹیلکچول سوسائٹی کے بانی اور یوپی اردو بورڈ کے تین بار چیئرمین بھی رہے۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ نے پروفیسر یونس کو بھارت میں اسلامی امور کا مشیر مقرر کیا جو ایک بہت بڑا اعزاز تھا۔

انکے حلقہ احباب میں ہندوستان کی ممتاز سیاسی، سماجی اور علمی شخصیات شامل تھیں۔ پروفیسر یونس کی علمی خدمات کے اعتراف میں بھارت کے صدر نے ایوارڈ سے نوازا اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی سلیکشن کمیٹی میں اپنا نمائندہ خاص مقرر کیا۔

پروفیسر یونس نگرامی کا مختصر علالت کے بعد مارچ سنہ دو ہزار ایک میں لکھنؤ میں انتقال ہو گیا ان کی تدفین میں ہزاروں سوگواران نے شرکت کی۔

ڈاکٹر محمد یوسف نگرامی :

نگرامی گھرانے کے ایک اور چشم و چراغ ڈاکٹر محمد یوسف نگرامی بھی ہیں جو مولانا محمد اویس کے تیسرے صاحبزادے تھے۔ اپنے بھائیوں کی طرح ڈاکٹر یوسف نے ابتدائی تعلیم مدرسہ معدن العلوم سے حاصل کی اس کے بعد عالمیت کی سند ندوۃ العلوم لکھنؤ سے حاصل کی۔ ڈاکٹر یوسف نے علیگڑھ اور لکھنؤ یونیورسٹی سے بھی فاضل تفسیر کی ڈگری لی۔ ڈاکٹر یوسف نے لکھنؤ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی اور ڈی لٹ کیا۔ انہوں نے مزید تعلیم قاہرہ کی جامعہ الازہر یونیورسٹی سے حاصل کی اور وہاں سے بی اے آنرز اور ایم فل کی ڈگری حاصل کی۔ قاہرہ میں طالبعلمی کے زمانے میں وہ قاہرہ ریڈیو سے بھی منسلک رہے۔ بعد میں وہ سعودی عرب چلے آئے اور اسلامک ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں بطور ایڈوائزر مقرر ہوئے جہاں سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ بن باز نے ان کی صلاحیتوں کو خوب سراہا۔ ڈاکٹر یوسف نے متعدد مقالے اور مضامین لکھے انہوں نے عربی زبان میں مختلف علمی اور تحقیقی موضوع پر دس سے زیادہ کتابیں لکھیں جن میں بیشتر کتابوں کو سعودی حکومت نے مختلف زبانوں میں ترجمہ کر کے تقسیم کیا۔ ڈاکٹر یوسف سعودی ٹی وی چینل پر عربی اور اردو میں پروگرام کرتے تھے۔ وہ ایک عربی اخبار کے ایڈیٹر بھی رہ چکے ہیں۔

ڈاکٹر یوسف نگرامی ان دنوں لکھنؤ میں ریٹائرڈ زندگی گزار رہے ہیں اور جزوی طور پر ندوۃ العلوم اور لکھنؤ یونیورسٹی میں بحیثیت اعزازی استاد درس و تدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

ڈاکٹر ہارون نگرامی :

” ایں خانہ ہمہ آفتاب است ’کے مصداق مولانا محمد اویس نگرامی کے چوتھے صاحبزادے ڈاکٹر ہارون نگرامی بھی اپنے خاندان کی علم اور دینی روایات کو آگے بڑھاتے رہے۔ انہوں نے بھی اپنے تینوں بڑے بھائیوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ندوۃ العلوم سے عالمیت کی سند حاصل کرنے کے بعد جامعہ الازہر قاہرہ سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ بھارت میں سعودی عرب کے سفیر یوسف فوزان نے اس ہونہار نوجوان کو مدینہ کی جامعہ اسلامیہ میں اسکالر شپ کے لیے منتخب کر لیا۔ ڈاکٹر ہارون سعودی عرب کے اسلامک ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں بھی ایک طویل عرصے تعینات رہے۔

ان کے مضامین اور تراجم لکھنؤ سے نکلنے والے معتبر اخبار قومی آواز میں تسلسل سے شائع ہوتے رہے۔ سعودی عرب میں قیام کے دوران ڈاکٹر ہارون جدہ سے شائع ہونے والے اردو نیوز میں بھی بطور صحافی اور مترجم کام کرتے رہے۔

ڈاکٹر ہارون نگرامی کا دو ہزار پانچ میں جدہ میں انتقال ہوا اور وہیں ان کی تدفین ہوئی۔

ڈاکٹر عمار انیس نگرامی :

ڈاکٹر عمار مولانا محمد اویس نگرامی کے پوتے اور مرحوم پروفیسر یونس نگرامی کے بڑے صاحبزادے ہیں۔ لکھنؤ ہی میں مقیم ہیں اور اپنے اجداد کی علمی وراثت کو آگے بڑھانے میں مصروف ہیں۔ ان کی شادی بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے کنوینئر جناب ظفریاب جیلانی کی ہمشیرہ سے ہوئی۔ ڈاکٹر عمار نے لکھنؤ یونیورسٹی سے علم کی دولت پائی اور وہیں سے ڈاکٹریٹ بھی کی۔

عمار نگرامی اپنے مرحوم والد کی قائم کردہ مسلم انٹیلکچول سوسائٹی کے پروگرام کے تحت سماجی اور علمی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ہندوستان کے ممتاز سیاستدان اور اہم شخصیات ان کے کام کے معترف ہیں جو وہاں رہنے والے مسلمانوں کی فلاح کے کام میں پیش پیش رہتے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ انہیں مزید حوصلہ عطا فرمائے اور وہ اپنے پرکھوں کی علمی وراثت کے امین ہوں۔

علماء کی بستی نگرام کا ایک مختصر احوال آپ کی ذوق نظر ہے۔ یہاں یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ میں بھی اسی خانوادے کا ایک کم علم فرد ہوں جو اپنے بزرگوں کے پاؤں کی خاک کے برابر تو نہیں لیکن اتنا تو حق رکھتا ہوں کہ ان پر فخر کر سکوں۔

خدا رحمت کند ایں عاشقاں را پاک طینت۔

Facebook Comments HS