لیاقت علی خان کیوں قتل کیے گئے تھے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خواب پرست تو ہر شخص ہوتا ہے اور ہونا بھی چاہیے؛ ہر شخص کے خواب سنِ شعور میں جاگتے ہیں اور پھر اس کی تمام زندگی کی تگ و دو انہی خوابوں کو تعبیر دیے کی کہانی بن جاتی ہے۔ خواب سب اپنے لیے ہوتے تو اس دنیا میں انسان کی فلاح کیسے ممکن ہوتی۔ پتھر کے زمانے سے خلا کی تسخیر تک سب خوابوں کی تعبیریں ہیں جو کچھ لوگوں نے ساری انسانیت کے لیے دیکھے۔ فاتح عالم کہلانے کے کے خواب لے کر یونان کے سکندر اعظم سے ہٹلر تک ان گنت طالع آزما اٹھے۔ حیات بعد از موت کا تصور بھی ہر مذہب کے ماننے والوں کے لیے خواب جیسا ہی ہے۔

فرق نوعیت کا ہو سکتا ہے؛ تاہم قدر مشترک یہ ہے کہ خواب ایک مستقبل کے ترجمان ہوتے ہیں۔ انگریز نے ہزاروں میل دوربیٹھ کے ہندُستان پر حکومت کا خواب دیکھا۔ پھر ہندوستان والوں نے آزادی کا خواب دیکھا جس میں ہر قوم اور ہر مذہب وملت کے لوگ شامل تھے؛ تاہم ہمارے خواب کی نوعیت قدرے مختلف تھی۔ یوں کہ اس کی تعبیر کے دو حصے تھے۔ انگریز کی غلامی سے نجات اس کا صرف ایک حصہ تھا۔ دوسرا حصہ حنوط شدہ اس ماضی کی شان و شوکت کے احیا کا خواب تھا، جوہمارا دور عروج تھا۔ جب ہم نے نیل کے ساحل سے لے کر تا بہ خاک کاشغر؛ کاخ امرا کے درو دیوار ہلادیے تھے۔ دیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساوں میں کبھی افریقہ کے تپتے ہوئے صحراوں میں۔ اس خواب کو ہم نے ”خلافت راشدہ“ کا عنوان دے رکھا تھا اور جو ہم آج بھی دیکھ رہے ہیں۔ یہ ہندو یا انڈیا کی کسی اور قوم کا مسئلہ نہ تھا۔

چناں چہ جب مسلمانوں کو ایک اسلامی ملک کے قیام کا خواب دیا گیا تو ان کی آنکھوں نے ماضی کے نہاں خانوں کے سارے خواب جھاڑ پونچھ کے نکالے۔ انگریز کے دور غلامی میں بھی اس کا انہی خوابوں کے نام پر سیاسی استحصال ہوا تھا؛ 1857ء کی جنگ آزادی میں سور کی چربی والے کارتوس کے نام پر اکسایا گیا؛ وہ توپوں کے آگے باندھ کر اڑائے گئے۔ خلافت عثمانیہ کے لیے صف بستہ ہوگئے اور ”ہندُستان چھوڑ دو“ کی تحریک میں شامل ہوکے افغانستان کی طرف چل پڑے؛ کیوں کہ ہندُستاں “دارا لحرب“ تھا؛ اسلامی مملکت کے قیام کی نوید دینے والوں نے تحریک کو تقویت دینے کے لیے اس خواب کو کیش کرانا ایک ضرورت سمجھا اور حسب توفیق اسلامی مملکت کا خاکہ بھی اجاگر کرتے رہے۔

جب پاکستان بن گیا تو یہ مسؑلہ رفتہ رفتہ سامنے آیا کہ اب اسے اسلامی کیسے بنایا جائے۔ قائد اعظم کی 11 اگست کی تقریر پہلا جذباتی شاک تھی کہ یہ کیا؟ ہندو سکھ عیسائی سب پاکستانی اور برابر ہوں گے؟ اب میں جسے سازشی ٹولے کا نام دیتا ہوں اسے آپ حکمران ٹولہ کہتے ہیں تو اس پر ایک لطیفہ سنیے؛ کسی نے اشتہار دیکھ کر شربت انار منگوایا؛ موصول ہوا شربت انناس۔ وہ بہت جز بز ہوا کہ مجھے شربت انار بھیجا جائے۔ میں بوتل واپس کر رہا ہوں؛ جواب ملا کہ اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہم آپ کو شربت انار کا لیبل بھیج رہے ہیں، وہ لگا کے پی لیں۔ تو اس ٹولے نے جس کے عزائم مختلف تھے یہ محسوس کیا کہ دو بندے ان کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ ایک گورنر جنرل الحاج خواجہ ناظم الدین (جو اس وقت کے رہنماؤں میں واحد شخص تھا جس نے حج کیا تھا اور وہ بھی دو دفعہ) دوسرا وزیر اعظم جو اس درجہ مخلص تھا کہ کرنال میں اپنی ریاست کے بدلے یہاں کچھ بھی نہ لینے والا واحد شخص تھا۔ الا اس نے دہلی میں بیوی کے نام پر بنایا گیا محل جیسا گھر ”گل رعنا“ پاکستانی سفارت خانہ قائم کرنے کے لیے دے دیا تھا۔ ایک پلان کے تحت ایک تیر سے دونوں کا شکار کیا گیا۔ وزیر اعظم کو شہید ملت بنادیا اور گورنر جنرل کو وزیر اعظم؛ کہ اگلی باری تمہاری سہی
لیاقت علی کو کس نے اور کیوں قتل کیا۔ اب یہ کہانی عام ہوئی ہے سنتا جا شرماتا جا۔ اس کہانی میں ہماری آج تک کی تاریخ ہے کہ کس طرح ایک سازشی ٹولہ جو آج تک حاکم ہے بر سر اقتدار آیا تھا۔ لیاقت علی کو قتل کرنا کیوں ضروری ہو گیا تھا، اس کے پیچھے اصل اسباب کیا تھے:

1۔ پاکستان اپنے قیام سے پہلے ہی امریکا کے پاس گروی رکھ دیا گیا تھا، مئی 1947ء میں ایک سینیٹر اور سیاسی مشیر ریمنڈ ہایؑر نے یہ یقین دہانی حاصل کر لی تھی (ڈینس ککس کی کتاب صفحہ 33 ) ستمبر 1947ء میں میر لائق علی نے امریکی صدر ٹرو مین کو اسناد سفارت پیش کرتے ہوئے دو ارب ڈالر کی امداد کی درخواست بھی پیش کردی۔ فوجی امداد ہم پہلے ہی لے چکے تھے۔

2۔ جب امریکا نے ہمارے دشمن ملک کے وزیر اعظم نہرو کو دورے کی دعوت دی تو لیاقت علی کو افسوس ہوا، انہوں نے در جواب آں غزل دوست ملک ایران میں اپنے سفیر راجا غضنفر علی خان سے کہا کہ وہ روس کا دورہ کریں گے؛ ایران کے روس میں سفیر علی علوی کی راجا صاحب سے دوستی تھی۔ وزیر اعظم نے ایران کا دورہ کیا تو علی علوی کو سفیروں کی ایک دعوت میں لیاقت علی سے ملوایا گیا اور معاملات طے پاگئے۔ دورے کے لیے روسی دعوت 2 جون کو موصول ہوا اور ہم نے 7 جون کو منظور کیا؛ تاریخ رکھی گئی 20 اگست 1951ء۔ اس پر امریکا جز بز ہوا اور اس کے پالتو کی حیثیت سے برٹش ہائی کمشنرلارنس جیفری اسمتھ نے ہمارے وزیر خارجہ سر ظفراللہ کو خبردار کیا کہ اس کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔ دوسری طرف امریکا نے مطالبہ کیا کہ پاکستان ذاتی تعلقات کو بروئے کار لاتے ہوئے امریکا کا ایران سے تیل کی در آمد کا معاہدہ کرائے۔ لیاقت علی نے کہا کہ ہمیں کوئلوں کی دلالی میں منہ کالا کرنے کا کوئی شوق نہیں۔ اس کے ساتھ ہی ایک حکم نامے کی رو سے تمام امریکن جہازوں کو فورا ”پاکستانی اڈوں“ سے پرواز کرجانے کا کہا گیا۔

3۔ اب امریکہ کے حکم پر کہ وزیر اعظم کو شہید ملت بناؤ تین کا سازشی ٹولہ فعال ہوگیا جس میں شامل تمام نواب زادے راجے اور انگریز کےخطاب اور جاگیر یافتہ پہلے ہی لیاقت علی سے نالاں تھے، یہ کام وزیر داخلہ نواب مشتاق احمد گورمانی نے پولیس کے خفیہ محکمے سی آئی ڈی کے سربراہ نواب زادہ اعتزازالدین انسپکٹر جنرل کے سپرد کیا اور اس نے سید اکبر ولد اکبر خاں زادران کا انتخاب کیا جو افغانستان کا ایک کرد سردار تھا؛ اسے انگریزوں نے افغانستان میں شورش پھیلانے کے لیے استعمال کیا تھا؛ ناکامی پر وہ بھاگ کر پاکستان آیا اور ایبٹ اباد میں مقیم ہوا۔ انگریز نے اسے تحفظ کے ساتھ خفیہ پولیس کی نوکری دی جس کا معاوضہ اسے 450 روپے یا 155 ڈالر ملتا تھا۔ اج ڈالر 107 روپے کا ہے تو پاکستانی کرنسی میں یہ تن خواہ ایک لاکھ ہوگی۔ ادھر بھارتی لابی نے اپنا کام دکھایا۔ روسی قیادت نے کہا کہ دورے کی تاریخ آپ 15 اگست کرلیں، ظاہر ہے وزیر اعظم کے لیے یوم آزادی پر ملک سے باہر ہونا ممکن نہ تھا کچھ ردو کد کے بعد یہ تاریخ 28 اکتوبر کر لی گئی اور لیاقت علی نے 16 اکتوبر کو راولپنڈی کے ایک جلسہؑ عام میں اس کا اعلان کرنے کا فیصلہ کیا لیکن اس سے پہلے یہ کسی کو نہیں بتایا گیا تھا۔

سید اکبر اپنے ایک بیٹے کے ساتھ راولپنڈی آیا اور بوہڑ چوک کے ایک ہوٹل میں قیام کیا لیاقت علی کے لیے اسٹیج پر صرف ایک کرسی سامنے رکھی گئی؛ ان انتظامات کی نگرانی خود وزیر داخلہ نواب مشتاق احمد گورمانی کر رہے تھے لیکن سرکاری طور پر وہ کراچی میں کابینہ کے ایک اجلاس میں شریک تھے۔ سید اکبر کو سامنے کی پہلی قطار میں بٹھایا گیا جو سیکیورٹی عملے کے لیے مخصوص تھی۔ جیسے ہی لیاقت علی نے تقریر شروع کی تو ان پر دو گولیاں چلائی گئیں، جو سرکاری اعلان کے مطابق سید اکبر نے چلائی تھیں؛ وہیں موجود انسپکٹر نجف خاں نے موقع پر سید اکبر کو دو گولیاں مار کے ختم کردیا، جو اس کی ڈیوٹی تھی۔ نہ مدعی نہ شہادت حساب پاک ہوا۔ یاد کیجیے 55 سال بعد اسی جگہ پر ایک اور سابق وزیر اعظم کو جو پاکستان کو سنبھال سکتی تھی گولی ماری گئی اور ایک آئی جی کی نگرانی میں فائر بریگیڈ والوں نے جائے واردات کو کیسی عجلت میں دھو کر صاف کر دیا تھا۔

اس کے بعد لیاقت علی کو وہاں سے 5 کلومیٹر دور سی ایم ایچ لے جایا گیا۔ میں اس وقت نویں جماعت کا طالب علم تھا اور میرا بھائی ساتویں کا؛ ہم کمپنی باغ نہیں پہنچ سکے تھے لیکن ہسپتال کے بہت قریب رہتے تھے۔ خبر پھیلی تو والد ہمیں ساتھ لے کر ہسپتال کے باہر کھڑے ہوگئے، جہاں کمپنی باغ سے پیدل آنے والوں کا سوگ وار ہجوم کسی اچھی خبر کے انتظار میں ساکت و صامت کھڑا تھا کہ اندر جنرل میاں کمانڈنگ افسر سی ایم ایچ وزیر اعظم کا آپریشن کر رہے ہیں، جو بڑے نام ور سرجن تھے۔ یہ بات غلط ہے ان کا آپریشن کسی اور نے کیا تھا لیکن بعد میں کہا گیا کہ جنرل میاں ہی نے ان کو اپریشن ٹیبل پر مار دیا؛ لیکن یہ حقیقت ہے کہ وزیر اعظم کے انتقال کی خبر سب سے پہلے بی بی سی نے دی۔

جب اخبارات اورسیاسی لیڈروں نے شور کیا اور وزیر داخلہ کو قاتل کہا تو رسمی طور پر ایک ان کوائری کمیشن کا اعلان کیا گیا، جس کی سربراہی پھر نواب زادہ اعتزاز الدین نے کی لیکن اشک شوئی کے لیے اس میں فوجی اوراسکاٹ لینڈ یارڈ کے سراغ رساں بھی شامل تھے۔ کمیشن اپنی رپورٹ لے کر ٹرین سے کراچی جارہا تھا کہ اس کی بکنگ منسوخ کی گئی اور اسے جہاز سے بھیجا گیا۔ یہ جہاز پرواز کے کچھ دیر بعد کھیوڑہ ضلع جہلم کے قریب گر کے تباہ ہو گیا۔ یہ کہا جاتا ہے کہ رپورٹ کے ساتھ دوسرا مقصد اعتزاز الدین کو ختم کرنا بھی تھا جو اس ڈرامے کا ایک مرکزی کردار تھا۔

کراچی میں لال کوٹھی مشہور جگہ ہے، یہ میجر جنرل اکبر خان (رنگروٹ) کی سکونت گاہ تھی؛ ان کی بیٹی نگہت اکبر پاکستان ٹی وی سے گاتی تھیں؛ اکبر خان نے برسوں بعد اخبار میں اس قتل سے متعلق 9 سوال شائع کرائے تھے کہ ان کا جواب کون دے گا؟ ایک سوال یہ تھا کہ جو گولیاں لیاقت علی کے جسم سے بر آمد ہوئیں وہ صرف پولیس یا امریکن آرمی استعمال کرتی تھی۔ کیا یہ صحیح ہے؟ دوسرا سوال تھا کہ گولی کے بارے میں رپورٹ یہ ہے کہ وہ نیچے سے اوپر نہیں (جہاں سید اکبر بیٹھا تھا) اوپر سے نیچے چلائی گئی۔ کمپنی باغ کے گیٹ کے کمرے کی چھت سے۔ کیا یہی صحیح ہے؟ تیسرا سوال تھا کہ جب گردو نواح کے دیہات سے لوگ مدد کے لیے بھاگے تو گرنے والے جہاز میں آگ لگی ہوئی تھی، انہیں وہاں مٹی کے تیل والے کنستر ملے۔ وہ کہاں سے آئے تھے۔ یہ سوالات آج بھی جواب طلب ہیں۔ وضاحت کے لیے عرض کروں کہ وہ دوسرے میجر جنرل اکبر خان تھے جنہوں نے کشمیر میں جنگ کی قیادت کی تھی اور ان کی دو کتابیں ”حدیث دفاع“ اور ”ہمارا دفاع“ ہیں۔ 1948ء میں وہ کرنل تھے اور انہوں نے قائد اعظم سے ایک محفل میں سوال کیا تھا کہ ہماری افواج کا سربراہ اب تک ایک برطانوی کیوں ہے۔ (اس نے کشمیر پر مسلح افواج کے حملے کے احکامات جاری کرنے سے انکار کردیا تھا) قائد اعظم نے اکبر خان کو کہا تھا ”شٹ اپ۔ یہ سوچنا تمہارا کام نہیں ہے۔ “

ایڈیٹر ڈان زیڈ اے سلہری نے غالبا 16 اکتوبر 57ء کو ایک مضمون میں نواب زادہ مشتاق احمد گورمانی کو قتل کا ذمے دار ٹھیرایا؛ اس نے ڈان کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی۔ عدالت نے کیس فائل طلب کی تو 25 فروری کو کہا گیا کہ وہ چیف سیکرٹری کی تحویل میں ہے؛ عدالت نے 2 مارچ کو سمن جاری کیے تو اٹارنی جنرل نے بیان داخل کر دیا کہ فائل گم ہو چکی ہے۔ بعد میں مال خانے سے مقدمے کی اشیا مثلا خون آلود شیروانی وغیرہ بھی غائب کردی گئیں قاتلوں نے مکمل خاموشی کے وعدے پر بیگم رعنا لیاقت علی کو باہر جانے کی اجازت دی اور ہالینڈ میں سفیر رکھا لیکن یہ تاریخ کا حصہ ہے کہ مرتے دم تک وہ خاموش رہیں۔ انھوں نے کبھی ریڈیو ٹی وی کو انٹرویو نہیں دیا؛ ان کے بیٹے اکبر اور اشرف ہنوز زندہ ہیں، مگر گم نام۔ قاتل سید اکبر کی بیوہ سے ایک پولیس افسر نے شادی کی (غیر مصدقہ) لیکن اس کے دو بچوں کو امریکی شہریت دے دی گئی، ۔ وہ وہاں پروفیسر ہیں۔

یہاں کہانی ختم ہوتی ہے کیوں کہ اس کے بعد ایک شرابی فاترالعقل اور مفلوج شخص غلام محمد کو سربراہ مملکت بنا دیا گیا۔ جس نے وزیر اعظم بنائے جانے والے گورنر جنرل الحاج ناظم الدین کی اسمبلی توڑ کے اسے برطرف کیا۔ راہ میں مارے جانے کے خوف سے اس اسمبلی کے سپیکر مولوی تمیز الدین خان برقعہ پہن کر چیف کورٹ میں اپیل دائر کرنے گئے تھے۔ لیکن فیڈرل کورٹ میں چیف جسٹس منیر نے ”نظریہ ضرورت“ ایجاد کیا اور گورنر جنرل کے حق میں فیصلہ دیا۔

امریکا میں پاکستان کے سفیر محمد علی بوگرا کو بلا کر وزیر اعظم بنایا گیا جو دو سال بعد اپنی پوسٹ پر واپس چلا گئے۔

کیا اب بھی آپ کے ذہن میں کوئی شک ہے کہ وہ سازشی ٹولہ تب سے نام بدل بدل کے حاکمیت سنبھالے ہوئے ہے اور اسلامی مملکت کا خواب دیکھنے والے پوچھتے پھر رہے ہیں کہ مسلمان کون ہے!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

احمد اقبال

احمد اقبال 45 سال سے کہانیاں لکھ رہے ہیں موروثی طور شاعر بھی ہیں مزاحیہ کہانیوں کا ایک مجموعہ شائع ہو کے قبولیت عامہ کی سند حاصل کر چکا ہے سرگزشت زیر ترتیب ہے. معاشیات میں ایم اے کیا مگر سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں اور ملکی تاریخ کے چشم دید گواہ بھی ہیں.

ahmad-iqbal has 17 posts and counting.See all posts by ahmad-iqbal