الحمرا میں چاند


naseer ahmad

الحمرا گئے تو چاند کے آمنے سامنے ہو گئے۔ چاندنی بھی نفیس سی حسینہ جیسی ہی ہوتی ہے جس سے ملاقات ہو جائے تو سب کچھ بھلا سا ہو جاتا ہے۔ یا پھر کسی خوش مزاج فلسفی کی طرح کہ ایسے مدبر سے ملاقات ہو جائے تو ارد گرد سب کچھ اچھا لگنے لگتا ہے۔ لیکن زمانہ کچھ ایسا ہو گیا ہے کہ چاندنی، حسینہ، فلسفہ، خوش مزاجی اور تدبر وغیرہ پہلے سے بھی کہیں زیادہ اجنبی اور پردیسی ہو گئے ہیں۔ اب تو بس بے پناہ دولت کی آرزوئیں، تھوڑی بہت دولت ہے تو اس کی مبالغہ بھری نمائش اور رہی سہی، گئی گزری، گری پڑی باتیں جو دولت تک رسائی کی شرائط بن گئی ہیں۔ اگر نہ بھی ہوں تو زندگی میں اس طرح جاری و ساری ہیں کہ ان سے گریز بہت مشکل ہو گیا ہے۔ مشکل سہی لیکن یہ گریز ضروری ہے۔ اور سوچنے سمجھنے والوں کو اس سب سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ وہ پنچھی بھی تو ہے کہ روز روشن میں زمین کے قریب ہی رہتا ہے مگر چاندنی میں چاند کے آس پاس ہی اڑتا پایا جاتا ہے۔

تو چاندنی میں ہم ایسے گم ہوئے کہ ہنگامہ ماتم اور افتاد غم کے منفی اثرات کم ہونے لگے۔ اور چاند اور ان کے چہرے کا رومانوی سا تقابلی جائزہ کرنے لگے۔ یہ تقابلی جائزہ جو بھی کرے چاند بے چارہ ہار ہی جاتا ہے۔ ہمیں بھی علی اصغر شاہ زیدی کے گیت کے یہ بول یاد آ گئے

روی مھت جانا پردہ برگشا
در آسمان مہ را منفعل نما
اب پردہ کس نے اٹھانا تھا لیکن چاند کی ایسی کی تیسی، وہ ماند ماند ہوتا رہا۔
حافظ کا بھی ایک اچھا مصرع ہے
حاجت می و مطرب نیست تو برقع بگشا

لیکن جب سے برقعے سے مولانا جیسے عفریت نکلنے لگے ہیں، مے و مطرب کے ساتھ برقع کشائی کی حاجت بھی مر جاتی ہے۔ اب تو ہمارے کھلنڈرے پردھان منتری بھی برقع پرست ہو گئے ہیں۔ بڑھاپا پرہیز گاری کی بناوٹوں سے کب بچ سکتا ہے۔ لیکن بڑھاپے کے لیے جوانیاں ضائع کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اور جنت بھی اگر ملتی ہے تو اسی وقت ہی مل سکتی ہے جب دین فاشزم سے جدا ہو گا۔ دین فاشزم سے جدا ہو گا تو کوئی فرق نہیں پڑے گا کہ کس نے کیا پہنا ہے۔

منم کہ دیدہ نیالودھ‌ام بہ بد دیدن
یہ بہتر صورت حال ہے اور دین کی فاشزم سے جدائی کے بعد ہی میسر ہو گی۔

یہ سوچ رہے تھے کہ دھیان پھر افتاد غم اور ہنگامہ ماتم کی طرف روانہ ہو گیا۔ افتاد غم پر مگر قیام نہ ہو سکا کہ یاد آ گیا کوئی پندرہ سولہ سال بعد امریکی چودھری سے جنازے پر ملاقات ہوئی۔ جو اچھے کپڑے پہنیں تو ویسے ہی غصہ آ جاتا ہے کہ انھوں نے اچھے کپڑے کیوں پہنے ہیں۔

چودھری رشتہ دار بھی ہیں اور ہاسٹل میں ہمارے جونئیر بھی تھے۔ تھوڑی بہت نخوت اور کچھ نازو انداز ان میں اس وقت بھی تھے۔ اب تو دل دیوانہ دیوانہ تر شی ہو گیا ہے۔

ایسے نہیں کہہ رہے۔ مختصر سے گلہ و شکایت کے بعد چودھری تکبر سے پوچھنے لگے
وہ باری شاری کا کیا حال ہے؟
ہم نے انھیں ذرا شرمندہ کرنے والی نگاہوں سے دیکھا تو انھیں کچھ خیال آ گیا۔
ارے نہیں چھوٹے باری کی بات کر رہا ہوں۔

اب باری چھوٹا ہو کہ بڑا۔ یہ لوگ ہم سے بہت سینئیر تھے۔ سلطان سبک تگین کے زمانے میں یہ لوگ کالج میں داخل ہوئے تھے۔ اور اس وقت سے لے کر انیس سو ترانوے چورانوے تک فیل ہوتے رہے تھے۔ ان لوگوں کی ایک پائیدار سی بزرگی قائم ہو گئی تھی۔ اب آدمی امریکہ جائے یا مریخ پر۔ اجداد کی متبرک ہڈیوں سے گستاخی کچھ جچتی نہیں۔

پھر چودھری کو کچھ یاد آیا۔
ابھی تک گھوڑے بیچ کر ہی سوتے ہو۔

گھوڑے کہاں اپنی قسمت میں۔ بس تم جیسے گدھے ہی بیچ کر لمبی تان لیتے ہیں۔ بس ہمارے بیچے گدھوں کی قسمت اچھی ہے۔

ہمیں یہ بدتمیزی نہیں کرنی چاہیے تھی۔ کہیں امریکی چودھری پھر نہ روٹھ جائیں۔
پھر محکمہ مال والے بھائی ملے۔ وہ بھی ناراض سے لگے۔
مل لیا کرو، اتنے دنوں سے لڑکا بیمار ہے۔ پوچھا تک نہیں۔

ہمیں پتا ہی نہیں تھا کہ لڑکا بیمار ہے۔ بزرگوں اور لڑکے بالوں سے تو ہماری اچھی گپ شپ ہے لیکن ان درمیانوں سے کچھ مسئلہ ہو گیا تھا۔ جونم قشنگ کے ضعف و ناتوانی، بیماری و تنہائی کے خلاف جتھے سازی ہمیں اچھی نہیں لگی تھی۔ اس لیے ہم گریزاں ہو گئے تھے۔

لیکن وہاں بزرگوں کا ایک جتھا سا بن گیا۔ اور ہمارے ناکامیوں کے چرچے ہونے لگے اور موازنے ہونے لگے۔
لوگوں سے میل جول نہیں۔
ستارگان والی اس میں بات نہیں۔
ذمہ داران والی خو بو نہیں۔
کوئی ڈھنگ کا کام نہیں کیا۔
نیند میں زندگی ضائع کر دی۔
معاشرے کی تفہیم نہیں۔
لوگوں میں اٹھنا بیٹھنا نہیں رہا۔
دیکھو حال کیا بنایا ہے۔
کون کسی کی جگہ لے سکتا ہے۔

اب بزرگ لوگ تھے۔ ہم ہنس ہنس کر ٹالتے رہے۔ کچھ انگریزی مقولے دہراتے رہے کہ کسی کی جگہ نہیں لے رہے اور دنیا میں سب لوگ ایک سے نہیں ہوتے۔

ہم نے کہا بزرگ لوگو، ایسا کچھ نہیں ہے۔ نہ ہم کسی کی جگہ لے سکتے ہیں اور نہ لینا چاہتے ہیں۔ ہمارا اپنا مزاج ہے۔ اس دفعہ جنازے میں موجود ہیں۔ پچھلی دفعہ تو موجود ہی نہیں تھے۔

لیکن جتھہ بن جائے تو پھر کب بات رکتی ہے۔ وہ لوگ کہتے ہی رہے۔ پھر ہم بھی کہنے لگے۔

کہ تم لوگوں کو کچھ پتا نہیں۔ اس معاشرے کی داد و ستائش سے زیادہ اس کے خلاف جانا اہم ہے۔ اور جو لوگ اس بات کی اہمیت سے آگاہ ہیں، وہ ہماری قدر کرتے ہیں۔

اب بزرگوں کا دم گھٹنے لگا۔
پھر کسی کو بچپن کی فوت شدہ محبت یاد آ گئی۔ اور ماحول کچھ بہتر ہو گیا۔
پھر ان لوگوں نے الحمرا دیکھنے کی فرمائش کھانا کھایا اور چلتے بنے۔

چاندنی میں بیٹھے ہم سوچتے رہے کہ ان لوگوں نے کتنی کم عقلی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اپنے گلوں اور شکایتوں میں شہری غزالوں کے شکاری میر سے بھی زیادہ باولے سے ہو گئے۔

پھر یہ کوئی موقع تھا ان لوگوں نے سوچا ہی نہیں کہ افتاد غم اور ہنگام ماتم ہم پر گراں بھی گزر سکتا تھا۔ ہاہا، سب نے اپنی شہرت دانائی کی بنا رکھی ہے۔ اب ایسی دانائی کے ہم خلاف ہیں تو اچھا ہے ناں۔

پھر جو گراں گزرا تھا اس کا احساس بڑھنے لگا اور چاندنی کی خوش کنی کم ہونے لگی اور ہم لوٹ آئے۔

Facebook Comments HS