ڈاکٹرعاصم حسین کو ضمانت پر رہا کردیا گیا
2 روز قبل سندھ ہائی کورٹ نے 479 ارب روپے کی کرپشن سے متعلق دو کیسز میں ڈاکٹر عاصم کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں 50 لاکھ روپے کے مچلکے اور پاسپورٹس جمع کرانے کا حکم دیا تھا۔ گزشتہ روز ڈاکٹر عاصم کے وکلا نے اپنے موکل کی رہائی کے لیے قانونی دستاویز جمع کرائے تھے لیکن عدالت کے ناظر نے پاسپورٹ جمع نہ کرانے پر ڈاکٹر عاصم کے روبکار جاری کرنے سے انکار کردیا تھا۔ جس کے بعد معاملہ چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کے پاس بھیج دیا گیا تھا۔
جمعے کی صبح ڈاکٹر عاصم کے وکلا نے دوبارہ ضمانتی کاغذات جمع کرائے، اس مرتبہ ان دستاویزات میں ڈاکٹر عاصم کے پاسپورٹس بھی شامل تھے، قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد سندھ ہائی کورٹ نے ڈاکٹر عاصم کے ریلیز آرڈر جاری کردیے جس کے بعد ڈاکٹرعاصم پولیس کی بکتر بند گاڑی میں جناح اسپتال سے کلفٹن میں اپنے اسپتال چلے گئے، ڈاکٹرعاصم کے وکیل کے مطابق جیل انتظامیہ نے تمام کاغذی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ڈاکٹر عاصم کو اسپتال سے رہا کیا۔
ڈاکٹر عاصم نے رہائی کے بعد شکرانے کے نفل ادا کیے اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ ضمانت پراللہ تعالی کاشکر ادا کرتا ہوں جب کہ پیپلز پارٹی کی قیادت کا مشکور ہوں۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر عاصم پر دہشتگردوں کی معاونت اور 470 ارب روپے سے زائد کی کرپشن کے الزامات ہیں تاہم اب تمام مقدمات میں ان کی ضمانت منظور ہوگئی ہیں۔


