جنگ یوکرائن کا اونٹ


روس یوکرائن جنگ کو شروع ہوئے تین سال مکمل ہو گئے ہیں۔ اس جنگ کی تیسری برسی کے موقع کی خاص بات یہ کہ امریکہ سے چہچہانے والی امن کی فاختہ یعنی جناب ٹرمپ کو بھی اقدار سنبھالے ایک مہینہ کامیابی سے مکمل ہو چکا ہے۔ یاد رہے کہ جناب ٹرمپ نے اپنی الیکشن مہم کے دوران بارہا جاری جنگیں خاص طور پر اسرائیل فلسطین اور روس یوکرائن کی جنگوں کو بند کروانے کی خواہش کا اعادہ کیا تھا۔ ان دنوں جناب ٹرمپ کی قیام امن کی باتیں غنیمت لگتی تھیں کیونکہ ان کے علاوہ دنیا میں امن کی طرف جانے والی باتیں کوئی اور فرد نہیں کر رہا تھا۔ خیر سے وہ الیکشن بھی جیت گئے اور عالمی امن کے ضمن میں نیتن یاہو اور روسی صدر پیوٹن جنہیں پوری دنیا Aggressor یا حملہ آور قرار دیتی ہے کی گوشمالی کرنے کی بجائے الٹا فلسطین یا حماس کو ڈرا دھمکا رہے ہیں اور دوسری طرف یوکرائنی صدر زیلنسکی کے خلاف ایسی زبان استعمال کر رہے ہیں جو تین سال پہلے صدر پیوٹن استعمال کر رہے تھے کہ کامیڈین ہے، آمر، غیر نمائندہ، نازیسٹ وغیرہ۔ بادی النظر میں صدر ٹرمپ ”مرے کو مارے شاہ مدار“ کی پالیسی پر گامزن نظر آتے ہیں۔ پاکستانی میڈیا پر عالمی سیاست کے بارے میں ذرا کم ہی بات ہوتی ہے مگر جو ہو رہی ہے اس کا لب لباب کچھ اس طرح سے سمجھ میں آتا ہے کہ دنیا تبدیل ہو رہی ہے، ایک نیا عالمی نظام مرتب ہونے جا رہا ہے، روسی شرائط پر جنگ بندی ہونے جا رہی ہے یعنی جتنا علاقہ روس فتح کر چکا اس کا مالک روس ہی رہے گا، سقوط یوکرائن ہوا کہ ہوا اور زیلنسکی ملک چھوڑ کر کہیں فرار ہو جائے گا وغیرہ۔ ماضی قریب میں ہم اشرف غنی، شیخ حسینہ واجد اور بشارالاسد کو اپنے اپنے ملکوں سے فرار ہوتے ہوئے دیکھ چکے۔ دنیا میں ان کے پرستار یا چاہنے والے بھی ہیں اب ان تمام کے پرستاروں کی مجموعی خواہش بن چکی ہے کہ زیلنسکی کے ممکنہ فرار سے معاملہ برابر ہو سکتا ہے۔ زیلنسکی بیچارے کا کیا بنتا ہے یہ ہمارا مسئلہ نہیں البتہ یوکرائن جنگ کا اونٹ کس کروٹ بیٹھنے جا رہا ہے یا بیٹھ سکتا ہے کو دیکھنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔

یوکرائن جو کہ ایک خود مختار ریاست ہے میں روس دوست حکومت یا روس مخالف حکومتوں کا مسئلہ سویت انہدام کے بعد سے ہی شروع ہو گیا تھا۔ یوکرائن کے موجودہ صدر زیلنسکی 2019 ء میں منتخب ہوئے سوچ کے اعتبار سے روس مخالف اور یورپ یا مغرب سے قریب اور NATO کی ممبرشپ حاصل کرنے کے شدید خواہش مند۔ 2014 ء میں روس یوکرائن سے کریمیا کا علاقہ بذریعہ فوج کشی چھین چکا تھا چونکہ اس وقت کی حکومت ”روس دوست“ تھی اس لیے تمام معاملہ بخیر و خوبی طے پا گیا اور کریمیا کو روسی فیڈریشن کی ایک جمہوریہ قرار دے دیا گیا۔ اس وقت کی عالمی برادری نے بھی معاملہ کو زیادہ سنجیدہ نہیں لیا۔ صدر زیلنسکی کی شاید یہی سوچ ہو کہ NATO کی ممبر شپ حاصل کر کے آئے دن کی روسی چیرہ دستیوں سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔ یوکرائن کی 20 % کے قریب آبادی روسی نژاد یا روسی زبان بولتی ہے۔ روس نے ان کے حقوق کی بات کرنا شروع کر دی اور ان کی تحریکوں کو فنڈ بھی کرنا شروع کر دیا نتیجہ میں دنگے فساد ہوئے اور کشیدگی میں بتدریج اضافہ ہوتا گیا اور بالآخر روس نے 24 فروری 2022 ء کو یوکرائن پر باقاعدہ فوجی یلغار کر دی۔

فوجی یلغار سے قبل روسی قیادت کی سوچ تھی کہ یہ محض پانچ چھ دن کی بات ہے اور یوکرائن کی فوج زیلنسکی کا تختہ الٹ دے گی اور پھر سب اچھا ہو جائے گا۔ مگر یہ سب نہ ہو سکا۔ آج بھی بعض محاذوں پر گھمسان کی جنگ جاری ہے۔ ٹرمپ کی سوچ ہے کہ روس بڑا ملک ہے اس لیے وہ تو دباؤ میں آئے گا نہیں لہذا یوکرائن کی فوجی مدد روک دینے سے ”امن“ قائم ہو سکتا ہے۔ اور عملاً امریکہ نے یوکرائن کی ہر قسم کی مدد بند کر دی ہے جس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ سقوط یوکرائن قریب ہے اور شاید ہو بھی سکتا ہے مگر یہ بات اتنی سادہ بھی نہیں ہے۔

اس جنگ کے متعلق عام خیال یہی ہے کہ سابق امریکی صدر جو بائیڈن کی لگائی ہوئی آگ ہے جس نے یوکرائن کو مالی اور فوجی مدد دی لہذا اگر موجودہ امریکی صدر یوکرائن کی مدد روک دیں تو جنگ رک جائے گی۔ ہماری ناقص رائے میں یہ جنگ امریکہ نے نہ تو شروع کروائی اور نہ ہی امریکہ اسے بند کرا سکتا ہے۔ اس جنگ کو روس نے شروع کیا اور روس ہی اسے بند کر سکتا ہے۔

ہم یہاں ایک مفروضہ لیتے ہیں اگر امریکہ کے ساتھ ساتھ یورپ بھی یوکرائن سے ہاتھ کھینچ لیتا ہے تو کیا ہو سکتا ہے۔ افغانستان نے امریکہ جیسی سپر پاور کے خلاف بیس سال جنگ لڑی او ر فاتح ہوا اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دنیا کا کوئی ایک ملک بھی افغانستان کے ساتھ نہیں تھا۔ افغان وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں علامہ اقبال کے الفاظ تاریخی نوعیت کے ہیں۔ ”اپنی خودی پہچان او غافل افغان، تیری بے علمی نے رکھ لی ہے بے علموں کی لاج“ کہنے کا مطلب یہ کہ اپنے وطن کی آزادی کے لیے نیم خواندہ قسم کے افغان اگر تن تنہا بیس سال جنگ لڑ سکتے ہیں تو یوکرائن کی فوج اور عوام معاملات کو ان سے بہتر ہی سمجھ سکتے ہیں۔ ویسے بھی روس نے اندھا دھند بمباری کر کے یوکرائن کے اکثریت شہر اور دوسرے شہری معاملات تباہ کر دیے ہیں اب یوکرائنی عوام اور فوج کے پاس سوائے لڑنے کے اور کوئی کام رہ ہی نہیں گیا۔

جنگ عظیم دوئم کے بعد دنیا کی کوئی بھی بڑی سے بڑی فوج شہری جنگیں جیت ہی نہیں سکی۔ کابل، قندھار، غزنی، بغداد، بصرہ، موصل، عقاء، اربل، دمشق، حمس، اررقاء ٹریپولی، بن غازی، تبروک جیسے چھوٹے چھوٹے شہر بھی کلی طور پر امریکی یا اتحادی افواج کے کنٹرول میں نہ آ سکے۔ ان کی تباہی ضرور ہوئی مگر کنٹرول کبھی بھی نہ ہو سکا اور بالآخر حملہ آور افواج کا انخلاء ہی مقدر ٹھہرا۔ ویتنام، لاؤس، کوریا، کمبوڈیا کی مثالیں تو ابھی باقی ہیں۔ زیادہ تر شہری گوریلا جنگیں عام طور پر عام شہریوں نے لڑی ہیں اور فتح پائی۔ یوکرائن کی افواج نے پہلے دن سے ہی بھانپ لیا تھا کہ روسی یلغار کو عام فوجی طریقوں سے نہیں روکا جا سکتا لہذا روز اول سے ہی انہوں نے گوریلا جنگ کی حکمت عملی اپنائی اور آج کے دن تک وہ گوریلا جنگ ہی لڑ رہے ہیں۔ گوریلا جنگ اگر عام شہری شروع کر دیں مخالف فوج ان کا مقابلہ نہیں کر سکتی کیونکہ لوکل عوام کو زمینی حقائق کے چپے چپے کا علم ہو تا ہے مخالف فوج یا افواج کو تو علم ہی نہیں ہو سکتا کہ کسی گلی کے آخر میں کس کی قبر کھدی ہوئی ہے۔ یوکرائن میں عام شہری ابھی جنگ میں نہیں آئے وہاں کی ریگولر فوج گوریلا کارروائیوں میں مصروف ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ابھی تک روس اپنے ایک لاکھ فوجیوں کی قربانی دے چکا ہے۔ روسی بمباری سے شہر جتنے کھنڈر ہوں گے گوریلوں کے لیے اسی قدر محفوظ ہوتے جائیں گے۔

انسانی تاریخ جنگوں سے بھری پڑی ہے۔ منگول، ترکمان، تاتاری، ترک، مغل، رومن، یونانی، مصری، بربر، عرب، ایرانی، ہری سنگھ نلوہ، بیبرس، خیرالدین باربروسا، صلاح الدین ایوبی، خوارزم شاہ بڑی بڑی فوجیں اور بڑے بڑے جرنیل ہمارا یہاں سوال ہے کہ ان تمام کی فتوحات امریکی اسلحہ اور ڈالروں کے مرہون منت تھیں۔

اس سارے قضیے کی جو سب سے زیادہ تکلیف دہ بات ہے کہ اگر روس اور امریکہ کی منشاء کے مطابق جنگ بندی ہو جاتی ہے یعنی روسی فوج کا یوکرائن سے مکمل انخلا نہیں ہوتا اور مفتوحہ علاقے روس کے پاس رہیں گے تو تمام تر انسانی حقوق، عالمی بارڈرز کا نظام، احترام، معاہدے اور خود مختار ریاست کا تصور جسے ہم تاریخ کا ایک اہم ارتقاء سمجھتے ہیں تمام کا تمام زمین بوس ہو جائے گا۔ چنگیزیت دنیا میں ایک بار پھر رائج ہو جائے گی اور کوئی چھوٹا ملک اپنے سے بڑے اور طاقتور ہمسایہ ملک کے شر سے محفوظ نہیں رہے گا۔

امریکی صدر کو وہم ہو گیا ہے کہ زیلنسکی نے امریکی امداد ہڑپ کرنے کے لیے جنگ کا ڈرامہ رچایا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ روس نے بلاجواز یوکرائن پر فوج کشی کی تھی۔ تاریخ میں مذہب، وطنیت، قومیت اور سامراجی قبضہ گیریت کے جذبوں کے تحت جنگیں لڑی گئی ہیں۔ اپنے وطن کے دفاع کے لیے لڑنا ہی دنیا میں افضل تصور کیا گیا ہے۔ یوکرائنی عوام اپنے ملک کے دفاع اور خود مختاریت کے لیے لڑ رہے ہیں انہیں جنگ کا سبب قرار دینا ہمارے خیال میں امریکی صدر کی طرف سے زیادتی ہے۔

روس یوکرائن جنگ بندی اسی صورت میں پائیدار ہو سکتی ہے کہ روس غیر مشروط طور پر یوکرائن کے علاقوں سے اپنی افواج کو مکمل طور پر نکال لے۔ زیلنسکی صدر رہے نہ رہے، ملک میں رہے یا کہیں فرار ہو جائے یہ کوئی معنی نہیں رکھتا۔ یوکرائنی عوام جن کے گھر بار، کاروبار تباہ ہو گئے، جن کے پیارے جنگ کی نذر ہو گئے ان کو جنگ بندی کے بارے میں کون سمجھائے گا۔ اب بھی وقت ہے کہ روس ہوش کے ناخن لے محض ٹرمپ کارڈ کے ذریعہ سے یہ جنگ بند نہیں ہو سکتی۔ اگر یہ جنگ طول پکڑتی ہے تو یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ افغان جنگ کے نتیجے میں سویت یونین ٹوٹ گئی تھی اب یوکرائن جنگ کے نتیجہ میں کہیں روسی فیڈریشن ہی نہ ٹوٹ جائے۔

Facebook Comments HS