شعیب منصور، میڈیا انڈسٹری کا چمکتا دمکتا آفتاب


 

پاکستان ٹیلی وژن اور پاکستان شوبز انڈسٹری کی تاریخ میں اگر کسی شخصیت کا نام سنہری حروف میں لکھا جائے تو وہ میری نظر میں بلاشبہ شعیب منصور ہی ہوں گے۔ شعیب صاحب ایک ہمہ جہت شخصیت ہیں جو بیک وقت ڈائریکٹر، پروڈیوسر، مصنف، نغمہ نگار اور موسیقار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک منفرد تخلیقی ذہن کے مالک بھی ہیں۔

شعیب منصور صاحب وہ نام ہے جس نے پاکستانی ٹی وی ڈراموں کو ایک نئی پہچان دی۔ 1980 کی دہائی میں جب پاکستانی ٹی وی انڈسٹری عروج پر تھی تو شعیب منصور نے ایسے شاہکار تخلیق کیے جو آج بھی کلاسک سمجھے جاتے ہیں۔ ان کے ڈائریکٹ کیے گئے ڈرامے ان کہی، ففٹی ففٹی، سنہرے دن، گُلز اینڈ گائز اور الفا براوو چارلی نہ صرف مقبولیت کی بلندیوں کو پہنچے بلکہ پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کو ایک نئی جہت دی۔ ان میں الفا براوو چارلی اور سونے کے دن نے نوجوانوں کو افواجِ پاکستان کے قریب کیا جبکہ ففٹی ففٹی نے طنز و مزاح کی نئی روایت قائم کی۔ آج بھی اس دور کے لوگ اس کا حوالہ دیتے ہیں۔

شعیب منصور نہ صرف ایک بہترین کہانی نویس اور ہدایت کار ہیں بلکہ انہوں نے پاکستانی موسیقی میں بھی نئی روح پھونکی۔ 1980 کی دہائی میں جب پاکستان میں پاپ میوزک کی کوئی ٹھوس شناخت نہ تھی تو وائٹل سائنز کو دریافت کر کے انہوں نے اس خلا کو پُر کیا۔ نہ صرف انہوں نے ”دل دل پاکستان“ جیسے انقلابی نغمے تخلیق کیے بلکہ ”اعتبار“ جیسے جذباتی گانوں کے ذریعے موسیقی کو ایک نئی راہ دکھائی۔ وہ جنید جمشید کے استاد بھی تھے اور وائٹل سائنز کے بیشتر گانوں کی تخلیق اور پروڈکشن کے پیچھے بھی انہی کا ہاتھ تھا۔ ان کی بنائی گئی میوزک ویڈیوز جیسے ”عشق، محبت، اپنا پن“ نے بھی دنیائے موسیقی میں نئی تاریخ رقم کی۔

جب پاکستانی فلم انڈسٹری زوال پذیر تھی۔ تب شعیب منصور نے اپنی پہلی فلم ”خدا کے لیے“ کے ذریعے ایک نئی صبح کا آغاز کیا۔ اس فلم نے نا صرف پاکستانی سینما بلکہ بین الاقوامی فلم فیسٹیولز میں بھی دھوم مچائی۔ فلم کو قاہرہ انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں سلور پیرامیڈ ایوارڈ سے نوازا گیا۔

اس کے بعد 2011 میں انہوں نے اپنی دوسری فلم ”بول“ بنائی جو پاکستانی معاشرے میں عورتوں کے حقوق اور فرسودہ رسم و رواج پر ایک زوردار تنقید تھی۔ ماہرہ خان، عاطف اسلم اور ایمان علی اور عمیمہ ملک کی جاندار اداکاری اور شعیب منصور کے منفرد اندازِ ہدایت کاری نے اس فلم کو ایک بلاک بسٹر بنا دیا۔

شعیب منصور کی بے مثال خدمات کے اعتراف میں انہیں کئی قومی اور بین الاقوامی اعزازات سے نوازا گیا جن میں ”ستارہ امتیاز“ بھی شامل ہے۔ ان کے تخلیقی کام نے پاکستانی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کو عالمی سطح پر پہچان دلائی اور آج بھی ان کی بنائی گئی فلمیں اور ڈرامے ناظرین کو محظوظ کرتے ہیں۔

شعیب منصور کا نام صرف ایک ہدایت کار، نغمہ نگار یا فلم ساز تک محدود نہیں بلکہ وہ ایک عہد ساز شخصیت ہیں جنہوں نے پاکستانی تفریحی صنعت کو عالمی معیار پر پہنچایا۔ ان کی تخلیقات نہ صرف دلوں کو چھوتی ہیں بلکہ سوچنے پر بھی مجبور کرتی ہیں۔ وہ ایک ایسے فنکار ہیں جو اپنے فن کے ذریعے معاشرتی مسائل کو اجاگر کرنے اور ان کے حل کی راہ دکھانے کا ہنر بخوبی جانتے ہیں۔ پاکستانی شوبز انڈسٹری خاص کر پی ٹی وی ان کی خدمات کے بغیر نامکمل رہے گا اور ان کے شاہکار ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

Facebook Comments HS