لفظ کی آنکھ
لفظ انسان کو بناتا ہے مگر لفظ اپنی آخری تعمیر میں علامت ہے، علامتی ہے، اشارہ ہے۔ اس کی اپنی تکمیل بھی معنویت کی تعمیر تک ہے۔ لفظ با معنی ہے، لفظوں کی خاص ترتیب معنی کو جنم دیتی ہے۔ یہ نقطہ آغاز ہے۔ ”ردملی عف شعتقیوو“ اپنے تئیں کسی معنی کو جنم نہیں دے سکتے حالانکہ یہ ہجے تو ہیں، یا یوں کہیے صوتی آوازیں ہیں جو تصویریں نہیں بن پاتے۔ بے ہنگم ہجے ہیں جن کا آپسی ملاپ کسی طے شدہ object سے منسوب نہیں ہوتا۔ شاید کسی اور زبان میں یہی ترکیب کسی تصویر سے مطابقت ہو جائے تو وہاں یہ لفظ بن جائے، اور کسی معنی کو جنمے۔ اردو کی حد تک یہ لغو ہجے ہیں۔ حروفِ بے سینس۔
مگر صرف مشترک علیہ لفظ ہونا، معنی خیز ہونے کے مترادف نہیں۔ معنویت کی تکمیل نہیں۔ معنی پہلے لفظ میں پھوٹتا ہے، یعنی اِن طے شدہ ترتیبِ حروف کے بغیر وجود میں نہیں آتا مگر صرف یہیں پایۂ تکمیل کو بھی نہیں پہنچتا۔ معنی لفظ کی کوک میں جنم لیتے ہی لفظ کی قید سے چھوٹنے کے درپے ہو جاتا ہے۔ یہ لفظ سے نکل کر، آواز سے جُدا ہو کر، تصویر میں ڈھل جائے گا یا یہ کہ آواز تصویر ہو جائے گی۔ تصویر اب سُنی جانے یا سنائی دیے جانے کی نہیں بلکہ دیکھی جانے یا دکھائی دیے جانے کی محتاج ہے۔ تصویر بنتے ہی یہ تخیل کی قبیل میں پہنچ جائے گا جہاں اسے پہلے سے موجود تصویروں کے رجسٹر سے ملا ملا کر دیکھا جائے گا کہ یہ کس خاندان، کس شجرۂ نسب سے متعلق ہے۔
یہاں ایک مثال پیش خدمت ہے۔ دو لفظ اور ان سے بننے والی دو معروف ترکیبیں ملاحظہ ہوں : آنکھ کا لفظ، اور لفظ کی آنکھ۔ آنکھ کا لفظ خود میں ایک وضاحتی بیان ہے، لفظ کے بارے میں نہیں بلکہ آنکھ کے بارے میں۔ مراد صرف اتنی ہے کہ آنکھ بذاتِ خود ایک اسم ہے، شے کا نام ہے، خود پر خود ہی واضح ہے، جامد ہے، مکمل ہے اور ناقابلِ تبدیل ہے۔ بہر حال سرِ دست یہ کہ ”آنکھ کا لفظ“ میں ”کا لفظ“ صرف اور صرف ایک اضافت ہے، آنکھ پر دلالت ہے۔ آنکھ میں ”آنکھ کا لفظ“ ہونا پہلے سے داخل شدہ ہے۔
لفظ کی آنکھ ایک استعارہ ہے، علامت ہے۔ لفظ کی کوئی آنکھ نہیں ہے کیونکہ یہ ایک علامت ہے۔ علامت دراصل خود ایک آنکھ ہے جس سے میں اشیاء کو دیکھتا ہوں۔ اس آنکھ کی بناوٹ لفظی و خیالی ہے، معنویت رکھتی ہے اور تاثر بھی، جذبات کی عکاس بھی ہے اور جنم دہندہ بھی۔ یہ تمام بیان لفظ کے بارے میں ہے، لفظ پر ہے اور اسے بُننے کے لئے لفظ ہی کا سہارا لیا جا سکتا ہے۔ اور کوئی میڈیم ممکن نہیں۔
لفظ کی آنکھ کی ترکیب ایک عنوان کے طور پر، علامت کی حیثیت سے مکمل ہوتے ہی جیسے ہی استعمال میں آتی ہے تو شعور خیال کی نگری میں قدم رکھتا ہے، ایسی جگہ جہاں اس آنکھ کی بدولت خیال کو اپنی ابتدائی و اوریجنل فارم میں دیکھ رہا ہے اور یہ خیال بعینہ واپس اسے گھور رہا ہے اسی آنکھ کے واسطے سے۔ یہ آنکھ فرضی ہوتے ہوئے بھی بیک وقت زیادہ قابلِ اعتبار ہے۔ یا یوں کہیے کہ یہ آنکھ verifiable اور material نہ ہوتے ہوئے بھی justifiable ہے۔
یہاں غور کرنے کی بات ہی ہے کہ ”لفظ کی آنکھ“ کو اگر ایک علامت مانا جائے تو اِس بُت میں جو جان دوڑ رہی ہے وہ ایک بے جان سے حرف ”کی“ کی وجہ سے ہے۔ بالفاظِ دیگر ”کی“ کے ایسے استعمال کی وجہ سے کہ یہ دو الفاظ کو اپنی اپنی لفظی حدود سے نکال کر ایک نئی علامتی جلا بخش رہا ہے، حالانکہ خود بے جان ہے۔ الفاظ کی ایسی ترکیبی و ترتیبی بناوٹ خیال کی زمین کی سیاحی بھی ہے اور زبان کے میدان کا کرشماتی سفر بھی جہاں ہر وقت نت نئے پودے اُگ رہے ہیں۔ یہ پودے الفاظ ہیں۔ جو پودے وقت کی آبیاری پاتے جاتے ہیں، اہلِ زبان کے ہاں زیادہ سے زیادہ استعمال ہوتے جاتے ہیں، علامت بننے، بنتے رہنے اور بن چکنے کے عمل سے گزرتے جاتے ہیں وہ ہم اپنے ارد گرد موجود زباں دانی کے جواہر کے طور پر، فن کے طور پر آویزاں پاتے ہیں۔ ایسی کتنی ہی ترکیبیں، کتنے ہی الفاظ اس سارے عمل میں صبح کا سورج نہیں دیکھ پاتے اور خیال کے پردے کی سیاہی میں گم ہو جاتے ہیں۔
ایک لمحے کو لفظ اہلِ زبان پر ہی غور کریں۔ اس ترکیب کے تین حصے ہیں، اہل، زبان اور ان دونوں کو ملانے والی زیر۔ اہلِ زبان میں موجود یہ زیر خود میں جہانِ معنی ہے کیونکہ یہ بھی کی اور کا کی قبیل سے لیا گیا ایک نظامِ تعلق پر دلالت کرتا اور اس سے نکلتا ہوا اشارہ ہے۔ زیر کی اردو پر چھاپ بے حد گہری ہے۔ زیر کی دُنیا ”کی“ یا ”کا“ کی دُنیا سے بڑی ہے کیونکہ زیر کے زیرِ اثر اشیاء یا الفاظ، الفاظ ہوتے ہوئے مرکبات میں بدلتے جاتے ہیں۔ ہمارے زیرِ استعمال اکثر الفاظ جن میں زیر کی چھاپ واضح ہے اور فیصلہ کن ہے، اپنی بناوٹ میں نسبتی ہیں۔ اِسے حُسنِ اتفاق کہیے یا حالتِ شعور کہ زیر کے آتے ہی لفظ ایسے پُر شکوہ انداز میں تزئین و آرائش پاتا ہے کہ اس کا پھر کوئی ثانی نہیں رہتا۔ ایسا لگتا ہے الفاظ اپنی حالتِ نسبتی میں پہنچ کر جو خیال منتقل کرتے ہیں اور اپنے الفاظ ہونے اور معنی ہونے دونوں کی جہت سے ایسی گہرائی و بالیدگی پاتے ہیں کہ ان کی پہنچ سے باہر صرف ایسی نسبتِ باہمی ہے جو یا تو لفظ سے ماوراء ہے یا معنی کی دسترس سے کُجا۔ ورنہ دائرۂ لفظ میں رہتے ہوئے اردو کی کائناتِ معنی زیر کے ایسے زیرِ اثر ہے جیسی زمین سورج کی روشنی کے۔ کیا زیر کی یہ خوبصورتی اس کے علامتِ نسبتی ہونے کی وجہ سے نہیں؟ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ الفاظ، حروف، اشارے وغیرہ انسانی تخیل و شعور کے محسن ہیں جو تعلق کو درشاتے ہیں، جو مربوط نام یا proper nouns نہیں ہیں مگر ان nouns کے مردہ قالبوں میں ہمہ وقت نئی روحِ معنی پھونکتے رہتے ہیں۔ دوسرے ایسے حروف ”ے“ ، اور ”ی“ ہیں، جیسے کہ اردوئے معلیٰ، یا کائناتِ حقیقی جن پر بحث اپنے تئیں بے حد ضروری ہے مگر اس مضمون کی گنجائش سے فی الوقت باہر ہے۔
علیٰ ہذالقیاس صرف یہ کہا جا سکتا ہے کہ الفاظ و معنی کی منزلِ مقصود اپنی اپنی شناختی اکائیوں کو ترک کیے بغیر ایک نئی اکائی میں ڈھل جانا ہے، جسے علامت کہا جا سکتا ہے۔ اس عمل میں چونکہ ذہن نہ صرف برابر کا شریک ہے بلکہ خود اپنے رہنے سہنے کے لئے درکار موادِ بود و باش انہی علامتوں کی پیچ داری و گہرائی و پیچیدگی سے مستعار لیتا ہے۔ ایسے بے معنی ہجے جنہیں ہم روز مرہ میں بغیر کسی احتمال و اہتمام برتتے ہیں، جو دو یا زیادہ الفاظ کو جوڑنے اور ان میں لازمی فاصلے کو یقینی بناتے ہیں، دراصل انسانی رشتوں میں پائی جانے والی گہرائی و پیچیدگی کی ایک آئینہ گاہ ہیں۔


