سنگھاسن بتیسی : ایک موضوعاتی مطالعہ


 

کتاب: سنگھاسن بتیسی مصنف: نا معلوم مترجم: انتظار حسین

سنگھاسن بتیسی۔ (سنگھاسن یعنی تخت اور بتیسی یعنی بتیس 32 ) یہ سنسکرت کی مشہور منظوم داستان کا اُردو نثری ترجمہ ہے۔ اس سے ملتی جلتی ایک اور داستان بیتال پچیسی ہے۔

متن اس کا یہ ہے کہ راجہ بھوج اجین نگری میں راج کرتا ہے، اس کی سلطنت میں ایک شخص ایک کھیت کی رکھوالی کے لیے ایک مچان پر چڑھتا ہے، چڑھتے ہی بلند آواز سے حکمیہ انداز میں کہتا ہے راجہ بھوج کو حاضر کرو تا کہ میں اسے سزا دوں۔ راجہ کے آدمی اسے پکڑ کر خاطر تواضع کرتے ہیں تو اس کے اوسان بحال ہوتے ہیں۔ وہ معافی تلافی سے جان بخشی کرواتا ہے لیکن جونہی وہ دوبارہ مچان پر چڑھتا ہے اس کا پرانا انداز لوٹ آتا ہے۔ راجہ کے ہرکارے اسے پھر سے دھر لیتے ہیں لیکن وہ بیچارگی سے گڑگڑاتے ہوئے معافی مانگ لیتا ہے۔ یہی کام بار بار ہوتا ہے۔ خبر راجہ کے دربار تک پہنچتی ہے تو منتری، برہمن اور درباری اس نکتے پر متفق ہوتے ہیں کہ ضرور اس جگہ میں کوئی اسرار ہے جو وہ کسان وہاں جاتے ہی اوقات سے باہر ہو جاتا ہے۔ اس صلاح کے بعد راجہ اس زمین کی کھدائی کا حکم صادر فرماتے ہیں۔ کھدائی شروع ہوتی ہے اور ایک شاندار و بے مثل شاہی تخت نمودار ہوتا ہے۔ تخت کی نئے سرے سے مرمت و تزئین اور محل میں منتقلی ہوتی ہے۔ تخت کے ہر پائے کی ساتھ آٹھ آٹھ پتلیاں (سنگی مجسمے ) منسلک ہیں۔ یہ دراصل اپسرائیں تھیں جنہیں ایک منتر سے اس صورت میں ڈھال دیا گیا۔ سمجھیں ان پر شراپ تھا۔

تخت کی خوبصورتی کے چرچے چار دانگ عالم میں پھیل چکے ہیں۔ راجہ کا ارادہ ہے کہ ایک عظیم تقریب کا انعقاد ہو جس میں وہ اس رشکِ سلطاناں تخت پر جلوہ افروز ہوں۔

اسی مقصد کے لیے راجہ بھوج ارد گرد کی سلطنتوں کے شاہوں اور راجوں کو سندیسے بھیج کر بلواتے ہیں۔ جشن کا سماں ہے اور راجہ تخت پر تشریف رکھنے کے لیے آگے بڑھتے ہیں تو یکا یک تخت سے منسلک بتیس پتلیوں میں جان پڑ جاتی ہے، وہ کھلکھلا کر ہنستی ہیں۔ راجہ ششدر رہ جاتا ہے کہ کہیں کوئی آفت ہی نہ ہو۔ ان میں پہلی پتلی جس کا نام رتن منجری ہے راجہ سے ہمکلام ہوتی ہے۔ دل سنبھال کر، حواس قائم کر کے راجہ پتلی کی بات سنتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ پتلی اس کا ٹھٹھا اڑا کر کہہ رہی ہے کہ تم اس تخت جوگے نہیں ہو، اس پر بیٹھنے سے پرہیز ہی کرو۔ راجہ کچھ غصہ اور سبکی محسوس کر کے پوچھتا ہے کہ کیا میں راجہ نہیں ہوں؟ کیا میں بزدل ہوں؟ کیا میں نامرد ہوں؟ کیا میں نالائق ہوں اور راج نیتی نہیں جانتا؟ پتلی کہتی ہے کہ یہ تخت راجہ بیر بکرماجیت کا ہے، اس پر وہی بیٹھے گا جس میں راجہ بکرماجیت جیسے گن ہوں۔ راجہ بھوج پوچھتا ہے کہ کیا گن تھے راجہ بکرماجیت کے؟ تب پتلی راجہ بکرماجیت کے متعلق بتانا شروع کرتی ہے۔ راجہ بکرماجیت کون تھا اور کیسا تھا۔ اس کے کیا اوصاف تھے۔ راجہ بھوج پتلی کی طرف متوجہ رہتا ہے اور تخت پر بیٹھنے کا ارادہ موقوف کر دیتا ہے۔ پتلی اسے راجہ بکرماجیت کی تخت نشینی کا قصہ سناتی ہے۔ راجہ محظوظ ہو کر سنتا ہے۔ پہلی پتلی قصہ سنانے کے بعد خاموش ہوتی ہے تو راجہ دل مسوس کر رہ جاتا ہے۔ لیکن تخت اس کے دل و نگاہ میں بس گیا ہے۔ وہ اگلے دن پھر آ دھمکتا ہے، وہ ہر صورت تخت پر بیٹھنا چاہتا ہے۔ وہ پاؤں بڑھاتا ہے تو دوسری پتلی آگے بڑھ کر مانع ہوتی ہے اور کہتی ہے اس تخت پر بیٹھنے کے لیے بکرماجیت جیسے اوصاف لاؤ پھر اس پر بیٹھنے کا سوچنا۔ راجہ اس سے بھی پوچھتا ہے کہ بتاؤ کیا گن اور اوصاف تھے تمہارے راجہ کے؟ اس پر دوسری پتلی راجہ کی زندگی سے ایک اور واقعہ نقل کرتی ہے۔ جس طرح الف لیلیٰ میں شہر زاد بادشاہ کو ہر شب ایک کہانی سناتی ہے، بادشاہ مبہوت سنتا جاتا ہے اسی انداز میں پتلیاں راجہ بھوج کو راجہ بیر بکرماجیت کی زندگی سے اس کی بہادری، بے خوفی، دریا دلی و سخاوت کے قصے سناتی ہیں۔

یہ کل بتیس کہانیاں ہیں، اسی نسبت سے سنگھاسن بتیسی کہلاتی ہیں۔ اس کا ہیرو بکرماجیت ہے اور اسے لیجنڈ کا درجہ حاصل ہے۔ جیسے انگریزی میں قدیم رزمیہ داستانوں کے کردار ہیں، مثلاً یولیسس۔ ویسا ہی بکرماجیت ہے۔ راجہ بکرماجیت ہندوستانی لیجنڈ ہے۔ راجہ چیلنج لینے کا شوقین ہے، مہم جو ہے، اس سے جو کوئی کچھ مانگنے آئے اسے مہیا کرتا ہے، بچھڑے ہوئے عاشقوں کو ملوانے کے لیے جان جوکھم میں ڈالتا ہے، کشٹ کاٹ کر حاصل ہونے والے قیمتی رتن ضرورت مندوں میں بانٹنے سے گریز نہیں کرتا، دیوی دیوتاؤں کا پسندیدہ ہے، کاہنوں، برہمنوں کا محبوب ہے، عوام کا والی و خیر خواہ ہے۔ الغرض اس میں ایک قدیم ہیرو والی تمام بَشری و غیر بشری خصوصیات اور عناصر موجود ہیں۔

سنگھاسن بتیسی سنسکرت میں کہی گئی قدیم ترین منظوم داستان ہے، جو بعد میں برج بھاشا میں منتقل ہوئی، انیسویں صدی میں اس کا اردو ترجمہ کیا گیا۔ اردو کے مشہور ادیب انتظار حسین نے اسے نثر میں ڈھالا اور بہت خوبصورت انداز سے ڈھالا۔ قصے کی لذت برقرار ہے، تہذیبی فضا تحریر میں پوری طرح قائم ہے۔ گرامر اردو ہے لیکن الفاظ کا بھاری تناسب سنسکرت سے تعلق رکھتا ہے۔ (بالکل وہی زبان برتی گئی ہے جو شدھ ہندی فلمز اور کارٹونز میں ہوتی ہے ) جو کہ اچھا ہے۔ اگر مترجم مفرس و معرب اردو میں ترجمہ کرتا تو قصے کی ثقافتی وضع قطع خراب ہو جاتی (دوسرے مترجمین نے یہ تجربہ سنسکرت کی کچھ اور داستانوں کے ساتھ کر کے دیکھا تھا۔ داستان کا کل ذائقہ ہی بدل گیا) اس کے مصنف کا معلوم نہیں ہو سکا، نہ ہی صحیح طور پر یہ بتایا جا سکتا ہے کہ یہ کس سن یا دور میں لکھی گئی۔ ڈاکٹر جمیل جالبی کا ماننا ہے کہ یہ تیرہویں صدی سے قبل کی تخلیق نہیں ہے۔

عربی ادب میں داستان الف لیلیٰ ہے، فارسی والوں کے پاس شاہنامہ میں رستم و سہراب کے قصے ہیں، یورپ کے پاس بھی اینیڈ، اڈیسی وغیرہ موجود ہے۔ ایسی سپرنیچرل پاورز والے ہیروز ہر تہذیب میں ہوتے ہیں۔ ہمارے ادیبوں نے اس خطے کی لیجنڈز، رزمیے اور داستانیں کھوجیں تو انہیں جو ملا سنگھاسن بتیسی ان میں سے ایک تھی۔ یہ سبق آموز کہانیاں ہیں ان کا ہیرو راجہ بکرماجیت ہے۔ ادب کا طالب علم ہونے کے ناتے ہمیں ان کا مطالعہ لازمی کرنا چاہیے، ان کا علم ہونا چاہیے۔

یہاں تک میں نے سنگھاسن بتیسی کا تعارف، متن، زبان کا بتایا ہے۔ اب تھوڑا سا ریویو اور مطالعہ کے دوران امڈ آنے والے احساسات کا احوال بتاتے ہیں۔

مجھے ذاتی طور پر بادشاہت اور ڈکٹیٹرشپ پسند نہیں ہے۔ اس لیے مجھے زندگی بھر کے لیے کسی علاقے کے لوگوں پر مسلط ہونے والے اشخاص اچھے نہیں لگتے۔ میں جنگ و جدل، لڑائی فساد جیسی چیزوں کے خلاف ہوں، جبکہ راجوں کا تو کام ہی یہی ہے۔ پھر یہی راجے، مہاراجے، شاہ، نواب طاقت کے بل بوتے پر عوام پر حکمرانی کرتے ہیں۔ پاور اور اختیار کا کل سر چشمہ اپنی ذات کو بناتے ہیں۔ صرف اپنی عقل اور سمجھ کو برتر سمجھ کر فیصلے کرتے ہیں۔

پھر جس انداز سے وہ دست نگر سے کہتے ہیں ؛ مانگو کیا مانگتے ہو، میرے دماغ کی رگیں پھڑپھڑانے لگتی ہیں کہ رہتے نہیں اتنے داتا۔ بھئی کوئی ان سے کہہ دے کہ گزرے ہوئے کل کو واپس لے آؤ تو لے آئیں گے؟ ہمارے بچپن کے کسی ٹراما کا علاج پوچھیں تو بتا دیں گے؟ اس کی اذیت اور یاد سے نکال لیں گے؟ لیکن ان کا نارسسٹک اور مطلق العنان مزاج کہ کوئی ان سے مانگنے والا ہو۔ پہلے ہر شے کو قبضے میں لیتے ہیں اس کے بعد مقدور یا بساط بھر لوگوں میں بانٹ کر خود کو سخی کہلواتے ہیں۔ ملک گیری کی ہوس میں عوام پر جنگوں کا عذاب الگ نازل کرتے ہیں، شہروں کے شہر تباہ کرتے ہیں۔ اپنے زعم میں یہ ایک ہی وقت میں جج، جیوری اور جسٹس ہیں۔ یہ خود کو ماہر نفسیات، ماہر بشریات، فلسفی اور نجانے کیا کیا سمجھتے ہیں۔ اس لیے مجھے ان کی سخاوت، ذہانت اور سورمائی کے قصے متاثر کن نہیں لگتے۔

وزیروں کو دربار میں حاضر کر کے ان سے ایسے سوال اور پہلیاں پوچھتے ہیں جو ان کی جاب ڈیزیگنیشن کا حصہ نہیں ہوتیں، پھر دھمکاتے ہیں کہ مطمئن کرنے والا جواب نہ دیا تو سر قلم کر دیے جائیں گے۔ معمولی غلطی پر کسی کو دیس بدر کرنا، اس سے بنیادی انسانی حقوق چھین لینا ان کے لیے کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا۔

ذاتی تجربات کو معروضی سچائی بنا کر ہر ایک پر نافذ کرتے ہیں۔ انہیں یہ نہیں پتا کہ ایک معاملے کے کئی پہلو ہوتے ہیں۔ ایک ہی بات کے کئی مطالب ہو سکتے ہیں۔ جو ان کے لیے سچ ہے لازمی نہیں سب کے لیے سچ ہو۔

دو لوگ اگر اس بات پر بحث کرتے ہیں کہ قسمت اور دولت میں سے کیا چیز زیادہ اہم ہے تو راجہ اپنے تجربات کو منطقی اصول کی حیثیت دے کر فیصلہ صادر کر دیتا ہے۔

اگر یہ معلوم کرنا ہو کہ انسان ماحول سے سیکھتا ہے یا اس کا علم جبلی یا پیدائشی ہوتا ہے تو اس کا فیصلہ بھی راجہ اپنی دانست کے مطابق کرتا ہے۔ (جن کا اپنا راج برہمنوں، کاہنوں کی پیشین گوئیوں کے سہارے چل رہا ہوتا ہے وہ بتائیں گے کہ انسانی ذہن اور نفسیات کیسے کام کرتے ہیں، تحریک کیسے پیدا ہوتی ہے، عمل اور رد عمل کیا ہوتا ہے ) پر بس جی طاقت ہاتھ میں ہو تو۔ جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے۔

ان کے پولی گیمس ہونے پر مجھے مزید اعتراض ہے۔ مرتے دم تک ان کا سہرا سجائے رکھنے کا شوق ختم نہیں ہوتا۔

راجے ذہنی بیمار تھے، عوام الگ دماغی کرائسس میں تھے۔ گھر میں اناج نہیں ہے تو راجہ سے مانگو، بیٹی کا جہیز نہیں تو راجہ کا ترلا کرو۔ بھئی آپ لوگ محنت کر کے کیوں نہیں اپنے حالات سدھارتے؟ مانگنے کی ذلت ضرور اٹھانی ہے؟ درج بالا تمام واقعات داستان میں جا بجا موجود ہیں، جنہیں پڑھنا مجھے خوش گوار نہیں لگا۔

(داستان کے آخر میں دو ضمیمے شامل ہیں، جن میں راجہ کی پیدائش اور موت کا احوال درج ہے، موت والے ضمیمے میں ایک برہمن کو اوریکل سے معلوم ہوتا ہے کہ بارہ برس بعد ایک گھڑی ہوگی تب تم بھوگ کرو گے تو ایک بیٹا پیدا ہو گا جو بڑا نامور ہو گا۔ وہ اس کو پلے باندھ کر بیوی کو پیچھے چھوڑ کر بارہ برس کے لیے بن باسی ہو جاتا ہے، بارہ برس پورے ہوتے ہیں تو گھر پلٹتا ہے لیکن ندی کی طغیانی سے خوف کھا کر رک جاتا ہے، گھر ندی کے پار تھا۔ اب اسے ڈر ہوتا ہے کہ کہیں وہ شبھ گھڑی نکل نہ جائے۔ تب وہ ایک کمہار کو رازدار بناتا ہے اور کمہار اسے اپنی بارہ سالہ بیٹی کا رشتہ پیش کرتا ہے، وہ بے شرمی کی حد کرتے ہوئے قبول کر لیتا ہے ) بس کچھ ایسی دانائی آمیز چیزیں ہیں جن کو پڑھتے ہوئے پیشانی شکن آلود ہونے لگتی ہے۔

اگر آپ کا اندازِ فکر بھی ایسا ہے تو زیر بحث کتاب آپ کو زیادہ متاثر نہیں کر سکے گی۔ ہاں اگر نئے الفاظ سیکھنا ہوں، زبان بیان، جملہ کاری سے محظوظ ہونا ہو، داستان گوئی سے لطف لینا چاہتے ہوں تو لازمی پڑھیں۔ مجھے بھی بہت سے نئے الفاظ ملے۔ جیسا کہ کناری باف (دوپٹوں پر لیس/گوٹا لگانے والا) جلا کار (اجالنے والا) کتنے خوبصورت لفظ ہیں۔ مزہ آ جاتا ہے پڑھ کر۔ اس کے علاوہ سنسکرت کو بہت زیادہ برتا گیا ہے۔ میرا ذاتی ذخیرہ الفاظ بہت محدود تھا، دھرم، جنتا، بھگوان، ماتا پتا پر میری بس ہو جاتی تھی۔ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد میرے حالات بہتر ہیں۔ داستان نگاری کے لحاظ سے یہ ایک کلاسیک کتاب ہے۔

اس قصے سے اخلاقی سبق یہی حاصل ہوتا ہے کہ اگر کسی عہدے کو سنبھالنے اور ذمہ داری کو پورا کرنے کی اہلیت نہ ہو تو اس سے دور رہنا چاہیے۔ اسی کو کتاب کا مرکزی خیال کہا جا سکتا ہے۔

کتاب میں جو نئی چیز مشاہدے میں آئی وہ اس کی بلیک اینڈ وائٹ ڈرائنگز اور سکیچز تھے، جو تقریباً ہر قصے میں صورت حال کی تصویری عکاسی کرتے تھے۔ یہ چیز اچھی لگی۔

یہ کتاب سنگ میل پبلشرز نے شائع کی ہے۔ پیپر اچھا ہے، پرنٹنگ بھی تسلی بخش ہے۔ کتابت کی غلطیاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔

Facebook Comments HS