جالیاں
(یہ تحریر بے وقت، بے موت، نامعلوم پولیس اہلکار کی اندھی ریاستی گولی کا شکار بننے والے منظور بھائی اور ان کی صابر بہن کے نام)
لالو کھیت کے گھر میں بیرونی دیوار پہ لگی جالیاں اور ان جالیوں سے جھانکتی ہماری آنکھوں نے کیا کچھ دیکھا! کھیل کھیل میں یونہی دیکھنے کے لیے دیکھا تو کیا دیکھا، ہنگام میں حالات جاننے کے لیے دیکھا تو کیا دیکھا؛ اگر کوئی جالیوں کی دوسری طرف سے ہماری آنکھوں میں جھانک سکتا تو اسے کیا نظر آتا؟ کبھی بچپن کی شرارت سے بھری چمکتی آنکھیں اور کبھی حیرت اور خوف سے پھیلتی دو پتلیاں۔ ان جالیوں سے مشرق کی جانب ٹریفک سے رواں دواں سڑک دکھائی دیتی ہے جس کے بائیں طرف جبار مٹھائی والے کی دکان تھی، شمال کی جانب سے چھوٹا چوراہا نظر آتا، جس کے بائیں جانب کے ایم سی پرائمری اسکول تھا جہاں سے ارشد (مجھ سے بڑا بھائی ) اور میں نے پانچویں جماعت تک پڑھا، مغرب کی طرف، جہاں سورج دن کو الوداع کہتا ہے، قبرستان ہے۔ ہم نے ایک مرتبہ بچپن میں اپنے گھر کے سامنے انور مقصود صاحب کو دیکھا، ہمارے گھر رینا بلیک اینڈ وائیٹ ٹی وی تھا، وہ شاید کسی کی تدفین میں آئے تھے اور کافی دیر وہاں کھڑے رہے تھے۔ مجھے اب تک یاد ہے میں اس وقت گھر کے مقابل بنے چوڑے چبوترے پر، اس وقت نیم کا تناور درخت تھا یا شاید کاٹ دیا گیا تھا، اس کے تنے کے پاس کھڑی تھی اور مجھے ان کے پاس جانے کی ہمت نہیں ہوئی، یہ لکھتے ہوئے خیال آ رہا ہے کہ اگر ملتی تو ان کو خوشی ہوتی کہ یہ بچے میرا پروگرام دیکھتے ہیں اور مجھے پہچانتے ہیں، اب اگر یہ قصہ پارینہ ہیں تو خوشیاں بھی لمحوں کی ہی ہوتی ہیں، جلد ہی قصہ پارینہ بننے کے لیے، لیکن ان لمحوں کے بیش قیمت ہونے سے بھی کون انکار کر سکتا ہے۔
ہم ان جالیوں سے دیکھتے کہ نانی بوا گرمی کے موسم میں برف کی تھیلی لیے چھوٹے چوراہے سے جلدی جلدی آ رہی ہیں، اس جلدی جلدی کی ایک وجہ یہ کہ برف پگھل رہی ہوتی تھی اور اس سے بڑی دوسری وجہ یہ کہ بوا کے کام وقت سے زیادہ جلدی کے ہوتے تھے، یہ دہرے نوعیت کی جلدی جلدی تھی، یعنی جلدی جلدی کے اس ترکیبی روز مرہ کو دو مرتبہ (ایک مرتبہ مزاجاً بوا اور دوسری مرتبہ نوعیتاً برف کا پگھلنا) اگر لکھا جائے تو دو مرتبہ جلدی جلدی جلدی جلدی لکھنا ہو گا، اس سے بوا کی رفتار کا بہ خوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ہماری پہلی دوڑ امی کی طرف ہوتی یہ بتانے کے لیے کہ بوا آ رہی ہیں اور دوسری باہر کی طرف، بوا کے پاس پہنچ کر جھٹ سے سلام کرتے فٹ سے ان کے ہاتھ سے برف کی تھیلی پکڑتے اور جھٹ سے امی کو لا کر تھما دیتے، جتنی دیر میں امی برف دھوکر کولر یا جگ میں ڈالتیں، بوا پہنچ جاتیں۔ بوا پانی یخ ٹھنڈا اور چائے بھاپ اڑاتی پیتی تھیں۔
ان ہی جالیوں سے ہم کالا برقع پہنے کھوکھرا پار یا رنچھوڑ لائن سے آتی رابعہ آپا کو دیکھتے۔ رابعہ آپا سے ہماری کیا رشتے داری تھی ہمیں نہیں معلوم، بس اتنا پتا ہے کہ بوا ہجرت کے بعد ان کے گھر کے کسی کمرے میں رہیں، کرائے پر یا بغیر کرائے، یہ بھی نہیں معلوم۔ بوا بتاتی تھیں کہ رابعہ آپا گرمی کے موسم میں پائے پکاتیں اور کہتیں کہ سردی میں مہنگے ہونے کی وجہ سے نہیں کھاتے تو کیا گرمی میں بھی نہ کھائیں، گرمی میں تو کھائیں۔
ان ہی جالیوں سے ہم نے شانو آپا کو آتے ہوئے دیکھا۔ وہ ان دنوں ہمارے گھر اکثر اپنی بڑی بیٹی کے رشتے پر جو چھوٹی ممانی نے اپنے بھائی کا دیا تھا، صلح مشورہ کرنے آتی تھیں، امی کے خلوص پر کوئی مخلص دل کبھی شاکی نہیں ہو سکتا تھا۔
امی نے گھر میں جنگ اخبار لگوایا تھا، ان جالیوں سے ہم اخبار کا رول بنا کر، جالی سے یہ اعلان کرتے کہ حضرات ایک ضروری اعلان سماعت فرمائیں، کل اسکول کی چھٹی ہے۔ یہ میرا اور ارشد بھائی کا کھیل تھا جو ہم کھیلتے تو ہنستے ہوئے تھے لیکن اس پر عمل شدت دل سے چاہتے۔
ہمارے گھر سے پہلے ایک بڑا گھر تھا، آگے تین دکانیں اور زمین کا گھر کرائے پر، اوپر کی منزل میں پڑوسی خود رہتے تھے، جس میں باہر ایک بڑی گیلری بنی تھی، خاتون خانہ اپنے بڑے بیٹے کی عرفیت سے بچن کی امی کہلاتی تھیں، چھوٹے سے قد کی، کبھی کبھی امی سے ملنے آ جاتیں، امی تو یاد نہیں پڑتا کہ کبھی ان کے گھر گئی ہوں۔ بچن کی امی بچن بھائی کے لیے اپنی بھتیجی بیاہ کر لائیں۔ ہم نے انہیں دیکھا، گوری، دبلی پتلی، اچھی شکل صورت کی، ان کے دو بیٹے ہوئے، پھر اچانک جانے کیا ہوا، بچن بھائی نے ان کو طلاق دے دی۔ جو منظر امی نے جالیوں سے دیکھا، ان کے گھر سے آوازیں آنے پر شاید امی گیلری میں جاکر کھڑی ہو گئی ہوں کیوں کہ میں نے ان کی زبانی سنا وہ یہ کہ بچن کی بیوی نے بیٹوں کا ہاتھ پکڑے جاتے جاتے، جب وہ چھوٹے چوراہے کے پاس پہنچیں، جہاں سے بالکل سیدھ میں بچن بھائی کے گھر کی گیلری نظر آتی ہے اور وہیں سے سڑک مڑتی ہے، ؛پیچھے مڑ کر دیکھا، امی نے ان کے مڑ کر اس گھر کو دیکھنے کا تذکرہ کیا۔ یہ پلٹ کر دیکھنا کیا ہوتا ہے؟ یہ احساس کہ شاید کوئی گیلری سے کھڑا دیکھتا ہو، کوئی روکنے کو آتا ہو؟ امی کہتیں، دیکھو بھتیجی کر کے لائیں اور بسایا نہیں۔
ہمارے گھر کے سامنے سے محرم اور ربیع الاول کے چھوٹے ابتدائی دنوں کے جلوس گزرا کرتے، رات میں گزرنے والے جلوس ہم ان جالیوں سے دیکھا کرتے۔
ان جالیوں سے شیعہ سننی فسادات کا دور دیکھا، یہ فسادات خاص طور پر ان بستیوں کے لیے جنہوں نے اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں اپنے آباء کی زمینوں سے ہجرت کی، کتنے ہولناک تھے۔ سقوط ڈھاکہ ہو چکا تھا، مولانا ابو الکلام آزاد کی پیش گوئی کہ اگر ہندوستان تقسیم ہوا تو اس کے پچیس برس میں یہ مزید تقسیم ہو گا، اگست سینتالیس سے دسمبر اکہتر کم و بیش پچیس سال کا عرصہ بنتا ہے، حقیقتاً اس سیاسی نعرے کی قلعی اترتے دیر نہیں لگی اور سیاسی و مذہبی شعبدہ باز ہیں کہ اس کورے نعرے کی قلعی کیے جاتے ہیں اور سادہ لوح عوام ہیں کہ ان کی آنکھیں خیرہ ہوتے نہیں تھکتیں۔
ہمارے گھر سے مغرب کی سمت عوامی بیت الخلاء اور کچرا خانے کے بعد اور قبرستان سے پہلے ایک منزلہ بغیر سفیدی کا ایک گھر جس میں خوب صورت شیعہ فیملی رہتی تھی، گوری چٹی بیٹیاں اور بیٹے، ان جالیوں سے ہم نے دیکھا کہ کیسے لڑکے ہاتھوں میں ہاکیاں لیے بھڑکیلے جذبات میں بھرے ان کے گھر کی طرف گئے، اس سے ایک روز قبل ہم نے ان کی ماں کو اپنے بچوں کو اس طرح جھک کر سمیٹے جیسے مرغی اپنے بچوں کو پروں میں سمیٹتی ہے، ڈرے ڈرے سہمے سہمے انداز میں اپنے گھر کے سامنے سے جاتے دیکھا تھا، مذکورہ دن ان کے گھر کو آگ لگائی گئی اور وہ گھر جو سفیدی کے بغیر کورا تھا اب سیاہ رنگ کا ہو چکا تھا۔ اس فرقہ ورانہ آندھی کے گزرنے کے بعد وہ اپنے گھر جو اب ماتمی رنگ لیے ہوئے تھا، واپس آ گئے۔
ہمارے گھر کے سامنے بسیں کھڑی ہوتی تھیں، وہ اسٹاپ نہیں تھا، شاید ٹھیک ہونے کے لیے، ہم ان بسوں میں کھیلا کرتے تھے۔ کرفیو کے دن تھے۔ ہمیں گھر کی جالیوں سے مشرق کی سمت سڑک پر پولیس اہلکار کھڑے دکھائی دیتے۔ کبھی محلے کے لڑکے انہیں منہ چڑا کر بھاگتے، ایک دن وہ گلیوں سے گھس آئے، لڑکے بھاگے، محبوب بھائی کے بڑے بیٹے یاسین کو چھپنے کی جگہ نہیں ملی، وہ پکڑا گیا، مرغا بنایا، ناک سے لکیریں بنوائیں، چھوڑ دیا۔ ایک دن پولیس نے آنسو گیس پھینکی، ہم نے اگرچہ تمام کھڑکیاں دروازے بند کر لیے تھے لیکن صحن کی طرف کا حصہ کھلا تھا، آج تک وہ ناک میں مرچیں لگنا یاد ہے، ہم سب ٹھنڈا پانی آنکھوں اور منہ پہ ڈال رہے تھے۔
ایسے ہی ایک مرتبہ پولیس نے فائر کر دیا۔ گلی میں سناٹا چھا گیا، ہم نے اپنے گھر کی جالیوں سے دیکھا، سامنے کھڑی بس کے نیچے کوئی لیٹا تھا، گولی لگی تھی، وہ منظور بھائی تھے۔ سفید شلوار قمیص میں، ہم سب آپس میں منظور بھائی کو گولی لگی ہے، منظور بھائی کو گولی لگی ہے کہنے لگے، لیکن مدد کو کون جاسکتا تھا۔ وہ کتنی دیر بس کے نیچے کبھی دائیں کبھی بائیں کروٹیں بدلتے رہے، خون کے لیے کرفیو تھوڑی لگا تھا جو نہ بہتا، زیادہ خون بہہ جانے کے سبب وہ جاں بر نہ ہو سکے۔
منظور بھائی کو ان کی بڑی بہن نے پالا تھا، ایک منزلہ مکان تھا اور آگے دو دکانیں جو انہوں نے کرائے پر اٹھا رکھی تھیں، وہاں سلائی کا کام ہوتا تھا، اوپر کا گھر بھی لکڑی کا زینہ اور ایک کمرہ بنا ہوا تھا، کرائے پر دیا ہوا تھا، انہوں نے شادی نہیں کی۔ منظور بھائی کی بہت خوب صورت بیوی اور تین پیارے پیارے بچے تھے، منظور بھائی کے انتقال کے بعد ان کی بیوی بچے چھوڑ کر دوسری شادی کر کے چلی گئی۔ مجھے منظور بھائی کی بہن کا چہرہ یاد ہے، ان پر حالات کی سختی نے کرختگی پیدا نہیں کی تھی، وہ ہلکے نیلے برقعے میں سودا سلف لینے کبھی آتی جاتی نظر آتیں تو ہم بچے انہیں سلام کرتے، صاف رنگ تھا، پھولے پھولے گال، بڑی بڑی آنکھیں، بالکل سادہ۔ ایسے ہی ایک دن امی اور میں جالیوں سے باہر دیکھ رہے تھے کہ منظور بھائی کی بہن گزریں تو امی نے کہا ”پہلے انہوں نے اپنے بھائی کو پالا اب اس کے بچے پال رہی ہیں“ ۔


