جرمنی میں وفاقی انتخابات۔ مابعد معلومات


فیڈرل ریپبلک آف جرمنی میں وفاقی انتخابات کا عمل خوش اسلوبی سے مکمل ہو گیا ہے۔ ملک کی چار جمہوری سیاسی جماعتوں، یعنی سی ڈی یو/سی ایس یو (یونین) ، ایس پی ڈی، گرین اور لنک جماعت، کے علاوہ، دائیں بازو کی ریڈیکل، فاشسٹ، پاپولزم بیسڈ، اسلام/غیر ملکی مخالف، اے۔ ایف۔ ڈی نامی جماعت نے بھی، انتخابات میں کامیابی حاصل کی ہے۔ نتائج کی تفصیل کچھ یوں ہے :

یونین: اٹھائیس اعشاریہ چھ فیصد (دو سو آٹھ سیٹیں ) ؛ ایس۔ پی۔ ڈی: سولہ اعشاریہ چار فیصد ( 120 سیٹیں ) ؛گرین جماعت: گیارہ اعشاریہ چھ فیصد ( 85 سیٹیں ) ؛ لنک جماعت: آٹھ اعشاریہ آٹھ فیصد ( 64 سیٹیں ) ؛ اے۔ ایف۔ ڈی:بیس اعشاریہ آٹھ فیصد ( 152 سیٹیں ) ۔

گزشتہ، سہ فریقی الحاقی وفاقی حکومت کا حصہ، ایف۔ ڈی۔ پی نامی جماعت کو چار اعشاریہ تین فیصد اور ایک بائیں بازو کی، جنوری دو ہزار چوبیس میں لنک جماعت چھوڑ کر فارورڈ بلاک بننے والی اور پہلی دفعہ انتخابات میں حصہ لینے والی، بی۔ ایس۔ وے نامی جماعت کو چار اعشاریہ نو سات فیصد ووٹ ملے ہیں۔ انتخابی قانون کے مطابق پارلیمان کا حصہ بننے کے لئے پانچ فیصد ووٹ لینا لازمی ہے۔ جنوبی شلیزوگشے الیکٹرو یونین نامی ڈینش اقلیت کو اس سے استثنا حاصل ہے۔ اور اس کا ایک نمائندہ جرمن پارلیمان میں موجود ہو گا۔

یونین جماعت کا ایک خاصہ یہ ہے کہ جرمنی کے صوبہ باویریا میں سی۔ ایس۔ یو نامی جماعت نے روز اول سے باقی پندرہ صوبوں میں نمائندہ سی۔ ڈی۔ یو سے دائمی الحاقی معاہدہ کیا ہوا ہے کہ وفاقی انتخابات میں یہ دونوں کنزرویٹو کرسچن جماعتیں مل کر انتخابات لڑیں گی۔

مارچ دو ہزار تیئس میں، سہ فریقی الحاقی حکومت نے پرانا انتخابی قانون کالعدم قرار دے کر، انتخابی قانون میں اصلاحات کے تحت، نیا قانون متعارف کرایا تھا۔

جرمنی میں ہر ووٹر کو دو ووٹ ڈالنا ہوتے ہیں۔ پہلے ووٹ سے وہ اپنے حلقے کے کسی امیدوار کو ووٹ ڈالتا ہے جبکہ اس کا دوسرا ووٹ سیاسی جماعت کی قسمت کا فیصلہ کرتا ہے۔

پرانے انتخابی قانون کے تحت اگر کوئی امیدوار ایک حلقے میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرتا تھا/ ہے۔ تو وہ پارلیمان میں منتخب ہو جاتا تھا بھلے اس کی جماعت کو پانچ فیصد سے کم ہی ووٹ ملے ہوں۔ اوور ہینگ اور کمپنسیٹ سیٹوں کی وجہ سے وفاقی پارلیمان کی 733 سیٹیں ہو جاتی تھیں جنہیں نئے انتخابی قانون کے تحت، اوور ہینگ اور کمپنسیٹ سیٹیں ختم کر کے، 630 تک محدود کر دیا گیا ہے۔

ایک جماعت کے اُمیدوار، ایک صوبے کے تمام حلقوں سے سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرتے ہیں /تھے لیکن اس جماعت کو ووٹوں کی گنتی کے بعد اس صوبے میں دو سیٹیں کم مل رہی ہوں تو یہ دو سیٹیں اوور ہینگ کہلاتی تھیں /ہیں۔ اگر اوور ہینگ سیٹوں کی وجہ سے کسی جماعت کی حق تلفی ہو رہی تھی/ہے تو اس کو کمپنسیٹ سیٹیں دی جاتی تھیں /ہیں۔

موجودہ وفاقی انتخابات دو ہزار پچیس میں، نافذ العمل نئے قانون کے تحت، مختلف جماعتوں کے کل تئیس امیدوار ایسے بھی ہیں جنہیں اپنے علاقوں میں، سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے کے باوجود، وفاقی پارلیمان میں کوئی سیٹ نہیں مل سکتی کیونکہ ان کی جماعت کے ووٹوں کے تعداد نسبتاً کم رہی ہے۔ لیکن اگر ان میں اُمیدوار اپنی اپنی جماعتوں کی لسٹوں پر بھی نامزد کیے جا چکے تھے تو وہ نتائج کے تناسب سے پھر بھی پارلیمان میں پہنچ سکتے ہیں۔

چھ سو تیس ارکان پر مشتمل وفاقی پارلیمان میں، حکومت بنانے کے لئے کم از کم تین سو سولہ ارکان کی حمایت حاصل ہونا ضروری ہے۔ سی ڈی یو/سی ایس یو (یونین) اور ایس پی ڈی کے ووٹوں کا مجموعہ تین سو اٹھائیس بنتا ہے۔

نئے انتخابی قانون کے تحت، (بندس تاگ) یعنی نئی وفاقی پارلیمان میں کوئی ایک بھی آزاد رکن نہیں بن سکتا۔

یونین جماعت کے چانسلر امیدوار مسٹر فریڈریک مرس ہیں۔ جو جرمنی کے نئے چانسلر ہوں گے۔ اسی ہفتے دونوں جماعتوں نے مخلوط حکومت بنانے کے لئے گفت و شنید کی شروعات کا عندیہ دیا ہے۔ دنیائے سیاست میں چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لئے جرمنی میں ایک فنکشنل حکومت کی موجودگی نہایت اہم ہے۔ پارلیمان میں نمائندہ مندرجہ بالا پانچوں جماعتوں کے ایجنڈے آپس میں نہیں ملتے اور حکومت بنانے کے لئے بھی، دو فریقی الحاقی مذاکرات میں بہت مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

اے۔ ایف۔ ڈی، جس کا، تمام دوسری جماعتوں نے، اس کے انتہائی دائیں بازو کے ریڈیکل نظریات کی وجہ سے، سیاسی بائیکاٹ کیا ہوا ہے، جمہوری اقدار کی طرف راغب ہوتی ہے یا خاکم بدہن، ہٹلر کی نازی جماعت این۔ ایس۔ ڈی۔ اے۔ پی کی طرح، مزید ریڈیکل ہوتی ہے تو دو ہزار انتیس کے اگلے ممکنہ وفاقی انتخابات میں، ہم جیسے ”غیر ملکیوں“ کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

اپوزیشن کی تینوں جماعتوں، اے۔ ایف۔ ڈی، لنک اور گرین جماعت میں بھی بالکل ہم آہنگی نہیں ہے۔

Facebook Comments HS