مریم نواز نے مایوس کیا ہے
پنجاب حکومت کا ایک سال مکمل ہو گیا ہے۔ سچ یہ ہے کہ اس ایک سال میں مریم نواز نے اپنے مخالفین اور ناقدین کو مایوس کیا ہے۔ کم و بیش ایک برس قبل مریم نواز شریف نے وزارت اعلیٰ کا منصب سنبھالا تو اس خبر نے میڈیا کی کافی توجہ حاصل کی تھی۔ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ بننا یقیناً ایک اعزاز کی بات ہے۔ اس خبر پر کئی دن تبصرے اور تجزیے ہوتے رہے۔ سیاسی مخالفین کا تو خیر کام ہی تنقید کرنا ہے۔ صحافتی حلقوں میں بھی بہت سوں کا خیال تھا کہ ایک خاتون جسے انتظامی عہدہ سنبھالنے کا کوئی تجربہ نہیں ہے، وہ کیسے اتنے بڑے صوبے کے معاملات دیکھے گی۔ کہا گیا کہ یہ مسلم لیگ (ن) کا ایک غلط فیصلہ ثابت ہو گا۔
اب چند دن پہلے مریم نواز حکومت کا ایک سال مکمل ہو گیا ہے۔ اس ایک سال میں پنجاب حکومت نے بہت سے پروگراموں کی بنیاد رکھی ہے۔ عوامی فلاح کے بہت سے اقدامات اٹھائے ہیں۔ کئی منصوبوں کا آغاز کیا ہے۔ مخالفین کا خیال تھا کہ ایک ناتجربہ کار خاتون کو حکومتی اور انتظامی معاملات سمجھنے میں برسوں لگ جائیں گے۔ مریم نواز شریف نے ان اندازوں کے برعکس انتظامی امور کو سمجھا بھی اور انہیں عمدہ طریقے سے چلایا بھی۔ اس ایک سال میں انہوں نے نہایت تحرک کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کی نا تجربہ کاری اور ان کی صنف ان کی راہ میں حائل نہیں ہو سکی۔ وہ اپنے دفتر میں مصروف دن گزارتی ہیں۔ کسی بھی میٹنگ سے پہلے اپنے نوٹس لیتی ہیں۔ حکومتی وزراء ہوں یا سرکاری افسران، باقاعدگی سے ان کی کارکردگی رپورٹ لیتی ہیں۔ کسی ضلع کے کمشنر یا ڈپٹی کمشنر سے ملاقات کرنے سے پہلے اس علاقے کی مکمل اطلاعات ان کے پاس ہوتی ہیں۔ حکومت پنجاب کی ایک سالہ کارکردگی کا دیگر صوبوں سے تقابل کریں تو مریم نواز تحرک اور کارکردگی میں سب سے آگے نظر آتی ہیں۔
مخالفین حسب روایت پنجاب حکومت اور مریم نواز کو ہدف تنقید بناتے رہے ہیں۔ تاہم غیر جانبداری سے دیکھیں تو پنجاب حکومت نے واقعتاً کئی ایسے کام کیے ہیں، جو عوام کے لئے نہایت فائدہ مند ہیں۔ مثال کے طور پر ہونہار سکالرشپ پروگرام کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اربوں روپے بجٹ کے حامل اس پروگرام کے تحت ذہین بچوں کو جو سکالر شپ مل رہے ہیں، ان سے سینکڑوں ہزاروں نوجوانوں کا بھلا ہو رہا ہے۔ میں ذاتی طور پر کئی طالب علموں کو جانتی ہوں جو نہایت دقت اور دشواری کے ساتھ فیس ادا کرتے تھے۔ ہونہار اسکیم کی شکل میں پنجاب حکومت نے ان کی ساری فیس اپنے ذمے لے لی ہے۔ گزشتہ حکومت نے کینسر کے مریضوں کے لئے مفت ادویات بند کر دی تھیں۔ مریم نواز حکومت نے کینسر اور امراض قلب کے مریضوں کی دوائیں ان کے گھروں پر پہنچانے کا اہتمام کیا ہے۔ نواز شریف کینسر ہسپتال کی بنیاد بھی رکھی گئی ہے، جس میں کینسر کے تیسرے اور چوتھے درجے کے مریضوں کا علاج کیا جائے گا۔ کینسر کتنا موذی مرض ہے اس سے ہم سب واقف ہیں۔ کیا اس منصوبے کی اہمیت سے انکار کیا جا سکتا ہے؟
بچوں کے دل کی سرجری کے مسائل کے حل کے لئے ہارٹ سرجری پروگرام شروع کیا گیا، جس کے تحت 1800 سے زیادہ معصوم پھولوں کے دلوں کے آپریشن ہو چکے ہیں۔ لاہور اور سرگودھا میں کارڈیالوجی ہسپتال بنائے جا رہے ہیں۔ دھی رانی پروگرام کے تحت غریب بچیوں کی شادی بیاہ کے لئے حکومتی امداد کسی غیبی مدد سے کم نہیں ہے۔ تجاوزات کے خاتمے کے لئے پنجاب حکومت نے جو آپریشن شروع کیا ہے اس کو مریم نواز کے مخالفین بھی سراہتے ہیں۔ پاکستان کی سیاست کے تناظر میں یہ ایک مشکل کام تھا۔ پنجاب حکومت اور مسلم لیگ کے اپنے لوگ بھی اس آپریشن کی زد میں آئے۔ وزیر اعلیٰ کے دفتر میں ایم این ایز اور ایم پی ایز کی قطاریں لگ گئیں۔ تاہم مریم نواز کسی سفارش کو خاطر میں نہیں لائیں۔
اس کے علاوہ اپنا گھر، اپنی چھت، ستھرا پنجاب، سولر پینل پروگرام، لیپ ٹاپ سکیم، الیکٹرک بسیں، ای بائیکس، ای ٹیکسی سکیم کے علاوہ بیسیوں پروگراموں کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ عمومی طور پر ہم تنقید کرتے ہیں کہ حکومتوں کی توجہ شعبہ تعلیم پر مرکوز نہیں ہوتی۔ تاہم مریم نواز حکومت نے تعلیم کے شعبے کو ترجیحی فہرست میں شامل رکھا ہوا ہے۔ اس ضمن میں بھاری بھرکم بجٹ مختص ہے اور وزیر اعلیٰ ذاتی دلچسپی سے تمام معاملات خود دیکھتی ہیں۔ صحت کے شعبہ پر بھی حکومت کی خصوصی توجہ ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ سیاسی تقسیم کی لکیر اس قدر گہری ہو گئی ہے کہ سیاسی ناپسندیدگی کی وجہ سے حکومتوں کے اچھے کاموں کی تعریف بھی نہیں کی جاتی۔ الٹا تنقید کرنے کا رواج ہے۔ کچھ صحافیوں کے تبصرے میری نگاہ سے گزرے کہ مریم نواز حکومت نے کوئی بڑا منصوبہ شروع نہیں کیا، اس کی توجہ چھوٹے چھوٹے منصوبوں پر ہے۔ یہ تبصرے مضحکہ خیز ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں مسلم لیگ (ن) کے سڑکوں، شاہراہوں، موٹرویز اور میٹروز وغیرہ جیسے بڑے منصوبوں پر اعتراض رہتا تھا۔ تنقید کی جاتی تھی کہ مسلم لیگ (ن) اپنے ووٹر کو خوش کرنے کے لئے ترقیاتی منصوبے بناتی ہے۔ کیوں کہ یہ سڑکیں۔ شاہراہیں عوام کو نظر آتی ہیں۔ یہ تنقید بھی ہوتی تھی کہ عوام کی زندگی میں تبدیلی لانے والے تعلیم، صحت وغیرہ کے منصوبے مسلم لیگ (ن) کی ترجیح نہیں ہیں۔ اب جب ہونہار اسکیم پروگرام کامیابی سے چل رہا ہے۔ جب کینسر کی ادویات مفت گھروں تک پہنچ رہی ہیں۔ جب دل اور کینسر کے ہسپتال بن رہے ہیں۔ جب غریب بچیوں کی شادیاں ہو رہی ہیں۔ مینارٹی کارڈ کے ذریعے اقلیتوں کی امداد ہو رہی ہے۔ بچوں کے دل کے آپریشن ہو رہے ہیں۔ ای۔ بائیکس اور ای۔ ٹیکسی اسکیم متعارف کروائی گئی ہیں، تو کہا جا رہا ہے کہ مریم نواز حکومت نے کسی فلیگ شپ منصوبے کی بنیاد نہیں رکھی ہے۔ ایسی تنقید کو کیا نام دیا جائے؟ برسبیل تذکرہ، اگلے دن وزیر اعلیٰ پنجاب بتا رہی تھیں کہ پنجاب میں سات سو سڑکیں بھی بن رہی ہیں۔
اس ضمن میں صوبائی وزارت اطلاعات نے ”وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی حکومت کے پہلے 365 دن“ کے عنوان سے ایک کتابچہ مرتب کیا ہے۔ اس کتابچے میں حکومت کی ایک سالہ کارگزاری کا تذکرہ ہے۔ چند دن پہلے وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری اور سیکرٹری اطلاعات طاہر رضا ہمدانی نے سینئر صحافیوں اور کالم نگاروں کے ساتھ ایک نشست کا اہتمام کیا۔ وزیر اطلاعات نے تفصیل کے ساتھ پنجاب حکومت کی ایک سالہ حکومتی کا کردگی بیان کی۔ ایک سینئر صحافی نے سوال کیا کہ جن نوے حکومتی منصوبوں کا آپ نے ذکر کیا ہے۔ ان میں سے کتنے منصوبے، اعلانات کے بجائے، واقعتاً گراؤنڈ پر موجود ہیں؟ عظمیٰ بخاری کہنے لگیں کہ ایک بھی منصوبہ ایسا نہیں ہے جو صرف اعلانات تک محدود ہے۔ انہوں نے کم و بیش دو درجن منصوبے انگلیوں پر گنوائے اور کہا کہ ان سمیت تمام منصوبے شروع ہو گئے ہیں۔
کہنے لگیں کہ وزیر اعلیٰ کے کام کا طریقہ ہے کہ کسی بھی اقدام یا پروگرام کا اعلان کرنے سے پہلے اس کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے، بجٹ یا فنڈز مختص کیے جاتے ہیں، اس کے بعد کسی منصوبے کا اعلان ہوتا ہے۔ کھانے کی میز پر کچھ سخت سوالات بھی ہوئے۔ عظمیٰ بخاری نے اپنے مخصوص انداز میں حکومتی موقف پیش کیا۔ تحریک انصاف پر کچھ تنقید بھی کی۔ عظمیٰ بخاری متحرک وزیر اطلاعات ہیں۔ وہ صحافیوں، فنکاروں اور دیگر سے رابطے بھی رکھتی ہیں۔ ان کے تحرک اور حکومتی کارکردگی کے باوجود، اس پہلو کو مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں کا کمزور پہلو ہی کہنا چاہیے کہ یہ اپنے بہت سے اچھے کاموں کی تشہیر موثر انداز میں نہیں کر پاتی ہے۔ لازم ہے کہ پنجاب حکومت اس پہلو پر بھی غور کرے۔


