آف لوڈنگ یا انتقامی کارروائی؟ اوورسیز پاکستانیوں کے ساتھ کھیل کیوں؟
پاکستانی ائر پورٹس پر نیا تماشا لگ گیا ہے۔ آف لوڈنگ کے نام پر عرب ممالک کے بعد اب یورپی ممالک جانے والے مسافروں کو بھی مشکوک ویزہ کا بہانہ بنا کر روکا جا رہا ہے۔ خاص طور پر عمر رسیدہ اور سادہ لوح لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مسافر لاکھوں روپے خرچ کر کے ٹکٹ خریدتے ہیں۔ لیکن ائر پورٹس پر انہیں مشتبہ یا مشکوک قرار دے کر پرواز سے روک دیا جاتا ہے۔ کچھ ایسے اوورسیز پاکستانی جو اسپین اور یونان میں قانونی طور پر مقیم ہیں اور رہائشی کارڈ کے حامل ہیں، واپسی پر یہ کہہ کر روکے جا رہے ہیں کہ ان کے پاسپورٹ بلاک ہیں۔ دعویٰ یہ کیا جا رہا ہے کہ وہ ماضی میں غیر قانونی طور پر یعنی ڈنکی لگا کر یورپ گئے تھے حالانکہ ان لوگوں کے پاس تمام دستاویزات موجود ہیں۔
اس حوالے سے نون لیگ کے کچھ لفافہ یوٹیوبرز اور وی لاگرز اس عمل کی باقاعدہ تعریف کرتے ہوئے یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ 2017 ء کے بعد یورپ غیر قانونی طور پر جانے والے 35 ہزار پاکستانیوں کے پاسپورٹ بلاک کر دیے گئے ہیں اس طرح کے پراپیگنڈے سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور لوگ اب پاکستان جانے سے کترانے لگے ہیں مبادا وہاں پھنس کر نہ رہ جائیں۔
گزشتہ چند ہفتوں میں آف لوڈنگ کے واقعات میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2025 میں کراچی ائرپورٹ پر روزانہ اوسطاً 40 مسافروں کو آف لوڈ کیا جا رہا ہے، جو ماہانہ تقریباً 1200 بنتے ہیں۔ اسی طرح ”سنگاپور، ترکیہ، یونان سمیت 13 ملکوں کے 36 مسافروں کو کراچی ائر پورٹ پر آف لوڈ کیا گیا۔ جن میں یونان کے رہائشی کارڈ کے حامل مسافر بھی شامل تھے اسی طرح ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایف آئی اے نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران صرف لاہور ائرپورٹ پر 2500 مسافروں کو جعلی، مشکوک یا نامکمل دستاویزات رکھنے کی وجہ سے آف لوڈ کیا، یہاں تک کہ اصل دستاویزات پر سفر کرنے والے کچھ مسافروں کو غیر قانونی تارکین وطن کے شبہے میں پرواز سے روک دیا گیا۔
بظاہر یہ خبریں آپ کو ایسی لگتی ہیں جس میں ایف آئی اے آپ کو غیر قانونی امیگریشن روکنے میں متحرک نظر آ رہی ہے اور متحرک ہونی بھی چاہیے کیونکہ یورپی ساحلوں پر کشتی حادثوں کے بعد حکومت نے سخت ایکشن لیا تھا اور ایف آئی اے کے اعلیٰ عہدیداران کو تبدیل بھی کیا تھا۔ لیکن شاید ایف آئی اے حکومتی اقدامات کا بدلہ ان بے چارے مزدور طبقے پر نکالنا چاہتی ہے۔ جو یونان اسیپن یا دیگر یورپی ممالک میں کئی سال مشکلات کی چکی پیسنے کے بعد اب رہائشی کارڈ لے کر سکھ کی سانس لینے ہی لگے تھے کہ یہ افتاد آن پڑی۔
پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں ہر بحران بدعنوانی کے نئے مواقع پیدا کرتا ہے۔ بیوروکریسی ہر ایشو پر کرپشن کے نئے نئے سنہری مواقع تلاش کر لیتی ہے۔ یہاں گیہوں کے ساتھ گھن پیسنے کا بڑا پرانا رواج ہے۔ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرنے کی بجائے پانی کو دودھ میں مکس کر کے اس پر خوب کمائی کی جاتی ہے۔ اس کیس میں بھی قانونی اور غیر قانونی افراد میں تفریق کے بجائے، تمام مسافروں کو شک کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ اس صورتحال میں رشوت خوری کا بازار گرم ہونے کا خدشہ بھی ہے۔
اگر حکومت نے واقعی ماضی میں کسی ڈنکی لگا کر یورپ آنے والوں کا پاسپورٹ بلاک کرنے کا کوئی فیصلہ کیا ہے تو اسے واضح کیا جانا چاہیے۔ کسی بھی شہری کا پاسپورٹ یا شناختی کارڈ بلاک کرنے سے قبل اسے نوٹس دینا اور اس کا موقف سننا ضروری ہوتا ہے، کیونکہ یہ اس کے بنیادی حقوق میں شامل ہے۔ دوسری جانب اگر اس قسم کی منفی خبریں محض افواہیں ہیں تو ان کو پھیلانے والوں کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت کارروائی ہونی چاہیے۔
اگر عرب ممالک جانے والے مسافروں کو مشکوک قرار دینے کے لئے متعلقہ حکومتوں نے کوئی درخواست دی تھی تو بھی وزٹ ویزہ پر جانے والوں کے لئے ایک واضح پالیسی ہونی چاہیے۔ اسی طرح اگر یونان یا دیگر یورپی ممالک میں پہلی دفعہ جانے والوں کو ان کی عمر اور رجحان کی بنیاد پر پرکھا جا رہا ہے تو ان لوگوں کو کیوں روکا جا رہا ہے جو پہلے سے ان ممالک کے رہائشی ہیں۔ اور جن لوگوں نے اپنے والدین کی امیگریشن کروائی ہے وہ کون سا خط آپ کو دکھائیں کہ آپ کو تشفی ہو جائے گی کہ وہ باقاعدہ فیملی ویزہ پر یورپ آرہے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کچھ لوگوں کو کسی ایک ائرپورٹ سے آف لوڈ کیا جاتا ہے تو یہ کسی دوسرے ائر پورٹ کی ٹکٹ کروا کر وہاں سے فلائی کر جاتے ہیں۔
ن لیگ کی حالیہ حکومت کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ سمندر پار مقیم تمام 11 ملین پاکستانیوں کو پی ٹی آئی کا حامی سمجھتی ہے اور ان کے خلاف کوئی بھی سخت کارروائی ہوتی ہے تو حکومتی وزراء سے لے کر مشیروں اور ان کے حامی صحافیوں تک حکومت کے حامی بن جاتے ہیں۔ حامی نہ بھی بنیں تو خاموشی ضرور اختیار کر لیتے ہیں۔ دل ہی دل میں انہیں ایک گونا مسرت ہوتی ہے کہ اچھا ہے ان کو رگڑا لگے۔
جون 2024 ء میں محسن نقوی صاحب نے تمام پاکستانی اسائیلم سیکرز کے پاسپورٹ بلاک کرنے کا اعلان کیا۔ کوئی قابل ذکر احتجاج نہیں ہوا۔ بعد میں حکومت کو وہ فیصلہ واپس لینا پڑا۔ نومبر 2024 ء میں ایک بار پھر محسن نقوی صاحب نے لندن میں سابق چیف جسٹس کی گاڑی کے پیچھے بھاگنے والوں کے پاسپورٹ بلاک کرنے کا اعلان کیا۔ حالانکہ اس پر عمل نہیں ہوا لیکن اس کے باوجود کوئی صحافی اس پر نہیں بولا۔ لیکن اب گزشتہ دو مہینے سے ایک اتنی بڑی زیادتی اوورسیز پاکستانیوں کے ساتھ ہو رہی ہے۔ انہیں ائرپورٹس پر حیلے بہانوں سے تنگ کیا جا رہا ہے۔ لیکن پاکستانی میڈیا پر مکمل خاموشی ہے۔ کوئی اس کا نوٹس نہیں لے رہا۔
میری حکومت پاکستان سے گزارش ہے کہ ائرپورٹس پر ہونے والی اس غیر ضروری سختی کا نوٹس لیا جائے۔ غیر قانونی امیگریشن کے خلاف کارروائی ضروری ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ قانونی طور پر مقیم افراد کو بھی مشکلات میں ڈال دیا جائے۔ بیرون ملک جا کر جرائم کرنے والوں کا راستہ ضرور روکا جانا چاہیے۔ والدین کے بغیر سفر کرنے والے اٹھارہ سال سے کم عمر کے ٹورسٹ کو بھی شک کی نظر سے ضرور دیکھا جانا چاہیے۔ مشتبہ پیشہ ور بھکاریوں کو بھی آف لوڈ کرنا چاہیے کہ یہ بیرون ملک جا کر ملک کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔ لیکن ایسے لوگ جو یورپی ممالک کے رہائشی کارڈ کے حامل ہیں اور کئی سال سے ان ممالک میں قانونی طور پر مقیم ہیں انہیں بے جا تنگ کرنا اور ان سے رشوت اینٹھنے کی کوشش کرنا انتہائی مکروہ عمل اور اختیارات کا ناجائز استعمال ہے۔
اوورسیز پاکستانی ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، انہیں بے جا پریشان کرنے کی بجائے حکومت کو ایسا نظام وضح کرنا چاہیے جو بدعنوانی اور رشوت کے مواقع فراہم نہ کرے اور قانونی طور پر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو مکمل تحفظ فراہم کرے۔



میں تو اس بات کہ ہی خلاف ہوں کہ راہ چلتے ہر شخص کو پاسپورٹ حاصل کرنے کی اجازت ہو۔
اگر کوئی شخص ٹیکس پیئر نہیں اور اس کی ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں بھی یہ موجود نہ ہو کہ وہ بیرون ملک سفر کے قابل ہے تو اسے پاسپورٹ نہیں ملنا چاہئے۔
اگر کوئی اپنی اولاد یا ماں باپ کو اسپانسر کرنا چاہتا ہے تو بنک اور ٹیکس اسٹیٹمنت کے ساتھ پاسپورٹ آفس جائے اور گارنٹی دے کہ بچہ یا بزرگ غیر ملک میں کسی غیرقانونی یا پاکستان بدنامی کا سبب نہیں بنیں گے اور بس !
حج اور عمرہ بھی ان لوگوں پر فرض ہے جو صاحب استطاعت ہوں اب جب ایک شخص ٹیکس پیئر ہی نہیں تو کیسا حج یا عمرہ۔
پھر بھی اگر کوئی شخص حج یا عمرہ کرنا چاہے تو اسے 500 روپے میں ایک صفحہ کا خصوصی پاسپورٹ جاری کردیں جو صرف ایک بار استعمال کا ہو اور زندگی میں دوبارہ جاری نہ ہو۔ یہ سسٹم پر آجائے۔ ایسے لوگوں کے پاسپورٹ کی مدت بھی ایک دو مہینے سے زیادہ نہ ہو۔ اس طرح تنکہ تنکہ جوڑنے والے صحیح اور بھیک مانگنے والے فراڈیئے الگ ہوجائیں گے۔ ان لوگوں کو بھی پاسپورٹ کسی اسپانسرکی گارنٹی پر دیا جائے۔ جو کوئی بھی ہوسکتا ہے۔
طالب علم ظاہر ہے غیرملکی داخلہ دکھائے گا اوروالدین یا بچوں کے پاس غیر ملک میں مقیم رشتے دار کے کوائف ہونگے جو وہ پاکستانی ایمبسی سے تصدیق کراکر کسی کمپیوٹر سسٹم کے ذریعہ وزارت داخلہ کو بھیج سکتے ہیں۔