ٹوٹے گھڑے کی ٹھیکریاں
پچاس کلو میٹر کی رفتار سے چلتے طوفانی جھکڑ اور شدید ہوتی جا رہی برف باری بالآخر اپنا رنگ جما چکے تھے۔ نقطہ انجماد سے نیچے درجہ حرارت کو ہوائی ٹھنڈک منفی پینتیس پہ لا چکی تھی۔ بہت عرصہ بعد پھر میں پنجابی کے بھولے بسرے زمانے کے لوک گیتوں کی البم آئی پیڈ پہ لگا اوپر کمرے کی کھڑکی سے برف کے تیز اڑتے گرتے موٹے موٹے گالے اور ان سے بنے ڈھیر دیکھ رہا تھا۔ پورا موسم بالکل معمولی برف باری کے بعد آج دو دنوں میں پچاس پچپن سنٹی میٹر برف باری کی پیشگوئی تھی۔
دائیں بائیں نظر دوڑاتے صبح کے اجالے میں شام کے اندھیرے کا سماں دیکھتے میری نظر سڑک پار چند فٹ اونچے بند کے آگے سیلابی پانی ذخیرہ کرتی بنائی گئی چھوٹی سی جھیل پہ جا ٹکی۔ موٹے موٹے برف کے گالے گرنے کے باوجود جھیل ٹھنڈ سے مکمل منجمد ہوکے نیلے رنگ کے شیشے کی طرح چمک رہی تھی۔ درختوں کے بغیر پتوں کی ٹہنیوں اور جھیل کے گردا گرد پت جھڑ کے بعد خشک ٹوٹی سرکنڈوں اور خود رو پھولوں اور جھاڑیوں نے مانو برف کے سفید گالوں کے لحاف اوڑھ لئے تھے۔ اور ان کے گرد بنی چوڑی سی سیر کرنے اور سائیکلنگ کے لئے بنائی پگڈنڈی جو اچھے موسم میں میری روز کی سیر گاہ ہے۔ یہاں تقریباً قدرتی ماحول میں کھلتے پھول پتیاں اور آبی حیات کی افزائش اور رہائش کے لئے لگی ان جھاڑیوں پودوں کے رنگا رنگ پھول پتے اور تیرتے اڑتے پرندے سیر کے لطف کو دوبالا کرتے ہیں۔
آئی پیڈ سے ”گھڑا میں تیرا بھن دیاں لج کراں ٹٹ چار“ کی لے گونجی۔ مانو جیسے گھڑا ٹوٹنے کی آواز آئی ہو اور مجھے چاروں طرف ٹوٹے گھڑے کی ٹھیکریاں بکھری نظر آ رہی ہوں۔ یک دم جی چاہا کہ ان ٹھیکریوں کو اٹھا باہر منجمد جھیل کنارے جا پہنچوں اور انتہائی بچپن کا سب سے پہلے سیکھے فن کی مہارت استعمال کرتے ٹھیکری کو برف کے اوپر اچھلتے تیرتے دور تک جاتے دیکھوں۔ اس منجمد برف پر تو یہ بہت دور تک ناچتی جائے۔ چونکا تو نہ ٹوٹا گھڑا تھا نہ ٹھیکریاں۔
اور پھر باہر جھانکا تو یاد آیا کہ اب تم پنڈی بھٹیاں کے قصبہ کے باہر بنی ڈھاب کنارے کھڑے اپنے ماموں زاد محمد اصغر منشاء سے ٹھیکریاں پانی میں تیرانا سیکھنے والے سات آٹھ سالہ بچے نہیں۔ اب تو تم میں اتنا بھی دم نہیں کہ بارہ پندرہ سنٹی گریڈ سے کم درجۂ حرارت میں باہر چند منٹ بھی چل سکو۔ اب تیرے بازو زور لگا کر ٹھیکری پھینک بھی دیں تو دل ناداں کی دھڑکن بول اٹھے گی۔ ”چل بھاگ مسافر بستر کو، ترا دم ہی نکل نہ جائے“ اپنے جھریوں بھرے ہاتھوں پہ نظر پڑی۔ ہنسی نکلی اور توجہ مزید حسین اور دل موہتے برف باری کے کھیل میں کھو گئی۔
ٹھیکریوں کا یہ کھیل بچپن سے جوانی تک گھٹا برسنے سے اکٹھے ہوئے گلی میں کھڑے یا سیلاب کے پانی سے بھرے گڑھوں یا پھر دوستوں اور خاندان کی پکنک مناتے نہروں دریاؤں کنارے چلتا رہا۔ دریائے چناب چنیوٹ پل کے پاس مندر کی دریا میں اترتی سیڑھیوں پر پانی میں کھڑے ہو سہ پہر کی دھوپ سے سنہری چمکتی لہروں کے اوپر سے اچھلتی جاتی ٹھیکریوں کا نظارہ عجب ہوتا۔ بچپن بیتا اور بھانجوں بھتیجوں سے گزرتے اپنے بچوں کے ساتھ ایسے کھیل کی باری آ گئی۔ کوچنگ بھی کرتے اور باریاں بھی لیتے۔ باغ باغیچوں سمندر ساحل کی ریت پہ سیر کرتے ٹھیکریاں اور گیند ساتھ ہوتے اور بچے بڑے مل کے پٹھو گرم بھی کھیلتے۔ نا ہموار ٹھیکریوں کو گیند لگنے سے پہلے ترتیب دے کھڑا کرنے کے ساتھ گیند کے ٹکرانے سے بچ جانے کا ہنر کتنا مشکل ہوتا ہے، ساری زندگی سامنے آتا رہا۔
اب قسمت اور نصیب دور دراز پھینکنے لگے۔ بیالیس برس قبل نیو جرسی کے میز بان واٹر پارک لے گئے تو واٹر سکیڈو ( سکی ڈُو یا سی ڈُو) کے سٹیئرنگ پہ جا بیٹھے۔ ذرا تیز کیا تو وہ بار بار مینڈک کی طرح اچھلتا اور چھلانگ لگا پھر پانی پہ جا ٹکتا۔ گویا اب ہم بھی ٹوٹے گھڑے کی پانی پہ پھسلتی اڑتی ٹھیکری پہ سوار ہیں۔
کینیڈا کی وسیع جھیل ہیورون میں ٹوبر موری سے جزیرہ فلاور پوٹ ( گُلدان ) جاتے اور شفاف پانی میں ڈوبے صدیوں پرانے جہاز کشتیاں دکھانے والی اور جھیل پروڈن میں سیر کراتی صدیوں پرانی بالکل سیف الملوک اور پری شہزادی جس کہانی والے سپرٹ آئی لینڈ ( روحوں کا جزیرہ ) دکھانے جاتی آتی سپیڈ بوٹ بھی تیز رفتار میں پانی سے اٹھتی چھلانگ مار پھر آ ٹکتی چھینٹیں اڑاتی ٹھیکریوں کے کھیل کی یاد دلاتی رہی۔ کینیڈا کے تالاب جھیلیں ندیاں آنکھوں کی ٹھنڈک بنیں تو ٹھیکریوں کا متبادل کبھی کبھی خصوصاً پہاڑی علاقوں میں کنارے پڑے پتھروں کی کچھ ہموار کنکریاں بنیں۔
اب پٹھو گرم کے لئے ٹھیکریوں کی بجائے لکڑی کے ٹکڑے رکھے جاتے ہیں۔ مگر ٹوٹی پھوٹی ناہموار ٹھیکریوں کے استوار کرنے کا سواد اور سبق کچھ مختلف تھا۔ اب بھی باغوں میں یا جھیل کنارے پکنک کے موقعہ پر تفریح کا ذریعہ پٹھو گرم بنتا ہے۔ دور دیس کے باسی دلچسپی سے دیکھتے اور بعض اوقات تفصیل پوچھی جاتی ہے اور ان کے بچے ساتھ شامل ہو جاتے ہیں۔ ہم تو اب تماشائی یا کوچ کا فرض ادا کرتے ہیں۔
ٹھیکریوں کے کھیل کھیلتے ایک اور کہانی جھلک دکھا گئی۔ وہ ٹھیکری پہرہ تھا۔ پہلے سنا ہی تھا کہ خود حفاظتی پہرہ کو ٹھیکری پہرہ کہتے ہیں۔ مگر ٹھیکری پہرہ کا لقب کیوں ملا اس کا پتہ نہیں۔ جب ساٹھ کی دہائی میں پیپلز کالونی، بی بلاک، فیصل آباد میں چوروں ڈاکؤوں کا راج ہوا تو محلہ کے بزرگوں کا اکٹھ ہوا۔ ”یا شیخ اپنا دیکھ“ نتیجہ آیا تو تمام گھروں کے چھوکروں جوانوں کو بلوا ان کے گروپ بنائے گئے اور ڈنڈے لاٹھیوں والی سرکار بنا ہر گروپ کی ہفتہ میں دو بار عشاء کے بعد سے فجر کی اذان تک گلیوں میں گھومتے پہرہ دینے کی ڈیوٹی لگائی گئی۔
یہ بھی عجب رنگ کی رنگین راتیں تھیں۔ دو یا تین کی ٹولی مختلف گلیوں کے چکر لگاتی۔ زور سے لاٹھی سڑک پہ بجائی جاتی۔ چوکیداروں کے مخصوص نعروں کو نمک مرچ لگا ہونکے لگائے جاتے۔ ایک سے بڑھ ایک لطیفہ چلتا، گانے گائے جاتے۔ دوستیاں بنتیں۔ آتے جاتے لوگوں کو روک تسلی کی جاتی۔ زمانہ صرف سائیکل یا کبھی کبھار تانگہ سوار کا تھا۔ تشفی کے بعد جانے دیا جاتا۔ ایک بہت گرم رات پیاس بہت لگی اور سامنے بند جنرل سٹور کے باہر لکڑی سے بنا صندوق نما کولر نظر آیا۔ ٹولی کے قائد نے نعرہ لگایا کہ ایک چوری تو ہمارے ہوتے ہونی چاہیے اس کا کنڈا توڑا اور سب کو برف کے ٹکڑوں میں دبی کوکا کولا نکال پلائی۔ اگلے دن پتہ چلا کہ جنرل سٹور اس کے کزن کا ہی تھا اور چور قیمت دے آیا تھا۔ یہ ٹھیکری پہرہ تین چار ہفتہ ہی چلا۔
زمانہ کروٹیں لیتا آگے نکل چکا۔ نئی نسلوں کو ٹھیکری یا ببری کا پتہ ہی نہیں۔ لڑکیوں کے ٹھیکریوں کے اپنے کھیل ہوا کرتے۔ اب سب کی ہتھیلیوں میں ٹھیکریوں کی نئی نسل موبائل فون ہوتا اور دونوں ہاتھوں کی انگلیاں اس پہ ٹک ٹک کرنے میں مصروف ہو چکیں۔
البتہ زمانہ پھر پلٹتا نظر آ رہا ہے مٹی کی ہانڈی اور گھڑے دکانوں اور ریسٹورنٹس میں نظر آنا شروع ہیں۔ ہانڈی کے لاحقہ والے نام کے بڑھتے جاتے ریسٹورنٹ رانگلے پیڑھوں اور پرانے کلچر دکھاتی سجاوٹ لئے ابھر رہے ہیں۔ یہاں ہانڈیوں مٹکوں میں ہی پکایا اور چھوٹی ہانڈیوں میں پیش کیا جاتا ہے۔ یوٹیوب پہ مٹکے میں بنے چنیوٹی کنؔے اور مٹی کی ہانڈی میں بنے کھانے کا پرانا سواد لاتے کھانے اور دوسری ڈشیں بنانے کی ترکیبیں بتانے والی ویڈیوز کا راج ہے، مزا آیا دیکھ کے کہ مٹی کی درمیانے سائز کی ہانڈی کی قیمت دیسی دکان پہ پینتالیس ڈالر لگی تھی اور ساتھ ہی جرمنی کی بہت معروف کمپنی کی اعلیٰ کوالٹی ڈبل پیندے کا دگنے سائز کا ڈھکن سمیت پکانے والا دیگچہ تینتیس ڈالر کا سٹکر لگا پڑا تھا۔
مٹی کے برتنوں کا راج نئے نئے سٹائل اور ذائقہ والی مٹکا چائے خانوں میں بھی ہے۔ ٹھوٹھی میں کھیر اور فیرنی اور کُجؔے میں چائے۔ ڈسپوز ایبل کراکری جو گھر کی سجاوٹ بنی بھی دیکھی۔ ہمارے ہمسائے سکھ دوستوں کے گھروں میں دہی سے لسؔی بنانے کے لئے چاٹی آ چکی۔ بس مدھانی الیکٹرک ہے اور شاید چمڑے کی تانت لپٹی مدھانی کا دور تو نہ آ سکے۔
کبھی کبھی جی چاہتا ہے کسی سکھ گھرانے کے گھر یا ہانڈی ریسٹورنٹ کے باہر ٹوٹی چاٹی یا پانی پینے والے سادہ گھڑے کی ٹھیکریاں پڑی نظر آئیں تو انہیں مانگ سنبھال لوں۔ اور اب پوتوں نواسوں کے ساتھ برف باری میں منجمد جھیل کی نیلی چمکتی سطح پر تیرتی اچھلتی پھسلتی جاتی ٹھیکریوں کا نظارہ پھر ٹھنڈ ڈالنے سامنے آ کھڑا ہو۔
ورنہ یوٹیوب پہ دیہات کے دور دیس جا بسے بچوں کی یاد، یا زمانے کے ستائے بوڑھوں کے نوحے ”ٹھیکری ٹھیکری ہو گئے آں“ کا درد سناتے ٹھیکری کے یہ جدید معانی بن اداس تو کرتے رہتے ہیں۔


