ہو سکے تو میرا ایک کام کرو، کوئی تو شاہراہ میرے نام کرو
خیر ہم نے بھی قسم اٹھا رکھی ہے کہ بندے کے بچے نہیں بنیں گے، ایک دوسرے کو تُن کے رکھو، برسوں سے ایک ہی روایت چلتی آ رہی ہے اور ذرا بھی اس روایت میں فرق نہیں پڑا اور کیوں پڑے جب ہم یہ چاہتے ہی نہیں کہ فرق پڑے، آپ نے دیکھا ہو گا کہ تازہ بہ تازہ سڑک تعمیر ہوئی خواہ وہ گلی محلے کی ہو یا پھر مین شاہراہ اس کی افتتاحی تقریب کے فوری بعد ، چلیں یوں کہہ لیتے ہیں کچھ دن بعد اس سڑک کی ایسی کی تیسی پھیر دیں گے کیوں کہ ہمیں یاد آیا ہم نے تو گیس کے لیے لائن ڈالنی تھی، یہ ڈل چکنے کے بعد پھر سڑک کی تعمیر ہوئی پھر یاد آیا کہ پانی کے لیے لائن ڈالنی تھی، اس کے ڈل چکنے کے بعد سڑک تعمیر ہوئی پھر یاد آیا کہ ابھی تو فائبر لائن ڈالنی باقی ہے اور یہ سلسلہ ہمارے یہاں نا تھمنے والے معاملے کی طرح جاری و ساری رہتا ہے ”مال مفت دلِ بے رحم، اللہ اللہ خیر صلا“۔ ہمیں بھی کوئی فرق نہیں پڑتا کیوں کہ ہم اس قوم کے باشندے ہیں اگر لائٹ چلی جائے تو شکایت درج کروانے کی بجائے یہ کہتے ہیں سبھی کی گئی ہے، دوسروں کی آ گئی تو ہماری بھی آ جائے گی مطلب ہم اپنے مال کو اپنا مال تصور ہی نہیں کرتے نا اپنے حق کو حق سمجھتے ہیں، فرض اور ذمہ داری کو تو رہنے ہی دیجئے۔
تازہ بہ تازہ تعمیر شدہ سڑک پر آپ نے دیکھا ہو گا کے دور تک جاتی ہوئی چند گہری لائنیں پڑی ہوتی ہیں جیسے کسی نے پانی کے خروج کے لیے نالی بنا دی ہو پتہ ہے کیا ہوتا ہے، ہوتا یہ ہے کہ کوئی نا کوئی رکشہ لوڈر کوئی نا کوئی گدھا گاڑی چھکڑے والا، ٹریکٹر ٹرالی ولا یہ نالیاں بنا کر جاتا ہے اس نے اپنی اوقات سے زائد سریا، لوہے کے راڈ بڑے گارڈر جو ٹرالی چھکڑے لوڈر سے باہر سڑک سے لٹکتے سڑک پر گھسیٹتے ہوئے چلے جاتے ہیں بعض اوقات آپ نے کسی موٹر سائیکل والے کو بہت لمبی سیڑھی لے جاتے دیکھا ہو گا گھسیٹتے ہوئے ایسے ہی وہ بھی بالکل دفتری اور سکول اوقات میں جا رہے ہوتے ہیں اور عمومی طور پر آپ ان مال بردار گاڑیوں کو بیچ سڑک دھرنا دیے بھی دیکھتے ہوں گے جس کی وجہ ان کی اوقات سے زائد وزن ہوتا ہے، اس باعث ان کے ٹائر پنکچر، ٹائی راڈ کا ٹوٹ جانا، انجن کا خراب ہوجانا ہوتا ہے اور پھر لمبی لائنیں، اس وجہ سے حادثات کا ہو جانا کوئی بڑی بات نہیں ایسا ہوتا رہتا ہے۔ ایسے اوقات میں شہر میں گلی محلوں میں داخلے پر انہیں بالکل حیا، شرم نہیں محسوس ہوتی کیونکہ وہ اسے اپنا حق سمجھ کر یہ عمل کر رہے ہوتے ہیں بالکل ہم ان کے اس حق سے منکر نہیں ہیں مگر اپنے اوقاتِ کار کو ملحوظ رکھیں پتہ نہیں وہ کچھ متعین ہیں کہ نہیں، اس بارے میں مجھے علم نہیں البتہ سکول اور دفتری اوقات میں اس حرکت اس عمل کا جو ثواب انہیں ملتا ہے واللہ اس کا اندازہ نہیں ہم لوگ لگا سکتے، اور پوچھنے پکڑنے والے تو ایسے موقعوں کی تلاش میں ہوتے ہیں کہ اللہ کرے ایسا ہو اور دیہاڑی لگے اور خوب لگاتے ہیں، اس وجہ سے یہ عمل بار بار ہوتا چلا جاتا ہے کیونکہ فوری اور دستی انصاف نا تھانے کا رولا نا کچہری کے چکر اللہ اللہ خیر صلا۔
اسی دوران میں ایک اور عمل جو حکومتی ادارے ادا کر رہے ہوتے ہیں خیر یہ تو اپنے فرائض اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ براں ہو رہے ہوتے ہیں کہیں یہ کارِ سرکار میں مداخلت تصور نا ہو بس ان متعلقہ اداروں سے دست بستہ ہو کر قارئین و صارفین سے عرض کرتا چلوں کہ صحیح ان اوقات میں جب ہم اپنے فرائضِ منصبی کی ادائیگی کے لیے صبح میں نکلتے ہیں تو سڑکوں کی صفائی دھلائی والی بسیں اور ٹرک بھی اپنے کام میں مشغول پاتے ہیں اور بڑی مسرت ہوتی ہے کہ کس قدر جاں فشانی سے ذمہ داریوں سے نبرد آزما ہو رہے ہیں خواہ اس دوران میں باقی ماندہ ٹریفک پیں پیں پاں پاں پوں پوں ہو جائے آپ جناب خراماں خراماں سگریٹ کے دھوئیں کو ٹرک کے دھوئیں اور دھول میں شامل کیے جاتے ہیں، بعض اوقات ایک ایسا کوڑے سے بھرپور ٹرک جس میں سے گندا بلکہ شدید متعفن گندا رستا پانی سڑک کی صفائی کو چار چاند لگاتے ہوئے کوڑے کی گٹھڑیاں سڑک پر گراتے ہوئے چھوڑتے کالے دھوئیں کے ساتھ ہولے ہولے فتح مندانہ بے نیازی کے ساتھ جاتے ہوئے فضاؤں کو شدید معطر کیے جا رہا ہوتا ہے، اس باعث عمومی طور پر لوگوں کو قے کرتے اور بے ہوش ہوتے بھی دیکھا گیا ہے۔
موجودہ وزیر اعظم جب وزیر اعلیٰ ہوا کرتے تھے تو یہ کام عام طور پر رات گئے یعنی بارہ کے بعد یا پھر علی الصبح طے ہوتے تھے، اب کے دفتری اوقات میں ہی سبھی کام ہو رہے ہیں ( شاید موجودہ حکومت کے ذہن میں یہ بات ہو کہ پنجابی اکھان ہے ستے بچے دا منہ چمنا نا پیو دے سر دین نا ماؤ دے سر دین مطلب سوئے ہوئے بچے کو پیار کرنا اس کے ماں باپ پر کوئی احسان والی بات نہیں ہے یا یوں سمجھئے جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا) جیسے پھول بوٹے لگانے والے اپنی ٹریکٹر ٹرالی سمیت شاہراؤں کے بیچ و بیچ بنے سبزہ زار کی تزئین و آرائش کرتے پائے جاتے ہیں اور ملازمین سڑک پر ایسے برا جمان ہوتے ہیں جیسے چوہدری صاحب اپنے ڈیرے پر براجمان بوئے مزارعوں پر رعب شعب ڈال رہے ہوتے ہیں بین ایسے ہی پھول بوٹوں کی آرائش والے ملازمین سڑک پر سے گزرنے والوں کو گھور رہے ہوتے ہیں اور اپنے ساز و سامان سمیت آدھی سے زائد شاہراہ کو بند کیے اپنے فرائض ادا کر رہے ہوتے ہیں اسی وقت میں روزانہ کی بنیاد پر پانی والے ٹینکر سڑک کناروں اور ان سبزہ زاروں کو پانی سے نہلا دھلا رہے ہوتے ہیں۔
ہم اپنے آپ کو ملعون مطعون کیے ہولے ہولے نکل لیتے ہیں تاکہ ہم بھی ملکی خدمت جیسے اہم امور میں اپنا کردار نبھا سکیں تاکہ وطن عزیز کی ترقی کی تاریخ میں ہمارا نام بھی درج ہو سکے اور ہمارے نام سے بھی کوئی شاہراہ نکالی جا سکے جس پر اسی طرح شد و مد سے لوگ اور ادارے مصروفِ کار ملیں اور ہمارے نام سے منسوب شاہراہ پر اللہ نا کرے کوئی ایمبولینس خراب ہو جائے یا پھر ان رکاوٹوں سے بھر پور کاموں میں پھنس جائے۔ خواہ اس پر ہمارے بھائی بند بے دردی سے اکھاڑ پچھاڑ کرتے رہیں نالیاں نالے بناتے رہیں تا کہ ترقی ہوتی دکھائی تو دے۔


