آؤ محُبت کریں!


تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو محبت اور شادی کا تصور ہر زمانے اور معاشرے میں بدلتا رہا ہے۔ قدیم معاشروں میں شادی عمومی طور پر ایک سماجی معاہدہ تھا جس کا مقصد خاندان کی بقا اور معاشی استحکام ہوتا تھا۔ رومانوی محبت کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی تھی بلکہ رشتوں میں فرض، ذمہ داری اور خاندانی روایات کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ قرونِ وسطیٰ اور روایتی معاشروں کی لوک کہانیوں میں عشق ضرور ملتا ہے (ہیراں جھا اور سسی پنوں جیسے قصے ) ، لیکن یہ داستانیں بھی افسانوی انداز میں محبت کی راہ میں سماجی رکاوٹوں اور المیوں کی نشاندہی کرتی تھیں۔ پھر بیسویں صدی کی فلموں اور ناولوں نے عشق کو ایک رومانوی آئیڈیل کے طور پر پیش کرنا شروع کیا جس میں محبت ہر مسئلے کا حل بن کر ابھری۔ یوں ہر گزرتے دور کے ساتھ محبت اور ازدواجی رشتوں کا مفہوم عملیت پسندی سے ہٹ کر رومانویت کی طرف مائل ہوتا گیا ہے۔

آج الیکٹرانک اور سوشل میڈیا نے محبت کو ایک رنگین سراب میں تبدیل کر دیا ہے۔ ٹی وی ڈراموں، فلموں اور انسٹاگرام کی چکاچوند میں شادی شدہ زندگی کو ایسے پیش کیا جاتا ہے جیسے ہر لمحہ شاعرانہ عشق کا منظر ہو۔ اگر واقعی ازدواجی زندگی کا احتساب ان ”مثالی“ رومانوی پیمانوں پر کیا جائے جو ڈراموں اور فلموں نے قائم کیے ہیں، تو شاید 90 فیصد شوہر حضرات سالگرہ کی تاریخ بھول جانے یا روزانہ دل والے ایموجی نہ بھیجنے کے جرم میں حوالات کی ہوا کھا رہے ہوں۔

مارننگ شوز اور ٹاک شوز پر کہانیاں چلتی ہیں کہ ”شادی کے بعد شوہر اتنا غیر رومانوی کیسے ہو سکتا ہے کہ اپنی بیوی یا اپنی شادی کی سالگرہ کا دن ہی بھول جائے؟ کیا وہ ڈرامے نہیں دیکھتے کہ ایک اچھا شوہر محبت کا اظہار کیسے کرتا ہے؟“ سوشل میڈیا پر لمحوں میں وائرل ہونے والی پوسٹس یہ سبق دیتی ہیں کہ اگر شوہر نے سرِ عام اہلیہ کو پھول پیش نہیں کیے، یا بیوی نے سالگرہ پر کیک کے ساتھ تصویر شیئر نہیں کی، تو ان کی محبت مشکوک ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ جدید دور کی محبت ایک اسکرپٹڈ فلم بن چکی ہے جس میں معمولی سی کوتاہی پر ایسا ڈرامائی طوفان کھڑا ہو جاتا ہے گویا رشتہ ٹوٹنے کو ہے۔

ان غیر حقیقی رومانوی معیارات نے ہمارے اذہان میں محبت کے پیمانے اتنے بلند اور ناقابلِ حصول بنا دیے ہیں کہ حقیقی زندگی کی چھوٹی خوشیاں اور معمولی قربانیاں بے وقعت لگنے لگی ہیں۔

پرانے زمانے کی فلموں میں دکھایا جاتا تھا کہ ایک سحر انگیز وائلن کی دھن اور چاندنی رات کا رقص ازدواجی زندگی کو خوشگوار رکھنے کے لیے کافی ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ حقیقی زندگی میں بھی لوگ ہر دم ویسا ہی جادوئی لمحہ تلاش کرتے رہتے ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ بلیک ایند وائٹ فلموں میں ہیرو اور ہیروئن بھرے بازار یا ریل گاڑی کے اسٹیشن پر ایک نظر میں عمر بھر کا ساتھ تلاش کر لیتے تھے۔ پیغام بہت واضح تھا: بس کسی اتفاقیہ ملاقات میں سچی محبت تلاش کرو، پہلی نظر میں فریفتہ ہو جاؤ اور یوں ہنسی خوشی رہو۔

ان کہانیوں میں نہ بجلی کا بل تھا نہ دفتر کے اوقات، نہ گھر کے کام نہ سسرالی مشورے۔ مگر حقیقت میں شادی کا سفر ایسے حسین مناظر سے کہیں زیادہ کٹھن اور عملی معاملات سے جُڑا ہوتا ہے۔ ہر ماہ کے بل، بچوں کی ذمہ داریاں، ساس سسر کی نوک جھونک اور سودا سلف لانا، یہ سب وہ حقیقتیں ہیں جو فلمی رومانس میں نظر نہیں آ پاتیں۔

میڈیا نے محبت کو اس قدر مصنوعی جذباتی نمائش تک محدود کر دیا ہے کہ اب بہت سے لوگوں کے نزدیک محبت کا مطلب صرف دلکش الفاظ کہنا، سوشل میڈیا پر تصاویر ڈالنا یا مہنگے تحائف دینا رہ گیا ہے۔ فلموں اور ڈراموں میں ہر محبت کرنے والا جوڑا ایک نہ ختم ہونے والے جذباتی طوفان میں گھِرا دکھائی دیتا ہے جہاں ہر منظر آنسوؤں اور قسموں سے لبریز ہے۔ ہمارے بعض ڈراموں میں تو اتنے آنسو بہائے جاتے ہیں کہ شاید ملک کا پانی کا بحران بھی حل ہو جائے۔ یوں لگتا ہے کہ اگر زندگی میں روزانہ کسی فلمی سین جتنی شدت نہیں تو وہ محبت ہی نہیں!

مثال کے طور پر، مقبول ڈرامہ ”میرے پاس تم ہو“ میں مرکزی کردار عشق کو یوں پیش کرتا ہے جیسے یہ باقاعدہ ایک مذہب ہو جس میں محبوب کو خدا کا درجہ حاصل ہو۔ ہیرو (دانش) اپنی بیوی کو کائنات کا محور بنا کر رکھتا ہے، اس کی خوشی کی خاطر اپنی ہر خواہش قربان کرتا ہے۔ جب بیوی بے وفائی کرتی ہے تو وہ شکست خوردہ عاشق کی طرح اپنا دکھڑا پوری دنیا کے سامنے روتا ہے۔ ٹی وی ڈراموں نے اس طرح کے رویوں کو ”سچی محبت“ کا لقب دے کر درحقیقت بیمار جذباتیت اور حسد پر مبنی ملکیت کو فروغ دیا ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ ہم ان کرداروں کی اندھی تقلید کرتے ہیں اور پھر حیران ہوتے ہیں کہ ہماری حقیقی شادی شدہ زندگی اس قدر غیر مستحکم کیوں ہے۔

اس نمائشی محبت کا ایک بڑا نقصان یہ ہے کہ یہ توقعات کا ایک نہ ختم ہونے والا بوجھ پیدا کرتی ہے۔ جب ہر طرف یہ دکھایا جائے کہ سچا عاشق وہ ہے جو محبوب کی ہر خوشی کے لیے پہاڑ تک ہلا دے، تو عام انسان جو روزمرہ مسائل میں گھرے ہیں وہ اس مقابلے میں خود کو کمتر سمجھنے لگتے ہیں۔ شوہر سوچتا ہے شاید وہ ناکام ہے کیونکہ وہ ہر روز فلمی انداز میں اظہارِ عشق نہیں کر پاتا۔ بیوی کو اندیشہ ہوتا ہے کہ اس کا شریکِ حیات شاید محبت نہیں کرتا کیونکہ وہ سوشل میڈیا پر اس کے لئے محبت بھرے پیغام پوسٹ نہیں کرتا۔ یوں حقیقی رشتوں میں اطمینان اور شکرگزاری کی جگہ شکایت اور احساسِ محرومی نے لے لی ہے۔ محبت جیسے گہرے جذبے کو صرف میٹھی باتوں اور دلکش تحائف تک محدود کر دینا بالآخر رشتے کی جڑوں کو کمزور کر دیتا ہے کیونکہ حقیقی زندگی میں صرف ظاہری محبت کام نہیں آتی، وہاں کردار کی مضبوطی، وفا اور تحمل درکار ہوتا ہے۔

میڈیا کے اس رومانوی سراب کے معاشرے پر دُور رس منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ مثالی محبت کے اس تماشے نے ازدواجی رشتوں میں عدم استحکام کو ہوا دی ہے۔ آج طلاق کی شرح میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ حال ہی میں پنجاب کی عدالتوں کے ایک جائزے میں یہ انکشاف ہوا کہ بڑے شہروں (لاہور، کراچی، راولپنڈی وغیرہ) میں گزشتہ پانچ سالوں میں طلاق کے کیسز میں 35 ٪ تک اضافہ ہوا۔ تجزیے سے معلوم ہوا کہ ان میں سے کئی جوڑوں نے علیحدگی کی وجہ ”غیر حقیقی توقعات“ کو قرار دیا۔

جب لوگ عملی زندگی کے تقاضوں کو نبھانے کے بجائے ڈرامائی عشق کے خواب آنکھوں میں بسائیں گے تو یقیناً مایوسی اور ناکامی ہی ہاتھ آئے گی۔ چھوٹی چھوٹی باتیں جن پر کبھی صرف خفگی ظاہر کی جاتی تھی، اب رشتے توڑنے تک نوبت پہنچ جاتی ہے کیونکہ ذہنوں میں میڈیا کا اسکرپٹ چل رہا ہوتا ہے کہ معافی مانگنے کا بھی ایک فلمی انداز ہو یا ہر جھگڑے کا اختتام کسی جذباتی منظر پر ہو۔

ان غیر حقیقی تصورات نے لوگوں میں نفسیاتی اضطراب بھی بڑھا دیا ہے۔ ہر وقت جلنے کڑھنے والے ڈرامائی کرداروں کو دیکھ دیکھ کر ہمارے معاشرے میں حسد اور بے اعتمادی کو جیسے محبت کا لازمی جز بنا دیا گیا ہے۔ بہت سے نوجوان سمجھتے ہیں کہ جب تک محبت میں پاگل پن اور شدت نہ ہو، تب تک وہ سچی نہیں۔ اسی لیے کچھ جوڑے ایک دوسرے کو جان بوجھ کر حسد میں مبتلا کرتے ہیں تاکہ اپنی محبت کا ”امتحان“ لے سکیں۔ ماہرینِ نفسیات کے پاس ایسے کیسز کی بھرمار ہو گئی ہے جہاں میاں بیوی یا محبت کرنے والے جوڑے بے جا شک اور حسد کے باعث ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔

تعلقات میں یہ بے چینی اور غیر یقینی کیفیت گویا ایک خودساختہ طوفان ہے جو ہم نے اپنی غیر حقیقی توقعات سے برپا کیا ہے۔ بھئی جب محبت کو محض ایک تفریحی شے بنا کر پیش کیا جائے تو جذباتی استحصال کے مواقع بھی بڑھ جاتے ہیں۔ کچھ لوگ فلمی انداز میں محبت جتا کر دوسروں کو اپنے جال میں پھنساتے ہیں اور پھر ان کی کمزوریوں کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اس طرح کے واقعات سے معاشرے میں اعتماد کا بحران پیدا ہو رہا ہے جس سے ہر شخص خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگا ہے۔

میڈیا کی پھیلائی ہوئی محبت کی اس خیالی دنیا کے دیرپا اثرات نہایت سنگین ہیں۔ سب سے پہلا نقصان تو یہی ہے کہ لوگ حقیقی خوشیوں سے ناآشنا ہوتے جا رہے ہیں۔ جب تک زندگی کسی رومانوی فلم کی طرح رنگین اور سنسنی خیز نہ ہو، ہمیں لگتا ہے کہ ہماری محبت ادھوری ہے۔ اس سوچ نے ایک پوری نسل کو بے اطمینانی اور بے چینی میں مبتلا کر دیا ہے۔ بہت سے شادی شدہ جوڑے جو حقیقت میں ایک اچھی زندگی گزار رہے ہوتے ہیں، صرف اس لیے ناخوش رہتے ہیں کہ ان کے جیون ساتھی نے کسی خاص موقع پر ویسا تاثر نہیں دیا جیسا ٹی وی ڈراموں کے ہیرو دیتے ہیں۔ یوں خوش گوار زندگیاں بھی عدم اطمینان کی نذر ہو رہی ہیں۔

دوسرا بڑا نقصان خاندانی نظام کی شکست و ریخت کی صورت میں نظر آتا ہے۔ جب طلاق اور علیحدگی کے واقعات بڑھتے ہیں تو اس کا اثر صرف میاں بیوی تک محدود نہیں رہتا بلکہ بچوں، خاندانوں اور پورے معاشرے پر پڑتا ہے۔ عدم استحکام کے اس ماحول میں بچوں کی پرورش مشکل ہوتی جا رہی ہے اور نئی نسل کے لیے شادی اور محبت جیسے ادارے ایک مایوس کن تجربہ بنتے جا رہے ہیں۔

اس پر طرّہ یہ کہ ہم نے رومانوی قصوں کے زیرِ اثر یہ فرض کر لیا ہے کہ دنیا میں ہر شخص کے لیے کوئی نہ کوئی ”سچا پیار“ مقرر ہے۔ اس سے بے وفائی جنم لے رہی ہے کیونکہ جیسے ہی موجودہ ساتھی میں کوئی کمی محسوس ہوتی ہے، لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید ان کا ”اصل ہمسفر“ کوئی اور ہے اور یوں نئے جیون ساتھی کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں۔ یہ رویہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے آن لائن ٹیکسی سروس میں کم درجہ بندی والے ڈرائیور کو چھوڑ کر فوراً دوسرا ڈرائیور بُلا لیا جائے۔

ہمارے بزرگوں کی شادیاں جہاں بڑی بڑی آزمائشوں (غربت، تقسیمِ ہند کے حالات وغیرہ) کا سامنا کر کے بھی قائم رہتی تھیں، وہیں آج کے نازک رشتے ایک معمولی سوشل میڈیا پوسٹ یا ”اسٹوری“ کی مار نہیں سہ پاتے۔ المیہ یہ ہے کہ قصور محبت یا شادی کے ادارے کا نہیں، بلکہ ہماری توقعات اور ترجیحات کا ہے۔ میڈیا نے ہمیں خیالی پلاٹ دے کر حقیقی زندگی کا اسکرپٹ بھلا دیا ہے۔ یوں بہت سے لوگ اپنے ہی بنائے ہوئے رومانوی افسانوں کے کردار بن کر رہ گئے ہیں جن کا اختتام حقیقت کی سنگینی سے ٹکرا کر المناک ہو جاتا ہے۔

اس مسئلے کا حل کسی جادوئی عشق میں نہیں بلکہ ایک عملی حکمت میں پوشیدہ ہے۔ ہمیں اپنی حقیقی اور عملی اقدار کی طرف واپس پلٹنا ہو گا جہاں محبت صرف زبانی دعووں یا دلکش مناظر کا نام نہیں بلکہ حقوق اور فرائض نبھانے کا نام ہے۔ میاں بیوی کے تعلق کا محور ایک دوسرے کا احترام، ذمہ داریوں کی تقسیم اور مشکل حالات میں صبر و تحمل ہونا چاہیے۔ محبت کوئی تیار شدہ کہانی نہیں جسے بس ادا کرنا ہے، بلکہ دو انسانوں کا باہمی سفر ہے جس میں وقت کے ساتھ ساتھ قربانی، ایثار اور برداشت سے محبت گہری ہوتی جاتی ہے۔

ساتھ ہی ساتھ یہ ضروری ہے کہ ہم محبت کے حقیقی مفہوم کو سمجھیں۔ حقیقی محبت گھٹنوں کے بل بیٹھ کر صرف پروپوز کرنے یا سالگرہ پر لاکھوں خرچ کرنے کا نام نہیں۔ یہ تو روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی باتوں میں چھپی ہے، بیمار ہونے پر تیمارداری کرنا، تھکن میں ایک کپ چائے بنا دینا، گھر کے کاموں اور معاشی معاملات میں ایک دوسرے کا ہاتھ بٹانا، اور ایک دوسرے کی جذباتی ضروریات کا خیال رکھنا۔ ان اعمال میں شاید کوئی فلمی چمک دمک نہ ہو لیکن یہی وہ ایندھن ہے جو محبت کے چراغ کو مسلسل روشن رکھتا ہے۔ ہمیں سمجھنا ہو گا کہ عشق کا تسلسل بڑے بڑے کارناموں سے نہیں بلکہ چھوٹے چھوٹے حسن سلوک اور روزمرہ کی مہربانیوں سے قائم رہتا ہے۔

آخری اور سب سے اہم بات یہ کہ مذہبی اصولوں کو علمی اور منطقی انداز میں اپنایا جائے کیونکہ ہمارے دین اور روایات نے جو ازدواجی زندگی کا خاکہ دیا ہے وہی واحد قابلِ عمل حل ہے۔ یہ بات تبلیغی انداز میں نہیں بلکہ ایک حقیقت پسندانہ دلیل کے طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اسلام میاں بیوی کو ایک دوسرے کے جو حقوق و فرائض عطا کرتا ہے، وہ دراصل محبت کو پائیدار رکھنے کا نسخہ ہیں۔ مثال کے طور پر، اسلام میں شوہر پر بیوی کے نان نفقے اور احترام کی ذمہ داری ہے اور بیوی کو شوہر کی وفاداری اور گھر کی امانت داری کا پابند کیا گیا ہے۔ یہ دو طرفہ ذمہ داریوں کا تانا بانا ہی دراصل محبت کا حقیقی چہرہ ہے۔ جب تک رشتوں میں حقوق اور فرائض کا توازن قائم نہیں ہو گا، صرف جذبات کے سہارے محبت زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ سکتی۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم میڈیا کی رومانوی دنیا کو محض تفریح سمجھیں، اسے حقیقت کا پیمانہ نہ بنائیں۔ میڈیا اگر ہمیں خواب دکھاتا ہے تو ہمیں جاگ کر حقیقت کو بھی دیکھنا چاہیے۔ اپنے دلوں کو حقیقت پسندی کا عادی بنائیں، رشتوں میں غیر ضروری موازنہ اور مسابقت سے گریز کریں۔ جب ہم محبت کو انسانیت، ذمہ داری اور دیانت کے سانچے میں ڈھال کر دیکھیں گے، تو نہ صرف ہمارے ذاتی رشتے مضبوط ہوں گے بلکہ پوری نسل ایک صحت مند ذہنی اور جذباتی زندگی گزار سکے گی۔ آخرکار، حقیقی محبت وہ ہے جو نبھائی جائے، نہ کہ وہ جو صرف دکھائی جائے۔

Facebook Comments HS