پرنسس آف ہوپ کا سفر


Writing and Outlining

مصنف: فیانہ فرنام اور کامران عباس

کراچی کی ہلچل سے نکل کر ہم اپنے بچوں کے ساتھ بلوچستان کے پرسکون سفر کی طرف روانہ ہوئے۔ ہماری آخری منزل پرنسس آف ہوپ تھی مگر راستے میں کئی حسین مقامات نے ہمیں اپنی طرف کھینچا۔

سب سے پہلے ہم کنڈ ملیر پہنچے جو اپنی شفاف نیلی موجوں اور سنہری ریت کی وجہ سے ایک جنت نظیر ساحل ہے۔ سمندر کے کنارے بیٹھ کر ہم نے لہروں کو آتے جاتے دیکھا اور ٹھنڈی ہوا سے لطف اندوز ہوتے ہوئے ایک کپ چائے کا لیا۔ کراچی کی گہما گہمی سے نکل کر یہاں کا سکون کسی نعمت سے کم نہیں تھا۔

کنڈ ملیر کے بعد ہمارا اگلا پڑاؤ ایک قدیم اور مقدس مقام تھا ہنگلاج ماتا مندر جو پاکستان میں ہندو برادری کے سب سے بڑے مذہبی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔ یہ مندر بلوچستان کے لسبیلہ ضلع میں ایک پہاڑی سلسلے کے بیچ واقع ہے جہاں تک پہنچنے کے لیے کچے اور پرپیچ راستوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہ صرف ایک عام مندر نہیں بلکہ ہندو عقیدے میں ایک مقدس یاترا کا مرکز ہے۔ ہر سال لاکھوں ہندو یاتری یہاں آتے ہیں اور عبادات کرتے ہیں۔

مندر ایک قدرتی غار کے اندر واقع ہے جو اپنی قدامت اور روحانی اہمیت کے باعث نہ صرف ہندو برادری کے لیے بلکہ ہر تاریخ اور ثقافت سے محبت کرنے والے کے لیے ایک دلچسپ مقام ہے۔ یہاں کے پہاڑوں کی پراسرار خاموشی اور مندر کے اندر جلتے چراغ ایک عجیب روحانی فضا قائم کر رہے تھے۔

یہاں کچھ وقت گزارنے کے بعد ہم نے اپنی گاڑی دوبارہ ہائی وے پر ڈال دی۔ ہمارا آخری پڑاؤ وہ مقام تھا جس کے لیے یہ پورا سفر کیا گیا تھا۔ بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑوں کے بیچ تنہا کھڑا پرنسس آف ہوپ کا یہ چٹانی مجسمہ جسے وقت نے تراشا ہے ایک حیرت انگیز شاہکار ہے۔

یہی وہ مقام تھا جسے 2002 میں مشہور ہالی ووڈ اداکارہ اور اقوام متحدہ کی خیر سگالی سفیر انجلینا جولی نے پرنسس آف ہوپ کا نام دیا تھا۔ جب ہم اس مقام پر پہنچے تو سورج اپنی سنہری روشنی بکھیر رہا تھا اور یہ مجسمہ ایک خاموش محافظ کی طرح کھڑا تھا۔ ایسا محسوس ہوا جیسے کوئی پراسرار کہانی یہاں کے پتھروں میں قید ہو۔

یہ ایک دن کا سفر تھا مگر اس کے مناظر اور یادیں ہمیشہ ہمارے ساتھ رہیں گی۔ کنڈ ملیر کا سکون ہنگلاج ماتا کی قدامت اور پرنسس آف ہوپ کی تنہائی بلوچستان کی سرزمین نے ہمیں حیران کر دیا اور ہم اس وعدے کے ساتھ واپس لوٹے کہ ایک دن دوبارہ ان راستوں پر نکلیں گے۔

Facebook Comments HS