شوکے کا ہوٹل
شوکے کا ہوٹل اس شہر کے سب سے گنجان آباد علاقے کے مرکزی بازار میں واقع ہے۔ ہوٹل کیا ہے بس ایک متروکہ عمارت میں خستہ حالی کا مجسم نمونہ ہے جہاں مزدور طبقہ لنچ اور ڈنر کے لئے آتا تھا۔ یہ عمارت کسی زمانے میں ایک ساہوکار کا دفتر تھی جو دیوالیہ ہونے کے بعد حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے ابدی سفر پر روانہ ہو چکا تھا۔ اس بازار کے قدیمی بزرگوں کے بقول اُس نے ورثے میں اس عمارت کے علاوہ پانچ عدد بچے بھی چھوڑے تھے جو والد صاحب کے کاروبار کو حرام سمجھ کر ترک کرنے کے بعد پہلے جوئے جیسے شریفانہ کاروبار اور پھر جیل سے وابستہ ہو کر اب وہیں ”قفس اداس ہے یارو“ کا ورد الاپ رہے ہیں۔
شوکا اس بازار میں پہلے ریڑھی پر چنے نان وغیرہ بیچ کے روزی روٹی کماتا تھا، پھر کسی سیانے کے کہنے پر ایک دن چپ چاپ اس ورلڈ بینک کے دروازے کا تالا توڑ کر ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرح ایسا قابض ہوا کہ گویا اس عمارت کا ازلی اور اصلی مالک یہی ہے۔ اس کی طبیعت میں بلا کی خاموشی، آنکھوں میں سرخی اور زبان میں مٹھاس شامل ہے، اس لئے اول تو وہ بولتا نہیں ہے مگر جب بولتا ہے تو سننے والے کی طبیعت ایسی باغ و بہار ہوجاتی ہے کہ پھر کئی دن تک شوکے سے کچھ پوچھنے کی ہمت نہیں کرتا۔ چنانچہ اس کے یہاں آنے والے مستقل گاہک خاموشی سے آ کر پیٹ کا جہنم بھرنے اور اچھے بچوں کی طرح چپ چاپ نکلنے ہی میں عافیت گردانتے ہیں۔ مگر ایک دن ماسٹر اللہ رکھا صاحب جو پہلی مرتبہ اس دیوانِ خاص میں بغرض طعام تشریف لائے تھے اور باتوں کے رسیا تھے وہ شوکے سے شرفِ گفتگو حاصل کر بیٹھے۔
” بھائی شوکا آپ ہی کا نام ہے؟“ ماسٹر صاحب نے پوچھا۔ ”کیوں آپ کو کوئی تکلیف ہے؟“ شوکے کے منہ سے یہ الفاظ سُن کر ماسٹر صاحب کی طبیعت تھوڑی سی گھبرائی ضرور مگر نہ تو بد ظن ہوئے نہ بد دل۔ ”اور سنائیں کیا حال چال ہیں؟“ انہوں نے دوسرا سوال پوچھا جسے اُس نے غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کر دیا اور اُس کی بجائے اپنے ملازم کو ایک موٹی سی گالی دے کے ساتھ سالن کی پلیٹ پکڑا دی۔ ماسٹر صاحب نے سمجھا شاید اُس تک میری آواز نہیں پہنچی تو ”میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے“ کے زریں اصول کے تحت اُنہوں نے مکرر سوال کیا تو شوکے نے سرخ آنکھوں کے ساتھ پہلے اُنہیں گھورا، پھر منہ سے تھوک کر جواب عنایت کیا ”کیوں جی آپ ڈاکٹر لگے ہیں جو میرا حال پوچھ رہے ہیں؟“ ۔
زبان شیریں اُس پر مٹھاس بھرا لہجے نے کچھ ایسا جادو کیا کہ ماسٹر صاحب کے چودہ طبق روشن ہو گئے۔ اُنہوں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ دنیا میں ایسے با اخلاق انسان بھی پائے جاتے ہیں وہ بھی زندہ اور صحیح سلامت، لہذا اس کے بعد مزید شناسائی دریافت کرنے کی بجائے چپ رہنے ہی میں عافیت جان کر کھانے کے انتظار میں جت گئے۔ ادھر کھانا آیا تو ماسٹر صاحب نے سالن کی پلیٹ کو اٹھا کر اُسے سورج کی روشنی میں چراغ تلے رکھ کر جب دیکھا تو کچھ شک سا پڑا۔
”بھائی اس سالن میں کیا ہے؟“ اُن کی آواز میں عاجزی نمایاں تو تھی ہی مگر جونہی شوکے نے آہنی چمچے کو ہاتھ میں تھامے ہوئے پلٹ کر دیکھا تو ”شوخیٔ نگاہ“ سے کپکپی بھی طاری ہو گئی، جس کے ساتھ سالن پلیٹ سے حلق کی بجائے دامن پر گرا جس کو اگر نچوڑا جاتا تو فرشتے بھی وضو کرلیتے کیونکہ پانی کی ایک بہت بڑی مقدار سالن میں موجود تھی جس کی وجہ جو سمجھ میں آتی ہے وہ یہی ہے کہ انسان کھانے کے بغیر تین ہفتے مگر پانی کے بغیر صرف تین دن زندہ رہ سکتا ہے۔
اس زریں اصول کے تحت شوکے کے ہوٹل پر پکے ہوئے ہر کھانے کا تین چوتھائی جزو پانی جبکہ ایک چوتھائی باقی اجزاء کا ہوتا تھا جس میں ایک معقول حصہ چربی سے بنے ”چربی سے پاک“ گھی کا بھی ہوتا تھا جو صرف غور و خوض اور دوربین لگانے سے ہی نظر آ سکتا تھا وگرنہ ”نیکڈ آئی“ یعنی چشمِ برہنہ کے اندر اُس کو دیکھنے کی تاب بلکہ سکت بھی نہیں تھی۔ ”کیوں کیا خرابی ہے اس کھانے میں؟ میرا ہوٹل پورے شہر تو کیا پورے ملک کا نامی گرامی ہوٹل ہے۔ بڑی دور دور سے لوگ میرے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا آتے ہیں۔ بلکہ کئی بار تو ٹی وی چینل والوں نے میری منت کی ہمارے چینل پہ آ کر ہمارے ناظرین کو بھی یہ مزیدار کھانے پکانا سکھا دو، مگر میں نہیں جاتا۔ پوچھو کیوں؟“ ، ”کیوں؟“ ، ماسٹر صاحب نے تجسس سے مجبور ہو کر پوچھا، ”اس لئے کہ پھر میرے وہ مسالے سب کو پتہ چل جائیں گے، جو میں نے اپنے سینے میں چھپا کے رکھے ہیں۔“ شوکی نے ایک بڑا ڈکار مار اور سینے پر ہاتھ مار کے جواب دیا تو ماسٹر صاحب کی بجھی طبیعت میں ایک امنگ کی لہر جاگ اٹھی۔
”ویسے شوکی بھائی ملک کے حالات بہت خراب ہیں“ ۔ ماسٹر صاحب نے جانے کس دکھتی رگ پہ ہاتھ رکھ دیا۔ ”تو کیا میں نے کیے ہیں؟ ناں یہ مہنگائی، ڈاکے اور لوٹ مار میں کرتا ہوں“ شوکی اس دوران اپنے کاؤنٹر سے دھیرے دھیرے ماسٹر صاحب کی طرف اور ماسٹر صاحب کرسی سے باہر کی طرف کھسکنا شروع ہو گئے، مگر شوکی کی رفتار زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ ماسٹر صاحب کے سر پر پہنچ گیا۔ اُن کے پاس اب ماسوائے گڑگڑا کر معافی مانگنے اور اپنی تقصیر پہ نادم ہونے کے کوئی دوسرا فارمولا نہ تھا جو اس نازک موقع پر کارگر ثابت ہو سکتا ۔
”دیکھیں شوکی بھائی۔ وہ۔ ممم میرے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ یہ ملک آپ جیسے شریف، نیک اور رحم دل انسانوں کی وجہ سے قائم ہے۔ ورنہ مجھ جیسے گناہگاروں نے تو کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی اسے تباہ کرنے کی“ ، اُنہوں نے پوری عاجزی و انکساری کے ساتھ ہاتھ جوڑتے ہوئے نہ صرف اپنی خطا تسلیم کی بلکہ اُن کرتوتوں کی بھی معافی مانگ لی جو کبھی سرزد بھی نہیں ہوئے تھے۔
”اچھا! تو یہ تم ہو وہ بد بخت جس کی وجہ سے پورے ملک پر عذاب نازل ہو رہا ہے۔ اوئے اچھو! اوئے شیدے ادھر آؤ۔ جلدی آؤ“ ۔ اس آواز پہ دو مسٹنڈے نما بیرے ہاتھ جھاڑتے ہوئے جائے وقوعہ پر پہنچتے ہی کورنش بجا لائے اور استاد سے اُس امر کی بابت استفسار فرمایا جس کے لئے اُنہیں زحمت دی گئی تھی۔ ”اوئے۔ یہی ہے وہ بد بخت جس نے ملک کو تباہ کیا ہے۔ اس نے خود مان بھی لیا ہے اور اچھی بات یہ ہے کہ پکڑا بھی گیا ہے۔ یہ پہلا قومی مجرم ہے جو اپنا جرم مان بھی رہا ہے اور پکڑا بھی گیا ہے۔ یہی ہے جس نے تمہارے اور میرے وسائل کو لوٹ کر اپنی تجوریاں بھر کر ہمارے حصے کا رزق بھی کھا گیا ہے۔ اسے لے جا کر پولیس کے حوالے کرو تاکہ وہ نہ صرف اسے کڑی سزا دیں بلکہ اخبار والوں کو بلا کر اس کی تصویریں بھی اخبار میں لگائیں تاکہ پورے ملک کو پتہ چلے کہ یہی ہے۔ یہی ہے اس ملک کا اصلی جرم اور یہی ہے اس ملک کا سب سے بڑا لٹیرا“ ۔ اس سے قبل کہ ماسٹر صاحب پنجہ استبداد کے نرغے میں آ کر عزت سادات گنواتے، اتنی سرعت کے ساتھ وہاں سے بھاگے کہ سیدھا گاؤں جاکر دم لیا اور تاحیات اُس ہوٹل کا دوبارہ رخ نہیں کیا۔


