لیڈر کون ہوتا ہے؟
بالکل سادہ سا سوال ہے لیکن اگر کوئی اس سوال کا واضح جواب دینے کی بجائے مذہبی رامائن شروع کر دے، وعظ و نصیحت کرنے لگے، خود نمائی کے احساس تفاخر میں ڈوب کر اپنے علاوہ دوسرے مذاہب کے لوگوں کو کمتر یا پلید تصور کرے یا گھٹیا قسم کی جملے بازیاں کرنے لگے تو سمجھ لیجیے کہ بندہ دماغی طور پر فارغ ہے اور مطالعہ و مشاہدہ یا گلوبل ولیج کے فہم و ترجیحات سے کوسوں دور ہونے کے علاوہ کنویں کا مینڈک ہے۔ کنویں کے مینڈک کو اپنی ٹرٹراہٹ بڑی مسحور کن محسوس ہوتی ہے اور اسے یہ لگتا ہے کہ وہ جس تالاب یا خول میں رہتا ہے وہی کل کائنات ہے اور اس سے باہر بالکل اندھیرا اور جہالت ہی جہالت ہے۔
چیمپئنز ٹرافی میں شاندار کارکردگی دکھانی والی ہماری قومی ٹیم کے اہم سپوت کو بڑی دور کی سوجھی، ایک پوڈ کاسٹ میں فرما رہے تھے کہ ان کی نظر میں لیڈر صرف وہ ہوتا ہے جو ایک اچھا سا ہوٹل ڈھونڈے، سفید چادریں بچھانے کا اہتمام کرے اور دوسرے مذاہب کے لوگوں کا داخلہ بند کروائے تاکہ ہم ایک پاکیزہ ماحول میں سانس لے سکیں اور ان کی نظر میں اس سطح کا صرف ایک ہی لیڈر ہو سکتا ہے جس کا نام محمد رضوان ہے جو ”ورچو سگنلنگ“ کا ایک چلتا پھرتا نمونہ ہے۔
واہ! کیا نادر فرمودات ہیں بھئی؟
یہ نمونے واقعی آج کی دنیا میں زندہ ہیں اور اکیسویں صدی کے تقاضوں سے واقف ہیں؟
اس بندے نے تو ایک طرح سے سمندر کو کوزے میں بند کر دیا، وائے قسمت اس طرح کے مہان ہمارے حصے میں آ گئے اور جینوئن ٹیلنٹ کہیں اور منتقل ہو گیا، مطلب یار کچھ بھی کہہ دیں کیا فرق پڑتا ہے؟
ہمارے ساتھ شاید کوئی خاص المیہ ہے کہ ہمارے ہاں اس طرح کا پرہیزی و نیکوکار ٹائپ مائنڈ سیٹ کچھ زیادہ ہی پایا جاتا ہے، جو اپنے فرائض منصبی کے تقاضوں کو مکمل دیانتداری کے ساتھ پورا کرنے کی بجائے لیت و لعل سے کام لیتا ہے اور محنت و ریاضت سے خاص طور پر پرہیز کرتا ہے۔
ہمارے ہاں تو اس قسم کے طبقے کو خوب سراہا جاتا ہے لیکن دنیا بھر میں اس قسم کے رویے کو قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا اور ایسے شخص کو نان پروفیشنل، بددیانت، اناڑی، بڑھک باز یا پروفیشنلی ڈس اونیسٹ یا نمک حرام کہا جاتا ہے۔ اب کام چوری یا پیشے میں غفلت برتنے کو کوئی مہذب نام تو نہیں دیا جا سکتا اور اگر کوئی مذہبی چولے میں چھپ کر اپنے لیے جواز تراشتا ہے یا اپنی نا اہلی کو مذہبی ٹچ دے کر چھپانے کی کوشش کرتا ہے تو ایک طرح سے مذہب کی تقدیس پر حرف آتا ہے جو کوئی مناسب رویہ نہیں ہوتا۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ اس قسم کے لوگ ہر طبقے میں خاصی کثیر تعداد میں پائے جاتے ہیں جو اپنے پروفیشن کے ساتھ 100 فیصد وفادار رہنے کی بجائے ثواب کی نیت سے مذہبی سرگرمیوں میں دلچسپی لینے لگتے ہیں اور جس کام کی انہیں تنخواہ یا الاؤنسز ملتے ہیں انہیں پس پشت ڈالنے کی عادت کا شکار ہو جاتے ہیں اور انہیں احساس جرم کا شائبہ تک نہیں ہوتا۔ کالج و یونیورسٹی کے اساتذہ کو دیکھ لیں اپنا متعلقہ مضمون دیانتداری سے پڑھانے کی بجائے اسلامیات پڑھانے لگتے ہیں، جس مرضی ڈیپارٹمنٹ میں چلے جائیں یہی کچھ ہوتا ہے، ہماری کرکٹ ٹیم کا بھی یہی حال ہے۔
مذہب سے بھلا کسی کو کیا مسئلہ ہو سکتا ہے، مذہبی ہونے میں کوئی حرج نہیں، کوئی بھی عقیدہ یا مذہب اختیار کرنا ہر انسان کا ذاتی معاملہ ہوتا ہے، ہاں مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب آپ مذہبیت نمائی کرنے لگتے ہیں، ہر جگہ کھڑے ہو کر وعظ و نصیحت کرنے لگتے ہیں، کارکردگی پر فوکس کرنے کی بجائے سب قدرت پر ڈالنے لگتے ہیں، عبادات میں خشوع و خضوع تو دکھتا ہے لیکن جس مقصد کے لیے گراؤنڈ میں اترتے ہیں اس میں 100 فیصد کارکردگی دکھائی نہیں دیتی۔ اگر کوئی ناقص کارکردگی کی وجہ جاننے کی کوشش کرتا ہے تو بے بنیاد سی باتیں سننے کو ملتی ہیں، یہ تک کہا جاتا ہے کہ قدرت کا نظام ہے جی کیا کہا جاسکتا ہے ہم نے تو پوری کوشش کی تھی، بھائی وہ کوشش و کارکردگی گراؤنڈ میں دکھائی کیوں نہیں دیتی؟
آپ کی باڈی لینگویج آپ کے الفاظ کا ساتھ کیوں نہیں دیتی؟
ذہنی سطح اس قدر سطحی سی کیوں ہوتی ہے کہ سوال گندم اور جواب چنا ہوتا ہے؟
گیم پر دو جملے بولے نہیں جاتے جبکہ تبلیغی چھ نمبر فرفر سنانے لگتے ہیں، کیا گیم کے ساتھ نا انصافی برتنے کے متعلق سوال نہیں پوچھا جائے گا؟


