طالبان کی داخلی جنگ: کابل سے اکوڑہ خٹک تک


اکوڑہ خٹک، پاکستان میں واقع دارالعلوم حقانیہ میں حالیہ خودکش حملے نے پورے خطے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ حملہ جمعہ کی نماز کے دوران ہوا، جس کے نتیجے میں آٹھ نمازی بشمول مولانا حامد الحق جاں بحق اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔ ماہرین اور اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ المناک واقعہ محض ایک الگ تھلگ حملہ نہیں بلکہ افغان طالبان کے اندر بڑھتی ہوئی اندرونی کشمکش کا نتیجہ ہے، جہاں کابل اور قندھار میں موجود دو بڑے دھڑے آپس میں برسرپیکار ہیں۔ یہ داخلی اختلافات حالیہ مہینوں میں شدت اختیار کر چکے ہیں اور اس کے سنگین جغرافیائی سیاسی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

حقانی نیٹ ورک اور دارالعلوم حقانیہ کے تاریخی تعلقات

اکوڑہ خٹک میں واقع دارالعلوم حقانیہ جنوبی ایشیا میں دیوبندی اسلامی تعلیم کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔ 1947 میں مولانا عبد الحق نے اس کی بنیاد رکھی، اور یہ ادارہ بعد میں افغان مجاہدین کے نظریاتی ڈھانچے کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتا رہا۔ خاص طور پر، جلال الدین حقانی، جو بعد میں حقانی نیٹ ورک کے بانی بنے، اسی مدرسے کے نمایاں فارغ التحصیل افراد میں شامل تھے۔

سوویت۔ افغان جنگ کے دوران، دارالعلوم حقانیہ مجاہدین کی تربیت اور بھرتی کا ایک اہم مرکز بن گیا تھا۔ پاکستان کی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ، امریکہ اور سعودی عرب کی مالی مدد سے، یہاں کے تربیت یافتہ مجاہدین نے سوویت افواج کے افغانستان سے انخلا میں کلیدی کردار ادا کیا۔ تاہم، نائن الیون کے بعد حقانی نیٹ ورک ایک انتہائی خطرناک جنگجو گروہ کے طور پر ابھرا، جو امریکی اور نیٹو افواج کے خلاف مہلک حملے کرتا رہا۔ اس نیٹ ورک نے کئی تباہ کن حملے کیے، جس سے یہ طالبان کے اندر ایک طاقتور اور با اثر دھڑے کے طور پر ابھرا۔

طالبان کی اندرونی کشمکش: کابل بمقابلہ قندھار دھڑے

اگست 2021 میں طالبان کے افغانستان پر قبضے کے بعد ، ان کے اندرونی اختلافات نمایاں ہونا شروع ہو گئے۔ ایک طرف کابل میں موجود حقانی نیٹ ورک تھا، جس کی قیادت سراج الدین حقانی کر رہے تھے، جبکہ دوسری طرف قندھار کا دھڑا تھا، جس کے سربراہ طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ تھے۔

حقانی نیٹ ورک نسبتاً زیادہ عملی نقطہ نظر رکھتا تھا اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ مذاکرات کا حامی تھا۔ وہ خواتین کی تعلیم اور حکمرانی میں نرمی کے خواہاں تھے۔ اس کے برعکس، قندھار دھڑے نے سخت گیر نظریہ اپنایا، خواتین کی تعلیم اور ملازمتوں پر پابندی عائد کی، جس پر اندرون و بیرون ملک سخت تنقید کی گئی۔

خلیل حقانی کا قتل اور اس کے اثرات

طالبان کے اندرونی اختلافات اس وقت مزید شدت اختیار کر گئے جب افغانستان میں حقانی نیٹ ورک کے سینئر رہنما خلیل حقانی کو قتل کر دیا گیا۔ اس حملے کو قندھاری دھڑے کی جانب سے حقانی نیٹ ورک کو کمزور کرنے کی کوشش سمجھا گیا۔ اس کے بعد سراج الدین حقانی نے طالبان قیادت پر کڑی تنقید کی، اور یہ پہلا موقع تھا جب کسی سینئر طالبان رہنما نے ملا ہیبت اللہ کی پالیسیوں پر کھل کر اعتراض کیا۔ سراج الدین حقانی نے جنوری میں ایک تقریر میں کہا کہ ایک امیر کو عوام کی ضروریات کو مدنظر رکھنا چاہیے، جو دراصل ملا ہیبت اللہ کی قیادت پر تنقید تھی۔ اس صورتحال کے بعد ، کئی حقانی رہنما افغانستان چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔ بعض اطلاعات کے مطابق، نیٹ ورک کے کلیدی رہنما خلیج کے مختلف ممالک، بشمول متحدہ عرب امارات، میں پناہ لے چکے ہیں، جہاں وہ بین الاقوامی سفارتی حلقوں سے رابطے میں ہیں۔

اکوڑہ خٹک میں خودکش حملہ: طالبان کی داخلی لڑائی کا نتیجہ؟

دارالعلوم حقانیہ اور حقانی نیٹ ورک کے گہرے تعلقات کو مدنظر رکھتے ہوئے، حالیہ خودکش حملے کے پس پردہ عوامل پر سوالات جنم لے رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ حملہ دراصل طالبان کی داخلی طاقت کی کشمکش کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ چونکہ افغانستان میں حقانی نیٹ ورک کمزور ہو رہا ہے، اس لیے پاکستان میں اس پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اس حملے کو قندھاری دھڑے کی جانب سے ایک وارننگ کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ حقانی نیٹ ورک کے اثر و رسوخ کو افغانستان کے باہر بھی برداشت نہیں کریں گے۔

بین الاقوامی قوتوں کا کردار: امریکہ، برطانیہ اور پاکستان کی کشمکش

طالبان کے اندرونی اختلافات صرف افغانستان تک محدود نہیں ہیں بلکہ انہوں نے عالمی سطح پر بھی بڑی طاقتوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے، خاص طور پر امریکہ اور برطانیہ کے درمیان اس معاملے پر واضح اختلافات دیکھے جا رہے ہیں۔

حال ہی میں، پاکستان کے اعلیٰ عسکری حکام کو برطانیہ کی جانب سے غیر معمولی سفارتی پروٹوکول دیا گیا، جس پر امریکہ کے بعض حلقوں نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ بعض تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ برطانیہ جنوبی ایشیا میں اپنی آزاد پالیسی اپنانا چاہتا ہے، جو ممکنہ طور پر امریکی مفادات کے لیے ایک چیلنج بن سکتی ہے۔

بگرام ائر بیس تنازع اور طالبان پر امریکی دباؤ

طالبان کو درپیش ایک اور بڑا مسئلہ بگرام ائر بیس سے متعلق ہے۔ امریکی انخلا کے وقت، واشنگٹن کی خواہش تھی کہ وہ اس اہم فوجی اڈے پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے، لیکن تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کے باعث ایسا ممکن نہ ہو سکا، اور طالبان نے بگرام پر قبضہ کر لیا۔ اب امریکہ طالبان پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ بگرام ائر بیس پر کسی نہ کسی شکل میں امریکی نگرانی قبول کرے۔ اس کے علاوہ، واشنگٹن ان جدید ہتھیاروں کی واپسی کا بھی مطالبہ کر رہا ہے جو انخلا کے وقت افغانستان میں چھوڑ دیے گئے تھے۔ یہ مطالبے طالبان قیادت کے لیے ایک مشکل صورتحال پیدا کر سکتے ہیں، کیونکہ اگر وہ امریکی درخواستوں کو تسلیم کرتے ہیں تو سخت گیر طالبان دھڑے ان کے خلاف ہو سکتے ہیں، اور اگر وہ انکار کرتے ہیں تو انہیں عالمی سطح پر مزید تنہائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

حسن عباس اپنی کتاب The Return Of The Taliban میں لکھتے ہیں کہ بگرام ائر بیس اور وہاں چھوڑے گئے اسلحے کی اسٹریٹجک اہمیت بے حد زیادہ ہے۔ ان کے مطابق امریکہ انخلا کے بعد بھی بگرام ائر بیس اپنے زیر استعمال رکھ کر افغانستان میں ایک خفیہ نیٹ ورک قائم رکھنا چاہتا تھا، لیکن وہ اس حکمت عملی کو کامیابی سے نافذ نہیں کر سکا۔ کچھ ماہرین کے خیال میں بگرام ائر بیس پر امریکی موجودگی دوحہ معاہدے کا حصہ ہے جسے اب طالبان ماننے سے انکار کر رہے ہیں۔ اب، واشنگٹن مختلف سفارتی اور معاشی دباؤ کے ذریعے طالبان پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے

طالبان حکومت کا مستقبل اور علاقائی استحکام

کابل میں حقانی نیٹ ورک اور قندھار میں موجود طالبان قیادت کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج نے افغانستان میں ایک غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے، جس کے اثرات پاکستان سمیت پورے خطے پر پڑ سکتے ہیں۔ اگر ان اختلافات میں مزید شدت آتی ہے تو مستقبل میں مزید پرتشدد واقعات رونما ہو سکتے ہیں، جو نہ صرف افغانستان بلکہ پاکستان کے لیے بھی سیکیورٹی خدشات کو بڑھا سکتے ہیں۔

پاکستان کے لیے یہ صورتحال ایک مشکل چیلنج ہے۔ حقانی نیٹ ورک کے ساتھ اس کے تاریخی تعلقات اور افغانستان میں اس کے سیکیورٹی مفادات کی وجہ سے، اسلام آباد کو اس پیچیدہ طاقت کے کھیل میں انتہائی محتاط حکمت عملی اپنانی ہوگی۔ کوئی بھی غلط فیصلہ پاکستان کے اندر عسکریت پسندی میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے، جو پہلے ہی ایک نازک سیکیورٹی صورتحال سے دوچار ہے۔

اکوڑہ خٹک میں دارالعلوم حقانیہ پر ہونے والا خودکش حملہ محض ایک دہشت گردی کا واقعہ نہیں بلکہ طالبان کے اندرونی اختلافات کا ایک مظہر ہے۔ کابل اور قندھار دھڑوں کے درمیان جاری طاقت کی کشمکش نے ایک غیر متوقع اور خطرناک منظرنامہ پیدا کر دیا ہے، جس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہو رہے ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ جیسے عالمی کھلاڑی بھی اس صورتحال میں اپنے مفادات کے تحت سرگرم ہیں۔

یہ سوال ابھی باقی ہے کہ آیا یہ اندرونی اختلافات طالبان کے اندر ایک نئی طاقت کے ظہور کا باعث بنیں گے یا یہ ایک مکمل خانہ جنگی کی شکل اختیار کر لیں گے۔ تاہم، ایک بات واضح ہے کہ یہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔

Facebook Comments HS