گلٹ فری ایٹنگ 1


گاجر کا حلوہ پہلے جیسا نہیں بنا۔ خیر ویسا نہیں جیسا ہم سب لوگ بچپن میں چیپ لیبر کی طرح لائن میں بیٹھ کر گاجروں کے ڈھیر پر مقدور بھر مشقت کرتے تھے اور آخر میں بڑے دیگچے سے مہینے بھر کے کوٹے مختص ہوتے تھے۔ میرا حلوہ ویسا تو کبھی نہیں بنا۔ لیکن یہ والا پچھلی دفعہ جیسا بھی نہیں بنا۔ شاید مزہ نہ آنے کی اصل وجہ کیلوریز ہیں۔

سیل کی شرح کو کل قیمت میں سے نفی کرنے کے علاوہ جس حسابی عمل میں مجھے سب سے زیادہ مہارت ہے وہ غذائی حراروں کا تناسب، جمع اور تفریق ہے۔ کس شے میں کتنی کیلوریز نشاستہ اور کتنی چکنائی سے متعلق ہیں، اور اس کی کتنی مقدار کھانے کے بعد رکنا یا نہ رکنا اور پچھتاوے میں مبتلا ہو ہو کر کھاتے جانا میرے نئے عقائد میں سر فہرست ہے۔

ہر لقمے پر میں سوچتی رہی کہ ایک کپ گاجروں کی کیلوریز پچیس ہوتی ہیں اور ایک کپ حلوے کی شاید پانچ سو پچیس۔ تو میں نے اتنی محنت کرنے کی بجائے ایک کپ تازہ گاجریں ہی کیوں نہ کھا لیں اور حلوے میں مزہ کیوں نہیں آ رہا۔ گلٹ فری ایٹنگ۔ یعنی گاجر کا حلوہ۔ اکیسویں صدی کے انسان کا لائف سٹائل نہیں ہے۔

آج ایک عام انسان کو خوراک پر کیے گئے ہزاروں سال کے تجربوں اور کاوشوں سے، کھانے کی تہذیب اور معاشرت سے کچھ خاص سروکار نہیں۔ آج کا کھانا یا تو فاسٹ ہو یا انسٹنٹ۔ اور بہتر ہے کہ ڈائٹ ہو۔ بھرے ہوئے فرج اور ڈائیٹنگ آج کا کلچر ہے۔ آج جب خوراک کی مقدار اتنی بڑھ چکی ہے کہ اسے زائد المیعاد ہونے کے بعد پھینکنا پڑتا ہے اور موسمی اور بے موسم غذائیں ہر وقت اختیار میں ہیں اکثر ہم خود کو ان نعمتوں سے بہرہ ور ہونے کی اجازت نہیں دیتے۔

کھانے کے بارے میں ہمارا رویہ تبدیل ہو جانے کی ایک وجہ تو زندگی کے طور اطوار کی تبدیلی ہے اور دوسری وجہ ذرائع ابلاغ و ترسیل کا کردار ہے۔ بنیادی جسمانی ضرورت ہونے کے باعث انسان نے بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ خوراک کو ذائقہ میں بہتر، مقدار میں زیادہ اور اقسام میں متنوع بنانے پر مسلسل کام کیا ہے۔ اب اگرچہ خوراک کی قیمت، مانگ اور کھپت حالات کے مطابق ایڈجسٹ ہوتی رہتی ہے لیکن اس کی شیلف لائف، مقدار اور تنوع پہلے کے مقابلے میں کئی گنا بڑھ چکا ہے۔

خوراک کی آسان ترسیل نے اس کو محض شکم سیری کے مقصد سے بڑھا کر ہماری زندگیوں کا ایک ایونٹ بنا دیا ہے۔ کھانوں کے پروگرام کے الگ چینل ہیں۔ ہمہ وقت عالمی اور مقامی خوراک کے بارے میں تفاصیل نشر ہوتی رہتی ہیں، نت نئی ریسیپیز سامنے آتی ہیں، کھانا بنانے اور کھانا کھانے کے مقابلے منعقد ہوتے ہیں۔

اب ہم صرف پیٹ بھرنے کے لیے نہیں کھاتے بلکہ اب ہم خوشی اور سکون کے لیے کھانا کھاتے ہیں، انعام کی ٹریٹ کے لیے کھاتے ہیں، میل ملاپ پر کھاتے ہیں۔ تنہا ہونے پر کھاتے ہیں۔ ہم نا کھانا کھانے (روزے ) کو کھانے سے پہلے کا وقفہ سمجھ کر سارا دن شام کا انتظار کرتے ہیں اور پھر دیر تک کھاتے ہیں۔ پھر ہم اس کھانے سے چڑتے ہیں، کھانا کھانے کے عمل سے چڑتے ہیں۔ اپنے آپ سے چڑتے ہیں کہ کیوں کھاتے گئے اور خود کو روکا کیوں نہیں۔

یہ خوراک سے ہمارے لو، ہیٹ ریلشن شپ کا آغاز ہے۔ یہ سائیکل فوڈ انڈسٹریز کی جیت کا آغاز بھی ہے۔ چپس کے ایک پیک پر کچھ ایسی عبارت درج تھی: ”ایک سرونگ پندرہ چپس ہیں۔ لیکن آپ پورا پیک (فیملی پیک) کھائے بغیر نہیں رک پائیں گے۔“

ہمارے اور خوراک کے اس نئے رشتے کے پیچھے قیمتی اشتہاری مہموں کی باریک بین تحقیق کا ہاتھ ہے جہاں زندگی کی آسائش، سکون کی تلاش، دوستوں کی رفاقت، خوبصورتی اور خوشیوں جیسی دوسری انسانی ضروریات کو گلیمرائزڈ تصویری استعاروں کے ذریعے بڑی مہارت سے فاسٹ فوڈ ریستورانوں، سوڈے کی بوتلوں، کافی کے برانڈز، مٹھائیوں، بیکری کی مصنوعات، سپلیمنٹ، فروزن سنیکس اور ڈائیٹ فوڈ سے جوڑ دیا گیا ہے۔
(جاری ہے )

Facebook Comments HS