شاعر انقلاب، شاعر شباب و شاعر آخر الزماں کی 43 ویں برسی


muhammad salim gujranwala

جوش ملیح آبادی نے اپنے متعلق کہا تھا
میں شاعر آخر الزماں ہوں اے جوش

جوش ملیح آبادی کا اصل نام شبیر حسن خان تھا۔ وہ اتر پردیش، ہندوستان کے مردم خیز خطہ ملیح آباد میں 5 دسمبر 1898 کو پیدا ہوئے۔ وہ ملیح آباد کے ایک مشہور، متمول اور جاگیردار خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق آفریدی قبیلے سے تھا۔ وہ خاندانی رئیس تھے۔ ان کے والد کا نام نواب بشیر احمد خان، دادا کا نام نواب محمد احمد خان اور پردادا کا نام نواب محمد فقیر خان تھا۔ وہ سب شاعر اور صاحب دیوان تھے۔ جوش نے نو برس کی عمر میں پہلا شعر کہا اور عزیز لکھنوی سے شاعری کی اصلاح لی۔ عربی زبان کی تدریس مرزا ہادی رسوا سے اور اردو فارسی کی تعلیم مولانا قدرت بیگ سے حاصل کی۔

جوش کی پرورش بڑے ناز و نعم سے ہوئی۔ زیادہ تعلیم حاصل نہ کر سکے۔ عملی زندگی میں داخل ہوئے تو 1925 میں جامعہ عثمانیہ حیدرآباد دکن کے دارالترجمہ میں ملازمت مل گی۔ دس برس بعد واپس دہلی آ گئے اور دریا گنج میں دفتر قائم کر کے مجلہ کلیم جاری کیا جو زیادہ کامیاب نہ ہوا، لیکن جوش شاعر انقلاب کے نام سے مشہور ہو گئے۔ وہ مجلہ آج کل کے بھی مدیر رہے اور کئی جگہوں پر ملازمت بھی کی۔ جوش کے عہد میں تہذیب لکھنؤ آخری سانسوں پر تھی۔ ان کی شاعری اور نثر میں لکھنؤی اسلوب پایا جاتا ہے۔ 1947 میں وہ دہلی سے پاکستان آ گئے۔ پہلے کراچی میں سکونت اختیار کی اور بعد ازاں 1970 کی دہائی میں اسلام آباد میں رہائش پذیر ہو گئے۔ 22 فروری 1982 کو 84 برس کی عمر میں وفات پائی اور اسلام آباد میں آسودہ خاک ہوئے۔

جوش الفاظ کے بادشاہ تھے۔ ان کی لسانی طاقت خداداد تھی۔ ان کی شاعری اور نثر میں استعارات اور تشبیہات کا بہت ہی بر محل استعمال ہوا ہے۔ ان کو اردو، عربی، فارسی اور انگریزی زبانوں سے اچھی واقفیت تھی جس کے باعث انہوں نے مرکب تراکیب کو اپنی شاعری میں خوب استعمال کیا۔ قومی اردو لغت کی تیاری اور انجمن ترقی اردو کراچی کی آبیاری میں انہوں اپنی خدمات پیش کیں۔

جوش شاعری میں اقبال سے بہت متاثر تھے اور انہوں نے اقبال کے انداز میں بہت سی انقلابی نظمیں تخلیق کیں۔ ان کی شاعری میں باغیانہ خیالات کی کافی فراوانی پائی جاتی ہے۔ جوش مزدوروں اور محنت کشوں کے بہت حامی تھے اور ان کی حمایت میں بہت سی نظمیں لکھیں۔ ان کی طبیعت بڑی سیماب صفت تھی۔ اشتراکی نظام معیشت کے بہت حامی تھے۔

جوش کی ایک اور پہچان اعلیٰ درجے کی مرثیہ نگاری ہے۔ قدما مرثیہ نگاروں انیس و دبیر کی مرثیہ نگاری کے ساتھ ساتھ متاخرین مرثیہ نگاروں میں جوش کا مقام سب سے الگ ہے۔ جوش نے مرثیہ نگاری کو حزن و ملال اور واقعات نگاری سے نکال کر انقلاب کی راہ دکھائی۔ 68 بندوں پر مشتمل مرثیہ حسین اور انقلاب اس کی اعلیٰ مثال ہے۔

جو اک نشان تشنہ دہانی تھا وہ حسین
گیتی پر عرش کی جو نشانی تھا وہ حسین
جو خلد کا امیر جوانی تھا وہ حسین
جو اک سن جدید کا بانی تھا وہ حسین
جس کا لہو تلاطم پنہاں لیے ہوئے
ہر بوند میں نوح کا طوفان لیے ہوئے
جو کاروان عزم کا رہبر تھا وہ حسین
خود اپنے خون کا جو شناور تھا وہ حسین
اک دین تازہ کا جو پیمبر تھا وہ حسین
جو کربلا کا داور محشر تھا وہ حسین
جس کی نظر پہ شیوہ حق کا مدار تھا
جو روح انقلاب کا پروردگار تھا

انہوں نے رومانوی اور شباب سے بھر پور شاعری کی۔ ان کی ادبی اور شاعرانہ خدمات کے اعتراف میں انہیں 1954 میں بھارت کا پدم بھوشن اور 2013 میں بعد از مرگ پاکستان کا ہلال امتیاز اعزاز دیا گیا۔

ایک متنازع انٹرویو کے باعث ان کو ذرائع ابلاغ میں دکھانا ممنوع کر دیا گیا، لیکن بعد ازاں ان کی تمام پابندیاں ختم کر دی گئیں اور ان کی تمام مراعات بھی بحال ہو گئیں۔ جوش ایک کثیر التصانیف شاعر اور مصنف تھے۔ 1972 میں کراچی سے جوش کی خود نوشت یادوں کی بارات شائع ہوئی جس میں بہت سی متنازع آراء اور مخفی امور پر لکھا گیا۔ اس خود نوشت سے پاک و ہند کے ادبی، سیاسی اور سماجی طبقات میں بہت ہل چل ہوئی۔

ان کی کچھ تصانیف کے نام مندرجہ ذیل ہیں،

روح ادب، نقش و نگار، جوش کے مرثیے، طلوع فکر، جوش کے سو شعر، شعلہ و شبنم، آیت و تعلیمات، عرش و فرش، دیوان گویا، جنون و حکمت، سرود و خروش، سنبل و سلاسل، مقالات جوش، مکالمات جوش، عرفانیات جوش اور یادوں کی برات (خود نوشت) ۔

نمونہ کلام

کام ہے میرا تغیر نام ہے میرا شباب
میرا نعرہ انقلاب و انقلاب و انقلاب
دل کی چوٹوں نے کبھی چین سے نہ رہنے دیا
جب چلی سرد ہوا میں نے تجھے یاد کیا
مجھ کو تو ہوش نہیں تم کو خبر ہو شاید
لوگ کہتے ہیں کہ تم نے مجھے برباد کیا
یوں ہم اس شوخ کو پہلو میں لیے بیٹھے
کوئی آئے تو یہ سمجھے پیے بیٹھے
کل آپ آئے میرے گھر گئے رقیب کے پاس
حضور آپ ہی کہہ دیں یہ چال ہے کہ نہیں
خراب دونوں جہاں میں ہے مبتلا اس کا
خدا کا قہر بتوں کا جمال ہے کہ نہیں
پڑھوں گا رحمت کا وہ قصیدہ
کہ ہنس پڑے گا عتاب تیرا

Facebook Comments HS