جانوروں کے درمیان – فکاہیہ
مجھے نہیں معلوم کہ شہر آفاق کتاب Animal Farm کے خالق جارج اورویل نے 1945 میں اپنی اس کتاب کو لکھتے وقت آخر جانوروں کو ہی مرکزی حوالہ کیوں بنایا تھا گو کہ کتاب میں جانوروں کو مرکزی حوالہ بنانے پر جارج اورویل کو اس وقت کے سیاسی و سماجی صورتحال کو منظر عام پر لانے میں آج بھی کامیاب قرار دیا جاتا ہے۔ ویسے بھی جانوروں کے بعض خوائص بہت ہی سبق آموز رہے ہیں جبکہ بعض جانوروں کے متعلق ان کی عادتوں کے برعکس منفی پروپیگنڈا بھی جاری رہا ہے۔
مثلاً کتا یا سگ کو آزاد کرنے کے ہم انسان ہمیشہ مخالف رہے ہیں جبکہ کتا یا سگ وفا کی وہ انمول شکل ہے کہ جس کی دس صفات پر شیخ سعدی تو یہاں تک کہہ گئے ہیں کہ اگر مذکورہ صفات انسان کے اندر مکمل عملی طور سے پیدا ہو جائیں تو وہ فرشتہ صفت ہو سکتا ہے خیر بات کہاں سے کہاں نکل گئی جبکہ ہم تو اپنی حالیہ اسلام آباد یاترا کے ان دنوں کی بات کرنا چاہ رہے تھے جب ہمیں ٹھٹھرتی رات کے تین بجے یہ بتایا گیا کہ آپ آٹھ افراد کی شہر میں کوئی گنجائش نہیں لہذا اپ سب کو شہر سے باہر دور افتادہ چک شہزاد میں جاکر رہنا ہے۔
ظاہر ہے ہم سب ہانکے جانے والے کی طرح چک شہزاد پہنچا دیے گئے کہ جہاں سے شہر آنا اک جوئے شیر کے مترادف ہی تھا۔ اس فاصلے کا کمال یہ تھا کہ مجال ہے کہ ہم آٹھ، صحافتی گٹھ جوڑ کے کسی سیشن میں بر وقت پہنچ سکے ہوں، اب آپ اسے ہماری بدقسمتی سمجھیئے یا منصوبہ سازوں کی چابکدستی و مہارت کہ کوئی سیشن ہم مکمل اور یکسوئی کے ساتھ نہ کرسکے اور ہر سیشن کی بحث میں ادھورے ادھورے ہی رہے۔ وہ تو بھلا ہو بی ڈی ایم کی انتظامیہ کا کہ ہمیں ادھورے سیشن کی شرکت پر مخنس قرار نہ دیا اور نہ ہی اندھوں میں ریوڑیاں دینے والے کاکڑ ایوارڈ میں مخنسوں کے لئے کوئی ایوارڈ رکھا ورنہ ہم سب سر بازار ہی مخنسوں کی نسل میں داخل کر دیے جاتے اور عزت سادات کی رسوائی کے بعد ہی اپنے شہر کراچی واپس لوٹتے۔
ویسے انجان شہر میں بار بار جگہ کی منتقلی بھی صبر آزمانے کا وہ ہتھیار ہے جس میں اکثر ہم ایسے ہی آزمائے جاتے ہیں اور کیونکہ اس ضمن میں ہم اپنے سیاسی کٹھنائیوں کے تجربے سے چھوٹی موٹی مشکلات کو خاطر ہی میں نہیں لاتے، لہذا اس کی قدر و اہمیت یا قربانی کو غیر سیاسی اور ٹریڈ یونین سے ناواقف شاید نہ سمجھ سکتے ہوں سو وہ چل سو چل کی مانند ہم ایسوں کو ہانکتے رہتے ہیں گو اس سب کے باوجود ہم اور ہمارے آٹھ مندوبین نے اس کٹھن مرحلے کو بھی بڑی خندہ پیشانی سے جھیلا جس کی آزمائش کا اگلا مرحلہ اس وقت آیا جب ہم اپنے چینل کے پرانے اور محبتی ساتھی معاذ کے ہمراہ کھانے کے منتظر تھے کہ رات گئے ایک سندیسہ آیا کہ آپ کا سامان اور تمام اشیا اٹھا لی جائیں۔ ہم نے ہڑبڑاہٹ میں کھانا چھوڑا اور کہا کیوں بھئی اب کیا ہوا؟ دوسری جانب سے بتایا گیا کہ اب سب کو شاہ فیصل مسجد کے عقب میں گیسٹ ہاؤس جانا ہے۔ جہاں رات گزارنی ہے۔ اب بھلا شہر اقتدار کی اس بے سر و سامانی میں صرف اچھا یا ہاں کے سوا کیا کر سکتے تھے۔ سو مجبور ہو کر دوستوں کو سامان اٹھانے کی اجازت دینی پڑی۔
سامان کی منتقلی کا مرحلہ دوستوں نے کیسے طے کیا، اس سب سے بے خبر معاذ میاں نے جناح سپر مارکیٹ کی چائے کی دعوت دے ڈالی، ہم معاذ کے ہمراہ جونہی جناح سپر مارکیٹ پہنچے تو ہمارے محبی اور آر آئی یو جے کے سیکریٹری آصف بشیر چوہدری نے آواز دی کہ یہاں آئیے اور چائے پیجئے، وہاں افضل بٹ، مظہر عباس، مبارک زیب، احتشام، جاوید جتوئی و دیگر دوست پہلے سے ہی موجود تھے۔ چائے پینے کا یہ مرحلہ رات ایک بجے جب ختم ہوا تو ہمارے پچھڑے اور دربدر دوستوں نے نئی منتقلی کی جگہ کا نقشہ ہماری رہنمائی کے لئے بھیج دیا، سو معاذ نے گاڑی کا رخ شاہ فیصل مسجد کی جانب کر دیا۔
رات کے اس پہر ہم انجان شہر میں معاذ کے رحم و کرم پر ان دیکھی منزل کی طرف رواں دواں تھے جس جگہ کو معاذ نے بڑی مہارت کے ساتھ کھوج لیا، ابھی ہم اس عمارت کے صدر دروازے کی تلاش میں تھے کہ معاذ کی آواز آئی کہ کاکا یہ دیکھئے سور ٹہل رہے ہیں رات کے اس پہر سور دیکھ کر احساس ہوا کہ ہمیں اب رات جانوروں کے درمیان ہی گزارنی ہوگی، تلاش اور خوف کی ملی جلی کیفیت میں ہم عمارت کے صدر دروازے پر پہنچے ہی تھے کہ گارڈ نے آواز دی کہ صاحب جلدی آئیے ورنہ سور اندر آ جائیں گے اس آواز پر ہماری گاڑی زناٹے بھرتی ہوئی گیٹ کے اندر داخل ہو گئی اور ہم خود کو سوروں سے محفوظ سمجھنے لگے۔
جیسے تیسے رات گزری کہ تو کیا دیکھتے ہیں کہ صبح سے بندروں نے ہمارے کمرے کی گیلری گھیری ہوئی ہے اور خوب آزادانہ دندنا رہے ہیں جب سامنے بندروں کی شرارتیں اور اچھل کود دیکھی تو گزری رات میں پریس کلب کے ناچتے گاتے وہ احباب یاد آنے لگے جو انتخابی عمل میں نہ جانے کیوں خود کو منتخب سمجھ رہے تھے اور اپنی سلیکشن اور بندر بانٹ پر ڈھول تاشے کی تھاپ پر بلاوجہ ناچ گا رہے تھے۔
بات یہیں ختم ہو جاتی تو غنیمت تھا کہ دوسری صبح ہمارے ارد گرد بندر اور سور شاہ فیصل مسجد کے عقب میں ایک احاطے کی جانب بڑھتے ہوئے نظر آئے معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ یہ سور اور بندر روزانہ کی بنیاد پر فوجی آمر ضیا کی قبر کا طواف باقاعدگی کے ساتھ کر کے اس گھنے جنگل میں اپنے رہنے کا جواز ڈھونڈتے ہیں اور یوں یہ ناچتے گاتے بندر آمرانہ مزاج اور غیر منتخب افراد کے لئے اپنی وفاداری ثابت کرتے رہتے ہیں۔



شکر کریں فقط قرد و خنزیرسے ہی پالا پڑا۔ عام شام ان دنوں اس جگہ تیندوے اور چیتے بھی سیر سپاٹا کرتے پائے جاتے ہیں۔ لگڑبھگڑ اور گیدڑ کے علاوہ لومڑیاں اس کے علاوہ ہیں۔