کھلاڑی پلٹ کر پوچھ لیں تو کیا جواب ہو گا؟


چیمپئنز ٹرافی میں نیوزی لینڈ اور ہندوستان سے شکست اور ٹورنامنٹ سے باہر ہونے کے بعد پاکستانی ٹیم کے کھلاڑیوں کی تذلیل اور تضحیک کا خوفناک سلسلہ شروع ہو گیا۔ الیکٹرانک چینلز کے پروگراموں میں کھلاڑیوں پر بے رحمانہ لعن طعن کی جا رہی ہے۔ پرنٹ میڈیا نے انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنا رکھا ہے اور بے قابو سوشل میڈیا پر کھلاڑیوں کو ایسی فحش گالیاں تک دی جاتی ہیں جنہیں ضبط تحریر میں لانا ممکن نہیں۔ اس رد عمل کا یہ جواز دیا جاتا ہے کہ لوگ کرکٹ کے کھلاڑیوں سے جنون کی حد تک محبت کرتے ہیں۔ اس لیے جب کھلاڑی ان کی توقعات پر پورا نہیں اترتے تو وہ غضب ناک ہو جاتے ہیں اور ان کا غصہ تہذیب کی حدوں کو توڑ دیتا ہے۔ یہ ایک غلط اور غیر منطقی جواز ہے جسے قبول کرنا معاشرے میں پہلے سے موجود خطرناک جنونیت کو مزید ہوا دینے کے مترادف ہے۔

کرکٹ کا میچ ہارنے پر جنونی کیفیت میں آ کر کھلاڑیوں کی حد درجہ تذلیل کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ یہ طرز عمل کھلاڑیوں کو ہمیشہ خوف زدہ رکھے گا اور وہ کبھی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکیں گے۔ اس سوال پر غور کرنا زیادہ اہم ہے کہ ہم عدم برداشت کی انتہاؤں پر کیوں پہنچ چکے ہیں۔ ہمارا نوجوان جنون اور بدتہذیبی کے کلچر کی زد میں کیسے آیا؟ برداشت اور رواداری کی مہذب روایات کیوں زوال پذیر ہوئیں، دلیل کی بجائے تشدد اور گالی سے اپنی بات منوانے اور نقطہ نظر مسلط کرنے کا رجحان ہمارے مزاج کا حصہ کیسے بن گیا؟ اس پیچیدہ صورت حال کی ایک سے زیادہ سیاسی، معاشی اور سماجی وجوہ ہیں جن کا تجزیہ کیا جانا چاہیے۔

تاریخ کے تناظر میں جائزہ لینے پر ایک وجہ یہ سامنے آئے گی کہ اگر کوئی ملک، طویل مدت تک ناکامیوں اور محرومیوں کا شکار رہتا ہے اور تبدیلی کی راہیں مسدود ہو جاتی ہیں تو انتہاپسندی، لوگوں میں جنم لینا شروع کرتی ہے اور اکثر جنون اور فاشزم کی شکل اختیار کر لیتی ہے؟ اس حوالے سے جرمنی کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ ہٹلر ایک رضاکار فوجی کے طور پر پہلی جنگ عظیم میں شامل تھا، جنگ کے دوران زخمی ہو کر وہ عارضی طور پر بینائی سے محروم ہو گیا۔ جنگ میں شکست کے بعد جرمنی کو ذلت آمیز معاہدہ ورسائی قبول کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ اس معاہدے کے مطابق جنگ کی پوری ذمہ داری جرمنی پر عائد کر دی گئی اور اس سے 1921 میں 31.5 ارب ڈالر کا تاوان وصول کیا گیا۔

جرمنی کو اپنے تیرہ فیصد علاقے اور بارہ فیصد آبادی نیز لوہے اور کوئلے کی کانوں کے بڑے حصے سے محروم ہونا پڑا، فوج بہت کم کرنے کے ساتھ ایر فورس اور آبدوز رکھنے کی ممانعت کر دی گئی۔ ان ذلت آمیز شرائط کی وجہ سے جرمنی میں بھیانک بے روزگاری پھیلی اور معاشی بحران پیدا ہو گیا، اسی دوران 1933 کی عظیم کساد بازاری ( Great Depression) کی لہر نے جرمنی کی رہی سہی معیشت کو مزید تباہ کر دیا۔ اس صورت حال نے جرمنی کے عوام میں دنیا سے نفرت اور انتہا پسند نسل پرستی کے جذبات پیدا کیے جسے ہٹلر نے اپنی نازی پارٹی کے ذریعے فاشزم میں تبدیل کر دیا۔ ہٹلر نے جرمن عوام میں ابھرتی ہوئی نفرت کو پاگل پن کی آخری حد تک پہنچا کر غیر معمولی عوامی مقبولیت حاصل کر لی۔ جمہوری عمل کے ذریعے اقتدار میں آنے کے فوراً بعد وہ انسانی تاریخ کا سفاک ترین فاشسٹ ڈکٹیٹر بن گیا۔ اس نے جمہوری اداروں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا اور فسطائی ریاست قائم کر لی۔

نفرت اور جنون کی حرکیات کا اپنا نظام ہوتا ہے۔ اس کی گرفت میں آنے کے بعد نجات کا شاذ و نادر ہی کوئی پرامن راستہ ملتا ہے۔ جو حکومت نفرت کی بنیاد پر وجود میں آتی ہے اس کی بقا بھی نفرت کی آگ پھیلانے میں مضمر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جرمنی کو جنگ کے جہنم میں ڈالنا ہٹلر کی ناگزیر ضرورت بن گئی۔ وہ پورے یورپ کو فتح کرنے کے جنون میں پولینڈ پر حملہ آور ہوا جس کے بعد دوسری عالمی جنگ کے شعلے بھڑک اٹھے۔ اس عالمی جنگ میں 7 سے 8 کروڑ ہلاکتیں ہوئیں اور جرمنی کے 53 لاکھ لوگ مارے گئے۔ ہٹلر پر جنگی جنون کا اتناُ غلبہ تھا کہ اس نے سوویت یونین پر حملہ کر دیا جس سے اس نے جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کیا تھا۔ صرف اسٹالن گراڈ کی ایک لڑائی میں 41 لاکھ سے زیادہ جانوں کا اتلاف ہوا۔

تاریخ کا مطالعہ یہ بھی بتاتا ہے کہ دنیا کی تقریباً وہ تمام ریاستیں جہاں طویل عرصے تک یک جماعتی، شخصی یا فوجی آمریتوں کا تسلط رہا وہ انتہا پسندی کا شکار ہو کر خانہ جنگیوں یا شورشوں کا شکار ہو گئیں۔ مشرق وسطیٰ کے کئی ملک طویل عرصے سے اس نوعیت کی آمریتوں کی گرفت میں رہ کر خانہ جنگی کی زد میں آئے اور ملبے کے ڈھیر بن گئے۔ اس حوالے سے صرف شام کی مثال پیش ہے جہاں خانہ جنگی میں 6 لاکھ سے زیادہ ہلاکتیں ہو چکی ہیں جب کہ 67 لاکھ لوگوں کو اپنا گھر بار چھوڑ کر دربدر ہونا پڑا ہے۔

پاکستان پر 32 سال فوجی آمریت کا براہ راست تسلط رہا اور 77 سال کی تاریخ میں کوئی وزیر اعظم اپنی آئینی میعاد پوری نہ سکا۔ ملک میں موجود جبر اور گھٹن کے ماحول نے معاشرے میں، مذہبی انتہا پسندی اور بد ترین سیاسی تقسیم پیدا کر دی۔ جمہوری نظام میں ہر طبقے کی نمائندگی ہوتی ہے لہٰذا اختلافات اور تضادات شدید محاذ آرائی میں تبدیل نہیں ہوتے۔ پاکستان ایک کثیر قومی، کثیر لسانی اور کثیر مسلکی وفاق ہے۔ اس ملک کی خوش قسمتی کہیے کہ وفاقی پارلیمانی آئین اور سیاسی جماعتوں کی موجودگی کے باعث جمہوریت نے ہر پسپائی کے بعد راستہ بنا کر پاکستان کو اب تک اس خطرناک بحران سے بچا رکھا ہے جس کا سامنا شام اور دیگر ملکوں کو کرنا پڑا ہے۔

لوگوں میں تحمل و برداشت کا جذبہ جمہوری عمل پیدا کرتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کے درمیان بار بار انتخابی معرکے ہوتے ہیں جس سے لوگوں میں فتح کو ہضم اور شکست کو خوش دلی سے قبول کرنے کی عادت پیدا ہوتی ہے۔ وہ انتہائی جوش کے عالم میں بھی ہوش کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے۔ ملک میں اگر جمہوری اور انتخابی عمل بلا رکاوٹ جاری رہتا تو آج ہم پر انتہا پسندی کا غلبہ نہ ہوتا۔ اس کی بجائے، برداشت اور رواداری کی مہذب روایات ہمارے قومی مزاج کی شناخت بن چکی ہوتیں۔

کھلاڑیوں پر غصہ اتارتے وقت یہ انتہائی اہم حقیقت بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ معاشی ترقی کے بغیر کوئی ملک کھیل سمیت زندگی کے کسی شعبے میں نمایاں مقام حاصل نہیں کر سکتا۔ ہر کھیل سے متعلق ٹیم اور کھلاڑیوں کی تیاری کے لیے اعلیٰ ٹیکنالوجی کے علاوہ کئی پیشہ ور ماہرین کی مستقل خدمات درکار ہوتی ہیں جس پر لاکھوں ڈالر خرچ کیے جاتے ہیں۔ کم ترقی یافتہ ملک اتنے بھاری خرچ کے متحمل نہیں ہو سکتے لہٰذا بین الاقوامی مقابلوں میں ان کے کھلاڑی کامیابیاں حاصل نہیں کرتے۔ 2024 اولمپکس مقابلوں میں دو سو سے زیادہ گولڈ میڈل دنیا کے صرف دس ترقی یافتہ ملکوں نے حاصل کیے۔ اسی طرح 2022 کے کامن ویلتھ گیمز میں 280 گولڈ میڈل میں سے 225 گولڈ میڈل صرف 8 ترقی یافتہ ملکوں نے جیتے۔ معاشی ترقی سے کھیل کا معیار کتنا بلند ہوتا ہے، چین اس کی واضح مثال ہے۔ چین نے 1988 کے اولمپکس میں سونے کے صرف 5 تمغے جیتے اور 11 ویں پوزیشن حاصل کی۔ گزشتہ چار دہائیوں میں وہ ترقی کر کے دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن گیا۔ اس دوران چین نے کھیلوں پر بھاری سرمایہ کاری کی جس کا شان دار نتیجہ 2024 کے اولمپکس میں سامنے آیا۔ وہ سونے کے 40 اور چاندی کے 27 تمغے حاصل کر کے میڈل ٹیبل پر امریکہ کے بعد دوسری پوزیشن پر پہنچ گیا۔

کرکٹ کی ٹیم اور اس کے کھلاڑیوں پر غصہ اتارنے اور ان کی دل آزاری کرنے سے کچھ نہیں بدلے گا۔ یہ مقبول عام نعرہ بھی بے سود ہے کہ کاروباری اشرافیہ اور حکومت کھیلوں پر پیسہ کیوں خرچ نہیں کرتی۔ ملک دیوالیہ ہونے سے بال بال بچا ہے، معیشت کی شرح نمو منفی سے نکل کر بہ مشکل دو فیصد پر آئی ہے اور ہر ادارہ زوال پذیر ہے۔ ان حالات میں حکومت سے زیادہ توقعات رکھنا فضول ہے۔ جہاں تک کاروباری اداروں کا تعلق ہے تو وہ اپنی مارکیٹنگ کے لیے کھیل اور کھلاڑیوں کو اسپانسر کرتے ہیں۔ کساد بازاری کے موجودہ ماحول میں کھیلوں کی مالی سرپرستی ان کی آخری ترجیح ہو گی۔

ہمیں یہ تلخ حقیقت مان لینی چاہیے کہ کرکٹ کا زوال ہمارے قومی زوال کا حصہ ہے۔ ہم نے ترقی کی بجائے تنزلی کی جانب سفر کیا ہے۔ معاشی اور سماجی ترقی کے تمام اشاریوں میں ہم اپنے خطے تک میں سب سے پیچھے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گزرتے وقت کے ساتھ ہمارا، احساس زیاں اور مزاج کا چڑچڑا پن بڑھتا جا رہا ہے۔ اس خطرناک رجحان کو مزید شدید ہونے سے روکنا بہت ضروری ہے۔ یہ کام کھلاڑیوں کی تذلیل سے نہیں بلکہ خود احتسابی سے ممکن ہو گا۔

اپنی اجتماعی ناکامیوں کا ملبہ کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں پر ڈال کر راہ فرار اختیار نہ کی جائے۔ ذرا سوچیں اگر کھلاڑی پلٹ کر ہم سے پوچھ لیں کہ ہم نے صرف کرکٹ کا میچ ہارا ہے لیکن آپ سب نے اپنے شعبوں میں حریف ملکوں کے خلاف کیا ”عظیم فتوحات“ حاصل کی ہیں تو ہمارے پاس ان کے سوال کا کیا جواب ہو گا؟

Facebook Comments HS

ندیم اختر، سندھ

ندیم اختر ہے کی دلچسپی کے شعبے تصنیف و تالیف، صحافت اور ترجمہ نگاری نیز قومی اور عالمی امور ہیں۔ ندیم اختر سندھ نیشنل سٹو ڈنٹس فیدریشن کے بانی سینئر نائب صدر رہے ہیں جس کے بانی صدر جام ساقی تھے۔ ملک کی جمہوری اور قومی حقوق کی جدوجہد میں شریک رہے، کئی جریدوں کی ادارت کر چکے ہیں، ڈاکٹر کامران اصدر علی، ڈاکٹر احمد یونس صمد، ڈاکٹر ناظر محمود، ڈاکٹر جعفر احمد کی کتابوں کے علاوہ ڈاکٹر مبارک علی اور دیگر دانشوروں کی تصانیف اور مضامین کا ترجمہ بھی کر چکے ہیں۔

nadeem-akhtar-sindh has 19 posts and counting.See all posts by nadeem-akhtar-sindh

One thought on “کھلاڑی پلٹ کر پوچھ لیں تو کیا جواب ہو گا؟

  • 01/03/2025 at 3:16 شام
    Permalink

    پاکستان میں کھیلوں کی عمومی صورتحال ایک پیچیدہ صورت اختیار کرچکی ہے۔
    18 ویں ترمیم کے تناظر میں کھیل صوبائی ذمہ داری ہے لیکن کس حد تک ہے یہ کسی کو نہیں پتہ۔
    کرکٹ اور معدودے چند کھیلوں کو چھوڑکر جن کے اخراجات چند گروپ یا لوگ یا ادارے اٹھارہے باقی کھیلوں کا حال پتلا ہی رہے گا بالخصوص وہ جو ٹیم کی شکل میں کھیلے جاتے ہیں۔
    اسنوکر بلیئرڈ کو کراچی کے تاجروں نے، اسکواش، بلائنڈ کرکٹ اور اسکیینگ کو ایئرفورس نے گود لیا ہوا ہے تو اس کے کافی کچھ اخراجات وہ اٹھالیتے ہیں۔

    اسی طرح شطرنج کی طرح اسکریبل کو آواری فیملی کی قیادت میں چند کراچی کے لوگوں نے شاندار طریقے سے گود لیا ہوا ہے یہی وجہ ہے کہ بلائنڈ کرکٹ، اسنوکر بلیئرڈ اور اسکریبل میں پاکستان کہیں آگے ہے۔
    اسکواش کے لئے بھی بے انتہا سہولتیں موجود ہیں لیکن قطرے کو گہر ہونے تک ایک عرصہ لگتا ہے۔

    انفرادی کھیلوں میں بھی ٹریک اینڈ فیلڈ کے کھیلوں میں کھلاڑی کوئی بھی معجزہ اپنے بل بوتے پر دکھارہے ہیں۔ ویٹ ؛لفٹنگ ہو باکسنگ یا پاور لفٹنگ ان میں بھی ہمارے کھلاڑی کچھ بھی کرسکتے ہیں۔
    مشکل ٹیم کے کھیلوں کی ہے جہاں سیاست اپنے عروج پر نظر آتی ہے اور محض سیاست ہی نہیں بعض اوقات مذہبی گروہ بندی بھی ان میں تکلیف دہ حد تک نظر آتی ہے۔

    ہاکی، فٹ بال، والی بال کو ایک طرف رکھیں کرکٹ کا اس وقت سب سے بڑا مسئلہ اس کے پاس موجود لمبا پیسہ اور طاقت ہے۔ میں اس بات کا قائل ہوں کہ ضروری نہیں کہ کھیل کے کسی ادارے کے سربراہ نے وہ کھیل خود بھی کھیل رکھا ہو۔ وجہ سادہ سی ہے کہ آج کے دور میں آپ اچھے منتظم ہوں اور اگر اپنی فیڈریشن کے لئے پیسہ لا سکتے ہوں تو آپ سے بہتر کوئی نہیں۔ کیوں کہ ٹیم سلیکٹرز نے سلیکٹ کرنی ہے اور کھلاڑیوں کو تھوڑی بہت تربیت کوچز نے دینی ہے یا میچ کے لئے پلاننگ کرنی ہے ان تمام کاموں کے لئے سی ای او یا چیئرمین کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔ بلکہ خود پی آئی اے جیسے ادارے کے لئے بھی ضروری نہیں کہ اس کا سربراہ پائلٹ یا انجینئر ہو۔ اگر آُ پ بزنس کی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں تو ملک ریاض جیسا شخص بھی پی آئی اے اسٹیل مل یا کرکٹ کو بہ آسانی اور بہت اچھے طریقے سے چلا لے گا ۔ ایئرلائن کو سی او او (جو ظاہر ہے پائلٹ ہوسکتا ہے) چلاتا ہے نا کہ چیئرمین یا سی ای او۔

    نجم سیٹھی ہوں ذکا اشرف یا سفارت کار شہریار خان یا کوئی اور یہ سب اگر بزنس یا پیسے کی اچھی سمجھ بوجھ رکھتے ہوں تو پی سی بی کے لئے اچھے سربراہ ثابت ہوسکتے ہیں البتہ ان لوگوں کی عمر یا ان کے دوسرے کاروبار ان کے لئے مسئلہ بن سکتے ہیں۔

    ایئرمارشل نورخان کا ہم ہمیشہ حوالہ دیتے ہیں وجہ یہی تھی کہ اختیارات ان کے پاس تھے۔ اچھے ایمان دار منتظم تھے اور نتیجہ ہمارے سامنے رہا آج تک ہم انہیں یاد رکھتے ہیں چاہے کھیل ہو یا پی آئی اے۔

    دوسری طرف مانا کہ لکھاری کا تعلق این ایس ایف سے رہا ہے یعنی پیپلزپارٹی ٹائپ کی طلبہ تنظیم اسی لئے ہر تحریر میں مارشل لا یا فوجی آمریت کا گھسنا ضروری ہے۔ بس اس دور کا یعنی اسکندر مرزا سے یحیی کے دور تک بھٹو نے جو فوائد کشید کے وہ یاد نہیں رہتے۔

    پاکستان نے بھی اگر کھیلوں میں سنہری دور دیکھا تو اس کی ایک وجہ بھی یہی ڈنڈا پیر آمریت تھی جس نے تعلیم سے لیکر سائنس یا کھیل ہر جگہ عوام اور ریاست کو کچھ نہ کچھ دیا ہی تھا۔ ضیاء کے دور تک بھی کھیلوں کا حال اتنا پتلا نہیں تھا۔ زوال 1988 سے آنا شروع ہوگیا تھا جب سیاست میں پیسہ اور رشوت عام ہونا شروع ہوئی۔
    جب ہارس تریڈنگ پیسے کے لئے ہونے لگی تو کھلاڑی میچ فکسنگ میں کیوں نہیں جائیں گے۔

    بہرحال آج بھی اگر محسن نقوی فیصلہ کرلیں کہ انہوں نے سماء ٹی وی چلانا ہے پاکستان کرکٹ یا وزارت داخلہ تو بڑی مہربانی ہوگی۔ پی سی بی ایک کل وقتی اور انتہائی اہم کام ہے جب سربراہ ہی جز وقتی ہوگا تو نتیجہ بھی ایسا ہی ہوگا۔

Comments are closed.