دہشت گردی کے اسباب کا جائزہ


پاکستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ کچھ عرصہ قبل اس مسئلہ پر قابو پا لیا گیا تھا مگر اب یہ دوبارہ سر ابھارنے لگا ہے۔ ایک بات یاد رکھیں نظریاتی گروہوں کو محض عسکری طاقت سے نیست و نابود کرنا دائرہ امکان سے خارج ہے کیونکہ ان کی طاقت دن بدن بڑھتی ہے وہ عام لوگوں کے اذہان میں اس نظریے کا بیج داخل کر کے اپنی توسیع جاری رکھتے ہیں۔

جب طالبان نے کنٹرول سنبھالا تھا تو میں نے اس وقت بھی کہا تھا کہ یہ لوگ دہشت گردی کے بڑھاوے کا سبب بنیں گے اس وقت بہت سے لوگوں نے اس بات کی مخافت کی جبکہ میرا یہ تجزیہ ان کے لٹریچر کے مطالعہ کی بنیاد پر تھا۔ یہ لوگ پاکستانی عوام یا حکمرانوں کو واجب القتل مرتد سمجھتے ہیں۔ یہاں تفصیل کا موقع نہیں ماضی قریب کے ایک واقعہ کی جانب کی اشارہ کرتا ہوں۔

ایک بات یاد رہے کہ افغانستان شروع سے ہی پہاڑی علاقہ رہا ہے یہاں کے لوگ دوسرے علاقوں میں جا کر لوٹ مار کر کے گزارہ کرتے رہے ہیں ان کے لئے جنگ ذریعہ معاش رہی ہے۔ اب اس پس منظر کو ذہن میں رکھیں تو سید احمد اور اسماعیل دہلوی نے جو جہاد کے نام پر دہشت گردی کا آغاز کیا مسلمانوں سے جنگیں لڑیں یا مقامی لوگوں کی قوت کو کمزور کر کے انگریزی قوت کو مضبوط کیا وہ اس موجودہ دہشت گردی کا پیش خیمہ تھی۔

تقویۃ الایمان میں ایسے ہی پوری امت پر شرک کا فتویٰ نہیں لگایا گیا اور نہ ہی مسئلہ خلافت پر موصوف نے پوری کتاب منصب امامت لکھی اور ایسے ہی اپنے پیر کے قصیدے صراط مستقیم میں لکھے۔ اس دور کے حالات اور اس لٹریچر کا بریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو کفر کے فتوے لگا کر احیاء خلافت کی ایک تحریک کا آغاز کیا گیا۔ جو میری دانست میں دہشت گردی کا بیج بونے کے مترادف تھا۔

اب اس نظریاتی گروہ کو ہماری ریاست نے بھی بعض اوقات استعمال کیا ہے جو آخر کار خود ریاست پر ہی حملے کا سبب ہے۔ آغاز میں قبائلیوں کو کشمیر کی جنگ کے لئے استعمال کیا گیا لیکن افغان جہاد میں ان کے کردار نے اس صورتحال کو مزید پیچیدہ کیا۔ جہاں کھلے عام کلاشنکوف کلچر معاشرے میں سرایت کر گیا وہاں نظریاتی طور پہ تشدد پسند رویہ بھی بڑھا۔

پھر احیاء خلافت کے نام پر جو کچھ افغانستان میں ہوا اور جو اب تک ہو رہا ہے وہ دنیا کے سامنے ہے۔ یعنی اصل مسئلہ احیاء خلافت کے نام پر گوریلا قسم کی جھڑپوں کا ہے جس میں قاتل خود کو جنتی اور حضرت حسین کی سنت پر عامل سمجھتے ہوئے مقتول کو بے دین سمجھ کر مار دیتا ہے۔ مقتول چاہے عملی طور پر کمزور ہو یا پھر عالم و مفتی ہو قاتل کو اس سے غرض نہیں ہوتی بلکہ وہ محض اپنے نظریے سے اختلاف کے سبب ایسے اشخاص کی جان لینا اپنا فرض سمجھتا ہے۔ وقتی مفادات کے پیش نظر ایسے نظریات کے فروغ نے بہت سے مسائل پیدا کیے۔

اس سلسلہ میں مولانا مودودی کی کتب پر تبصرہ بھی ضروری ہے۔ موصوف نے خلافت کے احیاء کے عنوان سے بہت کچھ سپرد قلم کیا ہے۔ جو اس دور میں مارشل لاء کے خلاف ایک ردعمل تھا جس کے بعد ازاں بھیانک نتائج برآمد ہوئے۔ افغان جہاد میں جماعت اسلامی کا کردار بھی ڈھکا چھپا نہیں رہا یہی لوگ پاک فوج کے شہیدوں کی شہادت سے انکار اور دہشت گرد طبقے کی ولایت پر اصرار کرتے رہے۔ جس کی بدولت دہشت گردی کا مسئلہ مزید پیچیدہ ہوتا گیا۔ یہاں اس کے ساتھ مقتدرہ کی پالیسی کا ذکر بھی ضروری ہے جنرل اسلم بیگ نے اس کا تذکرہ اپنی کتاب میں بھی کیا۔ موصوف نے لکھا کہ قبائلی لوگ ناراض ہیں انہیں واپس لا کر عوامی دھارے میں شامل کرنا چاہیے۔ یہ تجویز اس صورت میں درست تھی جب ان قبائلی حضرات کا ریاست سے کسی انتظامی مسئلہ پر اختلاف ہوتا ہے جبکہ یہ اختلاف نظریاتی تھا۔ اس لئے جب خان صاحب کے دور میں اس تجویز کو عملی جامہ پہنایا گیا تو دہشت گردی کی لہر بڑھ گئی۔ بہرحال جہاں اس دہشت گردی کے سبب اس کا نظریاتی ہونا ہے وہاں مقتدرہ کا وقتی مفادات کے زیر اثر ان کا استعمال بھی اس کے بڑھاوے کا سبب ہے اور یہ بات متحقق ہوئی کہ انہیں واپس لانا بھی ایک خوفناک غلطی تھی۔ اس لئے ریاست اگر اس مسئلے سے چھٹکارا چاہتی ہے تو اسے احیاء خلافت کے اس نظریے کی حقیقت کو واضح کرتے ہوئے یہ باور کرنا ہو گا کہ اسلام میں ریاست کے تصور کے متعلق لچک موجود ہے اور یہ کسی خاص ریاستی نظام کے گرد نہیں گھومتا۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنی پالیسی کو یکسو کرنا بھی بہت ضروری ہے۔ وگرنہ حالات میں مزید بگاڑ کا خدشہ ہے۔

Facebook Comments HS