دارالعلوم حقانیہ پر حملہ حقیقت کیا ہے؟


اکوڑہ خٹک میں دارالعلوم حقانیہ کی مسجد پر خودکش حملہ ایک ایسا سانحہ ہے جس نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ مدارس پر دہشت گردی کے الزامات تو پہلے بھی لگتے رہے ہیں، لیکن اگر مدارس واقعی شدت پسندی کے مراکز ہیں تو پھر دہشت گرد انہی کو نشانہ کیوں بنا رہے ہیں؟ اگر یہ مکمل طور پر پُرامن تعلیمی ادارے ہیں تو پھر دہشت گردی کے خلاف ان کی اجتماعی آواز اور کردار اتنا مدھم کیوں رہا ہے؟ یہ واقعہ ایک بار پھر مذہبی فرقوں، مدارس، دہشت گردی، ریاستی پالیسیوں اور بین الاقوامی مفادات کے پیچیدہ گٹھ جوڑ کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

دارالعلوم حقانیہ محض ایک مدرسہ نہیں، بلکہ جنوبی ایشیا میں دینی تعلیم کا ایک اہم مرکز ہے۔ 1947 میں اکوڑہ خٹک میں قائم ہونے والا یہ ادارہ افغان جنگ کے دوران عالمی سیاست کا حصہ بنا۔ 1980 کی دہائی میں جب امریکہ، سعودی عرب اور پاکستان نے سوویت یونین کے خلاف افغان جہاد کی حمایت کی، تو یہی مدارس جہادی فکر کے مراکز بن گئے۔ افغان طالبان کے بانی ملا عمر اور حقانی نیٹ ورک کے سربراہ جلال الدین حقانی سمیت کئی اہم شخصیات یہیں سے فارغ التحصیل ہیں۔ انہی نسبتوں کی وجہ سے بعض حلقے اسے ”طالبان یونیورسٹی“ بھی کہتے ہیں۔ لیکن وقت کے ساتھ حالات بدلے، جذبات بدلے، مفادات تبدیل ہوئے اور آج وہی مدرسہ شدت پسندوں کے نشانے پر ہے جسے کبھی عسکری حکمت عملی کے تحت پروان چڑھایا گیا تھا۔

حالیہ خودکش حملہ نماز جمعہ کے فوراً بعد ہوا، جب طلبہ اور اساتذہ سمیت مدرسہ کے مہتمم مولانا حامد الحق مسجد سے نکل رہے تھے۔ اطلاعات کے مطابق، مولانا حامد الحق، جو ماضی میں شدت پسندی کے خلاف نسبتاً نرم موقف اختیار کرتے رہے لیکن اب حال ہی میں خواتین کی تعلیم کی اہمیت بیان کرتے رہے جو افغان طالبان کی پالیسی کے بالکل متضاد ہے، ممکنہ طور پر اس حملے کا ہدف تھے۔ اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب دہشت گردوں کے لیے دشمنوں کی فہرست وسیع ہو چکی ہے۔ اگر ریاستی ادارے، سیکیورٹی فورسز اور عوام پہلے سے ان کے نشانے پر تھے، تو اب وہ مدارس اور مذہبی رہنماؤں کو بھی بخشنے کے لیے تیار نہیں۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ کوئی دینی ادارہ دہشت گردوں کے نشانے پر آیا ہو۔ مولانا سمیع الحق کا قتل، جامعہ فاروقیہ کراچی پر حملہ، اور مولانا عادل خان کی ٹارگٹ کلنگ اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر مدارس واقعی شدت پسندی کے گڑھ ہیں، تو پھر دہشت گرد ان پر حملے کیوں کر رہے ہیں؟ اور اگر یہ امن کے مراکز ہیں تو پھر ان کا واضح اور متفقہ موقف دہشت گردی کے خلاف اتنا غیر موثر کیوں رہا ہے؟

پاکستان میں مدارس کی اصلاحات ایک حساس معاملہ ہے۔ پرویز مشرف کے دور میں مدارس کی رجسٹریشن کا عمل شروع کیا گیا، مگر مذہبی حلقوں کی مخالفت کے باعث مکمل طور پر کامیاب نہ ہو سکا۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت بھی مدارس کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی کوشش کی گئی، مگر نتیجہ زیادہ مختلف نہ نکلا۔ پھر اس کے بعد عمران خان حکومت میں بھی قانون سازی کی گئی اور حالیہ مدارس رجسٹریشن بل اسی بحث کو ایک نئی شکل میں سامنے لے آیا ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ مدارس کو ریاستی نگرانی میں لانا ضروری ہے تاکہ دہشت گرد عناصر ان کا غلط استعمال نہ کر سکیں، جبکہ مذہبی حلقے اسے مدارس کی خودمختاری پر حملہ قرار دے رہے ہیں۔

اصل سوال یہ ہے کہ کیا صرف مدارس کی نگرانی اور رجسٹریشن شدت پسندی کا مسئلہ حل کر دے گی؟ حقیقت یہ ہے کہ شدت پسندی کی جڑیں صرف مدارس میں نہیں، بلکہ ریاستی پالیسیوں، عالمی طاقتوں کے مفادات اور معاشرتی ناہمواریوں میں بھی ہیں۔ 1980 کی دہائی میں جب ریاست کو جنگجو درکار تھے، تو انہی مدارس کو استعمال کیا گیا۔ 2000 کی دہائی میں جب عالمی منظرنامہ بدلا تو یہی جنگجو دہشت گرد کہلانے لگے۔ ایسے میں مدارس ریاستی کنٹرول میں لانا کیا واقعی دیرپا حل ہو سکتا ہے؟

اکوڑہ خٹک کا یہ سانحہ ہمیں اس حقیقت سے آگاہ کرتا ہے کہ دہشت گردی صرف ایک مذہبی یا فرقہ ورانہ مسئلہ نہیں، بلکہ ایک پیچیدہ سیکیورٹی چیلنج ہے۔ اس سے نمٹنے کے لیے ریاست، مدارس اور معاشرے کو مل کر کام کرنا ہو گا۔ مدارس کو جدید تعلیمی نظام سے جوڑنا، ان کے نصاب میں سائنسی اور سماجی علوم شامل کرنا، اور انہیں قومی دھارے میں لانا ضروری ہے۔ دوسری جانب، حکومت کو بھی زبردستی اصلاحات مسلط کرنے کی بجائے مدارس سے مذاکرات اور تعاون کا راستہ اپنانا ہو گا۔ اگر ہم نے ان چیلنجز کا بروقت ادراک نہ کیا تو یہ آگ پھیلتی جائے گی، اور شاید پھر اسے بجھانے کے لیے ہمارے پاس وقت اور وسائل کم پڑ جائیں۔

یہ جنگ محض دہشت گردوں کے خلاف نہیں، بلکہ سوچ کی جنگ بھی ہے۔ اگر ہم شدت پسندی کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ریاستی پالیسیوں، مذہبی بیانیے اور تعلیمی نظام میں بنیادی تبدیلیاں لانی ہوں گی۔ ورنہ یہ سوال ہمیشہ باقی رہے گا کہ یہ جنگ آخر کب ختم ہوگی؟

Facebook Comments HS