آپ ہی اپنی اداؤں پہ ذرا غور کریں


یہ دسمبر 2005 کی ایک برفیلی دوپہر کا قصہ ہے چین کے دارالحکومت بیجنگ میں پاکستانی سفارتخانے نے ہمارے وفد کے لئے ظہرانے کا اہتمام کیا تھا۔ ظہرانے کے بعد وہاں تعینات ایک پاکستانی صحافی نے میرے ساتھ ٹہلتے ہوئے شکوہ کیا۔ چین ہمارے ساتھ دوستی کے دعوے کرتا ہے مگر یہ لوگ ہمیشہ اپنے مفادات کو دیکھتے ہیں۔ میں نے حیران ہو کر اسے دیکھا اور سوال کیا تو آپ کے خیال میں چین کو کیا کرنا چاہیے کیا وہ اپنی مفادات کی بجائے پاکستانی مفادات کا خیال رکھے۔ میں نے ان سے عرض کیا۔ بھائی صاحب کس دنیا میں رہتے ہو۔ ممالک کے درمیان تعلقات ہمیشہ جذبات اور احساسات کی بجائے مفادات کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ یہ دوست ہونا بھائی ہونا پڑوسی ہونا ہم مذہب و ہم زبان ہونا صرف دکھاوے کے الفاظ ہیں اور بس سننے میں اچھے لگتے ہیں یہ عوام کے لئے ہوتے ہیں حکمران ان چیزوں سے آگے سوچتے اور دیکھتے ہیں۔

یہاں تک تو بات درست ہے کہ ممالک کو عالمی قوانین کی روشنی میں اپنے اپنے مفادات کا تحفظ کرنا چاہیے اور ان مقاصد کے حصول کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرنا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے مختلف ممالک اور اقوام کے درمیان مفادات کے حصول کی کوششیں پہلے کی طرح لڑائی جھگڑے اور جنگ و جدل کی بجائے نسبتاً سفارتکاری اور چوری چھپے زور کے استعمال کے ذریعے کی جاتی ہے۔ مگر افسوس کہ آج دنیا کو یہ دن بھی دیکھنا تھا کہ اکیسویں صدی کے نام نہاد جمہوری قانون پسند اور مہذب دنیا کے دو صدور کیمروں کے سامنے ایک دوسرے سے باقاعدہ لڑ رہے ہیں وہ تمام سفارتی آداب، مہمان نوازی کے اصول، مجلس میں نشست و برخاست کے قواعد اور چھوٹے بڑے کی تمیز کچھ بھی باقی نہ رہا۔ یہ صرف دو صدور کے مابین غیر سفارتی مکالمہ یا اختلاف رائے نہیں تھا بلکہ یہ طاقتور کی فرعونیت کا نظارہ اور کمزور کا کٹھ پتلی بننے کا نتیجہ تھا۔ اس میں اگر ایک طرف صدر ٹرمپ دنیا کو یہ باور کرا رہا ہے کہ میں خود کو امریکی پالیسیوں اور معاہدوں کا پابند نہیں سمجھتا ہوں اور میں اپنی مرضی سے اپنی پالیسیاں دنیا پر نافذ کرنے کا اختیار رکھتا ہوں۔ تو دوسری جانب یوکرین کے صدر زیلنسکی کو شاید پہلی مرتبہ احساس ہوا ہو گا کہ انھوں نے امریکہ و یورپ کے بل بوتے پر اپنے ایک طاقتور پڑوسی کے ساتھ طویل جنگ چھیڑ کر کتنی بڑی غلطی کر دی ہے۔

میری نظر میں تو افسوس اس بات کا نہیں کہ دو صدور کے مابین ایک غیر سفارتی انداز میں گفتگو منظر عام پر آئی بلکہ مجھے فکر اس طرز تکلم اور دنیا پر اس قسم کے طرز عمل اور طرز تکلم کے اثرات کا ہے۔ چند دن پہلے بھی میں نے اپنے ایک کالم میں لکھا تھا کہ اگر پینٹاگان اور سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ صدر ٹرمپ کو قابو کرنے میں ناکام رہا تو پوری دنیا کو کرونا کے بعد اس سے بڑے بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اگرچہ دنیا بھر میں امریکہ سمیت سپر پاورز کی پالیسیاں کبھی بھی غریب ممالک کے لئے فائدہ مند نہیں رہی ہیں۔ بلکہ ان ممالک نے کبھی براہ راست اور کبھی اقوام متحدہ کی چھتری تلے کمزور ممالک کا استحصال کر کے ان کی معدنیات سمیت باقی قدرتی وسائل کو بٹورا ہے۔ ان مقاصد کے لئے ان طاقتوں نے آئی ایم ایف، ورلڈ بنک، ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن، اقوام متحدہ، عالمی عدالت انصاف جیسے درجنوں ادارے قائم کیے تھے اور اب تک یہ ممالک انہی اداروں کے سائے تلے ذرا پردے کے پیچھے باقی ممالک کا استحصال کرتے آ رہے ہیں۔ مگر لگتا ہے کہ اب صدر ٹرمپ ان جھمیلوں میں پڑنے اور دوست اور دشمن کا لحاظ کیے بغیر سب کچھ اپنی مرضی سے اور طاقت کے زور پر منوانے پر تل گئے ہیں۔

نتیجہ یہ ہو گا کہ دنیا میں نئی صف بندیاں ہوں گی۔ نئے حلیف اور نئے حریف بن جائیں گے، دوستی اور دشمنی کے پیمانے تبدیل ہوں گے۔ لیکن یہ تبدیلی اس تیزی سے رونما ہو رہی ہے کہ کوئی بھی ملک اور کوئی بھی لیڈر اس غیر روایتی انداز میں تعلقات کو سنبھالنے کے لئے تیار نہیں۔ دیکھنا یہ ہو گا کہ یورپی ممالک بھی صدر ٹرمپ کے آگے ہتھیار ڈال کر اپنی حفاظت کی فکر میں مگن ہو جاتے ہیں یا ان میں اتنی جرات ہے کہ وہ اس تلخ ملاقات اور مکالمے کے بعد بھی روس کے مقابلے میں یوکرین کو سپورٹ کرسکیں۔

جہاں تک پاکستان سمیت مسلم ممالک کا تعلق ہیں ہمیں سیکولر عیسائی اور یہودی دنیا کے معاملات میں پڑنے کی بجائے اپنی سوچ اور توانائی کا مرکز غزہ کو بنانے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ ہو سکتا ہے کہ یوکرین کے معاملے پر شاید یورپ اب بھی اس لیے یوکرین کا ساتھ دے کیونکہ یہ خود ان کی حفاظت کے لئے بھی ضروری ہے مگر جہاں تک غزہ کا تعلق ہے۔ وہ کسی بھی یورپی ملک کے لئے انسانی حقوق سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا ہے۔ اس لیے مسلم خصوصاً عرب ممالک ابھی سے سوچیئے کہ اگر صدر ٹرمپ نے غزہ پر قبضے کے لئے عملی قدم اٹھایا تو مسلم ممالک کا ممکنہ جواب کیا ہو گا؟

Facebook Comments HS