صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 35 : فرار


 

” وہ شخص مبارکباد کے قابل ہے جو آزمائش میں ثابت قدم رہتا ہے کیوں کہ جب مقبول ٹھہرا تو زندگی کا وہ تاج حاصل کرے گا جس کا خدا نے ان لوگوں سے وعدہ کیا ہے جو اس سے محبت کرتے ہیں۔ “ یعقوب 1 : 12

میں نے کیفے جارج میں داخل ہوتے ہوئے گھڑی پر نظر ڈالی تو دس بج کر پانچ منٹ ہوچکے تھے۔ دائیں جانب سامنے ہی ہماری مخصوص میز پر دانی ایل بیٹھا ہوا اخبار پڑھ رہا تھا۔ ان دنوں اسے جان بنانے اور خود کو کڑیل جوان کی حیثیت سے پیش کرنے کا خبط تھا۔ میں نے دور سے ہی اس کے سراپا کا جائزہ لے لیا۔ سیاہ تنگ پتلون پر پیلے رنگ کی ٹی شرٹ، گلے میں سرخ اسکارف اور دونوں آستینیں اوپر چڑھی ہوئیں تاکہ بازوؤں کی ابھری ہوئی مچھلیاں دور سے ہی نظر آجائیں۔

”کیوں بھائی، خیریت؟“ میں نے اس کے سامنے کی کرسی کھینچ کر بیٹھتے ہوئے پوچھا، ”یہ ٹیڈی بوائے کب سے بن گیا؟“

”بس یار، میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ

نو روز و نو بہار و مے و دلبرے خوش است
بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست ”

اس نے ترنم سے فارسی لہجے میں شعر پڑھتے ہوئے اخبار کو تہہ کر کے رکھ دیا۔
”افوہ، خدا خیر کرے، یہ اچانک کیسا دورہ پڑ گیا؟“
”آج کل میں ڈیل کارنیگی کو پڑھ رہا ہوں۔“
”کون سی کتاب؟“
”How to Stop Worrying and Start Living.“
”تبھی چہرے پر اتنا سکون طاری ہے۔“

”میں مذاق نہیں کر رہا۔ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اپنے جذبات کی ڈور اپنے ہاتھ میں ہی رکھوں گا،“ دانی ایل نے اپنی مٹھی دکھاتے ہوئے کہا۔

”کیا بات ہے! آج بڑی فلسفیانہ باتیں کر رہا ہے۔“
”آج میں نے مریم کو اپنی زندگی سے نکال کر خود کو آزاد کر دیا ہے۔“
”یار، اتنی بے دردی سے تو اس کا نام مت لے۔ وہ اب بھی تجھ سے محبت کرتی ہے۔“

”میں بے دردی سے تو نام نہیں لے رہا۔ چوں کہ میں اسے حاصل نہیں کر سکتا لہٰذا میں کیوں اپنی زندگی تباہ کروں۔ میں شاعر بھی نہیں ہوں کہ بقیہ زندگی اس کے لیے قصیدے لکھ کر گزاروں۔ “

باتوں میں پتا ہی نہیں چلا کہ ظریف ویٹر کب چائے لا کر رکھ گیا تھا۔ میں نے چائے دانی اور پیالیاں اپنی طرف سرکا کر چائے بناتے ہوئے کہا، ”یار دانی ایل، تُو مریم سے دوستی قائم کیوں نہیں رکھ سکتا جس کی اسے خواہش ہے۔“

”میں اس سے دوستی اس لیے نہیں کر سکتا کہ میں نے اسے بیوی کے روپ میں دیکھا ہے اور تصور میں اس کے ساتھ وہ لمحات گزارے ہیں جو ایسی دوست کے ساتھ نہیں گزارے جاتے جو بیوی نہ ہو۔“

میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اسے کیا جواب دوں۔ چناں چہ خاموشی سے چائے بنا کر اس کی پیالی میں حسب معمول چار چمچی شکر ڈالی اور اس کی طرف بڑھا دی۔ ان دنوں میں خود بغیر شکر کی چائے پیتا تھا۔

”تو پھر تُو نے کیا سوچا ہے؟“ آخر میں نے خاموشی توڑ کر پوچھا۔

”میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ میں اس سے نہیں ملوں گا۔ کل چرچ بھی اسی لیے نہیں گیا کہ اس کا سامنا نہ ہو جائے۔“

”مگر کہیں نہ کہیں تو سامنا ہو ہی جائے گا۔“
” میں نے اپنا تبادلہ پنڈی کے آفس میں کرا لیا ہے۔ “
”کیا؟ تو یہ شہر چھوڑ کر چلا جائے گا؟“
”یہی ایک راستہ ہے۔“
”تو تُو راہ فرار اختیار کر رہا ہے۔“

”نہیں، میں اسے فرار نہیں سمجھتا۔ میں مریم کو موقع دینا چاہتا ہوں کہ وہ یوحنا عارف کے ساتھ اپنی بقیہ زندگی گزارنے کے متعلق یکسوئی سے سوچ سکے۔“

”مطلب یہ کہ تُونے محبت کی صلیب پر چڑھ کر شہید ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے،“ میں نے مسکرا کر کہا۔

”اس میں شہادت کی کوئی بات نہیں۔ مریم نے مجھ سے محبت کی ہے اور میں اس کے راستے سے ہٹ کر اس کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔“

میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ پھر کچھ سوچ کر مجھے ہنسی آ گئی۔

”پرانے انگریزی ناولوں میں ناکام عاشق آرمی میں بھرتی ہو کر جنگی مورچے پر چلے جاتے تھے،“ میں نے قہقہہ لگا کر کہا۔ دانی ایل کی پیشانی پر بل پڑتے دیکھ کر مجھے احساس ہوا کہ مجھے یہ بات نہیں کہنی چاہیے تھی۔

”آئی ایم سوری، میرا مقصد تیری تضحیک کرنا نہیں تھا،“ میں نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔

”میں خود کو ناکام عاشق نہیں سمجھتا۔ اسے میری پیشکش رد کرنے کا پورا حق تھا، مگر میری سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کیوں میرا پیچھا کر رہی ہے،“ اس نے جواب دیا۔

”میں تو اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اس کے پاس تیری پیشکش قبول نہ کرنے کا جواز تھا۔ وہ اپنی پڑھائی ختم کرنے سے پہلے خود کو پابند کرنا نہیں چاہتی تھی۔ رہا یوحنا عارف کا سوال تو میرا خیال ہے کہ اس نے بلا سوچے سمجھے فیصلہ کر لیا اور شاید اب وہ پچھتا رہی ہوگی۔“

”بہرحال، کچھ عرصے کے لیے ہم دونوں کا ایک دوسرے سے علیحدہ ہونا بہتر ہو گا۔ اسی لیے میں یہاں سے جا رہا ہوں۔“

”تو یہ فیصلہ تو نے کب کیا؟“ میں نے پوچھا۔

”میں نے پچھلے ہفتے کمپنی کے ڈائریکٹر سے کہا تھا کہ میں پنڈی کے آفس سے کام کرنا چاہتا ہوں تاکہ روز روز سفر کرنا نہ پڑے۔ میرا زیادہ تر کام سیٹیلائٹ ٹاؤن کے پروجیکٹ پر ہے لہٰذا اسے بہتر طور پر دیکھ سکوں گا۔“

”پھر؟“
”پھر، اس نے کہا کہ وہ خود یہی چاہتا تھا مگر اس کا خیال تھا کہ میں راضی نہیں ہوں گا۔“
”تو اب کیا پروگرام ہے؟“
”جمعہ کو بوریا بستر باندھ کر چل دوں گا۔“
”لے یار، اتنا کچھ ہو گیا اور مجھے کچھ نہیں بتایا۔“
”بس، میں نے سوچا کہ جب سارا انتظام ہو جائے گا تب ہی بتاؤں گا۔“
”تو پنڈی میں کب تک رہنے کا پروگرام ہے؟“

”جب مریم شادی کر کے مشرقی پاکستان چلی جائے گی تو میں واپس آ جاؤں گا،“ معلوم ہوتا تھا کہ دانی ایل کو تھوک نگلنے میں دشواری ہو رہی تھی۔ میں نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر تھپتھپایا مگر کچھ کہا نہیں۔

”ندیم اور انجم بھائی کو بتا دیا ہے؟“ میں نے پوچھا۔
”ہاں، انجم بھائی نے دوسرے کرائے دار کا انتظام کر لیا ہے۔“

”یار، میری سمجھ میں نہیں آ رہا کہ یہاں تیرے بغیر میرا گزارہ کیسے ہو گا۔ ہم لوگ اب ہفتے میں ایک بار ہی ملتے ہیں مگر مجھے اطمینان رہتا ہے کہ تُو شہر میں ہی ہے۔ تیرے جانے کے بعد پیر کی رات کو یہ میز خالی ہی رہا کرے گی۔“

”نہیں، تُو یہاں آ جایا کرنا۔“
میں سوچنے لگا کہ حالات کو کس طرح مختلف دھارے پر ڈالا جائے۔
”یار، میں ایک بات سوچ رہا ہوں،“ میں نے مسکرا کر دانی ایل کی طرف دیکھ کر کہا۔
”وہ کیا؟“ اس نے پوچھا۔
”میں سوچ رہا ہوں کہ مریم سے بات کروں۔“
”تُو مریم سے کیا بات کرے گا؟“

”یہی کہ ہم سب کبھی کبھار غلط فیصلے کرلیتے ہیں، مگر جب تک ہمارے پاس نظر ثانی کا وقت ہوتا ہے تو ہمیں کرنی چاہیے، بجائے اس کے کہ باقی زندگی غلط فیصلوں کی نذر کردی جائے۔ “

”آپ ایسی کوئی حرکت نہیں کریں گے!“ دانی ایل کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔
”بیٹھ یار، اتنا پھٹنے کی ضرورت نہیں،“ میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا۔
”تُو نے بات ہی ایسی کردی،“ اس نے بیٹھتے ہوئے کہا۔

”مریم کی دوستی مجھ سے بھی ہے۔ اگر دوست کسی ایسی راہ پر چل پڑے جو تمہارے نزدیک صحیح نہ ہو تو تمہارا فرض ہے کہ انہیں سمجھاؤ۔“

”تُو سمجھتا ہے کہ تیرے سمجھانے سے مریم یوحنا عارف سے منگنی توڑ کر میری پیشکش کو قبول کر لے گی۔“
”اس سے بات کرنے میں کیا حرج ہے؟“
”تیرا کیا خیال ہے؟ اگر اس نے اپنا فیصلہ تبدیل کر لیا تو میں اسے قبول کرلوں گا؟“
”اس میں کیا حرج ہے؟“
”تُو سمجھتا ہے کہ میری عزّت نفس اسے قبول کر لے گی؟“

میری سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا جواب دوں، پھر سوچ کر منہ ہی منہ میں کہا، ”وہ کہتے ہیں نا، کہ عشق میں سب کچھ جائز ہے۔“

”نہیں جناب، عشق میں سب کچھ جائز نہیں ہے۔“

”خیر یار، چھوڑ مریم کو، کچھ اور باتیں کرتے ہیں،“ آخرکار میں نے ہتھیار ڈال دیے، ”یہ بتا کہ تُو نے وہاں رہنے کا بندوبست کر لیا ہے؟“

”وہاں کمپنی کے کوارٹر ہیں۔ تُو گرمیوں کی چھٹیوں میں آنا تو میرے ساتھ ہی ٹھہرنا اور پھر مری چلیں گے۔“ دانی ایل نے اپنی گھڑی دیکھتے ہوئے کہا۔

سامنے دیوار پر لگے ہوئے کلاک میں گیارہ بج کر پانچ منٹ ہو رہے تھے۔
”ابھی جمعہ تک تو میں یہیں ہوں۔ ملاقات ہوگی۔“
”میں جمعہ کو تجھے چھوڑنے کے لیے اسٹیشن چلوں گا۔ کون سی گاڑی سے جائے گا؟“
”عوامی سے۔“
”ٹھیک ہے۔ اس سے پہلے ملاقات ہوگی۔“

ہم بل ادا کر کے باہر نکلنے لگے تو دانی ایل نے سرگوشی میں کہا، ”انکل شاہد اور آنٹی کو میری طرف سے خدا حافظ کہہ دینا۔“

Facebook Comments HS