رمضان برکتوں کا مہینہ یا ناجائز کمائی کا موسم؟


اس میں کوئی شک نہیں بیشک رمضان المبارک، وہ مہینہ ہے جسے اللہ نے برکتوں، رحمتوں اور مغفرت کے لیے چنا ہے۔ یہ عبادت، صبر، ہمدردی اور دوسروں کے ساتھ حسن سلوک کا درس دیتا ہے، لیکن افسوس کہ ہمارے معاشرے میں رمضان کی ایک اور پہچان بھی بن چکی ہے۔ ناجائز منافع خوری، مصنوعی مہنگائی اور کاروباری بددیانتی۔ گویا ہمارے ہاں رمضان عبادت کے ساتھ ساتھ ”کمائی کے خاص موسم“ کے طور پر بھی منایا جاتا ہے، مگر یہ کمائی اکثر ناجائز ذرائع سے کی جاتی ہے۔

مگر بدقسمتی سے عبادت اور دھوکہ دہی کا عجیب امتزاج اس مہینے میں دیکھنے کو ملتا ہے گزشتہ روز افطاری کا سامان خریدنے کے لیے بازار گیا۔ پہلے ایک غیر مسلم دکاندار سے خریداری کی، جس نے نہایت خوش اخلاقی سے پیش آتے ہوئے اشیاء عام دنوں کی نسبت کم قیمت پر فراہم کیں۔ اس کے بعد میں ایک مسلمان دکاندار کے پاس گیا، جو ابھی ابھی نماز پڑھ کر آیا تھا اور رمضان کی فضیلت پر گفتگو کر رہا تھا۔ مگر جب میں نے اس سے وہی اشیاء خریدنی چاہیں جو رمضان سے ایک دو دن قبل بھی خریدی تھی تو قیمت تقریباً 60 فیصد زائد نکلی پھر سوالات اور جوابات نرخ نامے کے حوالے سے بات چیت جاری رہی بعد ازاں انہوں نے کہا ہم انتظامیہ جو نرخ نامہ بناتے ہیں ان کو بھی اسی قیمت میں دیتے ہیں آپ پریشان نہ ہوں رمضان میں قیمت بڑھتی ہے رمضان کے بعد کم ہوگی وغیرہ وغیرہ۔

یہ محض ایک اتفاق نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کی ایک تلخ حقیقت ہے۔ ہم نے دین کو صرف عبادات، نماز، روزے اور زبانی دعوؤں تک محدود کر دیا ہے، جبکہ عملی زندگی میں اس کی بنیادی تعلیمات کو یکسر نظر انداز کر دیا ہے۔ ہم صبح روزہ رکھتے ہیں، دن بھر اللہ کی رضا کے لیے عبادات میں مصروف رہتے ہیں، لیکن جب بات کاروبار، تجارت اور لین دین کی آتی ہے تو ایمانداری اور دیانت داری کو بھلا دیتے ہیں۔

رمضان ہمیں قربانی، صبر، سچائی، دیانت اور دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کا درس دیتا ہے، لیکن ہم نے اس کے اصل پیغام کو پس پشت ڈال کر اسے زیادہ منافع بٹورنے کا سنہری موقع سمجھ لیا ہے۔ جیسے ہی رمضان کا آغاز ہوتا ہے، اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگتی ہیں۔ دودھ، آٹا، چینی، پھل، گوشت اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کر دیا جاتا ہے مانتا ہوں ہمارے ملک کا پورا سسٹم اسی حساب سے چلتا ہے مگر رمضان میں یہ سسٹم مزید تیز ہوجاتا ہے۔

وہی تاجر جو عام دنوں میں معمولی نفع پر کام کر رہے ہوتے ہیں، رمضان آتے ہی یک دم نرخ بڑھا دیتے ہیں۔ یہ سب کچھ ایک ایسے مہینے میں ہو رہا ہوتا ہے جس میں سخاوت، ایثار اور دوسروں کے ساتھ ہمدردی کی تلقین کی جاتی ہے۔ اگر رمضان کا حقیقی پیغام سمجھا جائے تو یہی وہ مہینہ ہونا چاہیے جس میں کاروباری افراد اپنے منافع کو کم کر کے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیں، لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں یہ رجحان بالکل برعکس ہے۔

یہ دین داری ہے یا دوہرا معیار یہ حیران کن اور افسوسناک حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے میں ظاہری دین داری اور کاروباری بددیانتی ساتھ ساتھ چل رہی ہیں۔ وہی شخص جو دن میں پانچ وقت نماز پڑھتا ہے، رات کو تراویح میں کھڑا ہوتا ہے، اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہے، وہی شخص اپنے کاروبار میں جھوٹ، دھوکہ اور ناجائز منافع خوری سے بھی باز نہیں آتا۔ یہ تضاد آخر کیوں؟

ہم قرآن پڑھتے ہیں، لیکن اس کی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے۔ ہم احادیث سنتے ہیں، مگر انہیں اپنے کاروباری اصولوں میں شامل نہیں کرتے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

”جس نے دھوکہ دیا، وہ ہم میں سے نہیں۔“ (مسلم)

پھر ہم کیسے یہ سمجھ سکتے ہیں کہ روزہ رکھ کر اور عبادت کر کے ہماری بخشش ہو جائے گی، جبکہ ہم اپنے بھائیوں کے ساتھ انصاف نہیں کر رہے؟

میرے نزدیک اس ماہ مبارک میں یا عام مہینوں میں بھی عبادت کے ساتھ دیانتداری نہ ہو تو عارضی زندگی گزارنے کی حد تک آپ دکھاوے کے جتنے بھی جھنڈے گاڑ دیں مگر جو حقیقی موت کے بعد کی زندگی ہے اس میں حساب کتاب دنیا میں جو گزاری ہے زندگی اسی پر منحصر ہو گا ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ روزہ صرف بھوکا پیاسا رہنے کا نام نہیں، بلکہ اپنے نفس کو قابو میں رکھنے، جھوٹ، فریب، دھوکہ دہی اور لالچ سے بچنے کا نام ہے۔ یہ ہمیں سچائی، ایمانداری اور دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کا درس دیتا ہے۔

اگر ہم رمضان میں بھی اپنی نیتوں اور اعمال کا محاسبہ نہیں کریں گے، تو کب کریں گے؟ اگر ہم اس مقدس مہینے میں بھی دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا نہیں کر سکتے، تو کب کریں گے؟ اگر ہم سچائی، ایمانداری اور انصاف کو اپنی زندگی کا حصہ نہیں بنائیں گے، تو کب بنائیں گے؟ رمضان ہمارے لیے ایک سنہری موقع ہے کہ ہم اپنے اعمال پر غور کریں اور خود سے سوال کریں کیا ہم صرف عبادات کے مسلمان ہیں، یا حقیقی دیانت داری اور انصاف کو بھی اپنانے والے بن سکتے ہیں؟

 

Facebook Comments HS