ٹرمپ جی
پُرانے وقتوں میں راجے مہا راجے اپنے اپنے علاقوں میں جاگیردار نواب اور چھوٹے چھوٹے راجے رکھتے تھے۔ اور پھر کبھی کبھی جب راجا جی کا اپنا خزانہ خالی ہو جاتا تھا یا پھر یہ گمان ہونے لگتا تھا کوئی چھوٹا راجہ، جاگیردار، سردار زیادہ امیر ہوتا جا رہا ہے تو اُس کی جاگیر میں سے سب کچھ ضبط کرنے کا حکم صادر کر دیا جاتا تھا۔ دوسری عالمی جنگ کہ بعد جب یورپ اس قابل نہ رہا کہ دُنیا پر حکمرانی کر سکے تو نئے ابھرتے غنڈے ( امریکہ ) جو تازہ تازہ جاپان میں اپنی غنڈہ گردی کی چھاپ بٹھا کہ آیا تھا کو اپنی مسند سونپ کر خود گُرو بن کر بیٹھ گیا۔
امریکہ نے بھی یورپ کو اپنی دُم کے ساتھ باندھ لیا۔ بین الاقوامی تجارت، معیشت اور لوٹ مار سے یورپ کو حصہ ملتا رہا۔ اور یورپ کو جب اپنی سیکیورٹی اور دوسرے معاملات پر خرچ کرنے کی کوئی ضرورت نہ رہی تو سارا پیسا معیار۔ زندگی کو بہتر بنانے پر لگتا رہا۔ اور جب یورپ کا معیار۔ زندگی بلند ہوا تو پوری دُنیا کے سرمایہ دار اس جنت۔ سبا کی طرف پر سُکون زندگی کے لیے منتقل ہوتے رہے اس طرح پوری دنیا کا سرمایہ یورپ کی طرف منتقل ہوتا رہا۔ یورپ کا اگر جائزہ لیا جائے تو اس وقت یورپ کی کوئی بین الاقوامی پیداواری عمل میں بڑی حصہ داری نہیں ہے۔ فرانس اور جرمنی کو چھوڑ کر نہ ہی کوئی خاص فوجی اور دفاعی صلاحیت ہے۔
ٹرمپ جی اپنے ساتھ کارپوریٹ سیکٹر کو لے کر آیا ہے۔ کارپوریٹ سیکٹر کی خاصیت یہ ہوتی ہے کہ یہ لوگ ڈیٹا پر کام کرتے ہیں مطلب حساب کتاب پکا رکھتے ہیں اور حساب کتاب بتا رہا ہے یورپ آخر کس حساب میں اتنے مزے کر رہا ہے اور مفت کا جگت گُرو بنا ہوا ہے اور یہ کہ یوکرین کی جنگ سے حاصل کیا ہونا ہے۔ جن کو روس سے خطرہ ہو سکتا ہے مطلب یورپ وہ کچھ خاص پیسہ لگا نہیں رہے۔ اور اس جنگ سے کم سے کم روس ختم نہیں ہو گا اور اگر ایسا نہیں ہو گا تو امریکہ کو اس بے مطلب کی انویسٹمنٹ سے کیا فائدہ؟
اس لیے ٹرمپ جی اب اس جنگ سے جان چھڑا رہے ہیں اور یورپین لیڈروں کو احساس دلا رہے ہیں کہ بھائی کچھ جیبوں کو جھاڑو کچھ پیسا لگاؤ یہ مفت کی عیاشی اب زیادہ نہیں چلنے کی کیونکہ مہاراجہ امریکہ کا خزانہ اس وقت خالی ہو چکا ہے اس لیے اب عزت اسی میں ہے کہ قدم بوسی پر آتے ہوئے اپنے ساتھ کوئی خزانہ (ڈیل ) کی آفر لیتے آؤ۔
دوسری طرف ٹرمپ جی خلیج۔ گلف کی طرف متوجہ ہیں کارپوریٹ کا حساب کتاب یہ بتاتا ہے کہ ادھر پیسہ ہی پیسہ ہے ایک پے ہاتھ ڈالو باقی سب عیاشیوں اور دُنیا کو جنت۔ نظیر بنانے کہ دلدادہ خود ہی قدم بوسی کو حاضر ہوجائیں گے اور قدموں میں اشرفیوں کے انبار لگا دیں گے کیوں کے چھوٹے چھوٹے لاکھوں کی آبادی کے بنائے گئے یہ ممالک کوئی فوجی اور دفاعی صلاحیت نہیں رکھتے
تو ٹرمپ جی کے موجودہ تیوروں اور زیلنسکی کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک کو اُسی تناظر میں دیکھنا چاہیے جیسے ہمارے وقتوں میں استاد جی محترم کلاس میں داخل ہوتے ہی ایک شاگرد کی مولا بخش کے ساتھ چھترول کر دیا کرتے تھے اور باقی سب پورا دن خاموشی کے ساتھ سانس روک کے بیٹھے رہتے تھے زیلنسکی کی چھترول ہو چُکی ہے اب سب اپنی کھال کی خیر منائیں اور چُپ رہیں


