ولادیمیر زیلنسکی صاحب، آئیں ہم افغانوں کے مہمان بنیں
زیلنسکی ٹرمپ کا میڈی شو دیکھ کر ہم نے خان بابا کو فون لگایا اور پوچھا، خان جی یہ امریکیوں نے اپنے مہمان ”اداکار“ کے ساتھ اچھا برتاؤ نہیں کیا۔ آپ اس حوالے سے کیا کہتے ہیں۔ خان بابا نے اپنی کان پھاڑ آواز میں امریکیوں کے بارے میں چند نازیبا کلمات کہے اور پھر کہا، تم زیلنسکی کو بولو، وہ امریکہ ذلیل ہونے کیوں جاتا ہے، وہ ہم افغانوں کا مہمان بنے۔ پوری دنیا افغانوں اور پختونوں کی مہمان نوازی کو جانتا ہے۔
ہم نے خان بابا کو چھیڑنے کے لیے طنز کا تیر چلایا، ہاں ہاں خان بابا، آپ نے تو اپنے ایک عرب مہمان کے لیے اپنی حکومت اور ملک بھی تباہ کروا ڈالا مگر مہمان کو اس کے دشمنوں کے حوالے نہیں کیا۔ کیا یہ ایک بے وقوفانہ فیصلہ نہیں تھا۔ یہ سننا تھا کہ خان صاحب نے ہمارے لتے لینا شروع کر دیے، تم بے غیرت لوگ ہو، تم تو اپنے مہمانوں کو بیچتے ہو۔ ہم سے غلط بات مت کرو، بس زیلنسکی کو بولو، وہ ادھر افغانستان آئے، ہم دنیا کو دکھائے گا کہ مہمان کی قدر کیا ہوتا ہے۔
ہم نے از راہ تفنن خان بابا سے پوچھا، اگر زیلنسکی نے روس کے خلاف آپ کی مدد مانگ لی تو پھر کیا ہو گا۔ کیوں نہیں، ہم ہر مظلوم کی مدد کرے گا اور روس کو تو ہم پہلے بھی جانتا ہے وہ کتنے پانی میں ہے۔ یہ بات سن کر میرا ہاسا نکل گیا، میں نے کہا اب روس اور امریکہ بھائی بھائی بن چکے ہیں، ذرا بچ کے رہنا، خان بابا پھر گرجدار آواز میں بولے، ہم ان دونوں بھائیوں کو اچھی طرح جانتا ہے بلکہ ان کے باپ کو بھی جانتا ہے۔ وہ ہمارے سامنے نہیں آئے گا۔ بس تم زیلنسکی کو بولو افغانوں کا مہمان بنے، ہم دنیا کو بتائے گا کہ مہمان کیا چیز ہوتا ہے۔
پھر کچھ اِدھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد ہم نے محسوس کیا خان بابا، زیلنسکی کے معاملے میں کافی سنجیدہ ہو چکے ہیں، وہ کسی ناں کسی طرح اپنی بات اور دعوت نامہ یوکرینی عوام اور زیلنسکی تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ ہم نے پھر ڈرتے ڈرتے خان بابا کو سمجھانے کی کوشش کی یہ معاملہ اب عالمی جھگڑے کی صورت اختیار کر چکا ہے اس لیے بہتر ہے آپ اس میں ناں الجھیں۔ اور ویسے بھی ٹرمپ نے افغانوں سے اپنا اسلحہ واپس مانگ لیا ہے اور ان سے لڑائی کے بہانے تلاش کر رہا ہے۔
خیر ہماری نصیحتوں کا خان بابا پر کیا خاک اثر ہونا تھا، وہ اونچی ہواؤں میں اڑنے لگے۔ بڑے بڑے دعوے کرنا شروع کر دیے۔ ان کی ایک بات سن کر تو ہمارے کان لال ہو گئے، بولے، تم زیلنسکی کو بولو افغانوں کا مہمان بنے، ہم ادھر چین والوں سے اس کی بات کروائے گا۔ چینی بھائی ادھر ہمارے پہاڑوں سے مال نکالتا ہے۔ وہ یوکرین کے خزانے بھی نکال سکتا ہے، روس کو بھی کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔ اچھا ہوا، زیلنسکی بھائی نے اپنے بے وقوف بننے کا ڈرامہ کیا اور بے وفا امریکیوں سے ڈیل کرنے سے اپنا جان چھڑایا۔ زیلنسکی، بہت سیانا آدمی ہے، اسے بولو، ہمارا مہمان بنے۔
ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ خان بابا کو عالمی امور پر گفتگو کرنے کا اتنا ملکہ حاصل ہے۔ ہم نے اپنی فون کال منقطع کرنے سے پہلے ڈرتے ڈرتے خان بابا سے پھر پوچھا، خان جی اس جھگڑے میں پڑنے کا آپ کو کیا فائدہ ہو گا۔ ہم یوکرین سے نکلنے والے خزانوں کی چوکیداری کرے گا، خان بابا نے کہا۔ یہ بات سن کر ہمیں اپنی گلی کا وہ پٹھان چوکیدار یاد آ گیا جس سے سب محلے والے ڈرتے ہیں کہ اگر یہ چوکیدار بگڑ گیا تو کہیں ہمارے گھروں پر قبضہ ہی ناں کر لے۔


