عورت کی آزادی: برابری کی بنیاد پر ایک بہتر سماج کی تعمیر


دنیا کے ہر ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد برابری پر رکھی جاتی ہے، جہاں مرد اور عورت دونوں کو مساوی حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ مگر ہمارے ہاں عورت کی آزادی ہمیشہ ایک متنازعہ موضوع بنا رہا ہے۔ آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ عورت اپنے فرائض سے آزاد ہونا چاہتی ہے، بلکہ وہ ان ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ اپنے بنیادی انسانی حقوق کی بھی حقدار ہے۔ ہر سال عورت مارچ کے موقع پر یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ عورت آخر آزادی کیوں چاہتی ہے؟ یہ سوال بذاتِ خود ایک سماجی المیہ ہے، کیونکہ آزادی کسی پر احسان نہیں، بلکہ ایک بنیادی حق ہے۔

عورت کی آزادی کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ وہ مردوں سے علیحدہ ہو کر ایک الگ دنیا بسا لے یا تمام روایات کو پسِ پشت ڈال دے، بلکہ اس کا اصل مقصد یہ ہے کہ عورت کو اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کا حق حاصل ہو۔ جس طرح ایک مرد اپنے مستقبل، اپنی نوکری، اپنے سماجی تعلقات اور اپنی زندگی کی سمت کے بارے میں خود مختار ہوتا ہے، بالکل اسی طرح عورت کو بھی اپنی زندگی کے فیصلے کرنے کی آزادی ہونی چاہیے۔

ہمارے معاشرے میں عورت کو اکثر دوسروں پر انحصار کرنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔ اسے بتایا جاتا ہے کہ اس کا تحفظ صرف کسی مرد کے ساتھ جُڑے رہنے میں ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جب عورت معاشی طور پر خود مختار ہوتی ہے تو وہ اپنی زندگی کے فیصلے بہتر انداز میں کر سکتی ہے۔ وہ نہ صرف اپنے لیے بہتر مواقع پیدا کر سکتی ہے بلکہ اپنے خاندان اور معاشرے کے لیے بھی ایک مثبت کردار ادا کر سکتی ہے۔

کسی بھی انسان کی آزادی کا سب سے پہلا زینہ معاشی خود مختاری ہے۔ جب عورت کے پاس مالی وسائل نہیں ہوتے تو وہ دوسروں پر انحصار کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ اس انحصار کا فائدہ اکثر اسے دبانے کے لیے اٹھایا جاتا ہے۔ شادی کے بعد ، اسے یہ باور کرایا جاتا ہے کہ وہ شوہر کے رحم و کرم پر ہے، اور اگر وہ نوکری کرنا چاہے تو اسے لاکھوں جواز دے کر روکا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عورت کے لیے معاشی خود مختاری سب سے زیادہ اہم ہے۔ اگر ایک عورت کما رہی ہو، تو وہ نہ صرف اپنی ضروریات خود پوری کر سکتی ہے بلکہ اپنے خاندان کے لیے بھی ایک مضبوط سہارا بن سکتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہ معاشرے جہاں عورت کو کام کرنے کی آزادی دی گئی، وہاں ترقی کی رفتار بھی تیز رہی۔ مغربی ممالک میں خواتین ہر میدان میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہیں، جس کے نتیجے میں وہاں کی معیشت اور سماجی ڈھانچہ مستحکم ہوا ہے۔

محبت ایک ایسا جذبہ ہے جو برابری پر پنپتا ہے۔ جب تک مرد اور عورت ایک دوسرے کو برابر نہیں سمجھیں گے، تب تک ان کے رشتے میں کھچاؤ رہے گا۔ ہمارے ہاں بدقسمتی سے مرد کو برتری دی جاتی ہے اور عورت کو ایک تابع دار مخلوق بنا دیا جاتا ہے۔ اس رویے کی وجہ سے بہت سی عورتیں ذہنی دباؤ، نفسیاتی مسائل اور احساسِ محرومی کا شکار ہو جاتی ہیں۔ محبت میں عزت سب سے اہم جز ہے۔ اگر ہم عورت کو برابر نہیں سمجھتے تو پھر محبت کیسی؟ برابری کا مطلب صرف یہ نہیں کہ عورت کو کام کرنے دیا جائے، بلکہ اسے ہر اس حق میں شامل کیا جائے جو مرد کو حاصل ہے۔ مرد کو بھی چاہیے کہ اگر عورت گھر کا کام کرتی ہے تو اسے اس کی محنت کا اعتراف کرے، اور عورت کو بھی چاہیے کہ اگر مرد روزگار کماتا ہے تو اس کی جدوجہد کو سراہا جائے۔

ہمارے معاشرے میں عزت اور غیرت جیسے الفاظ صرف عورت کے لیے مخصوص کر دیے گئے ہیں۔ اگر عورت باہر جا کر نوکری کرے، اپنی پسند کے مطابق شادی کرے، یا اپنی زندگی کے فیصلے خود کرے تو اسے بدکردار اور باغی کہا جاتا ہے، جبکہ مرد کے لیے کوئی ایسی پابندی نہیں۔ ہمیں یہ سوچ بدلنی ہوگی۔ عزت صرف عورت کا مسئلہ نہیں، بلکہ مرد اور عورت دونوں کا ہے۔ اگر عورت کے لیے دوست بنانا، باہر گھومنا، یا اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنا معیوب سمجھا جاتا ہے، تو یہی اصول مرد پر بھی لاگو ہونا چاہیے۔ آزادی کا مطلب بے راہ روی نہیں، بلکہ یہ حق ہے کہ ہر انسان اپنی مرضی سے زندگی گزار سکے، چاہے وہ مرد ہو یا عورت۔

اکثر کہا جاتا ہے کہ عورت کا اصل مقام گھر ہے، اور اسے گھریلو زندگی کو سنوارنے پر توجہ دینی چاہیے۔ اس بات سے انکار نہیں کہ عورت بچوں کی پرورش اور گھر کے معاملات سنبھالنے میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے، لیکن مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب اس کی محنت کو تسلیم ہی نہیں کیا جاتا۔ گھر کا کام بھی ایک مکمل نوکری کی طرح ہے، جس میں عورت دن بھر مصروف رہتی ہے، لیکن اسے نہ تو اس کا اعتراف دیا جاتا ہے اور نہ ہی اس کی کوئی قدر کی جاتی ہے۔ اگر مرد باہر کام کرتا ہے اور اس کے کام کو سراہا جاتا ہے تو عورت کی گھریلو ذمہ داریوں کو بھی وہی مقام ملنا چاہیے۔

کسی بھی معاشرے کی ترقی کا دار و مدار اس بات پر ہوتا ہے کہ وہاں مرد اور عورت کو برابر کے حقوق حاصل ہیں یا نہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں خواتین زندگی کے ہر شعبے میں مردوں کے برابر کام کر رہی ہیں، جس کی وجہ سے وہاں کی معیشت، تعلیم، اور سماجی ترقی میں تیزی آئی ہے۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ بھی ترقی کرے، تو ہمیں عورت کو برابری کا درجہ دینا ہو گا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ عورت مرد کی دشمن بن جائے، بلکہ دونوں کو ساتھ مل کر زندگی گزارنی چاہیے۔ جب عورت اور مرد دونوں ایک دوسرے کی محنت اور کردار کو تسلیم کریں گے، تو زندگی کی گاڑی بہتر انداز میں چلے گی۔

عورت مارچ صرف ایک دن کا احتجاج نہیں، بلکہ اس سوچ کا اظہار ہے کہ عورت کو اس کا جائز مقام ملنا چاہیے۔ ہمیں سمجھنا ہو گا کہ عورت بھی انسان ہے، اس کی بھی خواہشات ہیں، اس کے بھی خواب ہیں، اور اسے بھی ایک مکمل زندگی جینے کا حق حاصل ہے۔

یہ وقت ہے کہ ہم اس فضول بحث کو ختم کریں کہ عورت کو آزادی کیوں چاہیے؟ بلکہ ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہو گا کہ برابری ہی ایک خوشحال اور متوازن معاشرے کی بنیاد ہے۔ جب عورت کو اس کا حق ملے گا، جب اس کی محنت کو سراہا جائے گا، جب اسے عزت اور محبت برابر کی بنیاد پر ملے گی، تب ہی ہم ایک حقیقی ترقی یافتہ معاشرہ بنا سکیں گے۔

Facebook Comments HS