زمیں یاں کی چہارم آسماں ہے



ادبیات اور فنونِ لطیفہ کے حوالے سے ہمارے ہاں عام طور پر اس قبیل کی بحثیں تو ہوتی رہی ہیں کہ فن زندگی کے تابع ہے، یا زندگی فن سے اثر پذیر ہے، لیکن اس کے مقابلے میں فن کار، فن کارانہ عمل اور فنونِ لطیفہ کے اسرار و رموز کو سمجھنے یا سمجھانے کی طرف توجہ کم رہی ہے۔ البتہ تخلیق کے پُراسرار عمل کو تخلیق کار ضرور نرگسیت کے پیرائے میں اپنی تحریروں میں ڈھالتے اور محدب عدسے سے اپنی ذات کو دیکھنے اور دکھانے کی کاوشیں کرتے رہے ہیں۔

تاہم کسی اور کی نظر سے فن اور فن کارانہ عمل کو دیکھنا یکسر مختلف قسم کا تجربہ ہے۔ یہ احساس مجھے ڈاکٹر شاہد صدیقی کی کتاب ”آسماں در آسماں“ کے مطالعے کے دوران میں شدت سے ہوا۔ شاہد صدیقی واقعتاً فن کے قدردان ہیں اور بخوبی جانتے ہیں کہ فن کو پرکھنے کے لیے نفی ذات کس حد تک ضروری ہے۔ چنانچہ ایک محقق، معلم، منتظم، ماہرِ لسان اور ادیب ہونے کے باوجود وہ معصومانہ دلچسپی سے اپنی پیش کردہ شخصیات کے فنی کمالات کی کھوج میں سرگرداں دکھائی دیتے ہیں۔

شاہد صدیقی تخلیقی نثر کی پراسراریت، شاعری کی ایمائیت، نغمے کے سُر تال، اداکاری کے اتار چڑھاؤ، عمارتوں کے حُسن، قلم اور مُوقلم کی اعجاز نمائی اور مصوری کی آڑی ترچھی لکیروں میں پنہاں فن کارانہ سحر کاری پر دل و جان سے والہ و شیدا ہیں، ان کا پیش کردہ اداکاری کا صنم کدہ ہو یا نثر کی ساحری یا پھر شاعری کا چمن، نغمہ نگاری کی چاندنی ہو یا سات سُروں کا بہتا دریا، یا کہ آواز کا جادو اور رنگوں اور دائروں کا طلسم کدہ، وہ ان سب سے منسلک فن کاروں کے شخصی خاکوں کی پیش کش کرتے ہوئے فن لطیف سے محبت، فن کار سے ارادت اور فن کارانہ سچائیوں سے موانست کا گہرے طور پر اظہار کرتے ہیں۔

”آسماں در آسماں“ کے ساتوں حصے رواں دواں نثر کا شاہکار ہیں۔ فنی اعتبار سے ان مضامین کو کسی ایک صنف نثر میں مقید کرنا، کارِ دشوار ہے۔ یہ بیک وقت خاکے بھی ہیں اور خود نوشت نما شذرات بھی، دستاویزی تحریر بھی ہیں اور یاد نگاری کے مرقعے بھی، بلکہ کہنے دیجیے کہ یہ کتاب اردو میں ہندو پاکستان کے فن اور فنکاروں کا دائرہ معارف ہے۔ یہ مضامین شخصیت، شہر اور شہرت کی دل کش تکون کے تناظر میں بہتر طور پر تفہیم کیے جا سکتے ہیں۔

یہ ایسی بیانیہ تحریریں ہیں جو بظاہر تو فن کاروں کے حیات نامے ہیں لیکن ہر مقام پر خود مصنف کی ذات ان کے ہمراہ شریکِ سفر ہے۔ یہ متحدہ ہندوستان کے اُن فن کاروں کا تذکرہ ہے جن کی تخلیقی صلاحیتوں کے سوتے تو یہیں سے پُھوٹے لیکن سنہ سنتالیس کی ہجرت انھیں اپنی جنم بھومی سے کوسوں دُور لے گئی۔ وقت گزرتا رہا لیکن مٹی کی خوشبو اُن کی یادوں میں بسی رہی، اسی تڑپ سے بے چین ہو کر ان میں سے کچھ ایک پلٹ کر بھی آئے اور کچھ دل ہی میں حسرت لیے دنیا سے رخصت ہو گئے اور بعض آج بھی یادوں کی تڑپ اور کسک سے دوچار ہیں۔ اسی تسلسل میں شاہد صدیقی جب ہندوستان سے پاکستان ہجرت کر کے آنے والوں کی یاد نگاری پر مبنی قصے رقم کریں گے تو یہ معکوس صورت بھی یقیناً اسی طرح دل چسپ ہوگی۔

”آسماں در آسماں“ میں دل سکھ پنچولی، پرتھوی راج کپور، شیام، دلیپ کمار، دیو آنند، راج کمار، پریم چوپڑا، منوج کمار، کامنی کوشل جیسے اداکار ہوں یا دیوان سنگھ مفتون، کنہیا لال کپور، کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی، خوشونت سنگھ یا پھر تلوک چند محروم، میراجی، راجا مہدی علی خان، جگن ناتھ آزاد، امرتا پریتم، ساحر لدھیانوی اور گلزار جیسے نثر نگار اور شعرا۔ یا کہ بڑے غلام علی خان، شمشاد اور محمد رفیع جیسے صدا کار اور موسیقی کے ماہر یا پھر گنگا رام جیسی فلاحی شخصیات۔

شاہد صدیقی نے ان سبھی کے بیتے ہوئے دنوں کا سراغ لگایا ہے۔ ان کے آبائی شہروں کے پتے یاد کرائے ہیں اور ہمیں ان کے پیاروں کی یادوں اور باتوں کا ہم راز بنایا ہے۔ پشاور، لاہور، کراچی، راولپنڈی، قصور، لورالائی اور پوٹھوہار (جسے شاہد صدیقی نے اپنی پہلی کتاب میں ’خطۂ دلربا‘ قرار دیا) یہ سب شہر پرورشِ قلم و فن کی یادوں کی آماج گاہ کے طور پر فن کارانہ مہارت سے تحریر کا حصہ بن گئے ہیں اور ہر شہر کا اپنا ایک وجود ہے، مثلاً سنیے۔ لکھتے ہیں :

”لاہور ابھی ایک شہرِ بے مثال ہے۔ ایک زمانہ تھا جب متحدہ ہندوستان میں یہ آرٹ، ادب اور موسیقی کا گہوارہ تھا۔ کیسے کیسے لعل و مرجان تھے جو لاہور کے گلی کوچوں سے وابستہ تھے۔ ادیبوں، شاعروں، نغمہ نگاروں اور اداکاروں کی ایک کہکشاں تھی جس سے لاہور کا آسماں جگمگاتا تھا۔“

_________
”پشاور، ایک شہر، ایک تہذیب، ایک ثقافت کا نام ہے۔“
_________

”اسے (راج کمار کو) اپنے بچپن کا گھر یاد آتا، جو بلوچستان کے شہر لورالائی میں تھا، جہاں کھلا آسمان تھا، سر با فلک پہاڑ تھے، رات کے وقت آسمان پر تارے چمکتے تو یوں لگتا جیسے کسی وسیع و عریض باغ میں موتیے کے سفید پھول کھل اٹھے ہوں۔“

یوں دیکھیں تو شاہد صدیقی کے پیش کردہ کردار شہرت کے آسمانِ بلند کو چُھونے کے باوجود دو زمانوں کے اسیر ہیں۔ یہ ایسے راہی ہیں جنھیں چھوڑی ہوئی منزل اکثر یاد آتی ہے، لیکن ان کے دلوں کی کسک کسی موڑ پر بھی غمِ منزل نہیں بنتی، اس کے برعکس یہ کیفیت ضرور محسوس کی جا سکتی ہے :

آ کے منزل پہ آنکھ بھر آئی
سب مزا رفتگاں نے چھین لیا
ہر گھڑی آسماں کو تکتا ہوں
جیسے کچھ آسماں نے چھین لیا

حقیقت یہ ہے کہ شاہد صدیقی یہ راز پا گئے ہیں کہ یادیں کسی بھی تخلیق کار کا تحت الشعوری سرمایہ ہوتی ہیں، یہی اس کی قوتِ تخلیق کو مہمیز کرتی ہیں اور بالآخر اس کے لیے سامانِ حیات بن جاتی ہیں۔ چنانچہ وہ اپنی پیش کردہ شخصیات کو یادوں کے سنگ ان کے ماضی کے سنہرے دنوں، سلگتی راتوں، نرم گرم رشتوں سمیت اور کھوئے ہوئے دل کش راستوں پر تخیل کے زور سے کھینچ لے آئے ہیں۔

شاہد صدیقی بنیادی طور پر ایک قصّہ گو ہیں، انھیں کہانی بُننے اور پھر مزے لے لے کر سنانے کا فن بخوبی آتا ہے۔ وہ لکھنے سے زیادہ کہنے کے آدمی ہیں۔ یہاں ہر ایک مضمون میں وہ داستان گو کے روپ میں نظر آتے ہیں اور کہانی سُناتے سُناتے بڑی سہولت سے حکمت آمیز باتیں کرتے چلے جاتے ہیں، جیسے :

”کہتے ہیں کہ ایک اُستاد کسی مضمون کو دل چسپ بھی بنا سکتا ہے اور بے ذائقہ بھی۔“
_________

”گزرتے لمحے اُن خوش رنگ پرندوں کی طرح ہوتے ہیں جو پرواز کرتے کرتے آسمان کی وسعتوں میں کھو جاتے ہیں اور پھر کبھی لوٹ کر واپس نہیں آتے۔“

_________

میں سوچتا ہوں وقت کا دریا کیسے سب کچھ بہا کر لے جاتا ہے اور کناروں پر محض یادوں کی سنہری ریت باقی رہ جاتی ہے۔ ”

_________

”کہتے ہیں کہ یہ زندگی اتفاقات کا کھیل ہے۔ کبھی کوئی ایک شخص، کوئی ایک ملاقات، کوئی ایک موڑ، ہماری زندگی کو یکسر تبدیل کر دیتا ہے اور ہم اُن منظروں کا حصہ بن جاتے ہیں جن کے بارے میں ہم نے کبھی سوچا نہیں ہوتا۔“

_________

”محبت بھی کیسا جذبہ ہے جو ہر منطق اور منفعت سے بے نیاز ہے۔ جسے چاہیں بھی تو بیان نہیں کر سکتے۔ اسے تو بس محسوس کیا جا سکتا ہے۔ یہ تو خوش رنگ پھولوں میں بسی خوشبو کا جھونکا ہے، سرسبز وادیوں میں بہنے والا جھرنا ہے، زندگی کے تاریک جنگلوں میں اُترتی کرن ہے۔“

یقین کیجیے ”آسماں در آسماں“ محض ایک کتاب نہیں ہند و پاکستان کے فنکاروں کا ایسا دائرۂ معارف ہے جو ان کے فنی کمالات کا برملا اعتراف ہے۔ صدیقی صاحب نے فن کار کی مناسبت سے جو جزئیات و تفصیلات رقم کی ہیں، وہ کہیں بھی بے موقع نہیں، سبھی تحریریں بے تعصب ہیں، سبھی تجزیات برمحل ہیں۔ کہیں ان شخصیات کی یادوں کی خوشبو سے بسے شہروں پر تبصرے ہیں تو کہیں وہاں کے مکینوں کا احوال ہے اور مصنف نے اپنی ذات کی شمولیت سے تحریر میں لطفِ مزید پیدا کیا ہے۔

یوں ان فن کاروں کی کھوئے ہوؤں کی جستجو خود ان کی اپنی سر گذشت میں ڈھل گئی ہے۔ پرانی جگہیں ان کے لیے بلا کی کشش رکھتی ہیں، گم شدہ باغ و راغ ان سے ہم کلام ہوتے ہیں اور یاد آفرینی کا عنصر ان خاکہ نما تحریروں کو نئی معنویت سے ہم کنار کر دیتا ہے۔ یہ سب کردار افسانوی رنگ و رُوپ میں ڈھل کر مصنف کے ہمراہ چلتے پھرتے دکھائی دیتے ہیں، کوئی شخصیت ان کے بچپن کی یادوں کو گھیرے ہوئے ہے تو کوئی ان کی جوانی یا ادھیڑ عمری کے زمانے کی بھولی بسری یادوں کی ساتھی ہے۔ یوں نوع بہ نوع، شہر، گلی کوچے، محلے، بازار، چوک، چور اپنے، راستے اور عمارتیں۔ کیا ہے جو ان سنہری یادوں کا حصہ نہیں بنا۔ یاد رہے کہ یہ کتاب محض یاد نگاری کے احوال پر مبنی نہیں بلکہ یہاں جا بجا مشترکہ تہذیب و ثقافت کی جھلکیاں ملاحظہ کی جا سکتی ہیں اور ان تحریروں کا دستاویزی پہلو بھی اپنی جگہ اہم ہے۔

شاہد صدیقی نے محض سُنی سنائی باتوں پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس کتاب کے اوراق الٹ پلٹ کر دیکھیں تو جا بجا بے شمار گانوں کے بول، شعر، نغمے، فلموں، ڈراموں، کتابوں اور رسالوں کے نام؛ عجائب خانوں اور نوادرات کی تفصیلات، تذکرے، تحقیقی مصادر، تراجم، تنقیدی کتابوں کے حوالے، آپ بیتیوں، مصاحبوں اور مکالموں کے اشارات ملتے ہیں لیکن کمال یہ ہے کہ یہ کہیں بھی ان کی رواں دواں تحریر کے حُسن کو پژمردہ نہیں کرتے اور نہ ہی اس کے بے ساختگی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

عموماً فنونِ لطیفہ پر لکھتے ہوئے قارئین کی لطف اندوزی کے لیے تحریر میں ابتذال اور رکاکت کے عناصر پیدا ہو جاتے ہیں، شاہد صدیقی کی نثر اس عیب سے مبرّا ہے۔ وہ نہایت تہذیب یافتہ شخص ہیں، اکرامِ فن جانتے ہیں اور اظہارِ بیان کا سلیقہ بھی رکھتے ہیں۔ چنانچہ کہیں بھی تہذیب و شائستگی کا دامن ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ ان کی نثر گیتوں، نظموں، شعروں اور ادبی مکالموں کے خوش گوار ٹکڑوں سے آراستہ و پیراستہ ہے۔ ان کے مکالمات میں برجستگی ہے، مناظر دل کش اور مرقعے جان دار ہیں۔ وہ حلیہ نگاری پر گرفت رکھتے ہیں، سو ان تحریروں میں ادبی خاکے کا سا لطف پیدا ہو گیا ہے۔ مختصراً یہ کہ اگر آپ کا شمار فن کے قدر دانوں اور باذوق افراد میں ہوتا ہے تو یقیناً یہ کتاب آپ کے لیے ہے۔

آخر میں بلونت سنگھ کے حوالے سے لکھا گیا خود شاہد صدیقی کا ایک جُملہ ان کی فن کارانہ پختگی کی نذر کرتی ہوں، لکھتے ہیں :

”وہ یہ کہانیاں اپنے ہاتھ سے نہیں لکھتا تھا بلکہ بولتا تھا اور کوئی دوسرا لکھتا تھا۔“

Facebook Comments HS

پروفیسر ڈاکٹر بصیرہ عنبرین

ڈائریکٹر، ادارۂ زبان و ادبیاتِ اردو

dr-baseera-ambreen has 1 posts and counting.See all posts by dr-baseera-ambreen