انسانی حقوق کا ارتقا اور تصور


اگر آپ انسانی حقوق کی آغاز و ارتقا اور جدید عالمی نظام کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو آپ کو توصیف احمد خان اور عرفان عزیز کی تحقیقی کتاب ”انسانی حقوق کا ارتقا اور تصور“ ضرور پڑھنی چاہیے۔ یہ ایک بہت ہے محنت سے لکھی گئی کتاب ہے جس پر مصنفین کو پی ایچ ڈی کی ڈگری ملنی چاہیے۔ بائیں بازو کے ایک اہم اور معتبر نام سہیل سانگی اور جسٹس فہیم احمد صدیقی کے ابواب بھی اس کتاب کا حصہ ہیں۔ اس کتاب میں سماج، ریاست اور قانون کے آغاز سے لے کر اب تک کے ارتقائی سفر پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔

حمورابی کے پہلے قانون سے بات چلی تو سوویت یونین کے آئین تک پہنچی جو دنیا کا پہلا تحریری آئین تھا۔ جس میں استحصال کی تمام اقسام کے مکمل خاتمے کا عہد کیا گیا تھا۔ اس آئین نے تاریخ میں پہلی مرتبہ عورتوں کو مردوں کے برابر حقوق دیے تھے اور مذہب، فرقہ اور جنس کی بنیاد پر تمام اقسام کے امتیازی سلوک کے خاتمہ کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ مختلف مذاہب میں انسانی حقوق کے تصور پر بھی بات کی گئی ہے اور خطبہ ٔحجۃ الوداع کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

انسانی حقوق کے موجودہ عالمی نظام کا ارتقا لیگ آف نیشنز اور اقوام متحدہ کے قیام کے ساتھ ہوا، جس کی پوری تفصیل آپ کو اس کتاب میں ملے گی۔ میں صرف ”عورتوں کے لئے مساوی حقوق“ والے حصے کی بات کروں گی۔ کسی بھی ملک کی ہمہ جہت اور بھرپور ترقی کا تقاضا ہے کہ عورتیں زندگی کی تمام شعبوں میں مردوں کے ساتھ مساوی شرائط پر زیادہ سے زیادہ شرکت کریں۔ عورتوں کے لئے مساوی حقوق کی جدوجہد نا صرف طویل ہے بلکہ خاصی دشوار بھی ثابت ہوئی ہے۔

دنیا کے مختلف حصوں میں آج بھی عورتوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے، جس کا اظہار قوانین، رسوم و رواج و عمومی سماجی رویوں سے ہوتا ہے۔

بیسویں صدی میں ووٹ کا حق حاصل کرنے کے لئے عورتوں کی جو تحریک برطانیہ میں شروع ہوئی، اسے سفریجٹ موومنٹ کہا جاتا ہے۔ طویل عرصہ جاری رہنی والی اس جدوجہد کو جدید دنیا میں عورتوں کے لئے مساوی حقوق کی کوششوں کا نقطہ آغاز تسلیم کیا جاتا ہے۔ فرانس میں انیسویں اور بیسویں صدی میں عورتوں نے اپنے حقوق کے تحفظ کے لئے سیاسی تحریکوں کا آغاز کیا۔ ان تحریکوں کے نتیجے میں بالآخر فرانس کے قوانین میں عورتوں کو مردوں کے مساوی حقوق حاصل ہو گئے۔ صنعتی ممالک میں مزدوروں کی تحریکیں اس سے پہلے سے چل رہی تھیں۔ کارل مارکس کے نظریات کی روشنی میں صنعتی ممالک میں کمیونسٹ پارٹیاں قائم ہوئیں۔ اس کی بعد دوسری جنگ عظیم میں عورتوں کے کردار کو مردوں کے برابر تسلیم کیا گیا اور عورتوں کے سماجی کردار کو پذیرائی ملنا شروع ہوئی۔ اقوام متحدہ نے عورتوں کے حقوق کو بنیادی انسانی حقوق کا درجہ دیا جس کی بعد عورتوں کے لئے مساوی انسانی حقوق کی تحریک ایک نئے دور میں داخل ہو گئی۔

انسانی حقوق کے بین الاقوامی اعلامیہ کے بعد عورتوں کے خلاف ہر طرح کے امتیاز کے خاتمے کا کنونشن بنا جس میں عورتوں کی خلاف ہر قسم کے امتیازی سلوک کے خاتمے اور ان کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا گیا۔ عورتوں کی ساتھ امتیازی سلوک کرنا، مساوی انسانی حقوق اور انسانی احترام کی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ کسی بھی ملک کی سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی زندگی کے دھارے میں مردوں کی ساتھ عورتوں کی مساوی شرکت میں اس طرح کی امتیازی رویے رکاوٹ ڈالتے ہیں۔ اور خاندان اور معاشرے کی ترقی کا راستہ روکتے ہیں۔ اور ملک اور انسانیت کی خدمت کے حوالے سے عورتوں کی صلاحیتوں کے بھرپور ارتقا کو مزید مشکل بنا دیتے ہیں۔

کتاب کا ایک اہم باب ”انسانی حقوق کا متبادل نقطہ نظر ہے۔ جو کہ مارکسی نقطہ نظر ہے جو انسانی عزت و وقار اور فلاح و بہبود کی اہمیت کو تسلیم کرتا ہے۔

جسٹس فہیم کے بقول اس بارے میں دو رائے نہیں ہو سکتیں کہ انسانی حقوق کا تعلق دراصل کرہ ارض پر حیات کی وجود اور بقا سے منسلک ہے۔ ماحولیات اور انسانی حقوق کا تعلق بہت گہرا اور مضبوط ہے۔ کتاب کا آخری باب پاکستان میں انسانی حقوق کی صورت حال کے بارے میں ہے جس میں قیام پاکستان سے لے کر اب تک انسانی حقوق کی پامالی کی تاریخ بیان کی گئی ہے۔

Facebook Comments HS