شام سے چین تک بننے والی عسکری ٹریل


کردوں سے میری پہلی تعارف دوبایزید (Doğubayazıt) میں ہوئی، جب میں ان کے شہر میں، انقرہ کے لئے جانے والی گاڑی کے انتظار میں، ایک رات ٹھہرا ہوا تھا۔ دوبایزید کردوں کا گڑھ، ترکی کا مشرق میں ایران کے ساتھ سرحدی شہر ہے، جو برف پوش چوٹیوں والے کوہ آرارات کے دامن میں واقع ہے۔ اور دوسری ملاقات پشاور اسلام آباد موٹر وے کی تعمیر کے دوران اس دوران ہوتی رہی، جب میں موٹر وے کو تعمیر کرنے والی ترک کمپنی، بے اندر میں ایڈمنسٹریٹر تھا۔

ترک جتنے جدیدیت کے رسیا ہیں، اتنے اپنی تاریخ اور قوم پر فاخر، اور کرد اتنے اپنی روایات اور قبائلی طرزِ زندگی کے خوگر، اپنی نسلی تاریخ سے آگاہ اور قومی اہداف کے حصول کے لیے یکسو۔

عراق کے انتشار کے بعد ایک تاریخی لمحے کو کردوں کو احساس ہو گیا تھا کہ اب وہ اپنے الگ، آزاد اور متحدہ ملک کے مالک بن جائیں گے، لیکن آگے کیا انتظار میں تھا، وہ نہیں جانتے تھے۔ ویسے بھی بڑی لڑائیوں میں چھوٹے کردار استعمال کرنے کے لئے آگے بڑھائے جاتے ہیں۔

ریاست کے پاس قومی لیڈرشپ، پیشہ ورانہ غیر سیاسی فوج، اور بین الاقوامی دوست موجود ہوں، اور انتظار کا حوصلہ رکھتی ہو، تو مخالف تنظیمیں وقت کے ساتھ ساتھ تھک کر ہانپ جاتی ہیں۔ یہی کچھ کرد عسکریت پسندی کے ساتھ ترکی کے ہاتھوں ہوا۔

ترک علیحدگی پسندوں کا رہنما عبد اللہ اوجلان 1979 سے 1998 تک شام میں مقیم رہا۔ اس نے 1978 میں پی کے کے (PKK) کی بنیاد رکھنے میں مدد کی، اور 1984 میں اپنی تنظیم کو کرد۔ ترک تنازع میں شامل کیا۔ اپنی قیادت کے بیشتر وقت، وہ شام میں مقیم رہا، جہاں پی کے کے کو 1990 کی دہائی کے آخر تک پناہ دی گئی تھی۔

عبداللہ اوجلان اپنی آزادی کے منشور میں لکھتا ہے کہ ہر غلامی کی بنیاد عورت کو گھریلو (پالتو) بنانے پر ہے۔

عبد اللہ اوجلان، اپو، (ترک زبان میں انکل) چالیس کتابوں کا مصنف، کردوں کی آزاد ریاست کا علمبردار، کو 1999 میں، نیروبی میں سی آئی اے نے اغوا کر کے ترک انٹیلی جنس ایجنسی کے حوالے کیا۔ جہاں سے اسے ترکی کے جزیرہ امرالی لایا گیا، جسے ایک سپیشل عدالت نے موت کی سزا سنا دی، بعد میں جس کو ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت کی خواہش نے، یونین کے قوانین کی پابندی کرتے ہوئے، عمر قید میں تبدیل کردی۔

ترکی شام میں اخوان المسلمون کو سپورٹ کرتا رہا، تو شام نے کردوں کی آزادی کی تحریک کو شام میں ہر قسم کی سکونتی اور عسکری سہولیات مہیا کیں۔ لیکن 1999 میں ترکی کی فوج شام کے سرحدوں پر اکٹھی ہونے لگی، تو مصر کے صدر کی سفارتکاری نے ترکی کے خواہش کے مطابق شام سے عبد اللہ اوجلان کو نکالنے پر مجبور کر دیا، جو اب پچیس سال سے امرالی جزیرے کے قید خانے کا تنہا قیدی ہے۔

پاکستان اور جدید ترکی کا تاریخی سفر جب سے شروع ہوا ہے، بالکل الٹ سمت میں جاری ہے۔ ترکی نے جو کچھ بوجھ اور غیر حقیقی رومانیت سمجھ کر پھینک دیا اور ترقی کی راہ اپنا لی، پاکستان نے وہی متروک افسانوی وراثت گلے کا ہار بنا کر خود کو ڈبو دیا۔

اوجلان طویل قید تنہائی کے باوجود، 1993 میں طے کردہ کردستان ورکرز پارٹی (PKK) کی جنگ بندی کے بعد سے، تنازع کے سیاسی حل کی وکالت کرتا رہا۔ جس کے نتیجے میں 2013 میں ایک عارضی کرد۔ ترک امن عمل شروع ہوا، اب جس کا انت تھوڑے دنوں پہلے پوری تنظیم کی عسکریت سے توبہ تائب ہونے کی شکل میں سامنے آیا۔

عبد اللہ اوجلان کی قیادت میں کردوں نے سیاسی طور پر کچھ حاصل کیا ہو یا نہیں، لیکن جس طرح ترک عورت کو اتاترک نے گھریلو پالتو عورت کی بجائے، مرد کی ہمسری کا حق دلایا، اسی طرح اوجلان نے بھی کرد عورت کو میدان جنگ سمیت ہر میدان میں کرد مرد کا ساتھی اور برابر کا انسان بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ عشروں تک میدان جنگ کی تکالیف، تین چار ممالک میں تتربتر آبادی اور مہاجرت میں، کوئی قوم فکری اور عملی ترقی کیسے کرتی ہے؟ کسی انقلابی نے سٹڈی کرنی ہو تو بہترین کیس ہے۔

اوجلان کی بنیاد جس شام میں رکھی گئی تھی۔ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ، جولانی کی قیادت میں، ترکی نے اسی شام کو تحلیل کر دیا، تو کرد عسکریت ہتھیار ڈال کر پُرامن سیاست کرنے پر راضی ہوئی۔

اب ترکی امریکہ کے مستقبل کی عسکری سیاست میں بڑی دیر تک مرکزی اہمیت اختیار کرنے والا ملک بن رہا ہے۔ شام میں ترکی کی سرگرم موجودگی اس طے شدہ کردار کا صرف ابتدائیہ ہے۔ ترکی میں چین سے ہجرت کرنے والے یوغر مسلمانوں کی سب سے بڑی منظم آبادی موجود ہے، جس کے ہزاروں ممبران کی امریکی، اسرائیلی اور ترک افواج کے شانہ بشانہ شامی افواج کے خلاف لڑنے کی خبریں اخبارات کی زینت بنتی رہی ہیں۔

افغان حکومت کے خلاف بننے والی اتحاد جس کا دوسرا اجلاس، ہرات سیکورٹی کانفرنس کے نام سے، چند دنوں پہلے میڈرڈ میں اختتام پذیر ہوا، اس کے اہم لیڈر بھی ترکی میں موجود ہیں۔

ماضی میں پاکستان نے افغان لڑائیوں میں ہمیشہ ایسے پختون افغانوں کی حمایت کی، جن کی شناخت پختونولی کی بجائے مذہبیت تھی، جن کے مقابلے میں ترکی نے ہمیشہ ان کے خلاف بننے والی غیر پختون اتحادوں کا ساتھ دیا۔ یوں آپ کہہ سکتے ہیں کہ افغانستان میں، امریکہ اور روس، طالبان اور امریکہ، پاکستان اور شمالی اتحاد کے ساتھ ساتھ، پاکستان اور ترکی بھی ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار رہے ہیں۔ اب پہلی دفعہ لگ رہا ہے کہ افغانستان کے بارے میں پاکستان اور ترکی ایک صف میں کھڑے ہو گئے ہیں، اور پختون قوتوں کی بدقسمتی ہے یا خوش قسمتی، کہ ان کے ساتھ کوئی نہیں ہے، اور یہ دن ان کو کوتاہ بین مذہبیت نے دکھایا ہے۔

اگر افغانستان میں حکومت تبدیل کردی گئی، تو وہی طاقتیں جو آج یورپ میں افغان حکومت کے خلاف اجلاسیں منعقد کر رہی ہیں، وہ ترکی کے ٹرینڈ یوغروں، جولانی کی ملیشا اور بھانت بھانت کے ناموں سے زندگی بیزار لڑاکوں کو چین کے مسلمانوں کی ”آزادی“ کی گڑ پر بیٹھنے کے لئے جوق در جوق افغانستان لائیں گے۔

ترکی کے اپنے بارڈر کردوں سے محفوظ ہو گئے ہیں، اب وہ سکون سے اگلا مرحلہ شروع کر سکتا ہے۔ شام اور عراق سے شروع ہو کر انتشار کی شکار حکومتوں کی ایک لڑی ایران کی سرحد تک موجود ہے، اور ایران کے بعد پھر افغانستان اسی حالت میں ہے، جس میں شام اور عراق مبتلا ہے۔

چین کو یوغروں سے الجھا کر کوئی نتیجہ حاصل کرنے تک، ایران کو امریکہ کچھ نہیں کہے گا، لیکن اسرائیل اس دوران اس پر چیک رکھے گا، تاکہ ’مقررہ تاریخ‘ تک وہ ناقابلِ رسائی نہ ہو جائے۔

یہ بھی عین ممکن ہے کہ چین سے پہلے ایران میں عدم استحکام لائی جائے، تاکہ شام، عراق، ایران اور پھر افغانستان سے ہوتی ہوئی انتشار کی ٹریل براہ راست چین کی سرحد تک پہنچ پائے۔ یوں شام سے عراق، عراق سے ایران، اور ایران سے افغانستان تک، جہاں پر چین کی وہ سرحد ہے، جس کے باشندے وہی مسلمان یوغر ہیں، جو امریکہ یورپ اور خصوصاً ترکی میں مقیم ہیں، آزادی اور آسانی سے آگے پیچھے حرکت کرسکیں۔ چین افغانستان یا عراق، شام اور لیبیا کی طرح، کوئی چھوٹی آبادی یا محدود وسائل والا ملک نہیں، اس کے ساتھ لڑنے والوں کے پیچھے بڑا گہرا اور وسیع علاقہ ہونا چاہیے، جہاں پر ان کو ساری سہولیات اور ضروریات حاصل ہوں۔

اس سارے معاملے میں ہمارا کردار اور ہماری افادیت کیا ہوگی؟ اس سوال کا صحیح جواب ڈھونڈا گیا تو بلے ہی بلے، ورنہ بلوچستان میں متحد ہونے والے عسکریت پسند اور پختونخوا میں تیز تر ہونے والے مہلک حملے بہت بری کہانی سنا رہی ہے۔

 

Facebook Comments HS

شازار جیلانی

مصنف کا تعارف وجاہت مسعود کچھ یوں کرواتے ہیں: "الحمدللہ، خاکسار کو شازار جیلانی نام کے شخص سے تعارف نہیں۔ یہ کوئی درجہ اول کا فتنہ پرور انسان ہے جو پاکستان کے بچوں کو علم، سیاسی شعور اور سماجی آگہی جیسی برائیوں میں مبتلا کرنا چاہتا ہے۔ یہ شخص چاہتا ہے کہ ہمارے ہونہار بچے عبدالغفار خان، حسین شہید سہروردی، غوث بخش بزنجو اور فیض احمد فیض جیسے افراد کو اچھا سمجھنے لگیں نیز ایوب خان، یحییٰ، ضیاالحق اور مشرف جیسے محسنین قوم کی عظمت سے انکار کریں۔ پڑھنے والے گواہ رہیں، میں نے سرعام شازار جیلانی نامی شخص کے گمراہ خیالات سے لاتعلقی کا اعلان کیا"۔

syed-shazar-jilani has 140 posts and counting.See all posts by syed-shazar-jilani

One thought on “شام سے چین تک بننے والی عسکری ٹریل

  • 05/03/2025 at 4:16 صبح
    Permalink

    What a wonderful and thorough analysis
    Thx

Comments are closed.