گلٹ فری ایٹنگ۔2


خوراک کا تعلق شکم سیری کی بجائے دوسرے فیکٹرز یعنی خوشی، غمی، محفل، تنہائی، جدائی، اداسی، خوبصورتی، شہرت، طاقت، سوشل امیج سے جڑنے کی وجہ سے کھاتے رہنا ہماری تمام مصروفیات کا ایک لازمی جزو بن چکا ہے۔ کھانے کے اوقات کے علاوہ اب ہم ٹی وی دیکھتے ہوئے، فون کرتے ہوئے اور کمپیوٹر پر ٹائپ کرتے ہوئے بھی کچھ نہ کچھ کھا رہے ہوتے ہیں۔ کافی، چائے یا سوڈا وغیرہ ہر کام کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں۔

دوسری طرف کھانے کا عمل ہمارے جذبات کے اتار چڑھاؤ سے بھی متاثر ہوتا ہے اور ہمارے سماجی تعلقات اور معاشرتی ماحول سے بھی۔ ان عوامل اور اثرات کو مختصراً اوبیسیٹی، ڈائیٹ کلچر اور ایٹنگ ڈس آرڈر کے ذیلی موضوعات کے تحت سمجھا جا سکتا ہے۔

اوبیسیٹی (موٹاپا)

انسانی جسم کا وزن جب عام موٹاپے کی ایک خاص حد سے زیادہ بڑھ جائے تو اس میں چربی کی مقدار میں بے حد اضافہ ہو جاتا ہے اسے طبی اصطلاح میں اوبیسیٹی کہتے ہیں۔ جس کی بنیادی وجوہات تو زیادہ کھانا اور کم ورزش ہی ہیں۔ لیکن مارکیٹ میں موجود چکنائی اور نمکیات سے بھرپور خوراکوں، بیٹھ کر کام کرنے کے طویل اوقات، کام پر پہنچنے کے کم مشقت آزما، طویل سفر، سکون آور ادویات کے سائڈ افیکٹس اور بے خوابی وغیرہ کا بھی اس میں ہاتھ ہے۔

اور ان مسائل سے نبرد آزما ہونے کے لیے واپس ہم خوراک ہی کا سہارا لیتے ہیں۔ لمبے کام کے اوقات کی تھکن اور بوریت کو خوراک سے بہلاتے ہیں۔ ادویات کے سائڈ افیکٹس کو کچھ نہ کچھ کھا کر دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ نیند نہ آئے تو لیٹ نائٹ سنیکس سے وقت گزارنے کی کوشش کرتے ہیں۔

امریکہ میں اوسطاً بیالیس فیصد کے قریب لوگ اوبیس ہیں (این آئی ایچ) اور ورلڈ ہیلتھ ڈیٹا کے مطابق ڈھائی ارب لوگ موٹاپے کا شکار ہیں جبکہ قریبا نو سو ملین اوبیس ہیں۔ 1990 کے مقابلے میں یہ تعداد بالغ افراد کی تعداد دوگنی اور نوعمر میں چار گنا زیادہ ہے۔ اوبیسٹی سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں میں ذیابیطیس اور دل کے امراض سر فہرست ہیں۔ پھر کچھ اقسام کے کینسر، ہائی بلڈپریشر، کولیسٹرول، سٹروک اور بے خوابی ہیں۔

ڈائٹنگ

اوبیسیٹی بڑھنے کے ساتھ ہی اسے سماجی طور پر رد کرنے کا عمل بھی پروان چڑھا ہے۔ لیکن مسئلہ کی وجہ اور رد وجہ ایک ہی ہے۔ یعنی خوراک سے ہمارا تعلق۔ ڈائٹ اشتہارات میں ائر برش کی تصویریں ذہنوں میں خوبصورتی کا ناقابل حاصل تصور ترتیب دیتی ہیں۔ سکرین پر ڈائیٹ کھانے کھاتے، خوش باش ورزش کرتے ہوئے یہ ایکٹو ماڈل ہمیں دوبارہ کھانے (ڈائٹ ورژن) ہی کی طرف راغب کرتے ہیں۔ یعنی کم چکنائی والا مکھن، کم چینی والی چینی، کم نمک والا نمک، کم جنک فوڈ والا جنک۔

نیوز سٹینڈ پر موجود ہر میگزین میں وزن کم کرنے کے دس طریقے یا سات خوراکیں یا تین راز ضرور لکھے ہوتے ہیں۔ لیکن کم لوگ اس راز سے پردہ اٹھاتے ہیں کہ صحتمندانہ انداز میں وزن کم کرنا طرز زندگی میں خاطر خواہ تبدیلی لائے بغیر صرف خوراک سے ممکن نہیں ہے۔ بلکہ ناقص و نامکمل غذائیت والی خوراک کو روزمرہ میں اپنانے سے صحت کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ پھر ناکامیاب ڈائٹ کا نتیجہ مزید نفسیاتی اور جسمانی مسائل کی شکل میں سامنے آتا ہے۔ جس کی انتہائی شکل موت، جسمانی معذوری اور ایٹنگ ڈس آرڈر ہیں۔

ایٹنگ ڈس آرڈر

انسان اپنے ہی بنائے ہوئے آئینہ خانے میں خود کو کیسے زخمی کرتا ہے ایٹنگ ڈس آرڈر اس کی واضح مثال ہے۔ ایک تحقیقی اندازے کے مطابق یو ایس میں قریبا نو فیصد لوگ اس کا شکار ہیں جن میں سے تین سے آٹھ فیصد عمر بھر صحتیاب نہیں ہوتے۔ کووڈ کے دوران اور بعد میں اس رجحان میں مزید اضافہ نظر آیا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق چالیس سے ساٹھ فیصد سکول جانے والی نوعمر لڑکیاں صرف خوبصورتی کے مروجہ تصورات کے سماجی پیمانے پر پورا اترنے کی خواہش میں اپنی جسمانی ساخت سے ناخوش ہو کر اس مسئلہ کا شکار ہوجاتی ہیں۔ اپنے وزن کے بارے میں غلط فہمی کا شکار ہونے کی وجہ سے سب کے ساتھ مل کر کھانا ان کے لیے باعث شرم بن جاتا ہے۔ لیکن محفل میں کم سے کم کھانے اور غذائی ضرورت نہ پوری ہونے پر اکیلے میں وہ بے اختیار اور بے تحاشا کھاتے جاتے ہیں۔

بچپن میں بذات خود والدین کے خوراک سے غلط تعلق یا گھر میں اختیار کی گئی ناقص غذائی عادات کے تحت لوگ روزمرہ میں ایسی خوراک لیتے ہیں جو مقدار میں زیادہ ہونے کے باوجود جسمانی طور پر ناکافی ہوتی ہے یا وہ سرے سے ہی کھانے کے معمولات یکسر نظر انداز کرنے لگتے ہیں۔ نیز نامساعد حالات میں اداس و بے بس، منشیات کے زیراثر، عزت نفس کی کمی، زندگی کے مسائل، دکھ، ڈپریشن، غصہ، تنہائی، گھریلو چپقلش کے باعث لاکھوں لوگ اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ خوراک سے اپنے تعلق کو ٹھیک نہیں رکھ پاتے۔ سیلف امیج تباہ ہونے کی وجہ سے خوش ہو کر دل بھر کر کھانے پر وہ خود کو مجرم و غلط کار گردانتے ہیں۔

گلٹ کے زیر اثر خوراک کو جسم کا حصہ نہ بننے دینے کے لیے کھانے کے بعد پرجنگ (منہ میں ہاتھ ڈال کر قے کرنا وغیرہ) اس کا ایک حل ہے۔ ساتھ ہی مخصوص خوراکوں سے انتہائی گریز و اجتناب، ڈائیٹ کی گولیاں، منشیات یا سرجری وغیرہ بھی اس کا حصہ ہیں جن کی اپنی پیچیدگیاں ہیں لیکن جسم کو کافی غذائیت نہ ملنے کا نتیجہ لو بلڈ پریشر، ہارٹ فیل ہونا، کمزور ہڈیاں یا عضلاتی کمزوری، گردوں کے فیل ہو جانے وغیرہ کی شکل میں نکلتا ہے۔

اس سب کے ساتھ دیکھیں کہ 2021 میں اڑھائی بلین میٹرک ٹن خوراک استعمال ہوئی (سٹیٹسٹا) جبکہ یو این کے مطابق دنیا میں ہر روز ایک بلین کھانے ضائع ہوتے ہیں اور 783 ملین کے قریب لوگ ابھی بھوکے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ اتنی کثرت، تحفظ اور تنوع کے باوجود خوراک اب بھی غذائیت میں نقصان دہ، مقدار میں ناکافی اور ترسیل میں ناقص ہے؟
(جاری ہے )

Facebook Comments HS