انسانوں کا بچگانہ سوچ سے بالغانہ سوچ کا ارتقائی سفر

انسانوں نے صدیوں میں بچگانہ سوچ سے بالغانہ سوچ کا ارتقائی سفر طے کیا ہے۔ ماہرین سماجیات اور ماہرین نفسیات نے اس سفر کے چند سنگ میلوں کی نشاندہی کی ہے۔ انہوں نے یہ بھی جانا کہ وہ سفر جو انسانوں نے اجتماعی طور پر سینکڑوں ہزاروں سالوں میں طے کیا ہے وہی سفر انسان بچپن سے جوانی تک چند سالوں میں طے کر لیتا ہے۔
ماہرین نفسیات نے ہمیں بتایا کہ بچگانہ سوچ اور بالغانہ سوچ میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ بچگانہ سوچ بنیادی طور پر جذباتی اور ذاتی سوچ ہوتی ہے جب کہ بالغانہ سوچ منطقی اور معروضی سوچ ہوتی ہے۔
میں اس کالم میں بچگانہ اور بالغانہ سوچ کی چند خصوصیات بیان کروں گا تاکہ آپ انسانوں کی داخلی دنیا کے بارے میں کچھ جان سکیں۔
بالغانہ سوچ کی پہلی خصوصیت شباہت اور شناخت میں فرق
انسان اپنی بچپن کی زندگی میں ایک ایسے دور سے گزرتے ہیں جب وہ شباہت اور شناخت میں فرق نہیں کر پاتے۔ یہ بچپن کا وہ دور ہے جب کوئی بچہ کسی رسالے میں سب مردوں کی تصویر دیکھ کر کہتا ہے۔ یہ ابو ہیں۔ سب عورتوں کی تصویر دیکھ کر کہتا ہے۔ یہ امی ہیں۔ اس کی خالہ عینک لگاتی ہیں اس لیے ہر عینک والی عورت کی تصویر دیکھ کر کہتا ہے۔ یہ خالہ ہیں۔ اس کے دادا کی داڑھی ہے اس لیے ہر داڑھی والے مرد کی تصویر دیکھ کر کہتا ہے۔ یہ دادا جان ہیں۔
جب بچہ جوان ہوتا ہے اور بالغانہ سوچ کے قابل ہوتا ہے تو وہ شباہت اور شناخت میں فرق کو سمجھ پاتا ہے اور بچپن کی باتوں پر مسکراتا ہے۔
بالغانہ سوچ کی دوسری خصوصیت انڈکشن
انسان نے ذہنی بلوغت کی منزلیں طے کرنی شروع کیں تو اس نے فطرت کی تبدیلیوں میں کچھ تعلق محسوس کیا اور کچھ رشتے جوڑے۔ انسانوں نے دیکھا کہ سورج غروب ہوتا ہے تو اندھیرا ہو جاتا ہے اور رات شروع ہو جاتی ہے۔ کچھ انسانوں نے کچھ عرصہ سورج غروب ہونے اور رات کے شروع ہونے سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ
الف۔ سورج غروب ہونے اور ب۔ رات شروع ہونے کا کوئی تعلق ہے اس الف اور بے کے رشتے سورج غروب ہونے اور رات شروع ہونے کا تعلق منطقی سوچ میں ”انڈکشن“ کی سوچ کہلاتا ہے۔
بالغانہ سوچ کی تیسری خصوصیت ڈیڈکشن
انسانوں نے کسی ایک دوست کو مرتے دیکھا پھر کسی رشتہ دار کو مرتے دیکھا
پھر اس نے انسانوں اور موت کے رشتے کے بارے میں سوچا اور اس نتیجے تک پہنچا کہ سب انسان ایک دن مر جائیں گے سقراط ایک انسان ہے سقراط بھی ایک دن مر جائے گا۔
کوئی بھی انسان ایک انسان کو یا زندگی میں چند انسانوں کو مرتے دیکھ سکتا ہے وہ ساری دنیا کے سینکڑوں ہزاروں لاکھوں انسانوں کو مرتے نہیں دیکھ سکتا لیکن وہ چند انسانوں کی موت سے اس نتیجے پر پہنچا کہ سب انسان ایک دن مر جائیں گے۔ ALL HUMAN BEINGS ARE MORTAL منطق میں اس سوچ کو ہم ”ڈیڈکشن“ کی سوچ کہتے ہیں۔
بالغانہ سوچ کی چوتھی خصوصیت معروضی سوچ
DETERMINISTIC CAUSALITY
بچپن میں بچہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ جو کچھ دیکھتا ہے وہ کسی کی مرضی سے ہوتا ہے۔ اسے دودھ ماں کی مرضی سے ملتا ہے اگر ماں خوش ہوگی تو اسے دودھ ملے گا اگر ماں ناراض ہوگی تو اسے دودھ نہیں ملے گا۔ ایک زمانے میں انسان یہ سوچتے تھے کہ موسم کی تبدیلیاں بھی خداؤں کی مرضی سے ہوتی ہیں اگر خدا مہربان ہوں تو بارش آ جاتی ہے اگر خدا ناراض ہوں تو طوفان اور زلزلے آ جاتے ہیں
اسی وجہ سے انسان خداؤں کو خوش کرنے کے لیے دعائیں مانگتے تھے اور خداؤں کی ناراضگی کو ختم کرنے کے لیے قربانیاں دیتے تھے۔
لیکن پھر جب انسانوں نے بالغانہ طور پر معروضی انداز سے سوچنا شروع کیا تو انہوں نے جانا کہ موسم کی تبدیلیاں انسانوں یا خداؤں کی مرضی سے نہیں قوانین فطرت کی وجہ سے ہوتی ہیں جن کا کسی انسان یا خدا کی خوشی یا ناراضگی سے کوئی تعلق نہیں۔ اس سوچ کی تبدیلی میں یونانی فلاسفروں نے اہم کردار ادا کیا۔
بقراط نے اپنے مریضوں کو بتایا کہ تمہاری صحت اور بیماری کا تمہاری دعاؤں اور قربانیوں سے کوئی تعلق نہیں اگر تم صحتمند زندگی گزارنا چاہتے ہے تو تمہیں حفظان صحت کے اصولوں پر عمل کرنا چاہیے۔ بقراط نے پانچ سو سال قبل مسیح میں اپنے مریضوں کو صحتمند رہنے کے لیے چار مشورے دیے۔ متوازن خوراک کھاؤ، بہت سا پانی پیو، روزانہ ورزش کرو، گہری نیند سوؤ۔ ان مشوروں کی اہمیت اور افادیت اور معنویت آج بھی مانی جاتی ہے۔ چونکہ بقراط نے طب کے علم کو مذہبی اعتقادات سے جدا کیا اور صحت کے اصول دریافت کیے اسی لیے ہم انہیں بابائے طب کا خطاب دیتے ہیں۔
یونانی فلاسفروں نے اپنے مشاہدات اور زمین چاند سورج کی تبدیلیوں سے چاند گرہن اور سورج گرہن کے راز بھی جانے اور سورج گرہن کی پیشین گوئی کی جو سچ ثابت ہوئی۔ یونانی فلاسفروں نے کہا کہ کائنات خدا کی مرضی سے نہیں چند قوانین فطرت سے چلتی ہے یہ سوچ معروضی سوچ تھی۔ منطقی سوچ تھی۔ بالغانہ سوچ تھی۔ یہ سوچ مذہبی اعتقادات کے مقابلے میں فلسفیانہ اور سائنسی سوچ تھی۔ انسانی بچہ جب جوان ہوتا ہے تو وہ بچگانہ سوچ سے بالغانہ سوچ کا جذباتی اور ذاتی سوچ سے منطقی اور معروضی سوچ کا سفر طے کرتا ہے۔
انسانی ارتقا کے اس سفر میں یونانی فلاسفروں نے فلسفے اور سائنس کی جو بنیادیں رکھی تھیں ان بنیادوں پر گلیلیو اور نیوٹن جیسے سائنسدانوں نے بلند و بالا عمارتیں تعمیر کیں۔
منطق کی روایت میں ہم ایسی سوچ کو لبنز کا قانون کہتے ہیں جس کی وجہ سے ہم کہتے ہیں کہ ہر عمل کی کوئی مادی وجہ ہے EVERY EFFECT HAS A CAUSE
بالغانہ سوچ کی پانچویں خصوصیت۔ مستقبل کا امکان
فلسفی کانٹ نے اپنی کتاب CRITIQUE OF JUDGMENT میں یہ اصول رقم کیا کہ انسانی ذہن نہ صرف موجودہ حقیقت کا ادراک کر سکتا ہے بلکہ مستقبل کی امکانی حقیقت کا تصور بھی کر سکتا ہے۔ وہ اپنی اس بالغانہ سوچ کی وجہ سے یہ بھی سوچ سکتا ہے کہ اگلے دن، اگلے ہفتے، اگلے مہینے، اگلے سال، اگلی دہائی، اگلی صدی میں کیا ممکن ہے۔ ایسی سوچ کی وجہ سے انسان آدرش بناتا ہے وہ اپنے ذہن میں امروز سے فردا کا سفر طے کرتا ہے وہ مستقبل کے خواب دیکھتا ہے اور پھر ان خوابوں کو شرمندہ تعبیر کر سکتا ہے۔
انسان کی اس بالغانہ سوچ کی وجہ سے انسان اس قابل ہوئے کہ انہوں نے انفرادی اور اجتماعی طور پر بہتر مستقبل کے خواب دیکھے۔ اسی وجہ سے انسانوں نے حب الوطنی اور وفاداری، سائنس اور فلسفہ، طب اور نفسیات، جمالیات اور فنون لطیفہ کے اصول وضع کیے اور انسانی دنیا میں انقلابات کی داغ بیل ڈالی۔
انسان کے یہی خواب اور آدرش انہیں جانوروں سے متمیز کرتے ہیں اسی لیے اب وہ بہتر انسان بننے اور پرامن معاشرے قائم کرنے کے امکانات پر غور کرتے ہیں۔
بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ اکیسویں صدی میں جہاں بہت سے انسان انفرادی اور اجتماعی طور پر منطقی اور معروضی بالغانہ سوچ رکھتے ہیں وہیں کئی انسان آج بھی جذباتی اور ذاتی بچگانہ سوچ کو گلے لگائے ہوئے ہیں۔ ایسے لوگ جدید دور کی سائنس طب اور نفسیات کی تحقیقات کو قبول کرنے سے احتراز کرتے ہیں۔
ماہرین نفسیات اور ماہرین سماجیات کا کہنا ہے کہ انسانی ارتقا کا سفر ایک کچھوے کی چال کی طرح سست رو ہے۔
(اس کالم میں ایک مستند معتبر اور معزز امریکی ماہر نفسیات سلوانو ایریٹی کی کتاب THE INTRAPSYCHIC SELF سے استفادہ کیا گیا ہے )

