ہم سا کوئی کہاں
گاڑی رکھنا اگر ایک فن ہے تو خریدنا اُس سے بھی بڑا فن ہے جس میں انسان کو پانچ کے ساتھ چھٹی حس کو بھی بیدار رکھنا پڑتا ہے ورنہ بدلے میں گاڑی نہیں ایک سر دردی ملتی ہے جو اُس وقت تک رہتی ہے جب تک وہ گاڑی فروخت نہ ہو جائے۔ عظیم صاحب کا معاملہ کچھ ایسا تھا کہ زندگی بھر پہلے تانگوں پر اور پھر سرکاری بسوں پر دھکے کھاتے رہے، لیکن خوش قسمتی سے عمر کے آخری حصے میں جب ٹانگیں قبر میں اور زبان منہ سے باہر ہوتی ہے اُس نازک وقت میں اُن کا ایک پرائز بانڈ نکل آیا جس کے بعد سارا گھر اس سوچ میں گم ہو گیا کہ ان پیسوں کا مصرف کیا ہو؟
جبکہ اُن کا اپنا ارادہ تو گاڑی خریدنے کا تھا۔ کیونکہ زندگی بھر گھر کے کسی فرد نے اتنا روپیہ اکٹھا نہیں دیکھا تھا، اب جو چھپر پھاڑ کر دھن برسا تو تمام گھر اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی طرح اجلاس منعقد کر بیٹھے جس میں دور نزدیک کے سبھی رشتہ داروں کے علاوہ چند قریبی پڑوسیوں کو بھی دعوتِ عام دی گئی تاکہ اُن کے تجربات اور صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا کر اس پیسے کو وہاں لگایا جائے جہاں سے منافع بھی ہو اور وہ بھی دو چند۔
اگلے دن دور نزدیک کے احباب کی آمد شروع ہو گئی جس کے بعد رات تک اس خصوصی اجلاس کے لئے مبصرین، محققین اور وفود کی اتنی بڑی تعداد جمع ہو گئی کہ گھر میں تل رکھنے کو جگہ نہ رہی۔ عظیم صاحب چشمِ ما روشن دلِ ماشاد بنے سب کے لئے دیدہ و دل فراش کیے بیٹھے تھے۔ یہ اجلاس جو کہ اہم ہونے کے علاوہ خصوصی بھی تھا اس لئے اس کی مناسبت سے کھانے کا بھی انتظام شایانِ شان طریقے سے کیا گیا جس میں مہمانوں کے لئے قورمہ، بریانی، پلاؤ، حلوہ کے علاوہ کشمیری چائے کا بھی بندوبست شامل تھا۔
مہمانوں کی تعداد زیادہ ہونے کے باعث ساتھ والے خالی پلاٹ میں محلے کی کیٹرنگ سروس کے تعاون سے میز اور کرسیاں لگائے گئے، جس کے بعد رات آٹھ بجے روٹی کھول دی گئی۔ اس خصوصی اجلاس میں عظیم صاحب کی بیگم کا میکہ اور سسرال چونکہ دونوں موجود تھا، لہذا تمام انتظامات کی کڑی نگرانی وہ بنفسِ نفیس فرما رہی تھیں مبادا کوئی فرد بھوکا رہ جائے اور اُن کی ناک کٹ جائے۔ دونوں خاندان ہی اپنے تئیں نجیب الطرفین ہونے کے دعویدار اور اس پر کامل ایمان رکھتے تھے کہ شہر بھر میں اُن سا دولت مند، ٹھاٹھ باٹھ اور شرافت کا پیکر کوئی دوسرا ہو ہی نہیں سکتا۔ ہر دو خاندانوں کا دعویٰ تھا کہ ”کوئی ہم سا کہاں“ ۔
جب دعوت شروع ہو گئی اور سب کھانے چن دیے گئے تو مہمانوں کے مابین کھانے کا مقابلہ شروع ہو گیا۔ ”ارے فرخندہ کی ماں یہ کیا بنایا ہے عظیم نے؟“ مسز عظیم کے بھائی نے اپنی زوجہ سے پوچھا جو ایک پلیٹ میں بریانی ڈال رہی تھی۔ ”غالباً قورمہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے“ ، اُنہوں نے سالن کو دیکھ کر جواب دیا۔ ”لو! تم اسے قورمہ کہتی ہو۔ ارے یہ کیا جانیں قورمہ کسے کہتے ہیں۔ کبھی کھایا ہو تو علم ہو قورمہ کیسے بنتا ہے اور کیسے کھایا جاتا ہے“ ، قورمے کی یہ درگت بنتے دیکھ کر عظیم صاحب کی بہن بھنا اٹھیں ”ہاں ہاں میں جانتی ہوں تم کو۔
بقر عید کے علاوہ کبھی گھر میں گوشت دیکھنا نصیب نہیں ہوا اور باتیں ایسے کر رہے ہیں جیسے روز قورمہ کھاتے ہوں“ ۔ اس طرح دار جملے کی کاٹ کے لئے مسز عظیم کی دوسری بھاوج میدان میں اتریں، ”ارے اللہ کا بڑا کرم ہے ہم پر سمجھیں تم۔ روز گوشت کھاتے ہیں ہم بھی ہاں۔ روز۔ وہ بھی تازہ اور بھنا ہوا۔ تمہاری طرح نہیں کہ پاؤ گوشت منگوا کر پھر سیروں پانی ڈالا جاتا ہے تاکہ سب گھر والوں کو پورا ہو۔ بڑی آئیں باتیں کرنے والی“ ۔
عظیم صاحب اور اُن کی مسز نے جب تیسری جنگِ عظیم کے بادل سروں پر منڈلائے دیکھے تو متذبذب ہو گئے کہ اگر باقاعدہ دو سپر پاورز میں جنگ چھڑ گئی تو اس کو بند کون کروائے گا اور جو پلیٹوں، چمچوں اور دیگر سامان کا نقصان ہو گا وہ کیسے پورا ہو گا۔ ”دیکھیں آپ یہ طعنے ہمیں نہ دیں۔ سمجھی آپ۔ اچھی طرح یاد ہے جب بھابھی کو ساتویں سے واپس لینے گئے تھے تو آپ نے چاولوں میں اتنی مرچیں ڈال دی تھیں کہ کوئی شخص کھا ہی نہ سکے اور یوں سارا کھانا بچ گیا جسے آپ لوگوں نے اگلے پورے ہفتے استعمال کیا۔
سب یاد ہے اچھی طرح“ ، یہ آواز عظیم صاحب کے بڑے بھائی کی تھی جس نے جلتی پہ پٹرول کا کام کیا۔ ”ارے غضب خدا کا، کیا ہمیں یہاں اس لئے بلایا گیا تھا کہ ذلیل ہوں۔ دیکھ لو کیسے بلا کر بڑے عزت و احترام سے ذلیل کیا جا رہا ہے۔ تمہیں بڑا شوق تھا بہن کے گھر دعوت کھانے کا۔ کھا لی دعوت۔ چلو ابھی اور اسی وقت سب چلو“ ۔ اس کے بعد مسز عظیم کا سارا میکہ جیسے ہی اجلاس سے واک آؤٹ ہونا شروع ہوا، کسی شوخ شرارتی بچے نے مسز عظیم کی بھابھی کے کرسی کے نیچے پٹاخہ پھوڑ دیا جس پر وہ آپے سے باہر ہو گئیں۔
اس عظیم گستاخی پر اُنہوں نے ایک پلیٹ اٹھائی اور ایک لڑکے جس کی بابت خدشہ تھا کہ یہ کارنامہ اُس کا ہے اُس کی طرف دے ماری لیکن وہ بد قسمتی سے عظیم صاحب کی بہن کے بڑے بیٹے کے سر پر لگی اور پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ ہر طرف سے لاتوں، مکوں، گالیوں کی وہ برسات برسی کہ ساری دعوت جل تھل ہو گئی۔ جس کے ہاتھ سر لگا اُس نے بال نوچ ڈالے، جس کے ہاتھ دامن لگا اُس نے گریبان پھاڑ ڈالا۔ شامیانے کے اندر دو سپر پاورز کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے جاری تھے جس کی وجہ سے شور و غل مچا ہوا تھا اور کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔
ادھر شامیانے کے اندر عظیم اور مسز عظیم دو کمزور ممالک کی طرح منتیں کرتے، ہاتھ جوڑتے لڑائی ختم کروانے کے لئے کوشاں اور اُدھر شامیانے کے باہر گزرنے والے لوگ سمجھتے کہ دونوں خاندان ایک دوسرے کے ساتھ ہنسی مذاق کر رہے ہیں۔ یہ لڑائی آدھے گھنٹے سے کچھ منٹ اوپر جاری رہی جس کے بعد گولہ بارود ختم ہونے کے سبب امن کا بگل بجا دیا گیا اور سب لوگ بخیر و عافیت پھٹے کپڑوں، لتھڑے ہاتھوں اور بے ترتیب بالوں کے ساتھ اپنے گھروں کو روانہ ہو گئے۔
جب میدان صاف ہو گیا اور ”نہ کوئی بندہ رہا نہ بندہ نواز“ ، تب دونوں میاں بیوی نے ایک طائرانہ نگاہ سے میدان ِ جنگ کا معائنہ فرمایا تو ہر طرف پلیٹوں، چمچوں اور کرسیوں کے لاشے بکھرے پڑے تھے۔ یہاں قورمہ اپنی توہین پر نوحہ خوانی کر رہا ہے تو وہاں بریانی اپنی بے آبروئی کا ماتم کر رہی ہے۔ ایک طرف اگر پلاؤ گریبان پھاڑے چھاتی پیٹ رہا ہے تو دوسری طرف حلوہ خاموش آنسوؤں کے ساتھ فریاد کناں ہے۔ عظیم صاحب اس سانحے کو دیکھتے جاتے اور اپنی عزت کا جنازہ اپنے ہاتھوں لحد میں اتارتے اُس وقت کو کوس رہے تھے جب اُنہوں نے تمام خاندان کو مدعو کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔


